جماعت المسلمین سے کیا مراد ہے؟
سوال: عرض ہے کہ [جماعت المسلمین] (رجسٹرڈ) بخاری و مسلم کی اس (آنے والی) حدیث کو اپنے حق میں پیش فرماتے ہیں، جبکہ ہمیں ان کے اس فہم و استفادہ سے، اس طرح کے استدلال سے اختلاف ہے۔ براہِ مہربانی خیرالقرون کے فہم و استفادہ سے مستفیض فرمائیں۔
زیرِ بحث [باب كيف الامر إذا لم تكن جماعة]میں حدیث نمبر 1978 [قال: تلزم جماعة المسلمين و إمامهم، قلت: فإن لم يكن لهم جماعة ولا إمام؟ قال: فاعتزل تلك الفرق كلها و لو أن تعض بأصل شجرة حتى يدركك الموت و أنت على ذلك] (ج3 ص776) صحیح مسلم، کتاب الامارة باب وجوب ملازمة جماعة المسلمين عند ظهور الفتن و في كل حال۔ (ج5 ص137)
محترم! اس تناظر میں قرونِ ثلاثہ کے حوالے سے مکمل راہنمائی فرمائیں کہ [جماعت المسلمین] (رجسٹرڈ) اس بنیاد پر
① سب کو گمراہ اور اپنے آپ کو کاملاً صحیح سمجھتے ہیں۔
② اپنی کئی کتب مثلاً: (1) دعوتِ اسلام (ص47-48) میں 34 مذہبی جماعتوں
(2) دعوتِ فکر و نظر (ص49) میں 33 مذہبی جماعتوں اور لمحہ فکریہ (ص42) وغیرہ میں 33 مذہبی جماعتوں کے نام گنوائے ہیں، جن میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ یہ (جماعتیں) چونکہ [جماعت المسلمین] (رجسٹرڈ سے) وابستہ نہیں، لہٰذا گمراہ ہیں۔
③ سیاسی جماعتوں کا اس (میں) مطلق ذکر نہ بھی کسی خطرے سے خالی نہیں۔
براہِ کرم اپنے قیمتی لمحات میں سے کچھ وقت خصوصی راہنمائی کے لئے ضرور وقف فرمائیں۔
الجواب: اس میں کوئی شک نہیں کہ قرآن اور صحیح حدیث حجت ہے اور قرآن و حدیث سے اجماعِ امت کا حجت ہونا ثابت ہے، لہٰذا ادلۂ شرعیہ تین ہیں:
[1] قرآنِ مجید
[2] احادیثِ صحیحہ وحسنہ لذاتہا، مرفوعہ
[3] اجماعِ اُمت
سبیل المومنین والی آیتِ کریمہ اور دیگر دلائل سے درج ذیل دو اہم اصول بھی ثابت ہیں:
(1) کتاب و سنت کا صرف وہی مفہوم معتبر ہے جو سلف صالحین (مثلاً صحابہ، تابعین، تبع تابعین، محدثین، علمائے دین اور صحیح العقیدہ شارحینِ حدیث) سے متفقہ یا بغیر اختلاف کے ثابت ہے۔
(2) اجتہاد مثلاً آثارِ سلف صالحین سے استدلال۔
اس تمہید کے بعد سیدنا حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ کی بیان کردہ حدیث: [تلزم جماعة المسلمين و إمامهم] مسلمانوں کی جماعت اور ان کے امام کو لازم پکڑ لو، کی تشریح میں عرض ہے کہ یہاں جماعت المسلمین سے مراد خلافتِ مسلمین ہے اور امامہم سے مراد خليفتهم (یعنی مسلمانوں کا خلیفہ) ہے۔ اس تشریح کی دو دلیلیں درج ذیل ہیں:
[1] (سبیع بن خالد) الیشکری رحمہ اللہ (ثقہ تابعی) کی سند سے روایت ہے کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: [فإن لم تجد يومئذ خليفة فاهرب حتى تموت] پھر اگر تم ان ایام میں کوئی خلیفہ نہ پاؤ تو بھاگ جاؤ حتیٰ کہ مر جاؤ۔
(سنن ابی داود:4247، وسندہ حسن، مسند ابی عوانہ:4/ 420 ح7168 شاملہ)
اس حدیث کے راویوں کی مختصر توثیق درج ذیل ہے:
(1) سبیع بن خالد الیشکری رحمہ اللہ:
انہیں ابن حبان، امام عجلی، حاکم، ابو عوانہ اور ذہبی نے ثقہ و صحیح الحدیث قرار دیا، لہٰذا اس زبردست توثیق کے بعد انہیں مجهول یا مستور کہنا غلط ہے۔
(2) صخر بن بدر العجلی رحمہ اللہ:
انہیں ابن حبان اور ابو عوانہ نے ثقہ و صحیح الحدیث قرار دیا، اور اس توثیق کے بعد شیخ البانی کا انہیں مجهول قرار دینا غلط ہے۔
