زرعی زمین کو نقد کرایہ پر دینے کا حکم قرآن و حدیث اور فقہائے سلف کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس ڈاکٹر یوسف القرضاوی کی کتاب اسلام میں حلال و حرام سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد طاھر نقاش صاحب نے کیا ہے۔

زمین کو نقد کرایہ پر دینا

چوتھا طریقہ یہ ہے کہ زمین کاشت کرنے والے کو اس شرط پر دی جائے کہ وہ مالک زمین کو نقد کی صورت میں طے شدہ کرایہ ادا کرے گا۔ اس طریقہ کار کو بہت سے مشہور فقہاء جائز کہتے ہیں لیکن دیگر فقہاء منع کرتے ہیں۔ اس حدیث سے استدلال کرتے ہوئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کو کرایہ پر دینے کی ممانعت فرمائی ہے۔ یہ روایت دو بزرگ بدری صحابہ رضی اللہ عنہم اور رافع بن خدیج، جابر، ابوسعید، ابو ہریرہ، ابن عمر رضی اللہ عنہم سب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کو کرایہ پر دینے سے بالکل منع فرمایا ہے۔
ملاحظہ ہو : المحلی ج : 8 ص : 212
ميں كهتا هوں : يه احاديث اگرچه ان ميں سے بعض ممانعت ميں مطلق هيں مگر بعض دوسري پر دلالت كرتي هيں كه يه مزارعت كي ممانعت اس وقت كے ساته پابند هے جب خراب شرطوں ميں سے كوئي شرط پائي جائے جو خرابي اور نزاع كا باعث بنيں. جيسا كه سيدنا رافع رضى الله عنه پر هونے والي مجموعي روايات كو جمع كرنے سے پته چلتا هے اور جيسا كه مؤلف نے خود اس فصل ميں مزارعت فاسده كي تشريح كي هے. اس پر دلالت والي يه بات بهي هے كه مزارعت كي ممانعت والي احاديث كے راوي سيدنا رافع رضى الله عنه نے خود صراحت سے بيان كيا هے كه درهم و دينار مقرر كر كے زمين كو كرائے پر دينے ميں كوئي حرج نهيں، بلكه سيدنا ثابت رضى الله عنه سے نبي صلى الله عليه وسلم كي جانب مرفوع حديث ميں آتا هے كه رسول الله صلى الله عليه وسلم نے مزارعت سے منع كيا هے اور كرائے پر زمين دينے كي اجازت دي هے. فرمايا اس ميں كوئي حرج نهيں جيسا كه حديث نمبر 364 كے تحت گزر چكا هے. اس ميں ابن حزم رحمه الله كے اس قول كي كه زمين كرائے پر دينا حرام هے. صريح ترديد موجود هے.
تمام روايات كے ليے ديكهئے : بخاري كتاب الحرث باب ما كان اصحاب النبى صلى الله عليه وسلم يواسي بعضهم ح : 2345 ، 2339 ، ومسلم كتاب البيوع باب كراء الأرض ح : 1536 – 1547 دو بزرگ بدري صحابه سے مراد رافع بن خديج رضى الله عنه كے دو چچا، ظهير بن رافع اور ايك دوسرے هيں.
