حجر بن عدی اور حضرت معاویہؓ: علی مرزا کی دوغلی پالیسی

فونٹ سائز:
تحریر: ایاس احمد (تحسین)
مضمون کے اہم نکات

حجر بن عدی کے معاملے میں محمد علی مرزا کا کہنا ہے کہ وہ ابتدائی دور کے جلیل القدر صحابہ اور اولین مسلمانوں میں سے تھے، انتہائی نیک اور پرہیزگار تھے۔ وہ اس موقف کے حق میں چند روایات پیش کر کے یہ دلیل قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ حجر بن عدی کو انتہائی ظلم کے ساتھ شہید کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق اسی قتل کی بنیاد پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سخت ناراض ہوئیں۔

محمد علی مرزا یہ دعویٰ کرتا ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نعوذ باللہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو قتل کروانا چاہتی تھیں کیونکہ انہوں نے حجر بن عدی کو قتل کروایا تھا۔

حجر بن عدی تابعی تھے، وہ صحابی رسول نہیں تھے۔ وہ اسلامی معاشرے میں انتشار اور بدامنی پیدا کر رہے تھے اور جب کوئی شخص شریعت اور ریاستی امن کے خلاف بغاوت یا سنگین جرم کا مرتکب ہو تو وہ چاہے کتنا ہی عبادت گزار کیوں نہ دکھائی دے، قانون سے بالا تر نہیں ہو سکتا۔ وہ تو صرف ایک تابعی تھے، حالانکہ خود علی مرزا اس صحیح حدیث کو بار بار پیش کرتا ہے جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر میری بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا۔ تو جب قانون الٰہی اور عدل سب کے لیے برابر ہے، تو پھر حجر بن عدی کی کیا حیثیت ہے؟

ہم اس تحریر میں ان تمام روایات کا تفصیلی اور تحقیقی جائزہ لیں گے۔ ساتھ ہی ساتھ محمد علی مرزا کا دوہرا معیار بھی سامنے لائیں گے، جن کا ہمیشہ یہ دعویٰ رہتا ہے کہ وہ صرف اور صرف صحیح روایات ہی بیان کرتے ہیں اور انہی سے دلیل پکڑتے ہیں۔ قارئین کو اس جائزے سے بخوبی معلوم ہو جائے گا کہ انہوں نے اپنے اس موقف کے لیے کتنی صحیح اور مستند روایات کا سہارا لیا ہے، اور اس پورے معاملے میں حقائق کیا ہیں۔ ہم تمام نکات کو ایک ایک کر کے پوری ترتیب اور وضاحت کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔

روایت نمبر 1

امام احمد روایت کرتے ہیں:

حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ، فَقَالَتْ لَهُ: أَمَا خِفْتَ أَنْ أُقْعِدَ لَكَ رَجُلًا فَيَقْتُلَكَ؟ فَقَالَ: مَا كُنْتِ لِتَفْعَلِي، وَأَنَا فِي بَيْتِ أَمَانٍ، وَقَدْ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ـ يَعْنِي ـ: «الْإِيمَانُ قَيْدُ الْفَتْكِ»، كَيْفَ أَنَا فِي الَّذِي بَيْنِي وَبَيْنَكِ، وَفِي حَوَائِجِكِ؟ قَالَتْ: صَالِحٌ. قَالَ: فَدَعِينَا وَإِيَّاهُمْ حَتَّى نَلْقَى رَبَّنَا عَزَّ وَجَلَّ.

عفان نے ہم سے بیان کیا، حماد بن سلمہ نے ہم سے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہمیں علی بن زید نے سعید بن مسیب سے خبر دی کہ معاویہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا: کیا تمہیں خوف نہیں ہوا کہ میں تمہارے لیے کسی آدمی کو بٹھا دوں جو تمہیں قتل کردے؟ انہوں نے جواب دیا: آپ ایسا نہیں کریں گی، جبکہ میں امن کی جگہ میں ہوں۔ اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”ایمان اچانک دھوکے سے قتل کرنے سے روکتا ہے۔“ پھر انہوں نے کہا: آپ کے ساتھ میرے تعلقات اور آپ کی ضروریات کے معاملے میں میرا برتاؤ کیسا ہے؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اچھا ہے۔ انہوں نے کہا: پس ہمیں اور انہیں چھوڑ دیجیے، یہاں تک کہ ہم اپنے رب سے جا ملیں۔

(أحمد بن حنبل، المسند، 28/43، حدیث نمبر: 16832، طبع مؤسسة الرسالة)

مستدرک حاکم میں بھی اسی واقعے کی روایت موجود ہے۔ وہاں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے یہ الفاظ صراحت سے آئے ہیں:

يَا مُعَاوِيَةُ، قَتَلْتَ حُجْرًا وَأَصْحَابَهُ، وَفَعَلْتَ الَّذِي فَعَلْتَ، أَمَا تَخْشَى أَنْ أُخَبِّئَ لَكَ رَجُلًا فَيَقْتُلَكَ؟

ترجمہ: اے معاویہ! تم نے حجر اور ان کے ساتھیوں کو قتل کیا اور جو کچھ کیا، کیا تمہیں خوف نہیں کہ میں تمہارے لیے کسی آدمی کو چھپا کر رکھ دوں جو تمہیں قتل کردے؟

(الحاكم، المستدرك على الصحيحين، 4/393، حدیث نمبر: 5984)

محمد علی مرزا اس روایت کو بیان کر کے یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس روایت کو امام حاکم نے صحیح کہا ہے۔ حالانکہ یہ اس کا صریح اور کھلا جھوٹ ہے۔ امام حاکم نے اس روایت کو کہاں صحیح کہا ہے، اگر مرزا کے ماننے والے اس کا کوئی ثبوت پیش کر دیں تو ہم مان جائیں گے، ورنہ انہیں چاہیے کہ وہ اس بات سے توبہ کریں اور تسلیم کریں کہ محمد علی مرزا عوام کے سامنے صریح جھوٹ پھیلاتا ہے۔

اس کے علاوہ مرزا یہ بھی کہتا ہے کہ شیخ شعیب الارناؤوط نے اس روایت کو صحیح کہا ہے۔ یہ بھی اس کا ایک بہت بڑا فریب ہے۔ شیخ شعیب نے اس پوری روایت کو مطلق صحیح نہیں کہا بلکہ صحیح لغیرہ کہا ہے۔ صحیح اور صحیح لغیرہ کے درمیان اصول حدیث کی رو سے بہت بڑا اور بنیادی فرق ہے۔ صحیح لغیرہ اس روایت کو کہتے ہیں جو اپنی اصل سند کے اعتبار سے بذات خود صحیح نہیں ہوتی بلکہ کمزور ہوتی ہے، لیکن دوسرے شواہد اور روایات کی تائید سے تقویت پا کر اس درجے تک پہنچتی ہے۔ شیخ شعیب نے اس پوری روایت کو صحیح لغیرہ بھی نہیں کہا، بلکہ صرف اس مخصوص حصے کو کہا ہے جہاں حضرت معاویہ نے حضرت عائشہ کو ایک حدیث سنائی تھی، اور وہ حدیث دوسری کتب اور صحیح سندوں سے ثابت ہے۔ شیخ شعیب نے اس واقعے کی سند کو خود صحیح تسلیم نہیں کیا، بلکہ اس پر جرح کرتے ہوئے کمزوری کو واضح کیا ہے اور صرف اس ایک حصے کو دوسرے شواہد کی وجہ سے صحیح لغیرہ قرار دیا ہے۔ یوں محمد علی مرزا نے تصحیح کے اس معاملے میں دو جگہ صریح دھوکہ دہی اور تحریف سے کام لیا ہے۔

مسند احمد کے متن میں حجر بن عدی رضی اللہ عنہ کا نام صراحتاً نہیں ہے؛ یہ اضافہ مستدرک حاکم کے متن میں ہے۔ دونوں روایتوں کی سند میں علی بن زید بن جدعان مشترک ہیں۔

اس روایت کا بنیادی سندی عیب

مسند احمد کی سند میں یہ راوی موجود ہیں:

عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ

یہی راوی مستدرک حاکم کی روایت میں بھی موجود ہے۔ ائمۂ نقد نے ان پر ضعف، کثرتِ وہم اور حدیث میں غلطی کی جرح کی ہے۔

1۔ امام ابن حبان (متوفی 354ھ) — جرحِ مفسر

كَانَ شَيْخًا جَلِيلًا، وَكَانَ يَهِمُ فِي الْأَخْبَارِ، وَيُخْطِئُ فِي الْآثَارِ، حَتَّى كَثُرَ ذَلِكَ فِي أَخْبَارِهِ، وَتَبَيَّنَ فِيهَا الْمَنَاكِيرُ الَّتِي يَرْوِيهَا عَنِ الْمَشَاهِيرِ، فَاسْتَحَقَّ تَرْكَ الِاحْتِجَاجِ بِهِ.

