قبولیت اعمال کی شرط اتباع سنت اور اسکی اہمیت قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ الحدیث مولانا محمد یوسف (بانی دارالحدیث جامعہ کمالیہ) کی کتاب تحفہ جمعہ سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

قبولیت اعمال کی تیسری شرط

③ اتباع سنت

قبولیت اعمال کی تیسری شرط اتباع سنت ہے یعنی تمام اعمال صالحہ کا سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق ہونا۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ﴾
”یقیناً تمہارے لیے اللہ کا رسول بہترین نمونہ ہے۔“
(سورة الأحزاب: 21)
دنیا بھر کے لیے اسوہ حسنہ، عمدہ ترین نمونہ صرف امام الانبیاء سیدنا حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق اپنی عبادت اور حسن اعمال کے لیے کی ہے۔
فرمان ربی ہے:
﴿وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ﴾
”میں نے جن و انس کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔“
(سورة الذاريات: 56)
اور دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا:
﴿لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا ۚ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْغَفُورُ﴾
”تا کہ تمہیں آزمائے کہ تم میں اچھے اعمال کون کرتا ہے۔“
(سورة الملك: 2)
احسن کا معنی ہے خوبصورت اور حسن و جمال قرآن کریم نے یہ نہیں فرمایا کہ اعمال کس کے زیادہ ہیں بلکہ یہ فرمایا ہے عمل خوبصورت کس کے ہیں۔
اعمال میں حسن و خوبصورتی تین شرائط سے پیدا ہوتی ہے:
① اخلاص نیت۔
② صحت عقیدہ۔
③ اعمال کا سنت کے مطابق ہونا۔
اگر اعمال سنت کے مطابق نہ ہوئے تو انسان قیامت کے دن حسرت اور افسوس کرے گا اور اپنے ہاتھوں کو کاٹے گا۔
اللہ رحیم و کریم فرماتے ہیں:
﴿وَيَوْمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلَىٰ يَدَيْهِ يَقُولُ يَا لَيْتَنِي اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُولِ سَبِيلًا‏ يَا وَيْلَتَىٰ لَيْتَنِي لَمْ أَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِيلًا‏ لَّقَدْ أَضَلَّنِي عَنِ الذِّكْرِ بَعْدَ إِذْ جَاءَنِي ۗ وَكَانَ الشَّيْطَانُ لِلْإِنسَانِ خَذُولًا‏ وَقَالَ الرَّسُولُ يَا رَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَٰذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا﴾
”اور اس دن ظالم شخص اپنے ہاتھوں کو چبا چبا کر کہے گا ہائے! کاش کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی راہ اختیار کی ہوتی۔ ہائے افسوس! کاش کہ میں نے فلاں کو دوست بنایا ہوتا۔ اس نے تو مجھے اس کے بعد گمراہ کر دیا کہ قرآن میرے پاس آ پہنچا تھا اور شیطان تو انسان کو دھوکا دینے والا ہے اور رسول کہے گا کہ اے میرے پروردگار! بے شک میری امت نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا۔“
(سورة الفرقان: 27-30)
سنت کی اہمیت کو مزید اجاگر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ۗ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ﴾
”کہہ دیجیے کہ اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو تو میری تابعداری کرو خود اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ معاف فرمادے گا۔ اور اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا مہربان ہے۔“
(سورة آل عمران: 31)
ایک دوسرے مقام پر سنت کو اس طرح واضح فرمایا:
﴿وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۖ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ﴾
”اور جو کچھ تمہیں رسول دے اس کو لے لو اور جس سے تمہیں روکے اس سے باز آ جاؤ۔“
(سورة الحشر: 7)
معلوم ہوا کہ قبولیت اعمال کے لیے تینوں شرائط کا پایا جانا لازم و ملزوم ہے۔ ان تینوں شرطوں میں سے ایک بھی شرط اگر عمل میں نہ پائی جائے تو عمل بے کار ہو جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں، سیدنا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے بندے اور برحق رسول ہیں۔ اس اقرار کے بعد کوئی چارہ باقی نہیں رہتا کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے میں اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت نہ کی جائے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو کرتے ہیں وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مرضی نہیں ہوتی بلکہ وہ وحی الہی ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرماتا ہے۔ اس دلیل میں اللہ تعالیٰ کا قرآن ہے:
﴿وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَىٰ‏ إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَىٰ﴾
”اور نہ اپنی خواہش سے کوئی بات کہتے ہیں وہ صرف وحی ہے جو اتاری جاتی ہے۔“
