قربانی کے لیے صرف دودھیل جانور ہو تو کیا کرے؟ حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ فاروق رفیع صاحب کی کتاب قُربانی، عقیقہ اور عشرہ زی الحجہ سے ماخوذ ہے۔

دودھیل جانور قربان نہ کیا جائے

جس کے پاس دودھیل جانور ہی ہو وہ اسے ذبح نہ کرے۔ عید الاضحیٰ کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے نسخے عید الاضحیٰ کے دن بال کاٹنا، ناخن تراشنا، مونچھیں پست کرنا، زیرِ ناف بال مونڈھنا، پر عمل کرنے سے مکمل قربانی کا اجر و ثواب حاصل کر سکتا ہے۔
سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أمرت بيوم الأضحى عيدا جعله الله لهذه الأمة، قال الرجل : أرأيت إن لم أجد إلا منيحة أنثى أ فأضحى بها، قال : لا ولٰكن تأخذ من شعرك وأظفارك و تقص شاربك، وتحلق عانتك، فتلك تمام أضحيتك عند الله
”مجھے یوم الاضحیٰ کو عید کا حکم دیا گیا ہے، اسے اللہ تعالیٰ نے اس امت کے لیے عید قرار دیا ہے۔ اس پر ایک شخص نے عرض کیا: بتائیے! اگر میں صرف دودھیل بکری ہی پاؤں تو کیا اسے ذبح کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ تم (روزِ عید) اپنے بال کاٹ لینا، ناخن تراش لینا، مونچھیں پست کر لینا اور زیرِ ناف بال مونڈھ لینا (یہ عمل) اللہ تعالیٰ کے ہاں تیری پوری قربانی شمار ہوگا۔“
حسن: سنن أبی داؤد، کتاب الضحايا، باب ما جاء فی إیجاب الأضاحی: 2789۔ سنن نسائی، کتاب الضحايا، باب من لم یجد الأضحیة: 4370۔ مسند أحمد: 2 / 169۔ صحیح ابن حبان: 5914۔ یحیی بن ہلال صدفی صدوق راوی ہے۔

فائدہ:

جس شخص کے پاس قربانی کے لیے صرف دودھیل جانور ہے اور وہ قربانی کا ارادہ رکھتا ہے تو وہ ایسا جانور ذبح کرنے کے بجائے قربانی کا اجر و ثواب حاصل کرنا چاہتا ہے وہ حدیث الباب میں مذکور طریقے پر عمل کرنے سے قربانی کا ثواب حاصل کر سکتا ہے۔