وہ ایک جلیل القدر شخص تھے، لیکن روایات میں وہم کرتے اور آثار میں غلطی کرتے تھے، یہاں تک کہ ان کی روایات میں یہ غلطیاں بہت زیادہ ہوگئیں۔ ان کی روایات میں منکر روایات ظاہر ہونے لگیں جنہیں وہ مشہور راویوں سے نقل کرتے تھے۔ لہٰذا وہ اس قابل ہوگئے کہ ان سے حجت پکڑنا ترک کردیا جائے۔

(ابن حبان، المجروحين، 2/103، تحقیق: محمود إبراهيم زايد)

2۔ امام حماد بن زید (متوفی 179ھ)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ، وَكَانَ يَقْلِبُ الْأَحَادِيثَ.

ترجمہ: علی بن زید نے ہم سے حدیث بیان کی، اور وہ احادیث کو الٹ پلٹ کر دیتے تھے۔

(ابن أبي حاتم، الجرح والتعديل، 6/186؛ المزي، تهذيب الكمال، 20/440)

3۔ امام ابراہیم بن یعقوب الجوزجانی (متوفی 259ھ)

وَاهِي الْحَدِيثِ، ضَعِيفٌ، فِيهِ مَيْلٌ عَنِ الْقَصْدِ، لَا يُحْتَجُّ بِحَدِيثِهِ.

ترجمہ: وہ حدیث میں کمزور ہیں، ضعیف ہیں، ان میں اعتدال سے ہٹاؤ ہے، اور ان کی حدیث سے حجت نہیں پکڑی جائے گی۔

(الجوزجاني، أحوال الرجال، ترجمہ علی بن زید بن جدعان؛ المزي، تهذيب الكمال، 20/438-439)

4۔ امام ابو حاتم رازی (متوفی 277ھ)

لَيْسَ بِقَوِيٍّ، يُكْتَبُ حَدِيثُهُ، وَلَا يُحْتَجُّ بِهِ.

ترجمہ: وہ قوی نہیں ہیں۔ ان کی حدیث لکھی جائے گی، لیکن ان سے حجت نہیں پکڑی جائے گی۔

(ابن أبي حاتم، الجرح والتعديل، 6/187؛ المزي، تهذيب الكمال، 20/439)

5۔ امام احمد بن حنبل (متوفی 241ھ)

عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ضَعِيفُ الْحَدِيثِ.

ترجمہ: علی بن زید حدیث میں ضعیف ہیں۔

(ابن أبي حاتم، الجرح والتعديل، 6/187؛ المزي، تهذيب الكمال، 20/437-438)

لہٰذا علی بن زید کی وجہ سے اس روایت کی یہ سند ضعیف ہے۔

روایت نمبر 2

امام بیہقی نے یعقوب بن سفیان کے واسطے سے یہ روایت نقل کی ہے:

قَالَ يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ: ثَنَا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، حَدَّثَنِي الْحَارِثُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زُرَيْرٍ الْغَافِقِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ يَقُولُ:يَا أَهْلَ الْعِرَاقِ، سَيُقْتَلُ مِنْكُمْ سَبْعَةُ نَفَرٍ بِعَذْرَاءَ، مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ أَصْحَابِ الْأُخْدُودِ. فَقُتِلَ حُجْرٌ وَأَصْحَابُهُ.

ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن زُرَیر غافقی کہتے ہیں کہ میں نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا: ”اے اہلِ عراق! تم میں سے سات افراد عذراء میں قتل کیے جائیں گے، ان کی مثال اصحابِ اخدود جیسی ہوگی۔“ پھر حجر اور ان کے ساتھی قتل کیے گئے۔

(البيهقي، دلائل النبوة، ج 6، ص 456؛ ابن كثير، البداية والنهاية، ج 6، ص 225)

ابن لہیعہ کے اختلاط پر ائمہ کے اقوال

امام بخاری رحمہ اللہ:

احْتَرَقَ مَنْزِلُ ابْنِ لَهِيعَةَ وَكُتُبُهُ فِي سَنَةِ سَبْعِينَ وَمِائَةٍ.

ترجمہ: ابن لہیعہ کا گھر اور ان کی کتابیں 170 ہجری میں جل گئیں۔

(البخاري، التاريخ الكبير، ترجمہ عبد الله بن لهيعة؛ الذهبي، سير أعلام النبلاء)

امام ابن حبان رحمہ اللہ:

وَكَانَ ابْنُ لَهِيعَةَ شَيْخًا صَالِحًا، وَلَكِنَّهُ كَانَ يُدَلِّسُ عَنِ الضُّعَفَاءِ قَبْلَ احْتِرَاقِ كُتُبِهِ، ثُمَّ احْتَرَقَتْ كُتُبُهُ قَبْلَ مَوْتِهِ بِأَرْبَعِ سِنِينَ.

ترجمہ: ابن لہیعہ نیک شخص تھے، لیکن اپنی کتابیں جلنے سے پہلے بھی ضعیف راویوں سے تدلیس کرتے تھے، پھر ان کی وفات سے چار سال پہلے ان کی کتابیں جل گئیں۔

اور مزید لکھتے ہیں:

وَمَنْ سَمِعَ مِنْهُ بَعْدَ احْتِرَاقِ كُتُبِهِ فَسَمَاعُهُ لَيْسَ بِشَيْءٍ.

ترجمہ: جس نے ان کی کتابیں جلنے کے بعد ان سے سماع کیا، اس کا سماع قابلِ اعتبار نہیں۔

(ابن حبان، المجروحين، ترجمہ عبد الله بن لهيعة)

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ:

صَدُوقٌ مِنَ السَّابِعَةِ، خَلَطَ بَعْدَ احْتِرَاقِ كُتُبِهِ.

ترجمہ: وہ صدوق راوی تھے، لیکن ان کی کتابیں جلنے کے بعد ان کے حافظے میں اختلاط پیدا ہوگیا۔

(ابن حجر، تقريب التهذيب، ترجمہ عبد الله بن لهيعة)

اس سند میں ابن لہیعہ سے روایت کرنے والے راوی ابن بکیر، یعنی یحییٰ بن عبد اللہ بن بکیر ہیں۔

امام ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی پیدائش کے بارے میں لکھا:

وُلِدَ سَنَةَ خَمْسٍ وَخَمْسِينَ وَمِائَةٍ.

ترجمہ: وہ 155 ہجری میں پیدا ہوئے۔

(الذهبي، سير أعلام النبلاء، ترجمہ يحيى بن عبد الله بن بكير)

جبکہ ابن لہیعہ کی کتابیں 170 ہجری میں جلیں۔ اس لحاظ سے ابن بکیر اس وقت تقریباً 15 سال کے تھے۔

لیکن ابن بکیر نے ابن لہیعہ سے یہ خاص روایت کتابیں جلنے سے پہلے سنی تھی یا بعد میں، اس کی کوئی صریح اور متعین دلیل دستیاب نہیں ہوئی۔

امام ابن الصلاح رحمہ اللہ نے معرفة من خلط في آخر عمره من الثقات میں لکھا:

وَالْحُكْمُ فِيهِمْ: أَنَّهُ يُقْبَلُ حَدِيثُ مَنْ أَخَذَ عَنْهُمْ قَبْلَ الِاخْتِلَاطِ، وَلَا يُقْبَلُ حَدِيثُ مَنْ أَخَذَ عَنْهُ بَعْدَ الِاخْتِلَاطِ، أَوْ أُشْكِلَ أَمْرُهُ، فَلَمْ يُدْرَ هَلْ أَخَذَ عَنْهُ قَبْلَ الِاخْتِلَاطِ أَوْ بَعْدَهُ.