(سورة النجم: 3-4)
یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہے۔ اس سے یہ بات واضح ہوگئی کہ جو بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں رہ کر کی جائے وہ اللہ تعالیٰ کو پسند ہے۔ جو عبادت اس کی اطاعت سے باہر رہ کر کی جائے وہ اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں ہے۔
ہادی کائنات شافع محشر صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
عن عائشة رضي الله عنها قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من أحدث فى أمرنا هذا ما ليس منه فهو رد
”جو شخص امر دین میں اپنی طرف سے کوئی چیز پیدا کر دے وہ مردود ہے۔“
(صحیح البخاری، حدیث: 2697، صحیح مسلم: 1718، سنن أبي داود: 4606، سنن ابن ماجه: 14، مسند احمد: 270/6)
ان حالات میں ہر مسلمان پر فرض ہے کہ عبادت کے ادا کرنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات اور آپ کے اسوہ حسنہ کو پیش نظر رکھے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری عبادت اور اعمال قبولیت کا شرف حاصل کریں اور اگر کچھ خواہش ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سے محبت کرے اور گناہوں کو بھی معاف فرمائے اور ہمیں جنت میں اعلیٰ مقام بھی عطا فرمائے تو پھر ایک ہی راستہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ماں باپ، اپنی اولاد بلکہ تمام دنیا سے عزیز جانیں اور عبادت کا جو طریقہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا ہے اس کو تلاش کرنے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھیں اور اس کو اختیار کرنے میں پوری جدوجہد کریں۔
یاد رہے کہ اگر ہم نے سنت کے راستہ سے سرمو انحراف کیا تو ہمارا کیا ہوا اقرار لا إله إلا الله محمد رسول الله ایک بے حقیقت نشان ہوگا۔
جیسا کہ حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے عمل سے یہ بات واضح ہوتی ہے۔ جامع ترمذی میں امام ترمذی رحمہ اللہ نے بایں الفاظ تبویب قائم فرمائی: باب فى الذبح بعد الصلاة اس تبویب کے تحت سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی روایت نقل فرما کر ثابت کر دیا ہے کہ سنت نبوی کے خلاف اگر کوئی صحابی بھی عمل کرے تو اس کا عمل بھی اللہ تعالیٰ کے ہاں درجہ قبولیت نہیں حاصل کر سکتا ہے۔
عن البراء بن عازب رضى الله عنه قال خطبنا رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم النحر فقال لا يذبحن أحدكم حتى يصلي قال فقال خالي فقال يا رسول الله هذا يوم اللحم فيه مكروه وإني عجلت نسيكتي لأطعم أهلي وأهل داري أو جيراني قال فأعد ذبحك بآخر وقال يا رسول الله عندي عناق لبن خير من شاتي نحم أفأذبحها قال نعم وهو خير نسيكتك ولا تجزي جذعة بعدك
سیدنا حضرت براء بن عازب فرماتے ہیں کہ شاہ مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے خطبہ میں ارشاد فرمایا کہ نماز عید سے پہلے کوئی بھی اپنی قربانی ذبح نہ کرے۔ سیدنا براء فرماتے ہیں کہ میرے خالو (ابو بردہ بن نیار جن کا نام ہانی ہے) کھڑے ہوئے اور عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! یہ ایسا دن ہے کہ اس دن گوشت سے نفرت ہوتی ہے (یعنی گوشت بہت زیادہ ہوتا ہے) اسی لیے میں نے اپنی قربانی جلدی ذبح کر دی ہے تا کہ اپنے گھر والوں اور اہل محلہ کو گوشت کھلاؤں۔ تو رحمت دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر ارشاد فرمایا: اس کی جگہ دوسری قربانی ذبح کرو۔ تو میرے خالو کہنے لگے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میرے پاس ایک بکری ہے جس کی عمر ایک سال سے کم ہے جو دودھ والی دو بکریوں سے موٹی ہے کیا میں اس کو ذبح کر سکتا ہوں؟ آپ نے فرمایا: ہاں وہ تمہاری قربانیوں سے بہتر ہے اب تیرے بعد کسی کو جذعہ قربانی کرنا درست نہیں ہے۔
(جامع الترمذی مترجم، 549، جلد 1 نعمانی کتب خانہ لاہور)
(قربانی کھیرے جانور کی ہرگز جائز نہیں۔ اگرچہ جانور کتنا بھی خوبصورت اور موٹا تازہ ہو بے شک وہ جنت سے آیا ہو جب تک وہ کھیرے ہے اس کی قربانی نہیں ہو سکتی کیونکہ مہر نبوی اس پر نہیں ہے۔ آپ کا فرمان ہے: لا تذبحوا إلا مسنة کہ صرف دو دانتا جانور ہی ذبح کرو۔)
قابل غور بات یہ ہے کہ صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم جس کا عقیدہ اور نیت بالکل درست ہیں لیکن عمل خلاف سنت ہونے کی وجہ سے شاہ امت صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ قربانی کرنے کا حکم فرمایا۔ اس سے روز روشن کی طرح واضح ہوتا ہے کہ ہر عمل کے لیے جہاں صحت عقیدہ اور صحت نیت ضروری ہے وہاں سنت نبوی کا ہونا بھی اتنا ہی ضروری ہے جیسا کہ تین صحابہ کرام کا قصہ جو کہ صحیحین میں موجود ہے جن تین صحابہ کرام نے سنت نبوی سے ہٹ کر عمل کا ارادہ کیا تھا۔

