اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ کے حقوق کی پہچان
مندرجہ ذیل آیات میں اللہ نے اپنے اور رسول اللہ کے حقوق میں فرق کی وضاحت کی ہے۔
وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَخْشَ اللَّهَ وَيَتَّقْهِ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْفَائِزُونَ
”اور کامیاب وہی ہیں جو اللہ اور رسول کی فرمانبرداری کریں اور اللہ سے ڈریں۔“
(24-النور:52)
● پس اطاعت اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہے۔
●ڈر اور خوف صرف اللہ سے ہے۔
●توکل صرف اللہ پر۔
●مخلوق سے ڈر نہ ہو۔
مخلوق میں سے کسی نبی، ولی اور بادشاہ پر توکل اور بھروسہ نہ ہو۔ ارشادِ الہی ہے۔
وَقَالَ اللَّهُ لَا تَتَّخِذُوا إِلَٰهَيْنِ اثْنَيْنِ ۖ إِنَّمَا هُوَ إِلَٰهٌ وَاحِدٌ ۖ فَإِيَّايَ فَارْهَبُونِ ﴿٥١﴾ وَلَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَهُ الدِّينُ وَاصِبًا ۚ أَفَغَيْرَ اللَّهِ تَتَّقُونَ ﴿٥٢﴾
”اور اللہ کا فرمان ہے کہ دو اللہ (معبود) نہ بنا لو۔ اللہ تو بس ایک ہی ہے لہذا تم مجھ ہی سے ڈرو۔ اسی کا ہے وہ سب کچھ جو آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور خالص اسی کا دین چل رہا ہے۔ پھر کیا اللہ کو چھوڑ کر تم کسی اور سے ڈرو گے؟“
(16-النحل:51-52)
إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللَّهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ وَلَمْ يَخْشَ إِلَّا اللَّهَ ۖ فَعَسَىٰ أُولَٰئِكَ أَن يَكُونُوا مِنَ الْمُهْتَدِينَ ﴿١٨﴾
”اللہ کی مسجدوں کے آباد کار تو وہی لوگ ہو سکتے ہیں جو اللہ اور روزِ آخر کو مانیں اور نماز قائم کریں، زکوٰۃ دیں اور اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈریں۔ انہی سے یہ توقع ہے کہ سیدھی راہ پر چلیں گے۔“
(9-التوبة:18)
فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَاخْشَوْنِ وَلَا تَشْتَرُوا بِآيَاتِي ثَمَنًا قَلِيلًا
”پس تم لوگوں سے نہ ڈرو بلکہ مجھ سے ڈرو اور میری آیات کو ذرا ذرا سے معاوضے لے کر بیچنا چھوڑ دو۔“
(5-المائدة:44)
درج ذیل آیت سے حقوق اللہ اور حقوق رسول اللہ میں مزید فرق واضح ہوتا ہے:
وَلَوْ أَنَّهُمْ رَضُوا مَا آتَاهُمُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَقَالُوا حَسْبُنَا اللَّهُ سَيُؤْتِينَا اللَّهُ مِن فَضْلِهِ وَرَسُولُهُ إِنَّا إِلَى اللَّهِ رَاغِبُونَ ﴿٥٩﴾
”اور کیا ہی اچھا ہوتا کہ اللہ اور رسول نے جو کچھ بھی انہیں دیا تھا اس پر وہ راضی رہتے اور کہتے کہ اللہ ہمارے لیے کافی ہے۔ وہ اپنے فضل سے ہمیں اور بہت کچھ دے گا اور اس کا رسول بھی ہم پر عنایت فرمائے گا۔ ہم اللہ ہی کی طرف نظریں جمائے ہوئے ہیں۔“
(9-التوبة:59)
اللہ نے اس آیت میں اپنے اور رسول اللہ دونوں کے لیے لفظ آتانا استعمال فرمایا ہے کیونکہ ہمارے اور اللہ کے درمیان آپ ہی واسطہ ہیں۔ احکام الہی کی تبلیغ، حلال و حرام میں فرق، جزا و سزا کا بیان رسول اللہ ہی کا کام ہے۔
● حلال وہ جسے اللہ اور اس کا رسول حلال فرمائیں۔
●حرام وہ جسے اللہ اور اس کا رسول حرام قرار دیں۔
● دین وہ جسے اللہ اور اس کا رسول مقرر کریں۔
رب کریم کا فرمان ہے:
وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا
”جو کچھ رسول تمہیں دے وہ لے لو اور جس چیز سے وہ تم کو روک دے اس سے رک جاؤ۔“
(59-الحشر:7)
اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَلَوْ أَنَّهُمْ رَضُوا مَا آتَاهُمُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَقَالُوا حَسْبُنَا اللَّهُ
”کیا ہی اچھا ہوتا کہ اللہ اور رسول نے جو کچھ بھی انہیں دیا تھا اس پر وہ راضی رہتے اور کہتے کہ اللہ ہمارے لیے کافی ہے۔“
(9-التوبة:59)