مضمون کے اہم نکات
قرآن کریم میں سے چند ایسی مثالیں پیش کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ہمارے دور کے مشرکوں کے دلائل کے جواب میں کہی ہیں:
اہل باطل کا جواب دو طرح سے ہے:
[1] مجمل
[2]مفصل
[1] مجمل جواب:
تو عقلمندوں کے لیے امر عظیم اور فائدہ کبیرہ ہے، جیسے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان:
[ہُوَ الَّذِیۡۤ اَنۡزَلَ عَلَیۡکَ الۡکِتٰبَ مِنۡہُ اٰیٰتٌ مُّحۡکَمٰتٌ ہُنَّ اُمُّ الۡکِتٰبِ وَ اُخَرُ مُتَشٰبِہٰتٌ ؕ فَاَمَّا الَّذِیۡنَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ زَیۡغٌ فَیَتَّبِعُوۡنَ مَا تَشَابَہَ مِنۡہُ ابۡتِغَآءَ الۡفِتۡنَۃِ وَ ابۡتِغَآءَ تَاۡوِیۡلِہٖ وَ مَا یَعۡلَمُ تَاۡوِیۡلَہٗۤ اِلَّا اللّٰہُ]
وہی ہے جس نے تجھ پر یہ کتاب اتاری، جس میں سے کچھ آیات محکم ہیں، وہی کتاب کی اصل ہیں اور کچھ دوسری کئی معنوں میں ملتی جلتی ہیں، پھر جن لوگوں کے دلوں میں تو کجی ہے وہ اس میں سے ان کی پیروی کرتے ہیں جو کئی معنوں میں ملتی جلتی ہیں، فتنے کی تلاش کے لیے اور ان کی اصل مراد کی تلاش کے لیے، حالانکہ ان کی اصل مراد نہیں جانتا مگر اللہ۔ [آل عمران:7]
نیز صحیح حدیث میں ہے کہ آپﷺ نے فرمایا:
[ فإذا رأيت الذين يتبعون ما تشابه منه فأولئك الذين سمى الله فاحذروهم]
کہ جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو جو متشابہ آیتوں کے پیچھے پڑے ہوئے ہوں تو یاد رکھو کہ یہ وہی لوگ ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے (آیت بالا میں) ذکر فرمایا ہے۔ اس لیے ان سے بچتے رہو۔ [بخاری، کتاب التفسير، (سورة آل عمران) باب منه آيات محكمات:4547]
اس کی مثال یہ ہے کہ اگر کوئی مشرک یہ آیت کریمہ پڑھے:
[1] [اَلَاۤ اِنَّ اَوۡلِیَآءَ اللّٰہِ لَا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ]
سن رکھو کہ جو اللہ کے دوست ہیں ان کو نہ کچھ خوف ہو گا اور نہ وہ غمناک ہوں گے۔ [یونس:62]
[2] یا کہے کہ سفارش برحق ہے۔
[3] یا یہ کہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام کا اللہ تعالیٰ کے ہاں بڑا بلند رتبہ ہے۔
[4] یا رسول مکرم ﷺ کا کوئی ارشاد پڑھے جس سے اپنے باطل عقیدہ پر استدلال کرنا چاہے۔
اور تم اس کے ذکر کردہ کلام کا مفہوم نہ سمجھتے ہو۔
تو اسے یہ جواب دو کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں فرمایا ہے: کہ جن کے دل ٹیڑھے ہیں وہ محکم آیات کو چھوڑ کر متشابہ آیات کے پیچھے جاتے ہیں۔ اور جو میں نے تمھارے سامنے ذکر کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے کہ: مشرک اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کا اقرار کرتے تھے، لیکن ان کو کا فر صرف اس لیے کہا کہ انھوں نے ملائکہ و انبیاء اور اولیاء سے بایں معنی اپنا تعلق بنا رکھا تھا: [ہٰۤؤُلَآءِ شُفَعَآؤُنَا عِنۡدَ اللّٰہِ] یہ اللہ تعالیٰ کے پاس ہمارے سفارشی ہیں۔ [یونس:18]
یہ بات تو ایسی واضح اور نا قابل تاویل ہے کہ کوئی شخص اس کے معنی و مفہوم کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ لیکن اے مشرک! جو تو قرآن کریم کی آیت یا رسول مکرم ﷺ کا کلام پیش کرتا ہے میں اس کے معنی تو نہیں سمجھتا لیکن میں ایک فیصلہ کن بات کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے کلام میں تناقض نہیں ہے۔ اور رسول اللہﷺ، اللہ تعالیٰ کے کلام کے خلاف نہیں کہہ سکتے۔
یہ جواب بہت اچھا اور سیدھا سادا ہے، اسے وہی شخص سمجھے گا، جسے اللہ تعالی نے توفیق سے نوازا ہے۔ اس جواب کو معمولی نہ سمجھنا، اس کے بارے میں اللہ تعالی فرماتا ہے:
[وَ مَا یُلَقّٰہَاۤ اِلَّا الَّذِیۡنَ صَبَرُوۡا ۚ وَ مَا یُلَقّٰہَاۤ اِلَّا ذُوۡحَظٍّ عَظِیۡمٍ]
اور یہ بات انھی لوگوں کو حاصل ہوتی ہے جو برداشت کرنے والے ہیں اور انھی کو نصیب ہوتی ہے جو بڑے صاحب نصیب ہیں۔ [حم السجدة:35]
[2]جواب مفصل یہ ہے:
کہ اللہ تعالی کے دشمن انبیائے کرام علیہم السلام کے دین پر بہت سے۔ اعتراضات کرتے ہیں اور لوگوں کو دین سے روکتے ہیں، ان میں سے ایک اعتراض یہ ہے:
اعتراض:
وہ کہتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے بلکہ ہم شہادت دیتے ہیں کہ اللہ تعالی کے سوا کوئی پیدا کر سکتا ہے نہ رزق دے سکتا ہے، نفع دے سکتا ہے، نہ تکلیف میں مبتلا کر سکتا ہے اور یہ کہ رسول (ﷺ) اپنی ذات کے لیے نفع و نقصان کابھی اختیار نہیں رکھتے۔ شیخ عبد القادر جیلانی رحمہ اللہ وغیرہ کا تو ذکر ہی کیا لیکن میں ایک گنہگار آدمی ہوں اور اللہ تعالیٰ کے دربار میں صالحین کا بڑا رتبہ ہے، میں ان کے واسطہ سے اللہ تعالیٰ ہی سے مانگتا ہوں؟
جواب:
اس کو وہی جواب دو جو پہلے گزر چکا ہے، وہ یہ کہ جن لوگوں سے رسول اللہ ﷺ نے جنگیں لڑیں، وہ بھی یہی اقرار کرتے تھے جو تم کر رہے ہو۔ وہ اقرار کرتے تھے کہ ان کے معبود کسی بھی کام کا انتظام نہیں کر سکتے۔ وہ لوگ بھی ان کے واسطہ سے مرتبہ اور شفاعت ہی کے طالب تھے اور ان کو وہ آیات پڑھ کر سناؤ جو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں نازل فرمائی ہیں اور ان کی خوب وضاحت کرو۔
اعتراض:
اگر وہ کہے کہ یہ آیات تو بتوں کے پجاریوں کے متعلق نازل ہوئی ہیں تو تم انبیائے کرام (علیہم السلام) اور نیک لوگوں کو بتوں جیسا کس طرح بناتے ہو؟
جواب:
تو اس کو پہلے والا جواب دو کیونکہ جب اس نے اقرار کر لیا کہ کافر بھی ربوبیت صرف اللہ تعالی کی مانتے تھے۔ اور جن افراد کی قبور کا قصد کر کے جاتے تھے ان سے صرف سفارش ہی کے طلبگار ہوتے تھے، لیکن اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ مشرکین اور موحدین کے عمل میں فرق کر دے۔
اور اسے بتاؤ کہ کافروں میں سے کچھ تو وہ تھے جو بتوں کو پکارتے تھے اور بعض ایسے تھے جو اولیائے کرام ہی کو پکارتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انھی کے متعلق فرمایا ہے:
یہ لوگ جن کو اللہ کے سوا پکارتے ہیں، وہ خود اپنے پروردگار کے ہاں ذریعہ (تقرب) تلاش کرتے رہتے ہیں کہ کون ان میں (اللہ کا) زیادہ مقرب (ہوتا) ہے۔ [بنی اسرائیل:57]
اور کچھ لوگ سیدنا عیسی علیہ السلام اور ان کی والدہ کو پکارا کرتے تھے، جیسا کہ فرمان باری ہے:
[مَا الۡمَسِیۡحُ ابۡنُ مَرۡیَمَ اِلَّا رَسُوۡلٌ ۚ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِہِ الرُّسُلُ ؕ وَ اُمُّہٗ صِدِّیۡقَۃٌ ؕ کَانَا یَاۡکُلٰنِ الطَّعَامَ ؕ اُنۡظُرۡ کَیۡفَ نُبَیِّنُ لَہُمُ الۡاٰیٰتِ ثُمَّ انۡظُرۡ اَنّٰی یُؤۡفَکُوۡنَ]،[ قُلۡ اَتَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مَا لَا یَمۡلِکُ لَکُمۡ ضَرًّا وَّ لَا نَفۡعًا ؕ وَ اللّٰہُ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ]