ترجمہ: مختلط راویوں کے بارے میں حکم یہ ہے کہ جس نے ان سے اختلاط سے پہلے روایت لی، اس کی حدیث قبول کی جائے گی؛ اور جس نے اختلاط کے بعد روایت لی، یا جس کا معاملہ مشتبہ ہو کہ اس نے اختلاط سے پہلے سماع کیا تھا یا بعد میں، اس کی حدیث قبول نہیں کی جائے گی۔

(ابن الصلاح، معرفة أنواع علوم الحديث، النوع الثاني والستون: معرفة من خلط في آخر عمره من الثقات)

نتیجہ

اصول کے مطابق جب سماع کا زمانہ متعین نہ ہو سکے تو ایسی روایت قبول نہیں کی جاتی۔

لہٰذا اس روایت کو صحیح قرار دینے کے لیے یہ ثابت کرنا ضروری ہے کہ ابن بکیر نے یہ روایت ابن لہیعہ سے ان کی کتابیں جلنے اور اختلاط سے پہلے سنی تھی۔ جب تک یہ ثابت نہ ہو، ابن لہیعہ کے اس طریق سے روایت کو صحیح قرار نہیں دیا جا سکتا۔

روایت نمبر 3

یہی روایت امام ابو العرب التمیمی نے اپنی کتاب المِحَن میں ایک دوسری سند سے بھی نقل کی ہے:

وَحَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ مِسْكِينٍ عَنْ سُحْنُونَ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ قَالَ: حَدَّثَنِي الْحَارِثُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زُرَيْقٍ الْغَافِقِيِّ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ سَمِعْتُهُ يَقُولُ: يَا أَهْلَ الْعِرَاقِ سَيُقْتَلُ مِنْهُمْ سَبْعَةٌ كُلُّهُمْ كَمَثَلِ أَصْحَابِ الْأُخْدُودِ قَالَ فَقُتِلَ حُجْرٌ وَأَصْحَابُهُ.

(أبو العرب التميمي، المِحَن، ص 140، باب: ذكر مقتل حجر بن عدي ومن معه من أصحابه)

ابن وہب کا مدلس ہونا

امام ابن سعد رحمہ اللہ نے عبداللہ بن وہب کے بارے میں لکھا ہے:

كَانَ كَثِيرَ الْعِلْمِ، ثِقَةً فِيمَا قَالَ: حَدَّثَنَا، وَكَانَ يُدَلِّسُ.

ترجمہ: وہ بہت زیادہ علم والے اور ثقہ تھے جب «حدثنا» کہتے تھے، اور وہ تدلیس بھی کرتے تھے۔

(ابن سعد، الطبقات الكبرى، 7/518)

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے بھی ابن وہب کو مدلسین میں شمار کرتے ہوئے لکھا:

عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ الْمِصْرِيُّ الْفَقِيهُ الْمَشْهُورُ، وَصَفَهُ بِذَلِكَ مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ فِي الطَّبَقَاتِ.

ترجمہ: عبداللہ بن وہب مصری، مشہور فقیہ ہیں؛ محمد بن سعد نے الطبقات میں انہیں تدلیس سے موصوف کیا ہے۔

(ابن حجر، تعريف أهل التقديس بمراتب الموصوفين بالتدليس، ص 86، رقم 17)

نتیجہ

اس سند میں ابن وہب، ابن لہیعہ سے «عن» کے ساتھ روایت کر رہے ہیں، سماع کی صراحت نہیں کر رہے۔ لہٰذا اگر ان کی اس روایت کو تدلیسِ اسناد کی معنعن روایت شمار کیا جائے تو اصولِ حدیث کے مذکورہ قاعدے کے مطابق سماع کی تصریح یا کسی دوسرے ثابت قرینے کے بغیر اسے حجت نہیں بنایا جائے گا۔

روایت نمبر 4

حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے البداية والنهاية میں یہ روایت نقل کی ہے:

وَقَالَ يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ، ثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ قَالَ: دَخَلَ مُعَاوِيَةُ عَلَى عَائِشَةَ فَقَالَتْ: مَا حَمَلَكَ عَلَى قَتْلِ أَهْلِ عَذْرَاءَ حُجْرٍ وَأَصْحَابِهِ؟ فَقَالَ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، إِنِّي رَأَيْتُ قَتْلَهُمْ صَلَاحًا لِلْأُمَّةِ، وَأَنَّ بَقَاءَهُمْ فَسَادٌ. فَقَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «سَيُقْتَلُ بِعَذْرَاءَ نَاسٌ يَغْضَبُ اللَّهُ لَهُمْ وَأَهْلُ السَّمَاءِ».

ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے معاویہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: تمہیں اہلِ عذراء، یعنی حجر اور ان کے ساتھیوں کو قتل کرنے پر کس چیز نے آمادہ کیا؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں نے ان کا قتل امت کی بھلائی اور ان کا باقی رہنا امت کے لیے فساد سمجھا۔ اس پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: عذراء میں کچھ لوگ قتل کیے جائیں گے جن کے سبب اللہ اور آسمان والے ناراض ہوں گے۔

(ابن کثیر، البداية والنهاية، مطبعة السعادة، 1351ھ، ج 8، ص 60؛)

ابن لہیعہ مدلس

امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

كَانَ شَيْخًا صَالِحًا، وَلَكِنَّهُ كَانَ يُدَلِّسُ عَنِ الضُّعَفَاءِ قَبْلَ احْتِرَاقِ كُتُبِهِ.

ترجمہ: وہ نیک آدمی تھے، لیکن اپنی کتابیں جلنے سے پہلے ضعیف راویوں سے تدلیس کیا کرتے تھے۔

(ابن حبان، المجروحين، تحقیق محمود ابراہیم زاید، ج 2، ص 11)

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے بھی انہیں مدلسین میں شمار کیا ہے:

عَبْدُ اللَّهِ بْنُ لَهِيعَةَ الْحَضْرَمِيُّ قَاضِي مِصْرَ، اخْتَلَطَ فِي آخِرِ عُمُرِهِ، وَكَثُرَتْ عَنْهُ الْمَنَاكِيرُ فِي رِوَايَتِهِ، وَقَالَ ابْنُ حِبَّانَ: كَانَ صَالِحًا وَلَكِنَّهُ كَانَ يُدَلِّسُ عَنِ الضُّعَفَاءِ.

ترجمہ: عبداللہ بن لہیعہ، مصر کے قاضی تھے۔ آخری عمر میں ان کا اختلاط ہوگیا اور ان کی روایات میں منکر روایات کثرت سے آنے لگیں۔ ابن حبان نے کہا کہ وہ نیک آدمی تھے، لیکن ضعیف راویوں سے تدلیس کرتے تھے۔

(ابن حجر، تعريف أهل التقديس بمراتب الموصوفين بالتدليس، ج 1، ص 177، رقم 140)

مدلس کی معنعن روایت کا اصولی حکم

امام ابن الصلاح رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

وَالصَّحِيحُ التَّفْصِيلُ، وَأَنَّ مَا رَوَاهُ الْمُدَلِّسُ بِلَفْظٍ مُحْتَمَلٍ لَمْ يُبَيِّنْ فِيهِ السَّمَاعَ وَالِاتِّصَالَ حُكْمُهُ حُكْمُ الْمُرْسَلِ وَأَنْوَاعِهِ.

ترجمہ: صحیح بات تفصیل ہے: مدلس جب ایسے الفاظ کے ساتھ روایت کرے جن میں سماع اور اتصال کی وضاحت نہ ہو، تو اس روایت کا حکم مرسل روایت جیسا ہوتا ہے۔

(ابن الصلاح، معرفة أنواع علوم الحديث، ص 73، النوع الثاني عشر: معرفة التدليس وحكم المدلس)

نتیجہ

اس روایت میں ابن لہیعہ، ابو الاسود سے «عن» کے ساتھ روایت کر رہے ہیں، سماع کی صراحت نہیں کرتے۔ چونکہ ابن لہیعہ مدلس ہیں، اس لیے ان کی یہ معنعن روایت اصولِ حدیث کے مطابق متصل اور قابلِ احتجاج ثابت نہیں ہوتی۔

مزید یہ کہ ابن کثیر رحمہ اللہ نے خود بھی اس روایت کے بارے میں فرمایا ہے:

وَهَذَا إِسْنَادٌ ضَعِيفٌ مُنْقَطِعٌ.