کرایہ پر دینے سے مستثنیٰ صورت صرف مزارعت بٹائی کی ہے۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں اہل خیبر کے ساتھ مزارعت کا معاملہ کیا تھا اور خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کے زمانہ میں بھی مزارعت کا معاملہ ہوتا رہا۔
جس شخص کی نظر اس مسئلہ کے تشریعی پہلو پر ہے وہ ابن حزم رحمہ اللہ کے اس بیان سے اتفاق کرے گا کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو لوگ اپنے کھیت کرایہ پر دیا کرتے تھے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو زمین کرایہ پر دینے سے منع فرما دیا جیسا کہ صحیح احادیث سے ثابت ہے۔ لہذا جو شخص یہ دعویٰ کرتا ہے کہ یہ منسوخ شدہ چیز یعنی کرایہ پر دینا مباح ہے، وہ سراسر غلط بات کہتا ہے اور اسے ہر گز صحیح ثابت نہیں کر سکتا۔ بجز اس بات کے کہ پیداوار کا طے شدہ حصہ دینا روا ہے۔ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کرایہ پر دینے کی ممانعت کے بعد خیبر میں بٹائی کا معاملہ کیا اور اپنی وفات تک اس پر عمل درآمد فرمایا۔
المحلى – ج : 8 ص : 224
سلف میں سے ایک گروہ کا یہی مسلک ہے۔ چنانچہ طاؤس رحمہ اللہ جو یمن کے فقیہ اور جلیل القدر تابعی تھے، سونے چاندی کے عوض زمین کو کرایہ پر دینا مکروہ خیال کرتے تھے۔ لیکن بٹائی یعنی ایک تہائی یا ایک چوتھائی پیداوار کی شرط پر زمین دینے میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتے تھے۔ جب کہ بعض لوگوں نے اس پر اعتراض کیا اور کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کو کرایہ پر دینے سے منع فرمایا ہے تو انہوں نے کہا : ہمارے پاس سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ تشریف لائے تھے جنہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن بھیجا تھا۔ انہوں نے زمین کو ایک تہائی اور ایک چوتھائی پیداوار کی شرط پر بٹائی پر دیا تھا۔ اس وقت سے ہم یہ معاملہ کرتے چلے آرہے ہیں۔
ابن ماجه كتاب الرهون باب الرخصة فى المزارعة بالثلث والربع ح : 2463 ، 2462 نحوه
گویا سیدنا طاؤس رحمہ اللہ کے نزدیک ممانعت جس چیز کی ہے، وہ یہی ہے کہ کرایہ سونے چاندی (نقدی) کی شکل میں لیا جائے۔ رہی بٹائی تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
محمد بن سیرین رحمہ اللہ، قاسم بن محمد بن ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے بھی یہی منقول ہے۔ البتہ تابعین سے ایک گروہ اس بات کا قائل ہے کہ زمین کو کرایہ پر دینے کی ہر صورت ممنوع ہے خواہ نقد کی صورت میں ہو یا بٹائی کی صورت میں، لیکن اس میں شک نہیں کہ ان کا موقف کمزور اور مرجوح ہے۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، خلفائے راشدین اور سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے بٹائی کا معاملہ کیا تھا جس سے بٹائی کا جواز ثابت ہوتا ہے اور زمانہ سابق میں مسلمانوں کے لیے اسی کے مطابق عملاً قانون سازی کی جاتی رہی ہے۔ البتہ زمین کو نقدی کی صورت میں کرایہ پر دینے کی ممانعت صحیح حدیث سے ثابت ہے اور یہ بات معقول بھی ہے۔

قیاس بھی متقاضی ہے کہ زمین کو نقدی کے عوض کرایہ پر دینے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے

اسلام کے اصول اور صحیح و صریح نصوص کے پیش نظر قیاس بھی مندرجہ ذیل وجوہ کی بنا پر اس بات کا متقاضی ہے کہ خالی زمین کو نقدی کے عوض کرایہ پر دینے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے :
➊ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پیداوار کے متعینہ حصہ مثلاً ایک قنطار (خزانہ، ڈھیر) یا دو قنطار کے عوض زمین کو کرایہ پر دینے سے منع فرمایا ہے۔ اور صرف بٹائی کی صورت کو جائز قرار دیا ہے۔ یعنی پیداوار کا متناسب حصہ مثلاً چوتھائی، تہائی یا نصف یا ہماری تعبیر کے مطابق فی صد تناسب (Percentage) مقرر کر کے معاملہ کیا جائے تاکہ پیداوار کے حصول کی صورت میں دونوں شرکاء فائدے میں رہیں اور کسی آفت (آسمانی یا زمینی) کی وجہ سے نقصان کی صورت میں دونوں شرکاء نقصان میں بھی شریک رہیں۔ اس کے برخلاف ایک فریق کے حصہ کی تعیین کرنا تاکہ وہ قطعی طور پر فائدہ میں رہے اور دوسرے فریق کو اس غیر یقینی صورت کے حوالہ کرنا کہ اس کے حصہ میں شاید پسینہ بہانے کے سوا کچھ نہ آئے، سود اور جوئے کے معاملہ سے کس قدر مشابہ ہے !!!