سیدنا حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ :

سیدنا حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ دونوں باپ بیٹا صحابی ہیں۔ غزوہ بدر میں ان کی عمر چھوٹی تھی۔ پہلا معرکہ جس میں سیدنا براء نے شرکت کی علی اختلاف رولیۃ وہ احد ہے یا خندق۔ جنگ جمل و صفین میں جناب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے۔ ان کی وفات کوفہ میں ہوئی۔

تین صحابہ کا قصہ جنہوں نے خلاف سنت عمل کرنے کا ارادہ کیا :

عن أنس رضى الله عنه قال جاء ثلاثة رهط إلى أزواج النبى صلى الله عليه وسلم يسألون عن عبادة النبى صلى الله عليه وسلم فلما أخبروا بها كأنهم تقالوها فقالوا أين نحن من النبى وقد غفر الله له ما تقدم من ذنبه وما تأخر فقال أحدهم أما أنا فأصلي الليل أبدا وقال الآخر أنا أصوم النهار أبدا ولا أفطر وقال الآخر أنا أعتزل النساء فلا أتزوج أبدا فجاء النبى صلى الله عليه وسلم إليهم فقال أنتم الذين قلتم كذا وكذا؟ أما والله إني لأخشاكم لله وأتقاكم له لكني أصوم وأفطر وأصلي وأرقد وأتزوج النساء فمن رغب عن سنتي فليس مني
”سیدنا حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اسوہ کامل نبی معظم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کے پاس تین آدمی آئے اور آپ کی عبادات کے متعلق سوالات کیے۔ جب بتلایا گیا تو انہوں نے اپنی عبادت کو کم جانا اور کہنے لگے ہم آپ کی عبادت کا مقابلہ کیسے کر سکتے ہیں جب کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے تمام گناہ معاف فرما رکھے ہیں۔ تو ان تینوں میں سے ایک کہنے لگا: میں پوری رات نماز ہی پڑھتا رہوں گا۔ دوسرا کہنے لگا: میں دن کو ہمیشہ روزہ ہی رکھا کروں گا کبھی افطار نہیں کروں گا۔ تیسرا کہنے لگا: میں شادی نہیں کروں گا۔ نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے اور فرمایا کہ ایسی ایسی باتیں تم نے کہی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی قسم! کیا میں تم سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتا کیا تم سب سے زیادہ متقی نہیں ہوں لیکن اس کے باوجود میں روزہ بھی رکھتا ہوں اور چھوڑتا بھی ہوں، نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور عورتوں سے شادیاں بھی کر رکھی ہیں۔ یاد رکھو! جس نے میری سنت سے بے رغبتی اختیار کی وہ مجھ سے نہیں۔“
(صحیح البخاری، حدیث نمبر: 5063، صحیح مسلم، حدیث: 1401، مشکوٰۃ، کتاب الایمان، باب الاعتصام بالکتاب والسنة، حدیث نمبر: 145)

سیدنا حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ :

سیدنا حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا سلسلہ نسب کچھ اس طرح ہے کہ انس بن مالک بن نضر بن ضمضم بن زید بن حرام الانصاری الخزرجی البخاری ہے شاہ امم صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم خاص تھے دس (10) سال تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مصروف رہے۔ جب سالار اعظم مدینہ منورہ تشریف لائے اس وقت سیدنا انس دس (10) سال کے تھے۔
ان کی 2286 روایات ہیں ان میں 168 متفق علیہ ہیں۔ 183 احادیث میں امام بخاری منفرد ہیں، اور 91 احادیث میں امام مسلم منفرد ہیں۔ صحابہ میں سب سے زیادہ اولاد سیدنا انس کی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میں ان کی والدہ کے کہنے پر سید الرسل صلی اللہ علیہ وسلم نے خصوصی دعا فرمائی تھی۔
اللهم بارك فى ماله وولده وأطل عمره واغفر ذنبه
ان کے 98 بچے تھے۔ ان کا باغ سال میں دو مرتبہ پھل دیتا تھا۔ ان باغ میں ایک ریحان کا پودا تھا جس سے کستوری کی خوشبو آتی تھی۔ ان کی عمر 100 سال سے زیادہ تھی۔ بصرہ میں سب سے آخر میں فوت ہونے والے صحابی حضرت انس رضی اللہ عنہ ہیں۔ مرعاة المفاتیح
عن أبى ذر رضى الله عنه قال قلت يا رسول الله صلى الله عليه وسلم كيف علمت أنك نبي صلى الله عليه وسلم حتى استيقنت؟ فقال يا أبا ذر رضي الله عنه أتاني ملكان وأنا ببعض بطحاء مكة فوقع أحدهما إلى الأرض وكان الآخر بين السماء والأرض فقال أحدهما لصاحبه أهو هو؟ قال نعم قال فزنه برجل فوزنت به فوزنته ثم قال زنه بعشرة فوزنت بهم فرجحتهم ثم قال زنه بمائة فوزنت بهم فرجحتهم ثم قال زنه بألف فوزنت بهم فرجحتهم كأني أنظر إليهم ينتشرون على من خفة الميزان قال فقال أحدهما لصاحبه لو وزنته بأمته لرجحها
”سیدنا ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہتے ہیں میں نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ کو کیسے معلوم ہوا کہ آپ نبی ہیں یہاں تک کہ آپ نے یقین کر لیا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے ابو ذر! میرے پاس دو فرشتے آئے تھے۔ میں اس وقت مکہ کی کسی ایک وادی میں تھا۔ ان دونوں (فرشتوں) میں سے ایک (فرشتہ) زمین پر اتر آیا جبکہ دوسرا زمین و آسمان کے درمیان تھا۔ تو ان میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے پوچھا: کیا یہ وہی ہے؟ تو اس نے جواب دیا: ہاں وہی ہے۔ تو اس فرشتے نے کہا: اس کا وزن ایک آدمی کے ساتھ کر۔ جب وزن کیا گیا تو میرا وزن اس سے زیادہ تھا۔ پھر اس نے کہا: دس آدمیوں کے ساتھ وزن کر۔ پھر جب ان کے ساتھ وزن کیا گیا تو بھی میں بھاری رہا۔ پھر اس نے کہا: سو (100) آدمیوں کے ساتھ وزن کر۔ تو جب وزن کیا گیا تو بھی میں ان پر غالب رہا۔ پھر اس نے کہا: ایک ہزار آدمیوں سے وزن کر۔ جب ان کے ساتھ وزن کیا گیا تو پھر بھی میرا پلڑا بھاری رہا۔ مجھے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وزن کے ہلکا ہونے کی وجہ سے وہ مجھ پر گر پڑیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان میں سے ایک فرشتے نے اپنے ساتھی سے کہا کہ اگر تو ساری امت کے ساتھ وزن کرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم امت پر بھی غالب آ جائیں۔“
(رواہ الدارمی، حدیث نمبر: 14، مشکاة المصابیح: 5774، طبع بیروت)
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ جس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پوری امت سے بھاری ہے اس کی بات بھی ساری امت سے بھاری ہے۔