(3) ابو التیاح یزید بن حمید رحمہ اللہ:
صحیحین و سننِ اربعہ کے راوی اور ثقہ ثبت تھے۔
(4) عبدالوارث بن سعید رحمہ اللہ:
صحیحین و سننِ اربعہ کے راوی اور ثقہ ثبت تھے۔
(5) مسدد بن مسرہد رحمہ اللہ:
صحیح بخاری وغیرہ کے راوی اور ثقہ حافظ تھے۔
ثابت ہوا کہ یہ سند حسن لذاتہ ہے اور قتادہ (ثقہ مدلس) کی عن نصر بن عاصم عن سبیع بن خالد والی روایت صخر بن بدر کی حدیث کا شاہد ہے، جو کہ مسعود احمد بی ایس سی کے ’’اصولِ حدیث‘‘ کی رُو سے سبیع بن خالد رحمہ اللہ تک صحیح ہے۔
(دیکھئے سنن ابی داود:4244 و صحیح الحاکم:4/ 432-433 و وافقہ الذہبی)
اس حسن (اور مسعودیہ کے اصول پر صحیح) روایت سے ثابت ہوا کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ والی حدیث میں امام سے مراد خلیفہ ہے اور یاد رہے کہ حدیث حدیث کی تشریح کرتی ہے۔
[2] حافظ ابن حجر العسقلانی نے: [تلزم جماعة المسلمين و إمامهم] کی تشریح میں فرمایا: [قال البيضاوي: المعنى إذا لم يكن في الأرض خليفة فعليك بالعزلة و الصبر على تحمل شدة الزمان و عض أصل الشجرة كناية عن مكابدة المشقة]
(قاضی) بیضاوی (متوفی 685ھ) نے فرمایا: اس کا معنی یہ ہے کہ اگر زمین میں خلیفہ نہ ہو تو تم (سب سے) علیحدہ ہو جانا اور زمانے کی سختیوں پر صبر کرنا۔ درخت کی جڑ چبانے کے اشارے سے مراد مصیبتیں برداشت کرنا ہے۔ (فتح الباری:13/ 36 بحوالہ مکتبہ شاملہ)
حافظ ابن حجر نے محمد بن جریر بن یزید الطبری رحمہ اللہ (متوفی 310ھ) سے نقل کیا کہ: [والصواب أن المراد من الخبر لزوم الجماعة الذين في طاعة من اجتمعوا على تأميره فمن نكث بيعته خرج عن الجماعة ، قال : و في الحديث أنه متى لم يكن للناس إمام فافترق الناس أحزابًا فلا يتبع أحدًا في الفرقة و يعتزل الجميع إن استطاع ذلك]
اور صحیح یہ ہے کہ (اس) حدیث سے مراد اس جماعت کو لازمی پکڑنا ہے جو اس (امام) کی امارت پر جمع ہوتے ہیں، پس جس نے اپنی بیعت توڑ دی وہ جماعت سے خارج ہو گیا۔ فرمایا: اور حدیث میں (یہ بھی) ہے کہ اگر لوگوں کا امام (امیر بالاجماع) نہ ہو اور لوگوں نے پارٹیاں بنا رکھی ہوں تو دورِ اختلاف میں کسی ایک کی اتباع نہ کرے اور اگر طاقت ہو تو تمام (پارٹیوں) سے علیحدہ رہے۔
(فتح الباری:13/ 36 شاملہ)
شارحِ صحیح البخاری علامہ علی بن خلف بن عبد الملک ابن بطال القرطبی (متوفی 449ھ) نے فرمایا: [و فيه حجة لجماعة الفقهاء في وجوب لزوم جماعة المسلمين و ترك القيام على أئمة الجور]
اور اس (حدیث) میں جماعتِ فقہاء کی دلیل ہے کہ مسلمانوں کی جماعت کو لازم پکڑنا چاہئے اور ظالم حکمرانوں کے خلاف خروج نہیں کرنا چاہئے۔
(شرح صحیح بخاری لابن بطال:10/ 33 شاملہ)
حافظ ابن حجر نے اس حدیث کے ایک ٹکڑے کی تشریح میں فرمایا: [وهو كناية عن لزوم جماعة المسلمين و طاعة سلاطينهم ولو عصوا]
اور یہ اشارہ ہے کہ مسلمانوں کی جماعت کو لازم پکڑا جائے اور مسلمانوں کے سلاطین (حکمرانوں) کی اطاعت کی جائے، اگرچہ وہ نافرمانیاں کریں۔
(فتح الباری:13/ 36 شاملہ)
شارحینِ حدیث (ابن جریر طبری، قاضی بیضاوی، ابن بطال اور حافظ ابن حجر) کی ان تشریحات (فہمِ سلف صالحین) سے ثابت ہوا کہ حدیثِ مذکور
[تلزم جماعة المسلمين و إمامهم] سے مروجہ جماعتیں اور پارٹیاں (مثلاً مسعود احمد بی ایس سی کی جماعت المسلمین رجسٹرڈ) مراد نہیں بلکہ مسلمین (مسلمانوں) کی متفقہ خلافت اور اجماعی خلیفہ مراد ہے۔