اس کے پیش نظر جب ہم زمین کو نقدی کے عوض کرایہ پر دینے کے مسئلہ پر غور و فکر کرتے ہیں تو اس میں اور مزارعت کی مذکورہ ممنوع شکل میں کوئی فرق محسوس نہیں ہوتا۔ زمین کے مالک کو کرایہ کی صورت میں اپنا نقد حصہ یقینی طور سے ملتا ہے لیکن مستأجر (کرایہ لینے والا) اپنی محنت و مشقت کو داؤ پر لگاتا ہے۔ اسے نہیں معلوم کہ کچھ کمائے گا یا گھاٹے میں رہے گا۔ اور پیداوار ہوگی بھی یا نہیں؟
➋ مزید برآں جو شخص زمین کے علاوہ کرایہ پر کوئی اور چیز مکان، گاڑی وغیرہ دیتا ہے۔ وہ اس کا مالک ہوتا ہے اور کرایہ کا استحقاق اسے اس بنا پر حاصل ہوتا ہے کہ وہ اسے فائدہ اٹھانے کے قابل بنا کر مستاجر کے حوالہ کرتا ہے۔ اور اس کو استعمال میں لانے سے جو گھس (Depreciation) ہوتی رہتی ہے اس کے معاوضہ کا اسے حق حاصل ہوتا ہے۔ لیکن زمین کو کرایہ پر دینے کے لیے کسی قسم کی تیاری نہیں کرنا پڑتی۔ زمین میں اگانے کی صلاحیت تو زمیندار نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ پیدا کرتا ہے اور زراعت کے کام میں لانے سے زمین کی گھس نہیں ہوتی، نہ اسے آلات کی طرح زنگ لگتا ہے اور نہ وہ عمارتوں کی طرح بوسیدہ ہی ہوتی ہے۔
➌ یہ بھی حقیقت ہے کہ جب انسان کوئی مکان کرایہ پر لیتا ہے تو رہائش کے ذریعہ اس سے براہ راست فائدہ اٹھاتا ہے اور درمیان میں کوئی چیز حائل نہیں ہوتی۔ اسی طرح جب کوئی مشین کرایہ پر لیتا ہے تو اس سے بھی اسی طرح فائدہ اٹھاتا ہے۔ لیکن زمین سے براہ راست استفادہ نہیں کرتا اور نہ اس کا فائدہ اٹھانا یقینی ہوتا ہے۔ زمین کا معاملہ مکان کی طرح نہیں ہے کہ وہ یقینی طور سے فائدہ اٹھا سکے بلکہ جب وہ زمین کرایہ پر لیتا ہے تو فائدہ کی امید پر لیتا ہے اور کوشش و محنت کر کے کبھی فائدہ اٹھا پاتا ہے اور کبھی نہیں اٹھاتا۔ لہذا زمین کے کرایہ کو مکان وغیرہ کے کرایہ پر قیاس کرنا بھی کسی طور پر صحیح نہیں ہے۔
➍ صحیح حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھلوں کو ان کے پختہ ہونے سے پہلے کھیتوں اور باغوں میں فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے۔ اور اس کی علت یہ بیان فرمائی ہے کہ جب اللہ نے پھلوں سے محروم کر دیا ہو تو تم اپنے بھائی کا مال کس طرح اپنے لیے جائز کر سکتے ہو؟
بخاری کتاب البيوع باب اذا باع الثمار قبل ان يبدو صلاحها ح : 2199 ، 2198 ۔ مسلم كتاب المساقاة باب وضع الجوائح ح : 1535 ، 1555
یہ ممانعت اس صورت میں ہے جب کہ پھلوں کے پختہ ہونے کا آغاز ہو گیا ہو لیکن ابھی ان کے صحیح سالم ہونے کی طرف سے اطمینان نہ کیا جا سکتا ہو۔ ممکن ہے وہ کسی آفت کی زد میں آجائیں اور پھل پک نہ سکیں۔ لہذا خالی زمین جس کو کدال تک نہ لگایا گیا ہو اور نہ اس میں بیج ڈالے گئے ہوں، کرایہ پر دینا کیونکر ممنوع نہ ہوگا؟
اصل میں صحیح اور عادلانہ شکل مزارعت ہی ہے جس میں معاملہ کے دونوں فریق نفع میں بھی شریک ہوتے ہیں اور نقصان میں بھی۔
اس موضوع پر ملاحظہ ہو ابن حزم المحلی : ج 8 ، ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی القواعد النورانية اور ابوالاعلی مودودی کی ملكية الارض في الاسلام