مسیح ابن مریم تو صرف اللہ کے پیغمبر تھے، ان سے پہلے بھی بہت سے رسول گزر چکے تھے اور ان کی والدہ (مریم اللہ کی) ولی (اور سچی فرماں بردار) تھیں، دونوں (انسان تھے اور) کھانا کھاتے تھے۔ دیکھو! ہم ان لوگوں کے لیے اپنی آیتیں کس طرح کھول کھول کر بیان کرتے ہیں پھر (یہ) دیکھو کہ یہ کدھر الٹے جا رہے ہیں، کہو کہ تم اللہ کے سوا ایسی چیز کی کیوں پرستش کرتے ہو جس کو تمھارے نفع اور نقصان کا کچھ بھی اختیار نہیں اور اللہ ہی سب کچھ سنتا جانتا ہے۔ [المائدة:76،75]
اللہ تعالیٰ نے مزید فرمایا:
[وَ یَوۡمَ یَحۡشُرُہُمۡ جَمِیۡعًا ثُمَّ یَقُوۡلُ لِلۡمَلٰٓئِکَۃِ اَہٰۤؤُلَآءِ اِیَّاکُمۡ کَانُوۡا یَعۡبُدُوۡنَ]،[ قَالُوۡا سُبۡحٰنَکَ اَنۡتَ وَلِیُّنَا مِنۡ دُوۡنِہِمۡ ۚ بَلۡ کَانُوۡا یَعۡبُدُوۡنَ الۡجِنَّ ۚ اَکۡثَرُہُمۡ بِہِمۡ مُّؤۡمِنُوۡنَ]
[اور جس دن وہ ان سب کو جمع کرے گا پھر فرشتوں سے فرمائے گا کیا یہ لوگ تم کو پوجا کرتے تھے؟]،[ وہ کہیں گے تو پاک ہے تو ہی ہمارا دوست ہے نہ کہ یہ بلکہ یہ جنات کی پوجا کرتے تھے اور اکثر انھی کو مانتے تھے]۔ [سبا:41،40]
اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان بھی سناؤ:
[وَ اِذۡ قَالَ اللّٰہُ یٰعِیۡسَی ابۡنَ مَرۡیَمَ ءَاَنۡتَ قُلۡتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوۡنِیۡ وَ اُمِّیَ اِلٰہَیۡنِ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ ؕ قَالَ سُبۡحٰنَکَ مَا یَکُوۡنُ لِیۡۤ اَنۡ اَقُوۡلَ مَا لَیۡسَ لِیۡ بِحَقٍّ اِنۡ کُنۡتُ قُلۡتُہٗ فَقَدۡ عَلِمۡتَہٗ ؕ تَعۡلَمُ مَا فِیۡ نَفۡسِیۡ وَ لَاۤ اَعۡلَمُ مَا فِیۡ نَفۡسِکَ ؕ اِنَّکَ اَنۡتَ عَلَّامُ الۡغُیُوۡبِ]
اور اس وقت کو بھی یاد رکھو! جب اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اے عیسی ابن مریم ! کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ اللہ کے سوا مجھے اور میری والدہ کو معبود مقرر کرو؟ وہ کہیں گے کہ تو پاک ہے، مجھے کب شایاں تھا کہ میں ایسی بات کہتا جس کا مجھے کوئی حق نہیں۔ اگر میں نے ایسا کہا ہو گا تو تجھ کو معلوم ہوگا (کیونکہ) جو بات میرے دل میں ہے تو اسے جانتا ہے اور جو تیرے دل میں ہے اسے میں نہیں جانتا، بے شک تو علام الغیوب ہے۔ [المائدة :116]
اب اس سے پوچھو کہ بات سمجھ میں آئی کہ اللہ تعالیٰ نے جیسے بتوں کا قصد کرنے والوں کو کافر کہا ہے ویسے ہی نیک اور صالح لوگوں کا قصد کرنے والوں کو بھی کافر قرار دیا ہے اور ان سے رسول اللہﷺنے جنگ کی تھی۔
اعتراض:
اگر وہ یہ کہے کہ کفار و مشرکین تو ان اولیاء سے مانگتے تھے اور میں شہادت دیتا ہوں کہ اللہ تعالی ہی نفع دینے والا اور وہی نقصان پہنچانے والا ہے وہی کائنات کا انتظام کرنے والا ہے، میں تو صرف اللہ ہی سے مانگتا ہوں اور صالحین کے اختیار میں کوئی چیز نہیں ہے، لیکن میں ان کا قصد اس لیے کرتا ہوں کہ میں اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کی سفارش کی امید رکھتا ہوں؟
جواب:
اس کا جواب یہ ہے کہ تمھارا اور کفار کا قول ایک ہی جیسا ہے اور اس کو یہ آیت کریمہ پڑھ کر سناؤ:
[وَ الَّذِیۡنَ اتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِہٖۤ اَوۡلِیَآءَ مَا نَعۡبُدُہُمۡ اِلَّا لِیُقَرِّبُوۡنَاۤ اِلَی اللّٰہِ زُلۡفٰی]
اور جن لوگوں نے اس کے سوا اور دوست بنائے ہیں ( وہ کہتے ہیں کہ ) ہم ان کو اس لیے ے پوجتے ہیں کہ ہم کو اللہ کا مقرب بنا دیں۔ [الزمر:3]
یہ آیت بھی سناؤ: [وَیَقُوۡلُوۡنَ ہٰۤؤُلَآءِ شُفَعَآؤُنَا عِنۡدَ اللّٰہِ] اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے پاس ہماری سفارش کرنے والے ہیں۔ [یونس:18]
آپ کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ مشرکین کے یہی تین شبہات سب سے بڑے ہیں۔ جب آپ کو یہ معلوم ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی کتاب کریم میں خوب وضاحت سے بیان کیا ہے اور آپ نے ان کو اچھی طرح سمجھ لیا ہے تو باقی شبہات کے جوابات بہت آسان ہیں۔
اعتراض:
اگر وہ کہے کہ میں تو صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہوں اور ان کی طرف جھکاؤ اور ان کو پکارنا ان کی عبادت نہیں ہے؟
جواب:
تو اس سے کہو کیا تم اقرار کرتے ہو کہ اخلاص عبادت تم پر فرض ہے؟ اگر وہ کہے کہ ہاں! تو اسے کہو کہ وہ اخلاص عبادت جو تم پر فرض ہے اسے ذرا بیان تو کرو؟ اگر وہ عبادت اوراس کی اقسام کو نہ جانتا ہو تو اس کو بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: [وَ قَالَ رَبُّکُمُ ادۡعُوۡنِیۡۤ اَسۡتَجِبۡ لَکُمۡ ؕ اِنَّ الَّذِیۡنَ یَسۡتَکۡبِرُوۡنَ عَنۡ عِبَادَتِیۡ سَیَدۡخُلُوۡنَ جَہَنَّمَ دٰخِرِیۡنَ]
اور تمھارے رب نے فرمایا مجھ سے دعا کرو میں قبول کروں گا۔ (ف 127) بے شک وہ جو میری عبادت سے اونچے کھینچتے ہیں عنقریب جہنم میں جائیں گے ذلیل ہو کر۔ [المؤمن :60]
فائدہ 127: آیت کی تفسیر میں ایک قول یہ بھی ہے کہ دعا سے مراد عبادت ہے اور قرآن کریم میں دعا (بمعنی) عبادت بہت جگہ وارد ہے۔ حدیث شریف میں ہے: [الدعاء هو العبادة] [ابو داؤد:1479]،[ترمذی:3372]
ترجمه احمد رضا خان و تفسیر مراد آبادی۔
جب آپ اس کو یہ سمجھا دیں تو اس سے پوچھیں کہ کیا آپ کو معلوم ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی عبادت ہے؟ تو وہ لازما کہے گا کہ ہاں ! کیونکہ دعا اور پکارنا تمام عبادات کا مغز ہے۔
اب اسے کہیے کہ جب آپ نے اقرار کر لیا کہ یہ عبادت ہے اور آپ دن رات اللہ تعالٰی کو خوف اور امید سے پکارتے ہیں۔ اور جب آپ نے اپنی کسی حاجت میں کسی نبی یا کسی بزرگ کو پکارا تو کیا تم نے اللہ کی عبادت میں کسی غیر اللہ کو شریک کیا یا نہیں ؟ تو وہ لازما کہے گا کہ ہاں!
اب آپ اس سے کہیں کہ جب آپ اللہ تعالی کے مندرجہ ذیل ارشاد پر عمل کریں گے: [فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَ انۡحَرۡ] اپنے پروردگار کے لیے نماز پڑھا کرو اور قربانی کیا کرو۔ [الكوثر:2]
تو آپ نے اللہ کے لیے قربانی کی اور اس کی عبادت کی تو بتائیے کہ کیا یہ عبادت ہے؟ وہ لازما کہے گا کہ ہاں! اب اسے کہو کہ اگر تم نے کسی مخلوق مثلا نبی یا جن وغیرہ کے لیے جانور ذبح کیا تو کیا تم نے اس عبادت میں غیر اللہ کو شریک نہیں کیا ؟ تو وہ لازماً اقرار کرے گا اور کہے گا کہ ہاں!