سیدنا حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ :

(سیدنا ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ کا نام جندب بن جنادہ ہے۔ قدیم الاسلام ہیں اور کبار صحابہ میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ مکہ مکرمہ میں اسلام لانے والے یہ پانچویں شخص ہیں۔ پھر یہ اپنے علاقہ میں چلے گئے تھے۔ خندق کے بعد مدینہ منورہ منتقل ہوئے تھے۔
سیدنا ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ کی کل مرویات 281 ہیں جن میں 12 متفق علیہ ہیں۔ 2 حدیثوں میں امام بخاری منفرد ہیں اور 19 احادیث میں امام مسلم منفرد ہیں۔ خلافت عثمانی میں اللہ تعالیٰ کو پیارے ہوئے۔)
﴿فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا﴾
”سو قسم ہے تیرے رب کی وہ مومن نہ ہوں گے یہاں تک کہ آپ کو ہی منصف جانیں اس جھگڑے میں جو ان میں اٹھے پھر نہ پاویں اپنے جی میں تنگی تیرے فیصلہ سے اور قبول کریں خوشی سے۔ “
(سورة النساء: 65)

خلاصہ تفسیر :

پھر قسم ہے تیرے رب کی یہ لوگ (جو صرف زبانی ایمان ظاہر کرتے پھرتے ہیں عند اللہ) ایمان دار نہ ہوں گے جب تک یہ بات نہ ہو کہ ان کے آپس میں جو جھگڑا واقع ہو، اس میں یہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے (اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت سے) فیصلہ کرا دیں پھر (جب آپ تصفیہ کر دیں تو) اس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصفیہ سے اپنے دلوں میں (انکار کی) تنگی نہ پاویں اور (اس فیصلہ کو) پورا پورا (ظاہر سے باطن سے) تسلیم کر لیں۔

معارف و مسائل :

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ کو تسلیم نہ کرنا کفر ہے:
اس آیت میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت و علو مرتبت کے اظہار کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت جو بے شمار آیات قرآنیہ سے ثابت ہے اس کی واضح تشریح بیان فرمائی ہے۔ اس آیت میں قسم کھا کر حق تعالیٰ شانہ نے فرمایا کہ کوئی آدمی اس وقت تک مؤمن یا مسلمان نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ کو ٹھنڈے دل سے پوری طرح تسلیم نہ کرے کہ اس کے دل میں بھی اس فیصلہ سے کوئی تنگی نہ پائی جائے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت رسول خود امت کے حاکم اور ہر پیش آنے والے جھگڑے کا فیصلہ کرنے کے ذمہ دار ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ کسی کے حکم بنانے پر موقوف نہیں۔ پھر اس آیت میں مسلمانوں کو حکم بنانے کی تلقین اس لیے فرمائی گئی ہے کہ حکومت کے مقرر کردہ حاکم اور اس کے فیصلہ پر تو بہت سے لوگوں کو اطمینان نہیں ہوا کرتا، جیسا اپنے مقرر کردہ ثالث یا حکم پر ہوتا ہے۔ مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم صرف حاکم نہیں بلکہ رسول معصوم بھی ہیں، رحمتہ للعالمین بھی ہیں، امت کے شفیق و مہربان باپ بھی ہیں۔ اس لیے تعلیم یہ دی گئی کہ جب بھی کسی معاملہ میں یا کسی مسئلہ میں باہم اختلاف کی نوبت آئے تو فریقین کا فرض ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم بنا کر فیصلہ کرائیں اور پھر آپ کے فیصلہ کو دل و جان سے تسلیم کر کے عمل کریں۔
اختلافات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم بنانا آپ کے عہد مبارک کے ساتھ مخصوص نہیں :
حضرات مفسرین نے فرمایا کہ ارشاد قرآنی پر عمل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک کے ساتھ مخصوص نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت مطہرہ کا فیصلہ خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا فیصلہ ہے۔ اس لیے یہ حکم قیامت تک اس طرح جاری ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک میں خود بلا واسطہ آپ سے رجوع کیا جائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کی طرف رجوع کیا جائے جو در حقیقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی طرف رجوع ہے۔