یعنی: یہ سند ضعیف اور منقطع ہے۔

روایت نمبر 5

امام عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ نے کتاب الزہد میں یہ روایت نقل کی ہے:

أَنْبَأَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ قَالَ: دَخَلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ أَسَدٍ عَلَى مُعَاوِيَةَ وَهُوَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، فَرَأَى مِنْهُ جَزَعًا، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، مَا يُجْزِعُكَ؟ إِنْ مُتَّ فَإِلَى الْجَنَّةِ، وَإِنْ عِشْتَ فَقَدْ عَلِمْتَ حَاجَةَ النَّاسِ إِلَيْكَ. فَقَالَ: رَحِمَ اللَّهُ أَبَاكَ، إِنَّهُ كَانَ لَنَا نَاصِحًا، نَهَانِي عَنْ قَتْلِ ابْنِ الْأَدْبَرِ، يَعْنِي حُجْرَ بْنَ عَدِيٍّ.

ترجمہ: ابو بکر بن عیاش کہتے ہیں کہ عبداللہ بن یزید بن اسد، معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس ان کی اس بیماری میں گئے جس میں ان کا انتقال ہوا۔ انہوں نے معاویہ رضی اللہ عنہ کو بے چینی کی حالت میں دیکھا تو کہا: اے امیرالمؤمنین! آپ کیوں بے چین ہیں؟ اگر آپ کا انتقال ہوگیا تو جنت ہے، اور اگر زندہ رہے تو آپ جانتے ہیں کہ لوگوں کو آپ کی ضرورت ہے۔ معاویہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: اللہ تمہارے والد پر رحم کرے، وہ ہمارے خیرخواہ تھے؛ انہوں نے مجھے ابن الادبر، یعنی حجر بن عدی رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے سے منع کیا تھا۔

(ابن المبارك، الزهد والرقائق؛ یہی روایت حافظ ابن حجر نے الإصابة في تمييز الصحابة میں ابن المبارک کی کتاب کے حوالے سے نقل کی ہے)

ابو بکر بن عیاش کی تاریخِ پیدائش

امام ذہبی رحمہ اللہ نے لکھا ہے:

قَالَ هَارُونُ بْنُ حَاتِمٍ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: وُلِدْتُ سَنَةَ خَمْسٍ وَتِسْعِينَ.

ترجمہ: ہارون بن حاتم کہتے ہیں: میں نے ابو بکر بن عیاش کو کہتے ہوئے سنا کہ میری پیدائش 95 ہجری میں ہوئی۔

(الذهبي، سير أعلام النبلاء، ج 8، ص 495، ترجمہ نمبر 131، تحقیق: شعيب الأرنؤوط)

امام ذہبی رحمہ اللہ نے اپنی دوسری کتاب میں بھی یہی تاریخ نقل کی ہے:

(الذهبي، معرفة القراء الكبار على الطبقات والأعصار، ج 1، ص 280، ترجمہ نمبر 63، تحقیق: طيار آلتى قولاچ)

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی تاریخِ وفات

امام ذہبی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

قَالَ اللَّيْثُ وَأَبُو مَعْشَرٍ وَعِدَّةٌ: مَاتَ مُعَاوِيَةُ فِي رَجَبٍ سَنَةَ سِتِّينَ.

ترجمہ: لیث، ابو معشر اور متعدد دوسرے اہلِ علم نے کہا کہ معاویہ رضی اللہ عنہ کا انتقال 60 ہجری کے رجب میں ہوا۔

(الذهبي، سير أعلام النبلاء، ج 3، ص 162، تحقیق: شعيب الأرنؤوط)

امام ذہبی رحمہ اللہ نے تاريخ الإسلام میں بھی ان کی وفات 60 ہجری میں ذکر کی ہے۔

(الذهبي، تاريخ الإسلام، حوادث ووفیات 60ھ، ج 3، ص 317)

سند کا انقطاع اور نتیجہ

اب دونوں تاریخوں کا تقابل دیکھیے:

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات: 60 ہجری
ابو بکر بن عیاش کی پیدائش: 95 ہجری
دونوں کے درمیان فرق: 35 سال

اس سے واضح ہوتا ہے کہ ابو بکر بن عیاش، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات کے 35 سال بعد پیدا ہوئے تھے۔ لہٰذا وہ نہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے آخری وقت کا مشاہدہ کرسکتے تھے اور نہ اس واقعے کو براہِ راست ان سے یا اس وقت موجود عبداللہ بن یزید بن اسد سے سن سکتے تھے۔

اس انقطاع کی وجہ سے یہ روایت سنداً ضعیف ہے اور اسے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے آخری وقت کے واقعے پر مستقل حجت نہیں بنایا جاسکتا۔

روایت نمبر 6

حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ نے تاريخ مدينة دمشق میں یہ روایت نقل کی ہے:

قال: وحدَّثنا عبد الله قال: أُخْبِرْتُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حُمَيْدٍ، نَبَّأَنَا جَرِيرٌ عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ قَالَ: قَالَ مُعَاوِيَةُ: مَا قَتَلْتُ أَحَدًا إِلَّا وَأَنَا أَعْرِفُ فِيمَ قَتَلْتُهُ وَمَا أَرَدْتُ بِهِ، مَا خَلَا حُجْرَ بْنَ عَدِيٍّ فَإِنِّي لَا أَعْرِفُ فِيمَ قَتَلْتُهُ.

ترجمہ: سفیان ثوری کہتے ہیں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے جس شخص کو بھی قتل کیا، مجھے معلوم تھا کہ اسے کس وجہ سے قتل کیا اور میرا مقصد کیا تھا؛ سوائے حجر بن عدی کے، کیونکہ مجھے خود معلوم نہیں کہ میں نے انہیں کس وجہ سے قتل کیا۔

(ابن عساکر، تاريخ مدينة دمشق، تحقیق عدنان عمر الخطیب، ج 13، ص 186؛ دوسری طباعت: دار الفكر، ج 12، ص 231 کے قریب)

محمد بن حمید کی تعیین اور ان پر جرح

اس سند میں راوی کا نام صرف محمد بن حمید آیا ہے۔ یہاں ان کی مکمل نسبت بیان نہیں کی گئی۔

اگر اس سے مراد معروف راوی محمد بن حمید الرازی ہیں، تو ان کے بارے میں محدثین کی سخت جرح موجود ہے۔

امام ابو زرعہ رازی رحمہ اللہ سے محمد بن حمید کے متعلق پوچھا گیا:

سُئِلَ أَبُو زُرْعَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حُمَيْدٍ … فَقِيلَ لَهُ: كَانَ يَكْذِبُ؟ فَقَالَ بِرَأْسِهِ: نَعَمْ … فَقَالَ: لَا يَا بُنَيَّ، كَانَ يَتَعَمَّدُ.

ترجمہ: ابو زرعہ سے پوچھا گیا کہ کیا وہ جھوٹ بولتے تھے؟ انہوں نے سر ہلا کر کہا: ہاں۔ پھر پوچھا گیا کہ شاید ان سے غلطی ہوتی تھی؟ تو فرمایا: نہیں بیٹے! وہ جان بوجھ کر ایسا کرتے تھے۔

(المزي، تهذيب الكمال في أسماء الرجال، ج 25، ص 106-107)

لہٰذا اگر اس سند کے محمد بن حمید، یہی محمد بن حمید الرازی ہیں تو ان کی روایت قابلِ احتجاج نہیں۔

اگر یہ محمد بن حمید الرازی نہیں ہیں تو اس راوی کی مکمل شناخت اور معتبر محدثین سے توثیق پیش کی جائے؛ جب تک یہ نہیں کیا جاتا، اس راوی کو ثقہ قرار دے کر روایت قبول نہیں کی جاسکتی۔

سفیان ثوری رحمہ اللہ اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع

اس روایت میں سفیان ثوری رحمہ اللہ کا جملہ ہے:

عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ قَالَ: قَالَ مُعَاوِيَةُ.

یعنی سفیان ثوری رحمہ اللہ براہِ راست حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا قول نقل کر رہے ہیں، لیکن درمیان میں کوئی واسطہ ذکر نہیں کیا گیا۔

امام ذہبی رحمہ اللہ نے سفیان ثوری رحمہ اللہ کی پیدائش کے متعلق لکھا:

وُلِدَ سَنَةَ سَبْعٍ وَتِسْعِينَ اتِّفَاقًا.

