انگور کو کرم کہنا، کثرت کلام، مہمان کا زائد قیام اور حسد کی ممانعت

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

انگور کو کرم کہنے کی ممانعت

① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا تسموا العنب الكرم، فإن الكرم المسلم
”انگور کو کرم نہ کہو اس لیے کہ کرم تو مسلمان ہے۔“
بخاری، کتاب الادب 6182، مسلم، الالفاظ من الادب وغیرھا 2247/8۔

کثرت کلام کی ممانعت

① سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن من أحبكم إلى وأقربكم مني مجلسا يوم القيامة أحسنكم أخلاقا، وإن أبغضكم إلى وأبعدكم مني مجلسا يوم القيامة الثرثارون والمتشدقون والمتفيهقون
”قیامت کے دن تم میں سے میرے سب سے زیادہ قریب اور سب سے زیادہ پسندیدہ شخص وہ ہے جس کا تم میں سے اخلاق سب سے اچھا ہے، اور تم میں سے مجھے سب سے زیادہ ناپسند اور قیامت کے دن مجھ سے سب سے زیادہ دور کثرت کلام کرنے والے، باچھیں کھلا کر باتیں کرنے والے اور متکبر لوگ ہوں گے۔“
ترمذی، کتاب البر والصلة 2018۔

مہمان کا میزبان کے پاس تین دن سے زائد رہنا

① سیدنا ابو شریح عدوی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الضيافة ثلاثة أيام وجائزته يوم وليلة، وما أنفق عليه بعد ذلك فهو صدقة، ولا يحل له أن يثوي عنده حتى يحرجه
”ضیافت تین ایام ہے اور اس کے دستور کے مطابق مہمانی ایک دن رات ہے اور اس کے بعد وہ اس پر جو خرچ کرے گا وہ صدقہ ہے، اور اس (مہمان) کے لیے جائز نہیں کہ وہ اس کے پاس اس قدر قیام کرے کہ اسے تنگ کر دے۔“
ترمذی، کتاب البر والصلة الخ 1968، مسلم، کتاب اللقطة 1726/14.

حسد کرنے کی ممانعت

① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إياكم والحسد فإن الحسد يأكل الحسنات كما تأكل النار الحطب أو قال: العشب
”حسد سے بچو اس لیے کہ حسد نیکیوں کو کھا جاتا ہے، جس طرح آگ لکڑی یا فرمایا گھاس کو کھا جاتی ہے۔“
ابو داؤد، کتاب الادب 4903۔
② سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
دب إليكم داء الأمم قبلكم الحسد والبغضاء، وهى الحالقة، أما إني لا أقول تحلق الشعر ولكن تحلق الدين، والذي نفسي بيده لا تدخلون الجنة حتى تؤمنوا، ولا تؤمنوا حتى تحابوا، ألا أدلكم على ما تحابون به؟ أفشوا السلام
”تم میں پہلی امتوں کی بیماری سرایت کر گئی ہے: حسد اور بغض، اور وہ مونڈنے والی ہے، اور میں یہ نہیں کہتا کہ وہ بال مونڈتی ہے بلکہ وہ دین کو ختم کرتی ہے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جب تک تم مومن نہ بن جاؤ جنت میں داخل نہیں ہو سکتے اور جب تک تم آپس میں محبت نہ کرو مومن نہیں بن سکتے۔ کیا میں تمہیں ایسا عمل نہ بتاؤں جس کی وجہ سے تم آپس میں محبت کرنے لگو گے؟ آپس میں کثرت سے سلام کرو۔“
ترمذی، کتاب صفة القيامة والرقائق والورع 2510۔ مسند احمد، مسند العشرة المبشرین بالجنة 208/1 حدیث 1416.
③ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا يجتمعان فى قلب عبد الإيمان والحسد
”بندے کے دل میں ایمان اور حسد اکٹھے نہیں ہو سکتے۔“
نسائی فی الجهاد 11/6 باب فضل من عمل فی سبیل الله قدمه۔