چند اہم مسائل :

① اول یہ کہ وہ شخص مسلمان نہیں جو اپنے ہر جھگڑے اور ہر مقدمہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ پر مطمئن نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے اس شخص کو قتل کر ڈالا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ پر راضی نہ ہوا اور پھر معاملہ کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس لے گیا۔ اس مقتول کے اولیاء نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عدالت میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر دعویٰ کر دیا کہ انہوں نے ایک مسلمان کو بلا وجہ قتل کر دیا۔ جب یہ استغاثہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش ہوا تو بیساختہ حضور کی زبان مبارک سے نکلا:
ما كنت أظن أن عمر يحترئ على قتل رجل مؤمن
”یعنی مجھے یہ گمان نہ تھا کہ عمر کسی مرد مومن کے قتل کی جرأت کریں گے۔“
اس سے ثابت ہوا کہ حاکم اعلیٰ کے پاس اگر کسی ماتحت حاکم کے فیصلہ کی اپیل کی جائے تو اس کو اپنے حاکم ماتحت کی جانب داری کی بجائے انصاف کا فیصلہ کرنا چاہیے، جیسا اس واقعہ میں آیت نازل ہونے سے پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے فیصلہ پر اظہار ناراضی فرمایا۔ پھر جب یہ آیت نازل ہوئی تو حقیقت کھل گئی کہ اس آیت کی رو سے وہ شخص مؤمن ہی نہیں تھا۔
② اس آیت سے یہ نکلا کہ لفظ ”فیما شجر“ صرف معاملات اور حقوق کے ساتھ متعلق نہیں، عقائد اور نظریات اور دوسرے نظری مسائل کو بھی حاوی ہے۔ (بحر محیط)
اس لیے ہر مسلمان کا فرض ہے کہ جب بھی کسی مسئلہ میں باہم اختلاف کی نوبت آئے تو باہم جھگڑتے رہنے کی بجائے دونوں فریق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت (یعنی حدیث) کی طرف رجوع کر کے مسئلہ کا حل تلاش کریں۔
③ یہ معلوم ہوا کہ جو کام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے قولاً یا عملاً ثابت ہو، اس کے کرنے سے دل میں تنگی محسوس کرنا بھی ضعف ایمان کی علامت ہے۔ مثلاً جہاں شریعت نے تیمم کر کے نماز پڑھنے کی اجازت دی وہاں تیمم کرنے پر جس شخص کا دل راضی نہ ہو وہ اس کو تقویٰ نہ سمجھے بلکہ اپنے دل کا روگ سمجھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ کوئی متقی نہیں ہو سکتا۔ جس صورت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ کر نماز پڑھنے کی اجازت دی اور خود بیٹھ کر ادا فرمائی اگر کسی شخص کا دل اس پر راضی نہ ہو اور نا قابل برداشت محنت و مشقت اٹھا کر کھڑے ہو کر ہی نماز ادا کرے تو وہ سمجھ لے کہ اس کے دل میں روگ ہاں معمولی ضرورت یا تکلیف کے وقت اگر رخصت کو چھوڑ کر عزیمت پر عمل کرے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی تعلیم کے مطابق درست ہے، مگر مطلقاً شرعی رخصتوں سے تنگدلی محسوس کرنا کوئی تقویٰ نہیں۔ اس لیے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن الله تعالى يحب أن تؤتى رخصه كما يحب أن تؤتى عزائمه
” یعنی اللہ تعالیٰ جس طرح عزیمتوں پر عمل کرنے سے خوش ہوتے ہیں اسی طرح رخصتوں پر عمل کرنے کو بھی پسند فرماتے ہیں۔“
عام عبادات و اذکار و اوراد درود تسبیح میں سب سے بہتر طریقہ وہی ہے جو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا معمول رہا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام کا جس پر عمل رہا۔ مسلمانوں کا فرض ہے کہ حدیث کی مستند روایات سے اس کو معلوم کر کے اس کو اپنا لائحہ علم بنائیں۔

ایک اہم فائدہ :

گذشتہ تفصیل سے یہ بات واضح ہوگئی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم امت کے صرف مصلح اور اخلاقی رہبر ہی نہیں تھے بلکہ وہ ایک عادل حاکم بھی تھے، پھر حاکم بھی اس شان کے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ کو ایمان کفر کا معیار قرار دیا گیا، جیسا کہ بشر منافق کے واقعہ سے ظاہر ہے۔ اس چیز کی وضاحت کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی مقدس کتاب میں متعدد مقامات پر اپنی اطاعت کی تعلیم کے ساتھ ساتھ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کو بھی لازمی قرار دیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے۔
﴿أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ﴾
”تم اللہ کی اطاعت کرو اور اللہ کے رسول کی اطاعت کرو۔“
ایک دوسری جگہ ارشاد فرمایا:
﴿مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ﴾
”یعنی جو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرے گا اس نے در حقیقت اللہ کی اطاعت کی۔“
ان آیات میں غور کرنے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان حاکمیت بھی نکھر کر سامنے آجاتی ہے، جس کی عملی صورت ظاہر کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنا قانون بھیجا، تا کہ آپ مقدمات کے فیصلے اسی کے مطابق کر سکیں۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:
﴿إِنَّا أَنزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ بِمَا أَرَاكَ اللَّهُ﴾
”ہم نے آپ پر کتاب کو حق کے ساتھ نازل کیا، تا کہ آپ لوگوں کے درمیان میں اس طرح فیصلہ کریں جس طرح اللہ آپ کو دکھلائے اور سمجھائے۔“
(معارف القرآن جلد دوم ص 460 تا 463)
﴿فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا ‎﴾
اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمھارے رب کی قسم یہ کبھی مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں یہ تم کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں، پھر جو کچھ تم فیصلہ کرو اس پر اپنے دلوں میں بھی کوئی تنگی نہ محسوس کریں بلکہ تسلیم سر بسر تسلیم کر لیں۔“
(سورۃ النساء:65، تفھیم ترجمہ مولانا مودودی مرحوم، 368)