نیز اس کو یہ بھی کہیں کہ وہ مشرکین جن کے متعلق قرآن کریم نازل ہوا کیا وہ ملائکہ صالحین ،اور لات، وغیرہ کی پوجا نہیں کرتے تھے؟ تو وہ لازما کہے گا کہ ہاں! تو اس سے پوچھو کہ کیا ان کی عبادت یہ نہ تھی کہ وہ ان کو پکارتے ، ان کے نام پر جانور ذبح کرتے اور ان سے پناہ وغیرہ لیتے تھے؟ حالانکہ وہ اس بات کا اقرار کرتے تھے کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے غلبہ کے تحت ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ ہی تمام امور کا انتظام کرتا ہے،لیکن انھوں نے ان کو پکارا اور ان کے مرتبہ اور سفارش کا سہارا لیا جو بالکل واضح بات ہے۔
اعتراض:
اگر وہ کہے کہ کیا تم رسول اللہ ﷺ کی سفارش کا انکار اور اس سے بیزاری کا اظہار کرتے ہو؟
جواب:
تو اس کو کہو کہ ہم سفارش کے منکر نہیں اور نہ اس سے بیزاری کا اظہار کرتے ہیں۔ بلکہ ہمارا ایمان ہے کہ رسول اللہ ﷺ شافع اور مشفع ہیں۔ اور ہم ان کی سفارش کی امید رکھتے ہیں۔ لیکن سفارش کی اجازت اللہ کے اختیار میں ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: [قُلۡ لِّلّٰہِ الشَّفَاعَۃُ جَمِیۡعًا] کہہ دو کہ سفارش تو سب اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔[الزمر:44]
اور یہ سفارش اللہ کی اجازت کے بعد ہی ہوگی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
[مَنۡ ذَا الَّذِیۡ یَشۡفَعُ عِنۡدَہٗۤ اِلَّا بِاِذۡنِہٖ] کون ہے کہ اس کی اجازت کے بغیر اس سے (کسی کی ) سفارش کر سکے۔ [البقرة:255]
اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر رسول اللہﷺ بھی کسی کی سفارش نہیں کریں گے جیسا کہ ارشاد باری ہے:
[وَلَا یَشۡفَعُوۡنَ ۙ اِلَّا لِمَنِ ارۡتَضٰی] اور وہ (اس کے پاس کسی کی) سفارش نہیں کر سکتے مگر اس شخص کی جس سے اللہ خوش ہو۔ [الأنبياء:28]
یہ بھی یاد رکھیے کہ اللہ تعالی صرف توحید کو پسند کرتا ہے، جیسا کہ ارشاد ربانی ہے:
[وَ مَنۡ یَّبۡتَغِ غَیۡرَ الۡاِسۡلَامِ دِیۡنًا فَلَنۡ یُّقۡبَلَ مِنۡہُ] اور جو شخص اسلام کے سوا کسی اور دین کا طالب ہو گا وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیاجائے گا۔ [آل عمران:85]
جب سفارش اللہ کے اختیار میں ہے۔ اور اللہ ہی کی اجازت کے بعد ہو گی اور رسول مکرم ﷺ اور آپ کے علاوہ کوئی شخص بھی اجازت کے بغیر سفارش نہیں کر سکتا۔ اور یہ بھی یاد رکھیے کہ اللہ تعالیٰ صرف اہل توحید کے لیے اجازت دے گا۔ تو اب آپ کو معلوم ہو گیا کہ سفارش سب کی سب اللہ کے اختیار میں ہے ۔اور میں اللہ تعالٰی سے یوں سوال کرتا اور کہتا ہوں کہ اے اللہ! مجھے پیارے رسولﷺ کی سفارش سے محروم نہ کرنا۔ اے اللہ! رسول مکرمﷺ کو میرے متعلق سفارش کی اجازت فرمانا۔
اعتراض:
اگر وہ کہے کہ رسول ﷺ کو سفارش دے دی گئی ہے اور میں آپ ﷺ سے اللہ کے دیے ہوئے میں سے مانگتا ہوں۔
جواب:
تو اس کا جواب یہ ہے کہ بے شک اللہ تعالیٰ نے رسول مکرم ﷺ کو سفارش عطا فرمادی ہے، لیکن تم کو براہ راست آپﷺ سے طلب کرنے سے منع فرمایا ہے۔ جیسے اللہ تعالی فرماتا ہے: [فَلَا تَدۡعُوۡا مَعَ اللّٰہِ اَحَدًا]اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو نہ پکارو۔ [الجن:18]
اور پھر جب تم اللہ کو پکارتے ہوئے کہتے ہو کہ اے اللہ ! میرے بارے میں رسول اللہﷺ کو سفارش کی اجازت دے۔ تو پھر اللہ کے ساتھ کسی کو نہ پکارنے میں اس کی اطاعت بھی کر اور اسے یہ بھی سنائیں: [قُلۡ اِنَّمَاۤ اَدۡعُوۡا رَبِّیۡ وَ لَاۤ اُشۡرِکُ بِہٖۤ اَحَدًا] کہہ دو کہ میں تو اپنے رب ہی کو پکارتا ہوں اور اس کے ساتھ کسی کو بھی شریک نہیں کرتا۔ [الجن:20]
اس سے یہ سوال بھی کریں کہ رسول اللہﷺ کے علاوہ دوسروں کو بھی سفارش دی گئی ہے، جیسا کہ صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ فرشتے، حافظ قرآن، چھوٹے بچے اور اولیائے کرام بھی سفارش کریں گے، تو کیا ان کے متعلق بھی کہو گے کہ اللہ تعالی نے ان کو سفارش دے دی ہے اور میں ان سے بھی مانگوں گا؟
اگر تم ایسا کہتے ہو تو یہی صالحین کی عبادت ہے جس کا اللہ نے اپنی کتاب میں میں ذکر فرمایاہے: اور اگر تم اس کا انکار کرو تو تمھاری بات خود بخود باطل ہو گئی کہ اللہ تعالی نے ان کو سفارش دی ہے اور میں ان سے اللہ کے دیے ہوئے سے مانگتا ہوں۔
اعتراض:
اگر وہ کہے کہ میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا، اس سے اللہ کی پناہ لیکن نیک لوگوں سے التجا و فریاد کرنا شرک نہیں ہے۔
جواب:
تو آپ اس سے کہیں کہ جب تم اقرار کرتے ہو کہ اللہ تعالی نے شرک کو زنا سے بھی زیادہ حرام قرار دیا ہے۔ اور یہ بھی مانتے ہو کہ اللہ تعالیٰ شرک کو معاف نہیں کرے گا۔ تو پھر وہ کون سا شرک ہے جسے اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے اور جسے نہیں بخشے گا؟
اگر وہ نہیں جانتا تو اس سے کہیں کہ اگر تم شرک کو نہیں جانتے تو پھر تم اس سے کیسے بچ سکو گے؟ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالی تم پر کوئی چیز حرام کرے اور کہے کہ میں یہ نہیں بخشوں گا، اور تم اس کے متعلق جانتے ہو، نہ پوچھتے ہو۔ کیا تمھارا یہ خیال ہے کہ اللہ نے اسے حرام تو کر دیا ہے لیکن اسے بیان نہیں فرمایا؟
اعتراض:
اگر وہ کہے کہ شرک تو بتوں کو پوجنا ہے اور ہم بتوں کی پوجا نہیں کرتے؟
جواب:
تو آپ اس سے پوچھیں کہ بتوں کی پوجا کا مطلب کیا ہے ؟ کیا تم خیال کرتے ہو کہ مشرکین عرب کا یہ عقیدہ تھا کہ یہ لکڑیاں، یہ پتھر کچھ پیدا کرتے، روزی دیتے یا اپنے پکارنے والوں کے امور کا انتظام کرتے ہیں؟ ہر گز نہیں، قرآن کریم اس کی تردید کرتا ہے۔
اعتراض:
اگر وہ کہے کہ پوجا یہ ہے کہ کوئی آدمی لکڑی یا پتھر یا کسی قبر پر بنی ہوئی عمارت وغیرہ کا قصد کرے، ان کو پکارے اور ان کے نام پر جانور ذبح کرے اور کہے کہ یہ مجھے اللہ تعالیٰ کے قریب کر دیتے ہیں یا ان کی برکت سے اللہ تکلیف دور کر دیتا ہے۔ یا ان کی برکت سے ہمیں دیتا ہے؟
جواب:
تو کہو ہاں! تم نے صحیح کہا اور تم یہی کچھ ان پتھروں اور عمارتوں پر جا کر کرتے ہو جو قبروں پر بنی ہوئی ہیں تو اس نے اقرار کر لیا کہ ان کا یہ فعل ہی بتوں کی عبادت ہے اور یہی مطلوب ہے۔
اس کو یہ بھی کہا جائے کہ تمھارا یہ کہنا کہ شرک بتوں کی پوجا کا نام ہے، کیا اس سے آپ کا مطلب یہ ہے کہ شرک اسی سے مخصوص ہے اور نیک لوگوں پر بھروسا کرنا اور ان کو پکارنا شرک نہیں ہے؟ تو اس بات کی تائید اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں فرمادی ہے اور ہر اس شخص کو کافر قرار دیا ہے جس نے ملائکہ، عیسی علیہ السلام یا صالحین میں سے کسی سے ایسا تعلق رکھا۔
یہ شخص لازما اقرار کرے گا کہ جو شخص اللہ تعالٰی کی عبادت میں کسی بھی نیک شخص کو شریک کرے تو یہی وہ شرک ہے جس کا قرآن کریم میں ذکر ہے اور یہی مقصود ہے۔
اس مسئلہ کا راز یہ ہے کہ اگر وہ کہے کہ میں اللہ تعالی کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا تو اس سے کہیے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا کیا ہے، اس کی وضاحت کیجیے؟