ترجمہ: ان کی پیدائش 97 ہجری میں ہوئی، اس پر اتفاق ہے۔

(الذهبي، سير أعلام النبلاء، ج 7، ص 230)

اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات کے متعلق امام ذہبی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

قَالَ اللَّيْثُ وَأَبُو مَعْشَرٍ وَعِدَّةٌ: مَاتَ مُعَاوِيَةُ فِي رَجَبٍ سَنَةَ سِتِّينَ.

ترجمہ: لیث، ابو معشر اور متعدد دوسرے اہلِ علم کے مطابق حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا انتقال رجب 60 ہجری میں ہوا۔

(الذهبي، سير أعلام النبلاء، ج 3، ص 162، تحقیق: شعيب الأرنؤوط)

اس حساب سے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات کے 37 سال بعد سفیان ثوری رحمہ اللہ پیدا ہوئے۔ لہٰذا ان کا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے براہِ راست سماع ممکن نہیں۔ سند میں سفیان ثوری رحمہ اللہ اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان واسطہ ساقط ہے۔

حتمی نتیجہ

اس روایت میں دو بنیادی علتیں ہیں:

● محمد بن حمید کی تعیین: اگر وہ محمد بن حمید الرازی ہیں تو ان پر محدثین کی سخت جرح موجود ہے۔ اور اگر وہ کوئی دوسرے محمد بن حمید ہیں تو ان کی مکمل شناخت اور توثیق پیش کرنا ضروری ہے۔ بغیر توثیق کے ان کی روایت قبول نہیں کی جاسکتی۔

● سفیان ثوری رحمہ اللہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات کے 37 سال بعد پیدا ہوئے۔ اس لیے ان کا یہ قول براہِ راست حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے سننا ناممکن ہے۔ درمیان کا واسطہ سند میں موجود نہیں۔

لہٰذا یہ روایت سنداً منقطع ہے، اور محمد بن حمید کی تعیین و توثیق کا مسئلہ بھی حل نہیں ہوا۔ اس روایت سے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف اس قول کی نسبت ثابت نہیں کی جاسکتی اور نہ اسے بطورِ دلیل پیش کیا جاسکتا ہے۔

روایت نمبر 7

امام ابو العرب التمیمی رحمہ اللہ نے المِحَن میں حجر بن عدی رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کے واقعے کے ضمن میں یہ روایت نقل کی ہے:

قَالَ ابْنُ تَمِيمٍ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أُسَامَةَ وَعُمَرُ بْنُ يُوسُفَ قَالَا: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدِ بْنُ سَلَّامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو مَعْشَرٍ، قَالَ: كَانَ حُجْرُ بْنُ عَدِيٍّ رَجُلًا مِنْ كِنْدَةَ، وَكَانَ عَابِدًا..

فَجَعَلَ الرَّسُولُ يَعْرِضُ عَلَيْهِمُ التَّوْبَةَ وَالْبَرَاءَةَ مِنْ عَلِيٍّ، فَأَبَى عَشَرَةٌ وَتَبَرَّأَ عَشَرَةٌ، فَقَتَلَ الَّذِينَ أَبَوْا وَتَرَكَ الَّذِينَ تَبَرَّؤُوا.

ترجمہ: قاصد ان لوگوں کے سامنے توبہ کرنے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ سے براءت اختیار کرنے کی پیشکش کرتا رہا۔ دس افراد نے انکار کردیا اور دس افراد نے براءت اختیار کرلی۔ چنانچہ جنہوں نے انکار کیا انہیں قتل کردیا گیا اور جنہوں نے براءت اختیار کی انہیں چھوڑ دیا گیا۔

(أبو العرب التميمي، المِحَن، تحقیق عمر سلیمان العقیلی، دار العلوم، ریاض، طبع اول 1404ھ، ص 84، باب: ذكر مقتل حجر بن عدي ومن معه من أصحابه)

ابو معشر کی تعیین

امام ابن سعد رحمہ اللہ نے ان کے بارے میں لکھا:

أَبُو مَعْشَرٍ نَجِيحٌ … وَكَانَ كَثِيرَ الْحَدِيثِ ضَعِيفًا.

ترجمہ: ابو معشر نجیح بہت زیادہ حدیثیں بیان کرنے والے تھے، لیکن ضعیف تھے۔

(ابن سعد، الطبقات الكبرى، ج 7، ص 335، ترجمہ نمبر 2251)

امام بخاری رحمہ اللہ نے ابو معشر کے بارے میں فرمایا:

مُنْكَرُ الْحَدِيثِ.

ترجمہ: وہ منکر الحدیث ہیں۔

(المزي، تهذيب الكمال في أسماء الرجال، ج 29، ص 328)

امام علی بن المدینی رحمہ اللہ نے فرمایا:

كَانَ شَيْخًا ضَعِيفًا ضَعِيفًا.

ترجمہ: وہ ضعیف، ضعیف راوی تھے۔

(المزي، تهذيب الكمال، ج 29، ص 328)

ابو معشر کا اختلاط

امام ابن حبان رحمہ اللہ نے ابو معشر کے بارے میں لکھا:

وَكَانَ مِمَّنِ اخْتَلَطَ فِي آخِرِ عُمُرِهِ، وَبَقِيَ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ سَنَتَيْنِ فِي تَغَيُّرٍ شَدِيدٍ، لَا يَدْرِي مَا يُحَدِّثُ بِهِ، فَكَثُرَتِ الْمَنَاكِيرُ فِي رِوَايَتِهِ مِنْ قَبْلِ اخْتِلَاطِهِ، فَبَطَلَ الِاحْتِجَاجُ بِهِ.

ترجمہ: وہ اپنی زندگی کے آخری حصے میں اختلاط کا شکار ہوگئے تھے۔ وفات سے پہلے دو سال تک ان کی حالت میں شدید تبدیلی رہی، یہاں تک کہ انہیں معلوم نہیں رہتا تھا کہ وہ کیا روایت کر رہے ہیں۔ ان کے اختلاط کے سبب ان کی روایات میں منکرات کثرت سے ہوگئیں، لہٰذا ان سے حجت پکڑنا باطل ہوگیا۔

(ابن حبان، المجروحين، ج 3، ص 60، ترجمہ: نجيح السندي أبو معشر)

نتیجہ

لہٰذا یہ روایت ابو معشر کی کمزوری اور اختلاط کی وجہ سے قابلِ احتجاج نہیں۔

خلاصۂ بحث

ہم نے ان تمام روایات کا تفصیلی جائزہ لے لیا ہے اور یہ بات بالکل واضح ہو چکی ہے کہ ان میں سے کوئی بھی روایت اس قابل نہیں کہ اسے بنیاد بنا کر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی ذات پر طعن کیا جا سکے۔

ہم نے محمد علی مرزا کی دوغلی پالیسی کا پردہ بھی فاش کیا کہ وہ کس طرح اپنے مؤقف کو ثابت کرنے کے لیے منقطع، ضعیف اور مدلس راویوں پر مشتمل روایات کو آنکھیں بند کر کے قبول کر رہے ہیں۔ حالانکہ جب انہوں نے صحیح مسلم کا مقدمہ پڑھایا تھا تو اس وقت خود ان تمام اصولوں کو واضح کیا تھا کہ ایسی روایات بیان کرنے والے جاہل ہیں اور اس نوعیت کی روایات قطعی حجت نہیں بن سکتیں۔ لیکن جب وہی کمزور اور منقطع روایات ان کے اپنے نظریے کے موافق آتی ہیں، تو وہ اپنے ہی بتائے ہوئے اصولوں کو پامال کر کے انہیں دلیل بنا لیتے ہیں۔

کیا حجر بن عدی صحابی تھے؟

جیسا کہ ہم نے پہلے واضح کیا تھا کہ جمہور علماء و محدثین کی رائے یہی ہے کہ حجر بن عدی صحابی نہیں بلکہ تابعی ہیں۔ البتہ بعض ائمہ کا رجحان اس طرف تھا کہ وہ صحابی تھے، اور ان کے اس موقف کی بنیاد جن دلائل پر تھی وہ خود محمد علی مرزا بھی پیش کرتا ہے۔

اب ہم یہاں ان روایات اور دلائل کا علمی جائزہ لیتے ہیں تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ آیا یہ روایات اصول حدیث کے مطابق قابل اعتماد ہیں بھی یا نہیں۔ اگر یہ روایات ہی پایہ ثبوت کو نہ پہنچ سکیں اور غیر معتبر ثابت ہو جائیں، تو خود بخود ان کا صحابی ہونا بھی غیر ثابت اور بے بنیاد ٹھہر جائے گا۔

روایت نمبر 8

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ الْحَرْبِيُّ، ثَنَا مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ قَالَ: حُجْرُ بْنُ عَدِيٍّ الْكِنْدِيُّ يُكْنَى أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، كَانَ قَدْ وَفَدَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، وَشَهِدَ الْقَادِسِيَّةَ، وَشَهِدَ الْجَمَلَ، وَصِفِّينَ مَعَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَتَلَهُ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ بِمَرْجِ عَذْرَاءَ، وَكَانَ لَهُ ابْنَانِ: عَبْدُ اللَّهِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَتَلَهُمَا مُصْعَبُ بْنُ الزُّبَيْرِ صَبْرًا، وَقُتِلَ حُجْرٌ سَنَةَ ثَلَاثٍ وَخَمْسِينَ.