حاشیہ نمبر 94 :

یعنی خدا کی طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس لیے نہیں آتا ہے کہ بس اس کی رسالت پر ایمان لے آؤ اور پھر اطاعت جس کی چاہو کرتے رہو بلکہ رسول کے آنے کی غرض ہی یہ ہوتی ہے کہ زندگی کا جو قانون وہ لے کر آیا ہے تمام قوانین کو چھوڑ کر صرف اسی کی پیروی کی جائے۔ اور خدا کی طرف سے جو احکام وہ دیتا ہے، تمام احکام کو چھوڑ کر صرف انہی پر عمل کیا جائے۔ اگر کسی نے یہی نہ کیا تو پھر اس کا محض رسول کو رسول مان لینا کوئی معنی نہیں رکھتا۔

حاشیہ نمبر 95 :

اس آیت کا حکم صرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی تک محدود نہیں ہے بلکہ قیامت تک کے لیے ہے۔ جو کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم لاتے ہیں اور جس طریقہ پر اللہ کی ہدایت و راہنمائی کے تحت آپ نے عمل کیا ہے وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے مسلمانوں کے درمیان فیصلہ کن سند ہے اور اس سند کو ماننے یا نہ ماننے ہی پر آدمی کے مومن ہونے اور نہ ہونے کا فیصلہ ہے۔
حدیث میں اس بات کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ میں ارشاد فرمایا ہے کہ:
لا يؤمن أحدكم حتى يكون هواه تبعا لما جئت به
”تم سب سے کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ اس کی خواہش نفس اس طریقہ کی تابع نہ ہو جائے جسے میں لے کر آیا ہوںپس قارئین کے لیے آیت مبارکہ مکمل لکھی جاتی ہے تا کہ اس آیت کریمہ کو بار بار پڑھ کر فرمان باری تعالیٰ کی حقیقت سمجھ میں آئے۔“