اگر وہ کہے کہ بتوں کی پوجا کا نام شرک ہے تو اس سے پوچھیے کہ بتوں کی عبادت کا کیا مطلب ہے، اس کی وضاحت کیجیے؟
اگر وہ کہے کہ میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت نہیں کرتا تو اس سے کہیے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کا کیا مطلب ہے۔ اس کی وضاحت کریں؟
اگر وہ وہی کچھ بتائے جو قرآن کریم نے بیان فرمایا ہے تو ٹھیک وگر نہ اسے معلوم نہیں، تو ایسی چیز کا دعوی کیسے کر سکتا ہے جس کو وہ نہیں جانتا۔
اور اگر ایسا مفہوم بیان کرے جو قرآنی آیات کے مفہوم کے خلاف ہو تو اس کے سامنے آپ شرک اور بتوں کی پوجا کے بیان سے متعلق واضح آیتوں کو پیش کر کے بتائیں کہ یہی سب کچھ تو آج کل کے افراد امت بھی کرتے ہیں اور صرف اللہ تعالیٰ وحدہ لاشریک لہ کی عبادت پر ہمیں کوسا جاتا ہے۔ اور ہمارے خلاف ایسی ہرزہ سرائی کرتے ہیں جس طرح ان کے سابقہ بھائی کرتے چلے آئے ہیں: [اَجَعَلَ الۡاٰلِہَۃَ اِلٰـہًا وَّاحِدًا ۚۖ اِنَّ ہٰذَا لَشَیۡءٌ عُجَابٌ] کیا اس نے اتنے معبودوں کی جگہ ایک ہی معبود بنا دیا؟ یہ تو بڑی عجیب بات ہے۔ [ص:5]
اعتراض:
اگر وہ کہے کہ فرشتوں اور نبیوں کو پکارنے کی وجہ سے ان کو کافر قرار نہیں دیا گیا بلکہ ان کو اس وجہ سے کافر قرار دیا گیا ہے کہ وہ کہتے تھے کہ فرشتے اللہ تعالی کی بیٹیاں ہیں، لیکن ہم شیخ عبد القادر وغیرہ کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا قرار نہیں دیتے؟
جواب:
تو کہو کہ اللہ تعالی کی طرف اولاد کی نسبت کرنا ایک مستقل کفر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
[قُلۡ ہُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ]،[ اَللّٰہُ الصَّمَدُ][کہو کہ وہ (ذات پاک جس کا نام) اللہ ہے، ایک ہے]،[ (وہ) معبود برحق بے نیازہے]۔ [الإخلاص:2،1]
احد: وہ ذات ہے جس کی کوئی مثل اور نظیر نہ ہو۔
صمد: وہ ہے جس کی طرف ضروریات اور حاجات میں رجوع کیا جائے، لہذا جس شخص نے اللہ کے صمد ہونے کا انکار کیا اس نے کفر کیا۔ اگر چہ وہ پوری سورت کا انکار نہ کرے۔ ارشاد الہی ہے: [مَا اتَّخَذَ اللّٰہُ مِنۡ وَّلَدٍ وَّ مَا کَانَ مَعَہٗ مِنۡ اِلٰہٍ] اللہ تعالی نے نہ تو کسی کو (اپنا) بیٹا بنایا ہے اور نہ اس کے ساتھ کوئی اور معبود ہے۔ [المؤمنون:91]
اللہ تعالیٰ نے ان دونوں قسموں کو الگ الگ بیان فرمایا ہے اور ہر ایک کو ایک مستقل کفر قرار دیا ہے۔ ارشاد الہی ہے:
[وَ جَعَلُوۡا لِلّٰہِ شُرَکَآءَ الۡجِنَّ وَ خَلَقَہُمۡ وَ خَرَقُوۡا لَہٗ بَنِیۡنَ وَ بَنٰتٍۭ بِغَیۡرِ عِلۡمٍ] اور ان لوگوں نے جنوں کو اللہ کا شریک ٹھہرایا حالانکہ ان کو اسی نے پیدا کیا اور بے سمجھے (جھوٹ بہتان) اس کے لیے بیٹے اور بیٹیاں بنا کھڑی کیں۔ [الأنعام:100]
اس آیت میں اللہ تعالی نے کفر کی ان دونوں قسموں میں فرق کیا ہے۔ اس کی دوسری دلیل یہ بھی ہے کہ جو لوگ رات کی عبادت کر کے کافر ہوئے انھوں نے لات کو اللہ کا بیٹا نہیں کہا تھا۔ وہ تو ایک صالح شخص تھا اور جو لوگ جنوں کی عبادت کر کے کافر ہوئے وہ بھی جنوں کو اللہ کی اولاد نہیں سمجھتے تھے۔ اسی طرح چاروں مذاہب کے علمائے کرام مرتد کے حکم میں بیان کرتے ہیں:
جب کوئی مسلمان یہ عقیدہ رکھے کہ اللہ کی اولاد ہے تو وہ مرتد ہو جاتا ہے۔
ائمہ اربعہ کے علماء کفر کی دونوں قسموں میں فرق کرتے ہیں، یہ بات بالکل واضح ہے۔
اعتراض:
اگر وہ شخص یہ آیت پیش کرے: [اَلَاۤ اِنَّ اَوۡلِیَآءَ اللّٰہِ لَا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ] سن رکھو کہ جو اللہ کے دوست ہیں ان کو نہ کچھ خوف ہو گا اور نہ وہ غمناک ہوں گے۔ [یونس:62]
جواب:
تو آپ اس سے کہیں کہ یہ آیت کریمہ اور اس کا مضمون بالکل درست اور صحیح ہے لیکن اولیاء کی عبادت نہیں ہونی چاہیے۔ ہم صرف یہ کہہ رہے ہیں کہ اللہ تعالی کے ساتھ ان کی عبادت کرنا اور ان کو اللہ کا شریک بنانا درست نہیں ہے۔ ہاں! آپ پر لازم ہے کہ ان سے محبت رکھو، ان کی پیروی کرو، ان کی کرامات کا اقرار کرو۔ یہ بھی یاد رکھیے کہ اولیاء کی کرامات کے منکر صرف بدعتی اور گمراہ لوگ ہی ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا دین دونوں اطراف کا درمیانی راستہ اور دونوں گمراہیوں کے درمیان ہدایت اور دونوں باطلوں کے درمیان حق کا راستہ ہے۔
جب آپ کو معلوم ہو گیا کہ یہی وہ چیز ہے جس کو ہمارے دور کے مشرک اعتقاد کہتے ہیں۔ یہی وہ شرک ہے جس کے متعلق قرآن کریم نازل ہوا۔ اس پر رسول مکرم ﷺ نے لوگوں سے جہاد کیا، اب آپ کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ پہلے دور کے لوگوں کا شرک ہمارے دور کے لوگوں کے شرک سے دو وجوہ میں ہلکا تھا:
[1] پہلے لوگ ملائکہ، اولیاء اور بتوں کو صرف عیش و آرام کی حالت میں پکارتے اور اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہراتے تھے لیکن سختی کے وقت وہ صرف اللہ تعالیٰ کو پکارتے تھے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
[وَ اِذَا مَسَّکُمُ الضُّرُّ فِی الۡبَحۡرِ ضَلَّ مَنۡ تَدۡعُوۡنَ اِلَّاۤ اِیَّاہُ ۚ فَلَمَّا نَجّٰىکُمۡ اِلَی الۡبَرِّ اَعۡرَضۡتُمۡ ؕ وَ کَانَ الۡاِنۡسَانُ کَفُوۡرًا] اور جب تم کو دریا میں تکلیف پہنچتی ہے (یعنی ڈوبنے کا خوف ہوتا ہے) تو جن کو تم پکارا کرتے ہو سب اس ( ایک پروردگار ) کے سوا گم ہو جاتے ہیں، پھر جب تم کو ( ڈوبنے سے)بچا کر خشکی کی طرف لے جاتا ہے تو تم منہ پھیر لیتے ہو اور انسان ہے ہی ناشکرا۔ [بني إسرائيل :67]
[قُلۡ اَرَءَیۡتَکُمۡ اِنۡ اَتٰىکُمۡ عَذَابُ اللّٰہِ اَوۡ اَتَتۡکُمُ السَّاعَۃُ اَغَیۡرَ اللّٰہِ تَدۡعُوۡنَ ۚ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ]،[بَلۡ اِیَّاہُ تَدۡعُوۡنَ فَیَکۡشِفُ مَا تَدۡعُوۡنَ اِلَیۡہِ اِنۡ شَآءَ وَ تَنۡسَوۡنَ مَا تُشۡرِکُوۡنَ]
[کہو ( کافرو!) بھلا دیکھو کہ اگر تم پر اللہ کا عذاب آ جائے یا قیامت آ موجود ہو تو کیا تم (ایسی حالت میں) اللہ کے سوا کسی اور کو پکارو گے ؟ اگر سچے ہو تو بتاؤ]،[(نہیں) بلکہ مصیبت کے وقت، تم اس کو پکارتے ہو تو جس دکھ کے لیے اسے پکارتے ہو وہ اگر چاہتا ہے تو اس کو دور کر دیتا ہے اور جن کو تم شریک بناتے ہو ( اس وقت ) انھیں بھول جاتے ہو]۔ [الأنعام:41،40]
نیز فرمایا :
[وَ اِذَا مَسَّ الۡاِنۡسَانَ ضُرٌّ دَعَا رَبَّہٗ مُنِیۡبًا اِلَیۡہِ ثُمَّ اِذَا خَوَّلَہٗ نِعۡمَۃً مِّنۡہُ نَسِیَ مَا کَانَ یَدۡعُوۡۤا اِلَیۡہِ مِنۡ قَبۡلُ وَ جَعَلَ لِلّٰہِ اَنۡدَادًا لِّیُضِلَّ عَنۡ سَبِیۡلِہٖ ؕ قُلۡ تَمَتَّعۡ بِکُفۡرِکَ قَلِیۡلًا ٭ۖ اِنَّکَ مِنۡ اَصۡحٰبِ النَّارِ]
اور جب انسان کو تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے پروردگار کو پکارتا (اور ) اس کی طرف دل سے رجوع کرتا ہے۔ پھر جب وہ اس کو اپنی طرف سے کوئی نعمت دیتا ہے تو جس کام کے لیے پہلے اس کو پکارتا ہے اسے بھول جاتا ہے اور اللہ کا شریک بنانے لگتا ہے تا کہ لوگوں کو اس کے رستے سے گمراہ کرے، کہہ دو کہ (اے کا فر نعمت!) اپنی ناشکری سے تھوڑا سا فائدہ اٹھائے پھر تو تو دوزخیوں میں ہو گا۔ [الزمر:8]