ایک حدیث میں آیا ہے کہ: [من مات و ليس له إمام مات ميتة جاهلية] جو شخص فوت ہو جائے اور اس کا امام (خلیفہ) نہ ہو تو وہ جاہلیت کی موت مرتا ہے۔ (صحیح ابن حبان:10/ 434 ح4573 و هو حدیث حسن)
اس حدیث کی تشریح میں امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے اپنے ایک شاگرد سے فرمایا: کیا تجھے پتا ہے کہ (اس حدیث میں) امام کسے کہتے ہیں؟ (امام وہ ہے) جس پر تمام مسلمانوں کا اجماع ہو جائے (اور) ہر آدمی یہی کہے کہ یہ امام (خلیفہ) ہے۔
پس اس حدیث کا یہی معنی ہے۔ (سوالات ابن ہانی:2011، تحقیقی مقالات:1/ 403)
اس تشریح سے بھی یہی ثابت ہے کہ ،،و إمامهم،، سے مراد وہ امام (خلیفہ) ہے، جس کی خلافت پر تمام مسلمانوں کا اجماع ہو چکا ہو اور اگر کسی پر پہلے سے ہی اختلاف ہو تو وہ اس حدیث میں مراد نہیں، لہٰذا فرقۂ مسعودیہ (جماعت المسلمین رجسٹرڈ) کا اس حدیث سے اپنی خود ساختہ و نوزائدہ فرقی مراد لینا غلط، باطل اور بہت بڑا فراڈ ہے۔
آپ ان لوگوں سے پوچھیں کہ کیا کسی ثقہ و صدوق امام، محدث، شارح یا عالم نے زمانۂ خیر القرون، زمانۂ تدوینِ حدیث اور زمانۂ شارحینِ حدیث (پہلی صدی سے نویں صدی ہجری تک) میں اس حدیث سے یہ استدلال کیا ہے کہ جماعت المسلمین سے خلافت مراد نہیں اور امامہم سے خلیفہ مراد نہیں، بلکہ کاغذی رجسٹرڈ جماعت اور اس کا کاغذی بے اختیار امیر مراد ہے؟ اگر اس کا کوئی ثبوت ہے تو پیش کریں، ورنہ عامۃ المسلمین کو گمراہ نہ کریں۔
مزید تفصیل کے لئے دیکھئے محترم ابو جابر عبداللہ دامانوی حفظہ اللہ کی کتاب: ’’الفرقة الجديدة‘‘
اصحاب الحدیث کون؟
ابو طاہر برکۃ الحوزی الواسطی نے کہا: میں نے مالک اور شافعی کی افضلیت کے بارے میں ابو الحسن (علی بن محمد بن محمد بن الطیب) المغازلی (متوفی 483ھ) سے مناظرہ کیا، چونکہ میں شافعی المذہب تھا لہٰذا شافعی کو افضل قرار دیا اور وہ مالکی المذہب تھے لہٰذا انہوں نے مالک (بن انس) کو افضل قرار دیا، پھر ہم دونوں نے ابو مسلم (عمر بن علی بن احمد بن اللیث) اللیثی البخاری (متوفی466ھ یا468ھ) کو فیصلہ کرنے والا ثالث (جج) بنایا تو انہوں نے شافعی کو افضل قرار دیا، پس ابو الحسن غصے ہو گئے اور کہا: شاید تم اُس (امام شافعی) کے مذہب پر ہو؟ انہوں (امام ابو مسلم اللیثی البخاری رحمہ اللہ) نے فرمایا:
[نحن ـ أصحاب الحديث ـ الناس على مذاهبنا فلسنا على مذهب أحد ولو كنّا ننتسب إلى مذهب أحد لقيل: أنتم تضعون له الأحاديث]
ہم اصحاب الحدیث ہیں، لوگ ہمارے مذاہب پر ہیں، ہم کسی کے مذہب پر نہیں ہیں اور اگر ہم کسی ایک مذہب کی طرف منسوب ہوتے تو کہا جاتا کہ تم اس (مذہب) کے لیے حدیثیں بناتے ہو۔
(سوالات الحافظ السلفی لخمیس الحوزی: ص118 ت113)
معلوم ہوا کہ اصحاب الحدیث (اہل الحدیث) کسی تقلیدی مذہب مثلاً شافعیت اور مالکیت کے مقلد نہیں تھے بلکہ قرآن و حدیث پر عمل کرنے والے تھے۔ اس عظیم الشان حوالے کے بعد بھی اگر کوئی شخص یہ دعویٰ کرے کہ اصحاب الحدیث شافعیت و مالکیت وغیرہما کی تقلید کرنے والے تھے (!) تو یہ شخص اپنا دماغی معائنہ کروا لے۔
تنبیہ: امام ابو مسلم اللیثی ثقہ تھے۔ دیکھیے میری کتاب الفتح المبین فی تحقیق طبقات المدلسین: (ص58 ت3/90) اور سیر اعلام النبلاء (18/408)