مصعب بن عبد اللہ زبیری کہتے ہیں کہ حجر بن عدی کندی کی کنیت ابو عبد الرحمن تھی۔ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں وفد کی صورت میں حاضر ہوئے تھے، جنگ قادسیہ میں شریک ہوئے اور جنگ جمل و صفین میں علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے۔ انہیں معاویہ بن ابی سفیان نے مرج عذراء میں قتل کیا۔ ان کے دو بیٹے عبد اللہ اور عبد الرحمن تھے، جنہیں مصعب بن زبیر نے قتل کیا۔ حجر کو 53 ہجری میں قتل کیا گیا۔

(الحاکم، المستدرك على الصحيحين، كتاب معرفة الصحابة، ذكر مناقب حجر بن عدي وذكر مقتله، ج 4، ص 589، رقم: 6028)

اس روایت میں امام حاکم کی سند مصعب بن عبد اللہ زبیری تک پہنچتی ہے۔ اس کے بعد مصعب زبیری حجر بن عدی رضی اللہ عنہ کے حالات بیان کرتے ہیں، لیکن حجر بن عدی رضی اللہ عنہ تک اپنی کوئی سند ذکر نہیں کرتے۔

مصعب بن عبد اللہ زبیری کی عمر اور وفات

زبیر بن بکار نے مصعب زبیری کی وفات اور عمر کے بارے میں کہا:

وَتُوُفِّيَ مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ لِيَوْمَيْنِ خَلَوَا مِنْ شَوَّالَ سَنَةَ ٢٣٦، وَهُوَ ابْنُ ثَمَانِينَ سَنَةً.

مصعب بن عبد اللہ شوال 236 ہجری کے ابتدائی دو دن گزرنے کے بعد وفات پا گئے، اس وقت ان کی عمر 80 سال تھی۔

(نسب قريش، مصعب بن عبد اللہ زبیری کا تذکرہ، مقدمہ، ص 17)

اس عبارت کے مطابق مصعب زبیری کی وفات 236ھ میں ہوئی اور ان کی عمر 80 سال تھی۔

مصعب زبیری کی پیدائش کا سال مذکورہ عبارت میں صراحت کے ساتھ بیان نہیں ہوا۔ البتہ ان کی وفات اور عمر سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے:

● وفات: 236ھ

● عمر: تقریباً 80 سال

● متوقع پیدائش: 156ھ

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات کے متعلق امام ذہبی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

قَالَ اللَّيْثُ وَأَبُو مَعْشَرٍ وَعِدَّةٌ: مَاتَ مُعَاوِيَةُ فِي رَجَبٍ سَنَةَ سِتِّينَ.

ترجمہ: لیث، ابو معشر اور متعدد دوسرے اہلِ علم کے مطابق حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا انتقال رجب 60 ہجری میں ہوا۔

(الذهبي، سير أعلام النبلاء، ج 3، ص 162، تحقیق: شعيب الأرنؤوط)

اب مصعب زبیری کی متوقع پیدائش اور حجر بن عدی رضی اللہ عنہ کی وفات کا تقابل دیکھیے:

● مصعب زبیری کی متوقع پیدائش: 156ھ

● حجر بن عدی رضی اللہ عنہ کی وفات: 53ھ

تو دونوں کے درمیان تقریباً 103 سال کا فاصلہ بنتا ہے۔

اس سے واضح ہے کہ مصعب زبیری حجر بن عدی رضی اللہ عنہ کے معاصر نہیں تھے اور ان سے براہِ راست سماع یا مشاہدہ ممکن نہیں تھا۔

نتیجہ

● امام حاکم کی سند مصعب بن عبد اللہ زبیری تک پہنچتی ہے۔

● مصعب زبیری نے حجر بن عدی رضی اللہ عنہ کے حالات بیان کرتے ہوئے ان تک کوئی سند ذکر نہیں کی۔

● مصعب زبیری اور حجر بن عدی رضی اللہ عنہ کے درمیان تقریباً 103 سال کا فاصلہ ہے۔

لہٰذا مصعب زبیری کا یہ بیان حجر بن عدی رضی اللہ عنہ تک متصل سند کے ساتھ منقول نہیں۔ اس روایت کی بنیاد پر حجر بن عدی رضی اللہ عنہ کی صحبتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ثابت کرنے کے لیے اسے مستقل مسند دلیل نہیں بنایا جا سکتا۔

روایت نمبر 9

حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ الْعَسْقَلَانِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِسْكِينٍ الْيَمَامِيُّ، ثَنَا عَبَّادُ بْنُ عُمَرَ، ثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، ثَنَا مَخْشِيُّ بْنُ حَجَرِ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَهُمْ، فَقَالَ: أَيُّ يَوْمٍ هَذَا؟ قَالُوا: يَوْمٌ حَرَامٌ، قَالَ: فَأَيُّ بَلَدٍ هَذَا؟ قَالُوا: الْبَلَدُ الْحَرَامُ، قَالَ: فَأَيُّ شَهْرٍ؟ قَالُوا: شَهْرٌ حَرَامٌ، قَالَ: فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ حَرَامٌ عَلَيْكُمْ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا، كَحُرْمَةِ شَهْرِكُمْ هَذَا، كَحُرْمَةِ بَلَدِكُمْ هَذَا، لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ، لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ.

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: یہ کون سا دن ہے؟ لوگوں نے کہا: حرمت والا دن ہے۔ پھر فرمایا: یہ کون سا شہر ہے؟ لوگوں نے کہا: حرمت والا شہر ہے۔ پھر فرمایا: یہ کون سا مہینہ ہے؟ لوگوں نے کہا: حرمت والا مہینہ ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے خون، تمہارے مال اور تمہاری عزتیں تم پر اسی طرح حرام ہیں جس طرح اس دن، اس مہینے اور اس شہر کی حرمت ہے۔ حاضر شخص غائب تک یہ پیغام پہنچا دے۔ میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ تم ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔

(الحاكم، المستدرك على الصحيحين، كتاب معرفة الصحابة، ج 3، ص 533، رقم 5982 (قدیم ترقیم))

مخشی کے نام اور نسب کی تحقیق

امام حاکم کے نسخے میں یہ نام ہے:

مَخْشِيُّ بْنُ حَجَرِ بْنِ عَدِيٍّ.

لیکن امام طبرانی کی روایت میں نام اس طرح آیا ہے:

حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، ثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنِي مَخْشِيُّ بْنُ حُجَيْرٍ، حَدَّثَنِي أَبِي…

(الطبراني، المعجم الكبير، ج 4، ص 34-35)

اس سے واضح ہوتا ہے کہ مختلف مصادر میں نام کے الفاظ میں فرق ہے، لیکن طبرانی کی سند میں «مخشي بن حجير» اور ابن ابی عاصم کی سند میں «مخشي بن حجير بن مخشي» موجود ہے۔ کسی بھی عبارت میں انہیں «ابن عدي» نہیں کہا گیا۔

حافظ ابن حجر کا مخشی کے والد کا تعارف

حافظ ابن حجر عسقلانی نے الإصابة في تمييز الصحابة میں لکھا ہے:

حُجَيْرُ بْنُ أَبِي حُجَيْرٍ الْهِلَالِيُّ، أَوِ الْحَنَفِيُّ، وَيُقَالُ حَجَرٌ بِغَيْرِ تَصْغِيرٍ. رَوَى الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقِ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، أَخْبَرَنِي مَخْشِيُّ بْنُ حُجَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ… وَإِسْنَادُهُ صَالِحٌ.