ایک اور جگہ ارشاد الہی ہے: [وَ اِذَا غَشِیَہُمۡ مَّوۡجٌ کَالظُّلَلِ دَعَوُا اللّٰہَ مُخۡلِصِیۡنَ لَہُ الدِّیۡنَ]
اور جب ان پر (دریا کی ) لہریں سائبانوں کی طرح چھا جاتی ہیں تو اللہ کو پکار نے (اور) خالص اس کی عبادت کرنے لگتے ہیں۔ [لقمان:32]
جس شخص نے یہ مسئلہ سمجھ لیا جس کی اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں وضاحت فرمائی ہے اور وہ یہ ہے کہ وہ مشرکین جن سے رسول اللہﷺ نے جہاد کیا وہ آرام وسکون کی حالت میں اللہ تعالی کے ساتھ غیراللہ کو بھی پکارتے تھے لیکن تکلیف کے وقت صرف ایک اللہ کو پکارتے تھے۔
اور اپنے سادات کو بھول جاتے تھے تو ایسے شخص کو سابقہ اور موجودہ دور کے مشرکین میں فرق کا پتا چل جائے گا، لیکن ایسے آدمی کہاں ہیں جن کے دل اس مسئلہ کو صحیح طور پر سمجھ سکیں؟ فاللہ المستعان
[2] پہلے لوگ اللہ کے ساتھ ان لوگوں کو پکارتے تھے جو اللہ کے مقرب ہوتے جیسے انبیاء و اولیاء اور ملائکہ وغیرہ یا ایسے پتھروں اور درختوں کو پکارتے جو اللہ کے مطیع ہیں نافرمان نہیں۔ اور ہمارے دور کے لوگ اللہ کے ساتھ ایسے لوگوں کو پکارتے ہیں جو سب سے زیادہ فاسق و فاجر ہیں۔ اور طرفہ یہ کہ خود ہی ان کا فسق و فجور، چوری، زنا اور ترک صلوۃ وغیرہ لوگوں سے بیان کرتے ہیں۔
جب یہ بات اچھی طرح ثابت ہو گئی کہ جن لوگوں سے رسول اللہﷺ نے جنگ کی تھی وہ آج کل کے مشرکوں سے شرک میں کم اور ان سے زیادہ عقلمند تھے۔ تو اب آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کا ایک شبہ اور بھی ہے جو وہ ہمارے بیان کردہ دلائل پر وارد کرتے ہیں اور ان کا یہ سب سے بڑا شبہ ہے، اس کا جواب بڑے غور سے سنو۔
اعتراض:
وہ کہتے ہیں کہ جن کے متعلق قرآن کریم نازل ہوا وہ ،،لا الہ الا اللہ،، کا اقرار نہیں کرتے تھے۔ رسول اللہﷺ کو جھٹلاتے، قیامت کا انکار کرتے، قرآن کریم کی تکذیب کرتے اور اسے جادو کہتے تھے۔ لیکن ہم ایک اللہ کی عبادت کرتے ہیں، ایک اللہ کے قائل ہیں اور محمدﷺ کو اللہ کا رسول سمجھتے ہیں۔ قرآن کریم کی تصدیق کرتے، قیامت کو مانتے اور نماز روزے کی پابندی کرتے ہیں تو تم ہمیں ان جیسا کیسے قرار دیتے ہو؟
جواب:
عرض ہے کہ علماء کا اس میں اختلاف نہیں ہے کہ جب کوئی شخص رسول اللہﷺ کے کسی ایک حکم کی تکذیب اور دوسرے حکم کی تصدیق کرے تو وہ کافر ہے اور وہ اسلام میں داخل ہی نہیں ہوا۔
اسی طرح اگر قرآن کریم کے کچھ حصے پر ایمان لائے اور اس کے کچھ حصے کا انکار کرے، جیسے کوئی شخص توحید کا اقرار تو کرے، لیکن نماز کی فرضیت کا انکار کرے، یا توحید اور نماز کا اقرار کرے، لیکن زکوٰۃ کے وجوب کا انکار کرے، یا ان تمام احکام کو تسلیم کرے، لیکن روزے کا انکار کرے، یا ان سب امور کو مانے لیکن حج کا انکار کرے، یا ان سب باتوں کو مانے لیکن قیامت کا انکار کرے، تو ایسا شخص بالا جماع کافر ہے، اس کا خون بہانا اور مال لوٹنا حلال ہے۔
جیسا کہ فرمان الہی ہے:
[اِنَّ الَّذِیۡنَ یَکۡفُرُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ رُسُلِہٖ وَ یُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ یُّفَرِّقُوۡا بَیۡنَ اللّٰہِ وَ رُسُلِہٖ وَ یَقُوۡلُوۡنَ نُؤۡمِنُ بِبَعۡضٍ وَّ نَکۡفُرُ بِبَعۡضٍ ۙ وَّ یُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ یَّتَّخِذُوۡا بَیۡنَ ذٰلِکَ سَبِیۡلًا]،[ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡکٰفِرُوۡنَ حَقًّا]
[جو لوگ اللہ اور اس کے پیغمبروں سے کفر کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے پیغمبروں میں فرق کرنا چاہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم بعض کو مانتے ہیں اور بعض کو نہیں مانتے اور ایمان اور کفر کے بیچ میں ایک راہ نکالنا چاہتے ہیں]، [وہ بلا شبہ کافر ہیں]۔ [النساء:151،150]
دیکھیے: جب رسول اللہﷺ کے دور مسعود میں کچھ لوگ حج کے لیے فورا تیار نہ ہوئے تو اللہ تعالٰی نے ان کے بارے میں یہ آیت کریمہ نازل فرمائی:
[وَ لِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الۡبَیۡتِ مَنِ اسۡتَطَاعَ اِلَیۡہِ سَبِیۡلًا ؕ وَ مَنۡ کَفَرَ فَاِنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ عَنِ الۡعٰلَمِیۡنَ]
اور لوگوں پر اللہ کا حق (یعنی فرض) ہے کہ جو اس گھر تک جانے کی طاقت رکھے وہ اس کا حج کرے اور جو اس حکم کی تعمیل نہ کرے گا تو اللہ بھی اہل عالم سے بے نیاز ہے۔[آل عمران:97]
جب اللہ تعالی نے اپنی کتاب مبین میں اس بات کی تصریح کر دی کہ جو شخص کچھ حصے پر ایمان لائے اور کچھ حصے کا انکار کرے تو وہ پکا کافر ہے۔ جیسے مرزائی،
تو یہ شبہ بھی زائل ہو گیا۔ اور یہی وہ شبہ تھا جو بعض ،،اہل احساء،، نے اپنے مکتوب میں لکھ کر ہمیں ارسال کیا تھا۔
یہ جواب بھی دیا جا سکتا ہے کہ جب تم اقرار کرتے ہو کہ جو شخص تمام امور میں رسول اللہﷺ کی تصدیق کرے لیکن صرف نماز کا انکار کر دے تو وہ کافر ہے، اس کا خون بہانا اورمال کو عظیمت بنانا بالا جماع حلال ہے، اسی طرح اگر ہر چیز کا اقرار کرے اور قیامت کو نہ مانے یا رمضان کے روزوں کے وجوب کا انکار کرے اور باقی تمام احکام کی تصدیق کرے تو ایسے شخص کے کافر ہونے میں نہ کسی کو انکار ہے اور نہ اختلاف۔ قرآن کریم نے بھی یہی کہا ہے جیسا کہ پہلے بیان کر چکے ہیں۔
یہ تو واضح بات ہے ہی کہ رسول اللہﷺ جس قدر احکام لے کر تشریف لائے ان میں سب سے بڑا فریضہ توحید ہے، جو نماز، زکوۃ، روزہ اور حج سب سے اہم اور بڑا فریضہ ہے تو جو شخص ان احکام میں سے کسی ایک کا انکار کرے تو کافر قرار پائے گا۔ اگر چہ وہ رسول اللہﷺ کی دیگر تعلیمات پر عمل پیرا بھی ہو اور اگر وہ توحید کا انکار کرے جو تمام رسولوں کا دین ہے تو وہ کیسے کافر نہ ہوگا؟ سبحان اللہ! یہ عجیب طرح کی جہالت ہے۔
یہ جواب بھی دیا جا سکتا ہے کہ رسول اللہﷺ کے ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کو دیکھو جنھوں نے قبیلہ بنو حنیفہ سے جنگ کی، حالانکہ بنو حنیفہ رسول اللہﷺ کے ہاتھ پر مسلمان ہوئے اور شہادت دیتے تھے۔ کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ وہ لوگ اذانیں دیتے اور نماز پڑھتے تھے ۔ ان کے بارے میں اگر کوئی شخص یہ کہے کہ یہ لوگ مسیلمہ کی نبوت کے قائل ہو گئے تھے، اس لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ان سے جنگ کی، تو ہم کہیں گے کہ یہی تو ہمارا مقصد ہے کہ جب کوئی شخص کسی کو رسول اللہ ﷺ کے مرتبہ تک بلند کر دے تو وہ کافر قرار پائے گا۔ اس کا خون بہانا اور مال چھیننا حلال ہو جائے گا اور اس کو کلمہ شہادت اور نماز روزہ فائدہ نہ دیں گے، تو اس شخص کا کیا حال ہو گا جو شمسان، ، یوسف یا یا کسی صحابی یا نبی کو خالق کا ئنات کے مرتبہ تک پہنچا دے؟ سبحان اللہ ما اعظم شانہ!