بدعت

ہر بدعتی عملاً مدعی نبوت ہوتا ہے جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دور نبوت میں وحی الہی کی روشنی میں امت کو اعمال کی تعلیمات دیتا ہے اسی طرح بدعتی آدمی اپنی طرف سے خانہ ساز شریعت کو رواج دیتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین کو ناقص سمجھتا ہے تب ہی تو دین میں اضافہ کرتا ہے۔ اس لیے طبیب اعظم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہر خطبہ میں فرمایا کرتے تھے:
كل بدعة ضلالة وكل ضلالة فى النار
(رواہ مسلم: 867،93 مشکوٰۃ: 141)
بروز عیدین نماز عید سے پہلے یا نماز عید کے بعد کوئی کسی قسم کی نماز عید گاہ میں پڑھنی بدعت ہے۔ (اگر کوئی اشراق یا چاشت پڑھنا چاہے تو وہ اپنے گھر میں پڑھ سکتا ہے۔)
سیدنا حضرت علی المرتضیٰ المتوفی 40ھ فرماتے ہیں:
أن رجلا يوم العيد أراد أن يصلي قبل صلاة العيد فنهاه على رضى الله عنه فقال رجل يا أمير المؤمنين إني أعلم أن الله تعالى لا يعذب على الصلاة قال على وإني أعلم أن الله تعالى لا يثيب على فعل حتى يفعله رسول الله صلى الله عليه وسلم أو يأمر به فتكون صلاته عبثا والعبث حرام فلعله تعالى يعذبك به لمخالفتك لرسوله
”ایک شخص نے عید کے دن نماز عید سے پہلے نفل نماز پڑھنا چاہی تو سیدنا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس کو روک دیا اس نے کہا: امیر المؤمنین! میں سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نماز پڑھنے پر سزا نہیں دیں گے۔ سیدنا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں بالیقین جانتا ہوں اللہ تعالیٰ کسی فعل پر ثواب نہ دے گا جب تک کہ اس فعل کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ کیا ہو یا اس کی ترغیب نہ دی ہو۔ بس تیری یہ نماز فعل عبث ہے اور فعل عبث حرام ہے اور شاید کہ تجھے اللہ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کی وجہ سے سزا دے۔“
حیدر کرار رضی اللہ عنہ کے اس فرمان سے واضح ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز عید سے قبل نقل ثابت نہیں۔ نہ آپ نے فعلاً ادا کیے اور نہ ہی قولاً اس کی ترغیب دی ہے۔
اس لیے یہ فعل عبث ہے اور فعل عبث حرام ہے اور ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نماز جیسی اہم اور پسندیدہ عبادت پر محض اس لیے سزا دے کہ اس کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل سے ثابت نہیں اور آپ نے اس کی ترغیب بھی نہیں دی آج کل کے مفتی اس وقت ہوتے۔ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ پر کیسے کیسے فتوے لگاتے کہ وہ نماز جیسی عبادت سے منع کرتے ہیں۔
کائنات کے مالک کا فرمان ہے
﴿فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَنْ تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾
”سنو! جو لوگ حکم رسول کی مخالفت کرتے ہیں انہیں ڈرتے رہنا چاہیے کہ کہیں ان پر کوئی زبر دست آفت نہ آپڑے یا انہیں درد ناک عذاب (نہ) پہنچے۔“
(سورة النور: 63)
سیدنا حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے طاؤس تابعی کو عصر کے بعد نماز پڑھتے ہوئے دیکھا (اس روایت میں تصریح ہے کہ یہ نماز صرف دو رکعت تھی) تو منع کیا انہوں نے عصر کے بعد نماز پڑھنے کی نہی کی روایت پیش کی۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے سخت لہجے میں ارشاد فرمایا:
ما أدري أيعذب أم يؤجر لأن الله تعالى يقول وما كان لمؤمن ولا مؤمنة إذا قضى الله ورسوله أمرا أن يكون لهم الخيرة
”میں نہیں جانتا کہ اس کو اس نماز پر سزا ہوگی یا اجر ملے گا کیونکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ تو یہ فرماتے ہیں کہ کسی مومن مرد اور عورت کو یہ حق حاصل نہیں کہ جب اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول کوئی فیصلہ فرمائیں تو اپنے خیال کو اس میں جگہ دیں۔“
(مستدرک حاکم، جلد 1 ص 110)
حضرات قارئین! آپ نے ملاحظہ کیا کہ سیدنا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے خلاف سنت نماز پڑھنے پر بھی سیدنا طاؤس رحمہ اللہ کو سزا کا مستوجب گردانا ہے۔
سیدنا حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص عصر کی نماز کے بعد اکثر دو رکعت پڑھا کرتا تھا۔ اس نے سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے دریافت کیا:
يا أبا محمد أيعذب الله على الصلاة؟ قال لا ولكن يعذبك بخلاف السنة
”اے ابو محمد! کیا اللہ تعالیٰ مجھے نماز پڑھنے کی وجہ سے سزا دے گا؟“ حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے فرمایا: ”نہیں، لیکن تجھے اللہ تعالیٰ سنت کی مخالفت کی وجہ سے سزا دے گا۔“
(مسند دارمی، ص: 62)
(سیدنا سعید بن مسیب یہی کچھ ارشاد فرمانا چاہتے ہیں۔ اگرچہ نفس نماز پر اللہ تعالیٰ کسی کو سزا نہیں دے گا کیونکہ وہ عبادت ہے مگر ایسی نماز جس میں سنت کی خلاف ورزی ہو اللہ تعالیٰ اس پر ضرور سزا دے گا۔)

سیدنا حضرت سعید بن مسیب تابعی رحمہ اللہ :

سیدنا سعید بن مسیب کی کنیت ابو محمد ہے۔ قریش کے محزوم قبیلہ سے ان کا تعلق ہے اور مدنی ہیں۔ خلافت عمر رضی اللہ عنہ میں ان کی ولادت ہوئی۔ کبار تابعین میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ سیدنا سعید بن مسیب رحمہ اللہ فقہ، حدیث، زہد، تقویٰ و طہارت کے جامع تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے تمام فیصلہ جات اور مرویات ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ یعنی ان کو حفظ تھیں۔ صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت کے ساتھ ان کی ملاقات ثابت ہے۔ ان کو امام زہری اور دیگر تابعین سے روایت کا شرف حاصل ہے۔
(امام مکحول تابعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سعید بن مسیب رحمہ اللہ ہی سے بڑا عالم اور فقیہ روئے زمین پر مجھے نظر نہیں آیا۔ سعید بن مسیب رحمہ اللہ کا اپنا قول ہے کہ میں نے چالیس حج کیے ہیں۔ سیدنا سعید بن مسیب رحمہ اللہ سن 93 ہجری میں فوت ہوئے۔)
سیدنا عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ المتوفی 55ھ کو کسی ختنہ میں دعوت دی گئی تو انہوں نے اس میں شمولیت سے صاف انکار کر دیا جب ان سے انکار کی وجہ دریافت کی گئی تو صاف الفاظ میں یہ جواب ارشاد فرمایا:
إن كنا لا نأتي الختان على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم ولا ندعى له
”ہم زمانہ رسالت مآب میں ختنوں میں نہیں جایا کرتے تھے اور نہ اس کے لیے ہمیں دعوت دی جاتی تھی۔“
(مسند احمد، جلد 4، صفحہ 217)
کیونکہ سید ولد آدم امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں ختنوں میں بلائے جانے کا دستور نہ تھا اور نہ لوگوں کو دعوتیں موصول ہوتی تھیں۔ اس لیے میں بھی اس میں شریک نہیں ہوتا۔ آپ نے دیکھ لیا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما، سیدنا علی رضی اللہ عنہ، سیدنا عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ وغیر ہم جلیل القدر صحابہ کرام اور تابعین رحمہم اللہ نے نماز جیسی بہترین عبادت اور ذکر جیسی اعلیٰ قربت وغیرہ کو مخصوص کیفیت اور خاص ہیئت اور پابندی کے ساتھ ادا کرنے سے محض اس لیے منع کیا کہ اس طور و طریقہ سے یہ کام جناب سید الانبیاء حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا اور نہ ہی اس کی ترغیب دی ہے اور نہ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں ایسا ہوتا تھا۔ اس لیے امور بدعت اور معمولی بدعت بھی بدعت عظمیٰ اور بدعت ظلما ہیں بلکہ ضلالت بھی ہیں اور گمراہی بھی۔ (أعاذنا الله منها)