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے بیان کیا ہے کہ مزارعت ہی شریعت کے اصول اور طریقہ عدل سے مطابقت رکھنے والی چیز ہے۔ اور کرایہ کے مقابلہ میں مزارعت (بٹائی) کا معاملہ مبنی بر عدل و انصاف اور اصول شریعت کے مطابق ہے۔ کیونکہ اس صورت میں دونوں فریق نفع و نقصان میں شریک ہوتے ہیں بخلاف کرایہ کے کہ اس شکل میں زمین کے مالک کو تو کرایہ مل جاتا ہے لیکن مستأجر (اجرت پر لینے والا) کے حصہ میں کبھی پیداوار آجاتی ہے اور کبھی اسے محروم رہنا پڑتا ہے اور کبھی خود اپنے اصل مال سے ہاتھ دھونا پڑتے ہیں۔
الحسبة في الاسلام از ابن تیمیه ص : 21
ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں : اس مزارعت پر جو مبنی بر عدل ہے، مسلمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کے عہد میں عمل کرتے رہے ہیں۔ مہاجرین میں آل ابو بکر رضی اللہ عنہ، آل عمر رضی اللہ عنہ، آل عثمان رضی اللہ عنہ، آل علی رضی اللہ عنہ وغیرہ اس پر عمل کرتے رہے۔ اور اکابر صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین اس کے جواز کے قائل ہیں ابن مسعود رضی اللہ عنہ، ابی بن کعب رضی اللہ عنہ، زید بن ثابت رضی اللہ عنہ وغیرہ اور یہی مسلک فقہائے حدیث احمد بن حنبل رحمہ اللہ، اسحق بن راہویہ رحمہ اللہ، امام بخاری رحمہ اللہ، داود بن علی رحمہ اللہ، ابن خزیمہ رحمہ اللہ، ابو بکر منذر رحمہ اللہ، محمد بن نصر مروزی رحمہ اللہ کا ہے۔ نیز مسلمانوں کے عام ائمہ مثلاً : لیث بن سعد رحمہ اللہ، ابن ابی لیلی رحمہ اللہ، ابو یوسف رحمہ اللہ، محمد بن حسن رحمہ اللہ وغیرہ بھی اسی کے قائل ہیں۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل خیبر کے ساتھ نصف پیداوار کی شرط پر معاملہ کیا تھا جس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات تک برقرار رکھا۔
بخاری کتاب الحرث باب المزارعة بالشطر ونحوه ح : 2328 ، مسلم کتاب المساقاة باب المساقاة ح : 1551
اور بعد میں بھی اس پر عمل درآمد ہوتا رہا یہاں تک کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو جلا وطن کیا۔ ان کے ساتھ معاملہ اس شرط پر طے ہوا تھا کہ وہ اس کی آباد کاری پر اپنا مال خرچ کریں گے اور بیج بھی ان ہی کے ذمہ ہوں گے۔
اسی لیے ان علماء کا قول صحیح معلوم ہوتا ہے جو بیج کے بارے میں دونوں صورتوں کو جائز کہتے ہیں۔ ایک صورت یہ کہ بیج کاشت کرنے والے کی طرف سے ہوں اور دوسری صورت یہ کہ کاشت کرنے والے اور مالک زمین دونوں کی طرف سے ہوں۔
الطرق الحكمية ص : 250
مزارعت کے سلسلہ میں جتنی روایتیں آتی ہیں ان میں سے کوئی روایت بھی ایسی نہیں ہے جس میں زمین کاشت کرنے والے کا حصہ نصف سے کم بتلایا گیا ہو۔ بلکہ بعض صورتوں میں اس سے بھی زیادہ ہوتا تھا۔ لہذا جس بات پر دل کو اطمینان ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ زمین لگانے والے کا حصہ نصف سے کم نہیں ہونا چاہیے۔ چنانچہ خیبر کے یہودیوں کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین نے اسی طرح معاملہ کیا تھا۔
اصل میں یہ بات کسی طرح مناسب معلوم نہیں ہوتی کہ زمین جیسی جامد چیز کا حصہ انسان کے حصہ سے زیادہ قرار پائے۔