[کَذٰلِکَ یَطۡبَعُ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوۡبِ الَّذِیۡنَ لَا یَعۡلَمُوۡنَ] [الروم:59]
یہ جواب بھی دیا جا سکتا ہے کہ جن لوگوں کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے آگ سے جلا دیا تھا، وہ تو آپ کے ساتھی اور اسلام کے دعویدار تھے۔ انھوں نے صحابہ کرام رضي اللہ عنہم سے علم سیکھا تھا۔ لیکن سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں ان کا وہی اعتقاد تھا جو آج کل لوگ یوسف اور شمسان وغیرہ کے بارے میں رکھتے ہیں۔ تو دیکھو کس طرح صحابہ نے ان کے قتل اور ان کے کفر پر اتفاق کیا ؟ کیا تم یہ سمجھتے ہو که صحابه کرام رضی اللہ عنہم مسلمانوں کو کافر کہتے تھے؟ اور کیا تمھارا یہ خیال ہے کہ تاج وغیرہ کے بارے میں اس قسم کا اعتقاد نقصان دہ نہیں۔ لیکن سیدنا علی رضي اللہ عنہ کے بارے میں یہی اعتقاد رکھنے سے آدمی کافر ہو جاتا ہے۔ یہ جواب بھی دیا جائے گا کہ بنو عبید القداح جو عباسیوں کے دور حکومت میں مصر اور مغرب پر قابض ہو گئے تھے، وہ سب کے سب کلمہ شہادت ،،لا الہ الا اللہ،، کا اقرار کرتے تھے، اسلام کے دعویدار تھے، نماز جمعہ اور باجماعت نمازیں پڑھتے تھے۔ لیکن جب انھوں نے بعض امور میں شریعت کی مخالفت کی جو زیربحث مسئلہ کی نسبت بہت ہی کم اہمیت رکھتے تھے، پھر بھی علماء نے ان کے کفر اور ان سے جنگ کرنے پر اتفاق کیا اور ان کے شہروں کو دارالحرب قرار دیا۔ چنانچہ مسلمانوں نے ان سے جنگ کی یہاں تک کہ وہ تمام شہر آزاد کرا لیے جو ان کے زیر تصرف تھے۔ یہ جواب بھی دیا جا سکتا ہے کہ پہلے لوگوں کو صرف اس لیے کافر قرار دیا گیا تھا کہ انھوں نے شرک اور تکذیب رسول وقرآن کریم اور انکار قیامت کو اکٹھا کر لیا تھا، نیز ان ابواب کا کیا مطلب ہوگا جو مذاہب اربعہ کے علمائے کرام نے اپنی اپنی کتابوں میں باندھے ہیں کہ [باب حکم المرتد] مرتد وہ شخص ہے جو اسلام لانے کے بعد کفر اختیار کرلے۔ پھر مرتد کی بہت سی قسمیں لکھی ہیں اور ہر قسم سے انسان مرتد ہو جاتا ہے۔ اس کا خون بہانا اور مال لینا حلال ہو جاتا ہے۔ حتیٰ کہ علماء نے چھوٹے چھوٹے امور بتائے ہیں جن؟ سے آدمی مرتد ہو جاتا ہے۔ جیسے کوئی شخص صرف اپنی زبان سے کوئی کلمہ کہے اگر چہ دل سے اس کا عقیدہ نہ ہو یا کوئی کلمہ بھی اور مذاق سے کہہ دے۔ یہ جواب بھی دیا جا سکتا ہے کہ جن لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا:
[یَحۡلِفُوۡنَ بِاللّٰہِ مَا قَالُوۡا ؕ وَ لَقَدۡ قَالُوۡا کَلِمَۃَ الۡکُفۡرِ وَ کَفَرُوۡا بَعۡدَ اِسۡلَامِہِمۡ]
یہ اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ انھوں نے تو کچھ نہیں کہا حالانکہ انھوں نے کفر کا کلمہ کہا ہے اور یہ اسلام لانے کے بعد کافر ہو گئے ہیں۔ [التوبة:74]
کیا آپ نے نہیں سنا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک ہی کلمہ کی وجہ سے کافر قرار دے دیا حالانکہ وہ رسول اللہﷺ کے مبارک دور میں تھے، آپ کے ساتھ ہو کر جہاد کرتے تھے، آپ کے ساتھ نمازیں پڑھتے تھے، زکوۃ دیتے، حج کرتے اور توحید کے قائل تھے۔ یہ وہی لوگ ہیں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
[ قُلۡ اَ بِاللّٰہِ وَ اٰیٰتِہٖ وَ رَسُوۡلِہٖ کُنۡتُمۡ تَسۡتَہۡزِءُوۡنَ]،[ لَا تَعۡتَذِرُوۡا قَدۡ کَفَرۡتُمۡ بَعۡدَ اِیۡمَانِکُمۡ]
[کہو کیا تم اللہ اور اس کی آیتوں اور اس کے رسول سے ہنسی کرتے تھے؟]،[ بہانے مت بناؤ ! تم ایمان لانے کے بعد کافر ہو چکے ہو]۔ [التوبة :66،65]
یہ وہی لوگ ہیں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے تصریح کی ہے کہ وہ ایمان کے بعد کافر ہو گئے تھے۔ حالانکہ وہ غزوہ تبوک میں رسول اللہﷺ کے ساتھ شریک تھے۔ انھوں نے ایک ایسی بات کہی جس کے متعلق وہ خود کہتے ہیں کہ ہم نے یہ بات بطور مذاق کہی تھی۔
اب آپ ان کے اس شبہ پر غور کریں کہ تم ان لوگوں کو کافر کہتے ہو جو ،،لا الہ الا اللہ،، کا اقرار کرتے ہیں، نمازیں پڑھتے اور روزے رکھتے ہیں۔ اس کے جواب پر بھی غور کرو کہ یہ جواب ان اوراق میں سب سے زیادہ قیمتی اور نفع بخش ہے۔
ہمارے بیان کردہ دلائل کی مزید وضاحت کے لیے بنی اسرائیل کا وہ واقعہ بھی دلالت کناں ہے۔ جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بیان فرمایا ہے۔ وہ یہ کہ بنی اسرائیل میں سے کچھ افراد نے مسلمان عالم اور نیک ہونے کے باوجود سیدنا موسیٰ علیہ السلام سے کہا :
[اجۡعَلۡ لَّنَاۤ اِلٰـہًا کَمَا لَہُمۡ اٰلِـہَۃٌ] جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں ہمارے لیے بھی ایک معبود بنا دو۔ [الأعراف:138]
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کچھ لوگوں نے رسول اللہﷺسے یوں کہا: [اجعل لنا ذات أنواط] ہمارے لیے ایک ذات انواط بنادیجیے۔
یہ سن کر رسول اللہ ﷺنے قسم کھا کر فرمایا: کہ یہ بات بالکل اسی طرح کی ہے جو بنی اسرائیل نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام سے کہی تھی:
[اجۡعَلۡ لَّنَاۤ اِلٰـہًا کَمَا لَہُمۡ اٰلِـہَۃٌ] [الأعراف:138] جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں ہمارے لیے بھی ایک معبود بنا دو۔
[ترمذی، کتاب الفتن، باب ما جاء لتركبن سنن من كان قبلكم:2180]
مشرکین ان واقعات سے یہ دلیل اخذ کرتے ہیں کہ وہ بنی اسرائیل جنھوں نے کہا: [اجۡعَلۡ لَّنَاۤ اِلٰـہًا کَمَا لَہُمۡ اٰلِـہَۃٌ] [الأعراف:138]
اور وہ صحابہ جنھوں نے ذات انواط کا مطالبہ کیا تھا وہ کافر تو نہ ہوئے تھے؟
تو ہم کہتے ہیں کہ نہ تو بنی اسرائیل نے کسی غیراللہ کو ،،الہ،، بنایا اور نہ ہی ان صحابہ نے جنھوں نے ذات انواط کا مطالبہ کیا تھا۔ اپنے لیے کوئی ذات انواط مقرر کیا۔
علماء کا اس میں اختلاف نہیں ہے کہ اگر بنی اسرائیل کسی غیراللہ کو ،،الہ،، بنا لیتے تو قطعا کافرقرار پاتے۔ اور اسی طرح اگر صحابہ کرام رسول اللہﷺ کے منع کرنے کے بعد کسی درخت کو ذات انواط مقرر کر لیتے تو وہ بھی کافر ہو جاتے۔ ہمارا مدعا بھی یہی ہے، ان دو واقعات میں چند فوائد مرتب ہوتے ہیں:
[1]کبھی مسلمان بلکہ عالم شخص بھی شرک کی کسی نہ کسی قسم میں مبتلا ہو جاتا ہے اور اسے پتا نہیں چلتا۔
[2]علم اور تحفظ کی جستجو ہر وقت پیش نگاہ رہنی چاہیے۔
[3]جاہل شخص کا یہ کہنا کہ ہم نے توحید کو سمجھ لیا ہے یہ سب سے بڑی جہالت ہے اور شیطان کا سب سے بڑا فریب یہی ہے۔
[4]اگر مسلمان مجتہد لاعلمی میں کوئی کفریہ کلمہ کہہ دے اور فورا متنبہ ہو کر اسی وقت توبہ کرلے تو وہ کافر نہیں ہو جاتا، جیسا کہ بنی اسرائیل اور صحابہ نے کیا۔
[5]اگر چہ ایسا شخص کا فر قرار نہیں پاتا لیکن اسے سخت ترین الفاظ سے تنبیہ ضرور کرنی چاہیے، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے کی تھی۔
اعتراض:
مشرکین کا ایک اور شبہ یہ بھی ہے کہ رسول اللہﷺ نے سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ پر ناراضی کا اظہار فرمایا: کیونکہ انھوں نے ایک ایسے آدمی کو قتل کر دیا تھا جس نے
،،لا الہ الا اللہ،، کہا تھا، چنانچہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: [أقتلته بعد ما قال: لا إله إلا الله؟] کیا تو نے اسے ،،لا الہ الا اللہ،، کہنے کے بعد بھی قتل کر دیا۔
[مسلم، كتاب الإيمان، باب تحريم قتل الكافر بعد قوله …..الخ: 159/96]
اسی طرح رسول اللہﷺ کا یہ ارشاد بھی ہے: [أمرت أن أقاتل الناس حتى يقولوا: لا إله إلا الله]
مجھے لوگوں سے اس وقت تک جنگ کرنے کا حکم دیا گیا ہے جب تک کہ وہ ،،لا الہ الا اللہ،، نہیں کہہ لیتے۔
[بخاری، کتاب الاعتصام بالكتاب والسنة، باب الاقتداء بسنن رسول اللهﷺ7285،7284]،[مسلم، کتاب الإيمان، باب الأمر بقتال الناس حتى يقولوا لا إله إلا الله محمد رسول الله….. الخ:20]
اس کے علاوہ اور احادیث بھی ہیں جن کا مطلب یہ ہے کہ جس نے ،،لا الہ الا اللہ،، کہا اسے کچھ نہ کہا جائے۔ احادیث مذکورہ سے ان جاہلوں کا مقصد یہ ہے کہ جو شخص
،،لا الہ الا اللہ،، کہہ لے اسے کافر نہ کہا جائے نہ ہی اسے قتل کیا جائے، خواہ وہ کیسے ہی اعمال کرتا پھرے۔
جواب:
ان جاہل مشرکوں کو یہ جواب دیا جائے کہ یہ بات تو سب کو معلوم ہے کہ رسول اللهﷺ نے یہودیوں سے جنگ کی، انھیں قید کیا حالانکہ وہ ،،لا الہ الا اللہ،، کہتے تھے، نیز رسول اللہ ﷺ کے صحابہ نے بنو حنیفہ سے جنگ کی حالانکہ وہ کلمہ ،،لا الہ الا اللہ،، کی شہادت دیتے تھے، نمازیں پڑھتے اور اسلام کے دعویدار تھے۔ اور وہ لوگ بھی بزعم خود مسلمان تھے۔ جن کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے آگ میں جلا دیا تھا۔ مقام غور یہ ہے کہ یہ جاہل بھی اقرار کرتے ہیں کہ جو شخص قیامت کا انکار کرے وہ کافر ہے، اسے قتل کیا جائے اگر چہ وہ ،،لا الہ الا اللہ،، کہتا ہو اور جو شخص ارکان اسلام میں سے کسی ایک رکن کا انکار کر دے وہ بھی کافر ہے، اسے قتل کر دیا جائے اگر چہ کلمہ پڑھتا ہو۔
لیکن یہ کیا بات ہوئی کہ جو شخص فروع میں سے کسی کا انکار کر دے تو اسے تو کلمہ فائدہ نہ دے اور اگر توحید کا انکار کر دے جو تمام انبیاء کے دین کی اصل ہے تو اسے یہ کلمہ پورا پورا فائدہ دے؟ اللہ تعالیٰ کے ان دشمنوں نے احادیث کا معنی و مفہوم ہی نہیں سمجھا۔
سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کہ انھوں نے ایسے شخص کو قتل کر دیا جس نے اسلام کا دعویٰ کیا تھا، یہ قتل اس لیے ہوا کہ سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کا خیال تھا کہ اس نے اپنی جان اور مال کے ڈر سے مسلمان ہونے کا اعلان کیا ہے۔ اور مسئلہ یہ ہے کہ جب کوئی شخص اسلام کا اظہار کرے تو واجب ہے کہ اس سے اپنا ہاتھ روک لیا جائے یہاں تک کہ اس سے اسلام کے خلاف کوئی چیز سرزد ہو۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: [یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا ضَرَبۡتُمۡ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ فَتَبَیَّنُوۡا]
مومنو! جب تم اللہ کی راہ میں باہر نکلا کرو تو تحقیق سے کام لیا کرو۔ [النساء:94]
یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کناں ہے کہ جب کوئی شخص کلمہ توحید پڑھ لے تو اس سے اپنا ہاتھ روک لینا چاہیے اور تحقیق کرنی چاہیے۔ اگر تحقیق کے بعد اس سے کوئی ایسی چیز سرزد ہو جو اسلام کے خلاف ہے تو پھر اسے قتل کر دیا جائے، کیونکہ اللہ نے فرمایا ہے کہ ،،تحقیق کرو،، اگر ہر کلمہ گو کو قتل کرنا حرام ہوتا تو تحقیق کرنے کا کوئی معنی نہ ہوتا۔
اسی طرح دوسری احادیث کا مطلب بھی وہی ہے جو ہم نے بیان کیا ہے کہ جو شخص اسلام اور توحید کا اظہار کرے تو اس سے ہاتھ روک لینا واجب ہے۔ الا کہ اس سے کوئی کام خلاف شریعت سرزد ہو۔ اس کی دلیل رسول اللہ ﷺ کا وہ ارشاد ہے جس میں آپ نے سیدنا اسامہ سے فرمایا تھا: [أقتلته بعد ما قال لا إله إلا الله] کیا تو نے اسے ،،لا الہ الا اللہ،، کہنے کے بعد بھی قتل کردیا؟ [مسلم، كتاب الإيمان، باب تحريم قتل الكافر …..الخ:96]
نیز: ایک موقع پر یوں ارشاد نبویﷺ ہے: [أمرت أن أقاتل الناس حتى يقولوا لا إله إلا الله]
مجھے لوگوں سے اس وقت تک جنگ کرنے کا حکم دیا گیا ہے جب تک کہ وہ ،،لا الہ الا اللہ،، نہیں کہہ لیتے۔
[بخاری، كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة، باب الاقتداء بسنن رسول اللهﷺ:7285،7284]،[مسلم، کتاب الإيمان، باب الأمر بقتال الناس حتى يقولوا لا إله إلا الله …. الخ:20]
خارجیوں کے بارے میں ارشاد ہوا ہے:
[فأينما لقيتموهم فاقتلوهم]وفی روایۃ:[ لئن أدركتهم لأقتلنهم قتل عاد]
[ان کو جہاں پاؤ قتل کر دو]۔ اور ایک روایت میں ہے: [اگر میں نے ان کو پالیا تو قوم عاد کی طرح ان کو قتل کروں گا]۔
[بخاری، کتاب فضائل القرآن: باب إثم من رائى بقرائة القرآن …. الخ: 5057،وكتاب التوحيد، باب قول الله تعالى…..الخ:7432]
حالانکہ خارجی لوگ تمام لوگوں سے زیادہ عبادت گزار اور ہر وقت تکبیر تہلیل کرتے رہتےتھے۔ یہاں تک کہ بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اپنے آپ کو ان کے مقابلے میں حقیر سمجھتے، اور لطف کی بات یہ ہے، کہ ان خارجیوں نے صحابہ کرام رضي اللہ عنہم سے کسب علم کیا تھا۔ اس کے باوجود ،،لا الہ الا اللہ،، کثرت عبادت اور دعوئی اسلام نے انھیں کوئی فائدہ نہ دیا کیونکہ ان سے شریعت مطہرہ کی خلاف ورزی سرزد ہوئی۔