ترجمہ: حجیر بن ابی حجیر ہلالی یا حنفی تھے، اور انہیں بغیر تصغیر کے حجر بھی کہا جاتا ہے۔ طبرانی نے عکرمہ بن عمار کے طریق سے مخشی بن حجیر کی روایت نقل کی ہے، جو اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع میں یہ فرماتے ہوئے سنا۔۔۔ اور اس کی سند صالح ہے۔

(ابن حجر العسقلاني، الإصابة في تمييز الصحابة، ج 2، رقم 1643)

یہاں حافظ ابن حجر کی عبارت سے دو باتیں واضح ہوتی ہیں:

● مخشی کے والد کا نام حجیر بن ابی حجیر ہے۔

● حجیر کو بغیر تصغیر کے حجر بھی کہا جاتا ہے۔

لیکن یہاں حجر بن عدی کا کوئی ذکر نہیں ہے۔

مخشی بن حجیر کی توثیق کی تحقیق

دستیاب کتبِ رجال اور مذکورہ مصادر میں مخشی بن حجیر کے متعلق کسی محدث کی صریح توثیق نہیں ملی۔

● ان کی عدالت اور ضبط کی مستقل توثیق دستیاب نہیں۔

نتیجہ

مخشی بن حجر بن عدی کو حجر بن عدی رضی اللہ عنہ کا بیٹا قرار دینا درست نہیں۔ دستیاب مصادر کے مطابق یہاں راوی مخشی بن حجیر ہیں، جن کے والد حجیر بن ابی حجیر ہلالی ہیں۔ مخشی کی اپنی توثیق ثابت نہیں، لہٰذا انہیں مجہول راوی شمار کیا جائے گا۔

روایت نمبر 10

سَمِعْتُ أَبَا عَلِيٍّ الْحَافِظَ يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ قُتَيْبَةَ يَقُولُ: سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ بْنَ يَعْقُوبَ يَقُولُ: قَدْ أَدْرَكَ حُجْرُ بْنُ عَدِيٍّ الْجَاهِلِيَّةَ، وَأَكَلَ الدَّمَ فِيهَا، ثُمَّ صَحِبَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَمِعَ مِنْهُ، وَشَهِدَ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الْجَمَلَ، وَصِفِّينَ، وَقُتِلَ فِي مُوَالَاةِ عَلِيٍّ.

ترجمہ: میں نے ابو علی الحافظ کو کہتے ہوئے سنا، انہوں نے کہا کہ میں نے ابن قتیبہ کو کہتے ہوئے سنا، انہوں نے کہا کہ میں نے ابراہیم بن یعقوب کو کہتے ہوئے سنا کہ حجر بن عدی نے زمانۂ جاہلیت پایا اور اس میں خون کھایا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اختیار کی اور آپ سے سماعت کی۔ انہوں نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ جنگِ جمل اور صفین میں شرکت کی اور علی رضی اللہ عنہ سے محبت و وفاداری کی وجہ سے قتل کیے گئے۔

(الحاكم، المستدرك على الصحيحين، كتاب معرفة الصحابة، باب قتل حجر بن عدي في موالاة علي، ج 4، رقم: 5983)

اس بیان میں سند کا انقطاع

ابراہیم بن یعقوب کے بعد حجر بن عدی رضی اللہ عنہ کے متعلق بیان میں کسی راوی کا نام مذکور نہیں۔ نہ یہ بتایا گیا ہے کہ انہوں نے یہ خبر کس سے سنی، نہ کسی ایسے شخص کا واسطہ ذکر کیا گیا ہے جس نے حجر بن عدی رضی اللہ عنہ سے یہ بات سنی ہو۔

ابراہیم بن یعقوب الجوزجانی کی تاریخِ وفات

امام ابن حبان نے لکھا ہے:

مَاتَ بَعْدَ سَنَةِ أَرْبَعٍ وَأَرْبَعِينَ وَمِائَتَيْنِ.

ترجمہ: ان کی وفات 244ھ کے بعد ہوئی۔

(ابن حبان، الثقات، ج 8، ص 82)

حافظ ابن حجر عسقلانی نے لکھا ہے:

إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ الْجَوْزَجَانِيُّ، ثِقَةٌ حَافِظٌ، رُمِيَ بِالنَّصْبِ، مِنَ الْحَادِيَةِ عَشْرَةَ، مَاتَ سَنَةَ تِسْعٍ وَخَمْسِينَ.

ترجمہ: ابراہیم بن یعقوب الجوزجانی ثقہ حافظ تھے، ان پر نصب کا الزام لگایا گیا۔ وہ گیارہویں طبقے سے تھے اور 259ھ میں وفات پائی۔

(ابن حجر العسقلاني، تقريب التهذيب، رقم 273)

حجر بن عدی رضی اللہ عنہ کی تاریخِ وفات

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات کے متعلق امام ذہبی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

قَالَ اللَّيْثُ وَأَبُو مَعْشَرٍ وَعِدَّةٌ: مَاتَ مُعَاوِيَةُ فِي رَجَبٍ سَنَةَ سِتِّينَ.

ترجمہ: لیث، ابو معشر اور متعدد دوسرے اہلِ علم کے مطابق حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا انتقال رجب 60 ہجری میں ہوا۔

(الذهبي، سير أعلام النبلاء، ج 3، ص 162، تحقیق: شعيب الأرنؤوط)

دونوں کی تاریخِ وفات کا تقابل

ابراہیم بن یعقوب الجوزجانی کی وفات کے متعلق حافظ ابن حجر کے قول کے مطابق 259ھ کا سال سامنے آتا ہے، جبکہ حجر بن عدی رضی اللہ عنہ کی وفات کے متعلق امام طبری کے ہاں 51ھ اور امام ابن حبان کے ہاں 53ھ کا قول موجود ہے۔

اگر ابراہیم بن یعقوب نے حجر بن عدی رضی اللہ عنہ سے براہِ راست سماع کیا ہوتا تو انہیں حجر بن عدی رضی اللہ عنہ کی وفات سے پہلے زندہ ہونا ضروری تھا۔

اس حساب سے:

حجر بن عدی رضی اللہ عنہ کی وفات 53ھ ہو تو 259ھ تک 206 سال کا فاصلہ ہے۔

ائمہ محدثین کے اقوال: حجر بن عدی رضی اللہ عنہ تابعی تھے

امام خلیفہ بن خیاط نے انہیں تابعین میں شمار کیا ہے:

خَلِيفَةُ بْنُ خَيَّاطٍ فِي التَّابِعِينَ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ، قَالَ: حَجَرُ بْنُ عَدِيٍّ، قُتِلَ سَنَةَ إِحْدَى وَخَمْسِينَ، يُكَنَّى أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ.

ترجمہ: خلیفہ بن خیاط نے اہلِ کوفہ کے تابعین کے تذکرے میں کہا: حجر بن عدی، 51ھ میں قتل کیے گئے، ان کی کنیت ابو عبد الرحمن تھی۔

(ابن عساكر، تاريخ مدينة دمشق)

امام ابن حبان نے لکھا ہے:

مِنْ عُبَّادِ التَّابِعِينَ.

ترجمہ: وہ عبادت گزار تابعین میں سے تھے۔

(ابن حبان، مشاهير علماء الأمصار، رقم 648)

ابو احمد العسکری کا قول:

أَكْثَرُ الْمُحَدِّثِينَ لَا يُصَحِّحُونَ لَهُ صُحْبَةً.

