سانپ، گرگٹ چھپکلی کو مارنے ، کنکری پھینکنے اور حیوانات کو قتل کرنے کے احکامات

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

كتاب الصيد والذبائح

سانپوں کو مارنے کے متعلق احکامات

① سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اقتلوا الحيات واقتلوا ذا الطفيتين والأبتر فإنهما يطمسان البصر ويستسقطان الحبل
”سانپوں کو قتل کرو اور دو نقطوں والے اور دم کٹے سانپ کو قتل کرو، اس لیے کہ وہ بینائی کو ختم کر دیتے ہیں اور حمل گرا دیتے ہیں“۔
بخاری، کتاب بدء الخلق 3297۔ مسلم، کتاب الحج 2233۔ ابوداؤد، کتاب الادب 5254۔
② سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اقتلوا الحيات كلهن فمن خاف ثأرهن فليس مني
”ہر قسم کے سانپوں کو قتل کرو، پس جو شخص ان کے انتقام سے ڈر جائے (اور انہیں نہ مارے) تو وہ مجھ میں سے نہیں“۔
ابوداؤد، کتاب الادب 5249۔

گرگٹ چھپکلی کو مارنے کے متعلق احکامات

① سیدہ ام شریک رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں گرگٹ چھپکلی کو قتل کرنے کا حکم دیا اور فرمایا:
كان ينفخ علىٰ إبراهيم
”وہ ابراہیم علیہ السلام پر پھونک سے آگ تیز کرتا تھا“۔
بخاری، کتاب بدء الخلق 3259۔ مسلم، کتاب السلام 2237۔
② سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من قتل وزغة فى أول ضربة فله كذا وكذا حسنة ، ومن قتلها فى الضربة الثانية فله كذا وكذا حسنة دون الأولىٰ ، وفي الثالثة دون ذٰلك
”جس نے پہلی ضرب میں گرگٹ / چھپکلی کو مار دیا تو اس کے لیے اتنی اتنی نیکی ہے اور جس نے اسے دوسری ضرب میں مارا تو اس کے لیے پہلی مرتبہ مارنے سے کم اتنی اتنی نیکی ہے، اور تیسری مرتبہ مارنے میں اس سے بھی کم“۔
مسلم، کتاب السلام 2240۔ ابوداؤد، کتاب الادب 5263۔ ترمذی، کتاب الاحكام والفوائد 1482۔

کنگری پھینکنے کی ممانعت

① سیدنا عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (انگشتِ شہادت اور انگوٹھے سے) کنکری پھینکنے سے منع کیا تو فرمایا:
إنه لا يقتل الصيد ولا ينكأ العدو وإنما يفقأ العين ويكسر السن
”یہ شکار مارتا ہے نہ دشمن کو زخمی کرتا ہے، بلکہ یہ آنکھ کو پھوڑ ڈالتا اور دانت کو توڑ ڈالتا ہے“۔
بخاري، كتاب الادب 6220۔ مسلم، كتاب الصيد والذبائح ومايؤكل 45 / 1954۔

حیوانات کو قتل کرنے کی ممانعت

① سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی بھی چوپائے کو باندھ کر قتل کرنے سے منع فرمایا ہے۔
مسلم، الصيد والذبائح و ما يؤكل من الحيوان 1959/60 ، ابن ماجه، کتاب الذبائح 3188۔
② سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا تتخذوا شيئا فيه روح غرضا
”کسی ذی روح چیز پر نشانہ بازی نہ کرو“۔
مسلم، کتاب الصيد والذبائح و ما يؤكل من الحيوان 1957/58۔ ترمذی، کتاب الصيد 1475۔ ابن ماجه، كتاب الذبائح 3187۔
③ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
لعن الله من اتخذ الروح غرضا
”اللہ تعالیٰ لعنت کرے اس شخص پر جو کسی ذی روح کو باندھ کر نشانہ بازی کرے“۔
مسلم، کتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان 1957/59۔ نسائی، کتاب الضحايا 210/7۔