سیدنا عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ :

سیدنا عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کا تعلق بنو ثقیف سے تھا۔ ان کا شمار بلند مرتبت صحابہ کرام میں ہوتا ہے۔ یہ طائف کے رہنے والے تھے۔ سن 9 ہجری میں 16 سال کی عمر میں اسلام قبول کیا۔ سیدنا حضرت ابو بکر اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما کے شاگردوں میں ہیں۔
طائف میں منصب امارت پر فائز رہے ہیں۔ سن 14 ہجری میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو بصرہ میں معلم مقرر فرمایا تھا۔ سن 15 ہجری میں عمان اور بحرین کے گورنر مقرر ہوئے۔ اس سال انہوں نے بحری بیڑا تیار کیا جسے اپنے بھائی حکم رضی اللہ عنہم کی قیادت میں ہندوستان روانہ کیا۔ اسلامی حکومت کا یہ سب سے پہلا بیڑا تھا جو صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے تیار کیا گیا۔ سن 55 ہجری میں جان جان آفرین کے سپرد کی۔

عمل :

اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم برحق کے نزدیک وہی مقبول ہوگا جو اخلاص اور اتباع سنت کی کسوٹی پر پورا اترتا ہو اگرچہ مقدار میں کم ہی کیوں نہ ہو اور ایسا عمل بالکل رائیگاں ہوگا جو دیکھنے میں پہاڑ جتنا نظر آئے لیکن اس میں اخلاص اور اتباع سنت کی جان و روح نہ ہو۔
صدیقہ کائنات سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک موقع پر کیا ہی خوب ارشاد فرمایا تھا جس کا خلاصہ یہ ہے سیدنا حضرت عبد الرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما کے ہاں اولاد نہیں ہوتی تھی۔ گھر میں کسی بیوی نے کہا اگر عبد الرحمن کے ہاں بیٹا پیدا ہوا تو ہم عقیقہ میں ایک اونٹ ذبح کریں گے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:
السنة أفضل عن الغلام شاتان مكافأتان وعن الجارية شاة
”سنت ہی افضل ہے وہ یہ ہے کہ لڑکے کی طرف سے دو بکریاں اور لڑکی کی طرف سے عقیقہ میں ایک ہی بکری کافی ہے۔“
(مستدرک حاکم، جلد 4 ص 238)
اونٹ اور دو بکریوں کی قیمت اور گوشت کا اگر موازنہ کیا جائے تو نمایاں فرق نظر آئے گا مگر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بکریوں کی بجائے اونٹ پر محض اس لیے راضی نہیں کہ یہ سنت کے خلاف ہے۔ اس لیے اگر اس کی قیمت یا گوشت زیادہ ہے تو پھر بھی اس کی چنداں قدر نہیں ہے۔ سنت ہی افضل ہے اور اس کی پابندی لازم ہے۔
(المنہاج الواضح : ص، 137)

صدیقہ کائنات سیدہ عائشہ طیبہ طاہرہ رضی اللہ عنہا :

ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا، خلیفہ اول ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بیٹی ہیں۔ ان کی کنیت ام عبد اللہ ہے۔ ان کی والدہ کا نام ام رومان بنت عامر بن عویمر ہے۔ افقۃ النساء ہیں امہات المؤمنین میں خدیجہ کے علاوہ سب سے افضل ہیں۔ سن 10 نبوت مکہ میں نکاح ہوا۔ نو (9) سال کی عمر میں رخصتی ہوئی۔ 9 سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجیت میں رہیں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اس وقت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی عمر 18 سال تھی۔ تمام ازواج مطہرات میں سے صرف سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا باکرہ تھیں۔ صحابہ و تابعین کی ایک بہت بڑی جماعت نے آپ سے روایت حاصل کی ہے۔ سن 57 میں مدینہ منورہ میں وفات ہوئی۔ نماز جنازہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے پڑھائی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی وصیت کے مطابق رات کے وقت جنت البقیع میں تدفین عمل میں لائی گئی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی کل مرویات 2201 ہیں۔ 174 متفق علیہ ہیں۔ 54 احادیث میں امام بخاری منفرد ہیں۔ 68 احادیث میں امام مسلم منفرد ہیں۔

سیدنا حضرت عبد الرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ :

سیدنا عبد الرحمن سیدنا ابی بکر رضی اللہ عنہ کے بڑے بیٹے ہیں۔ ان کی والدہ کا نام ام رومان ہے۔ صلح حدیبیہ والے سال مسلمان ہوئے اور مثالی مسلمان ثابت ہوئے۔ سن 53 ہجری میں وفات ہوئی۔ ان سے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں۔