ترجمہ: اکثر محدثین حجر بن عدی کی صحابیت کو ثابت نہیں مانتے۔

(ابن كثير، البداية والنهاية، حوادث سنة 51ھ، ج 11)

نتیجہ

دونوں کے درمیان 206 سے 208 سال کا فاصلہ ہے۔ لہٰذا ابراہیم بن یعقوب کا حجر بن عدی رضی اللہ عنہ سے براہِ راست سماع ماننے کے لیے غیر معمولی طویل عمر اور ملاقات کا معتبر ثبوت درکار ہوگا۔

اس بنا پر ابراہیم بن یعقوب کا بے سند بیان حجر بن عدی رضی اللہ عنہ کی صحابیت ثابت کرنے کے لیے مستقل متصل دلیل نہیں ہے۔

حجر بن عدی کو قتل کیوں کیا گیا؟

جیسا کہ یہ بات پوری طرح واضح ہو چکی ہے کہ حجر بن عدی کا شروع کا صحابی ہونا تو دور، بعد کے صحابہ میں بھی شامل ہونا ثابت نہیں۔ اب ہم یہاں چند ایسی روایات اور احادیث نقل کر رہے ہیں جن سے یہ حقیقت بالکل صاف ہو جائے گی کہ انہیں دراصل کن وجوہات کی بنا پر قتل کروایا گیا تھا۔

وَقَدْ ذَكَرَ ابْنُ جَرِيرٍ وَغَيْرُهُ عَنْ حُجْرِ بْنِ عَدِيٍّ وَأَصْحَابِهِ أَنَّهُمْ كَانُوا يَنَالُونَ مِنْ عُثْمَانَ، وَيُطْلِقُونَ فِيهِ مَقَالَةَ الْجَوْرِ، وَيَنْتَقِدُونَ عَلَى الْأُمَرَاءِ، وَيُسَارِعُونَ فِي الْإِنْكَارِ عَلَيْهِمْ، وَيُبَالِغُونَ فِي ذَلِكَ، وَيَتَوَلَّوْنَ شِيعَةَ عَلِيٍّ، وَيَتَشَدَّدُونَ فِي الدِّينِ.

ترجمہ: ابن جریر اور دیگر مؤرخین نے حجر بن عدی اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں ذکر کیا ہے کہ وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں سخت باتیں کرتے تھے، ان کے متعلق ناحق باتیں کہتے تھے، حکمرانوں پر تنقید کرتے تھے، ان پر اعتراض کرنے میں جلدی کرتے اور اس میں مبالغہ کرتے تھے، حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حامیوں سے تعلق رکھتے تھے اور دین میں سختی اختیار کرتے تھے۔

(ابن کثیر، البداية والنهاية، جلد 8، صفحہ 5)

عَنْ عَرْفَجَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ:

«إِنَّهُ سَتَكُونُ هَنَاتٌ وَهَنَاتٌ، فَمَنْ أَرَادَ أَنْ يُفَرِّقَ أَمْرَ هَذِهِ الْأُمَّةِ وَهِيَ جَمِيعٌ، فَاضْرِبُوهُ بِالسَّيْفِ كَائِنًا مَنْ كَانَ».

حضرت عرفجہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:

”عنقریب بہت سے فتنے اور واقعات رونما ہوں گے۔ پس جو شخص اس امت کے اجتماعی معاملے میں تفریق پیدا کرنا چاہے، جبکہ وہ متحد ہو، تو اسے تلوار سے مارو، خواہ وہ کوئی بھی ہو۔“

(صحیح مسلم: 1852)

المستدرک علی الصحیحین میں حجر بن عدی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ روایت آتی ہے:

حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ، ثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ غَسَّانَ الْغَلَّابِيُّ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَهِشَامٌ، ثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ بِشْرِ بْنِ عَبْدِ الْحَضْرَمِيِّ، قَالَ:

لَمَّا بَعَثَ زِيَادٌ بِحُجْرِ بْنِ عَدِيٍّ إِلَى مُعَاوِيَةَ أَمَرَ مُعَاوِيَةُ بِحَبْسِهِ بِمَكَانٍ يُقَالُ لَهُ: مَرْجُ عَذْرَاءَ، ثُمَّ اسْتَشَارَ النَّاسَ فِيهِ، قَالَ: فَجَعَلُوا يَقُولُونَ: الْقَتْلَ الْقَتْلَ. قَالَ: فَقَامَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسَدٍ الْبَجَلِيُّ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أَنْتَ رَاعِينَا وَنَحْنُ رَعِيَّتُكَ، وَأَنْتَ رُكْنُنَا وَنَحْنُ عِمَادُكَ، إِنْ عَاقَبْتَ قُلْنَا: أَصَبْتَ، وَإِنْ عَفَوْتَ قُلْنَا: أَحْسَنْتَ، وَالْعَفْوُ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى، وَكُلُّ رَاعٍ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ. قَالَ: فَتَفَرَّقَ النَّاسُ عَنْ قَوْلِهِ.

بشر بن عبد الحضرمی بیان کرتے ہیں:
جب زیاد نے حجر بن عدی کو معاویہ کے پاس بھیجا تو معاویہ نے انہیں ایک ایسی جگہ قید کرنے کا حکم دیا جسے مرج عذراء کہا جاتا تھا۔ پھر معاویہ نے لوگوں سے ان کے بارے میں مشورہ کیا۔

راوی کہتے ہیں کہ لوگ کہنے لگے: ”قتل کر دیا جائے، قتل کر دیا جائے۔“

اس وقت عبداللہ بن زید بن اسد بجلی کھڑے ہوئے اور کہا:

”اے امیرالمؤمنین! آپ ہمارے نگہبان ہیں اور ہم آپ کی رعایا ہیں۔ آپ ہمارا سہارا ہیں اور ہم آپ کے ستون ہیں۔ اگر آپ سزا دیں گے تو ہم کہیں گے کہ آپ نے درست کیا، اور اگر آپ معاف کر دیں گے تو ہم کہیں گے کہ آپ نے اچھا کیا۔ معاف کرنا تقویٰ کے زیادہ قریب ہے، اور ہر نگہبان سے اس کی رعایا کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔“

راوی کہتے ہیں کہ ان کی بات سن کر لوگ منتشر ہوگئے۔

(امام حاکم، المستدرك على الصحيحين، کتاب: معرفة الصحابة، باب: مشاورة معاوية في قتل حجر بن عدي، جلد 4، صفحہ 590، حدیث نمبر: 5977)

حاصلِ کلام

ان تمام روایات سے یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے حجر بن عدی کو محض اپنی من مانی یا ذاتی خواہش پر قتل نہیں کروایا تھا، بلکہ حجر نے ایسے سنگین اور ناقابلِ برداشت اقدامات کیے تھے جن سے امت کا امن خطرے میں پڑ چکا تھا۔ مزید یہ کہ سزا دینے سے پہلے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے باقاعدہ اہل علم اور ذمہ دار لوگوں سے مشورہ کیا تھا اور تمام لوگ اس بات پر متفق تھے کہ اسے قتل کر دیا جائے۔ جس ایک شخص نے قتل نہ کرنے کی رائے دی بھی تھی، لوگوں نے اس کی بات کو مسترد کر دیا اور اس سے اختلاف کیا۔

یہ بالکل مصدقہ اور تاریخی طور پر ثابت شدہ روایات ہیں۔ اگر بالفرض ان نقل کردہ روایات کی سند کو زیر بحث نہ بھی لایا جائے یا کوئی انہیں تسلیم نہ بھی کرے، تب بھی یہ بات اپنی جگہ مسلم ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ ایک مسلم حکمران اور وقت کے امیر المؤمنین تھے۔ حکمران کے بارے میں یہی اصل اور حسنِ ظن ہوتا ہے کہ اس نے اگر کسی کو شرعی یا تعزیری سزا دی ہے تو پوری سوچ بچار اور عدل کے تقاضوں کو مدنظر رکھ کر ہی دی ہوگی۔

اگر کسی کے پاس اس کے برعکس کوئی واضح اور ناقابلِ تردید دلیل ہے کہ انہیں محض ذاتی دشمنی یا ذاتی انا کی تسکین کے لیے قتل کروایا گیا تھا، تو اسے یہ بات ٹھوس شواہد سے ثابت کرنا پڑے گی۔ ورنہ خلیفہ اور حکمرانِ وقت کے پاس امن و امان قائم رکھنے کے لیے سنگین مجرموں کو سزا دینے کا پورا شرعی اختیار ہوتا ہے۔ اگر یہ کوئی ذاتی رنجش کا معاملہ ہوتا تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کبھی بھی اس پر کھلم کھلا مشورہ نہ کرتے۔ لہٰذا یہ سارا فیصلہ جو کچھ بھی ہوا، وہ باہمی مشاورت اور شرعی و ریاستی مصالح کو سامنے رکھ کر ہی کیا گیا تھا۔