رسول الله ﷺ کا یہودیوں سے جنگ کرنا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا بنوحنیفہ سے قتال بھی اس کی شہادت پر دلالت کناں ہے۔
رسول الله ﷺ کا بنی المصطلق سے جنگ کا ارادہ کرنا بھی اس پر دلالت کرتا ہے جب کہ ایک شخص نے آکر جھوٹی اطلاع دی کہ بنی المصطلق نے زکوۃ دینے سے انکار کر دیا ہے تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی: [یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنۡ جَآءَکُمۡ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوۡۤا اَنۡ تُصِیۡبُوۡا قَوۡمًۢا بِجَہَالَۃٍ فَتُصۡبِحُوۡا عَلٰی مَا فَعَلۡتُمۡ نٰدِمِیۡنَ]
مومنو! اگر کوئی بدکردار تمھارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو خوب تحقیق کر لیا کرو (مبادا) کہ کسی قوم کو نادانی سے نقصان پہنچا دو، پھر تم کو اپنے کیے پر نادم ہونا پڑے۔ [الحجرات:6]
یہ تمام آیات و احادیث اس بات پر دلالت کرتی ہیں جو ہم نے بیان کی ہے، ان سے مشرکین کی تصدیق بالکل نہیں ہوتی۔
اعتراض:
اہل شرک و بدعت کا ایک اعتراض یہ بھی ہے کہ رسول اللہﷺ نے بیان فرمایا:
ہے کہ قیامت کے دن کچھ لوگ یکے بعد دیگرے سیدنا آدم علیہ السلام، سیدنا نوح علیہ السلام ، سیدنا ابراہیم علیہ السلام، سیدنا موسیٰ علیہ السلام، اور سیدنا عیسی علیہ السلام، کے پاس استغاثہ لے کر جائیں گے، چنانچہ ہر نبی کوئی نہ کوئی عذر پیش کر دیں گے، آخر کار معاملہ رسول اللہﷺ کے پاس آئے گا۔ اس واقعہ سے مشرکین کا استدلال یہ ہے کہ غیراللہ سے استغاثہ شرک نہیں ہے۔
جواب:
پاک ہے وہ اللہ جو اپنے دشمنوں کے دلوں پر مہر لگا دیتا ہے۔ مخلوق سے وہ استغاثہ جس پر وہ قادر ہے ہم اس کا انکار نہیں کرتے۔ جیسا کہ سیدنا موسیٰ علیم کے واقعہ میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: [فَاسۡتَغَاثَہُ الَّذِیۡ مِنۡ شِیۡعَتِہٖ عَلَی الَّذِیۡ مِنۡ عَدُوِّہٖ]
جو شخص ان کی قوم سے تھا اس نے دوسرے شخص کے مقابلے میں جو موسیٰ کے دشمنوں میں سے تھا، مدد طلب کی۔ [القصص:15]
یا دوران جنگ انسان اپنے ساتھیوں سے مدد طلب کرتا ہے جس پر وہ قادر ہیں۔ ہم تو اس استغاثہ کے منکر ہیں جو اولیاء کی قبروں پر جا کر بطور عبادت کیا جاتا ہے۔ یا غائبانہ ان کو مدد کے لیے پکارا جاتا ہے، جس پر سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی شخص قدرت نہیں رکھتا۔
جب یہ بات ثابت ہو گئی، اب سمجھنا چاہیے کہ قیامت کے دن جو انبیائے کرام علیہم السلام سے استغاثہ ہو گا وہ یہ ہے کہ وہ اللہ سے دعا کریں کہ لوگوں کا حساب کتاب جلدی ہو جائے، تا کہ جنتی لوگ میدان محشر کی سختی سے نجات پائیں۔ اس قسم کا استغاثہ دنیا اور آخرت دونوں میں جائز ہے۔کہ آپ کسی نیک اور زندہ آدمی کے پاس جائیں جو تمھارے پاس بیٹھے اور تمھاری گفتگو کو بھی سنے تم اس سے دعا کی درخواست کرو۔ جیسا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم رسول اللہﷺ کی زندگی میں آپ کی خدمت میں آتے اور دعا کی درخواست کیا کرتے تھے۔ لیکن رسول اللہﷺ کی وفات کے بعد قبر مکرم کے پاس جا کر آپ سے کسی صحابی نے دعا کی درخواست نہیں کی، بلکہ سلف صالحین نے قبر مبارک کے پاس کھڑے ہو کر اللہ تعالیٰ سے دعا کرنے سے بھی منع فرمایا ہے۔ چہ جائیکہ بذات خود رسول اللہﷺ سے دعا کی درخواست کی جائے۔
اعتراض:
مشرکین کا ایک شبہ اور اعتراض اور بھی ہے اور وہ ابراہیم علیہ السلام کا وہ واقعہ ہے جب آپ کو آگ میں ڈالا گیا تھا، تو اس وقت جبرئیل علیہ السلام نے آکر اپنے آپ کو پیش کیا اور عرض کناں ہوا کہ کوئی حاجت اور ضرورت ہو تو بتائیے؟ ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا: کہ تم سے کسی قسم کی حاجت نہیں ہے۔ مشرکین کا استنباط یہ ہے کہ اگر جبرئیل علیہ السلام سے استغاثہ شرک ہوتا تو وہ ابراہیم علیہ السلام کو پیش کش نہ کرتے؟
جواب:
یہ اعتراض بھی پہلے اعتراض جیسا ہے، اس واقعہ میں جبرئیل علیہ السلام نے وہ پیشکش کی تھی جس پر وہ قادر تھے۔ کہ وہ ابراہیم علیہ السلام کو فائدہ پہنچائیں کیونکہ جبرئیل علیہ السلام کے بارے میں اللہ کا ارشاد ہے: [شَدِیۡدُ الۡقُوٰی] وہ بہت بڑی طاقت والا ہے۔ [النجم:5]
پس اگر اللہ تعالیٰ جبرئیل علیہ السلام کو اجازت دے دیتا کہ وہ ابراہیم علیہ السلام کی آگ اور اس کے ارد گرد زمین اور پہاڑوں کو اٹھا کر مشرق یا مغرب میں پھینک دے تو وہ ضرور ایسا کر دیتے اور اگر جبرئیل علیہ السلام کو یہ حکم ہوتا کہ ابراہیم علیہ السلام کو اٹھا کر ان سے دور کسی جگہ پر لے جائیں، تو جبرئیل علیہ السلام یہ کام بھی کر سکتے تھے۔ اور اگر جبرئیل علیہ السلام کو یہ حکم ہوتا کہ ابراہیم علیہ السلام کو آسمان پر لے آئیں تو وہ یہ بھی کر دیتے۔
اس کی مثال یہ ہے کہ کوئی دولت مند شخص کسی محتاج کو دیکھے اور اسے قرض دینے کی پیش کش کرے یا اس کو کوئی اور چیز دے جس سے وہ اپنی ضرورت پوری کر لے لیکن محتاج آدمی قرض وغیرہ لینے سے انکار کر دے اور صبر کرے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اسے اپنی جناب سے رزق دے دے۔ جس میں کسی شخص کا احسان نہ ہو تو یہ بات کہاں! اور عبادت کے طور پر استغاثہ اور شرک کہاں! کاش یہ لوگ سمجھیں!
ان شاء اللہ ہم اس بحث کو ایک نہایت اہم مسئلے پر ختم کرتے ہیں جو سابقہ بحث سے بھی آپ کی سمجھ میں آگیا ہو گا۔ لیکن چونکہ مسئلہ بڑا ہی اہم ہے اور اکثر لوگ اس میں غلطی کھا جاتے ہیں، لہذا ہم اسے علیحدہ بیان کر رہے ہیں۔
ہم کہتے ہیں کہ اس میں تو کوئی اختلاف نہیں ہے کہ توحید کا تعلق تین چیزوں سے ہونا ضروری ہے: دل، زبان اور باقی اعضاء کے ذریعہ عمل ، اگر ان تینوں میں سے کسی ایک میں بھی خلل واقع ہوا تو انسان مسلمان نہیں رہتا، اگر کوئی شخص تو حید کو جانتا تو ہے لیکن اس کے مطابق عمل نہیں کرتا تو وہ ضدی اور کافر ہے، جیسے فرعون اور ابلیس وغیرہ۔
مسئلہ توحید میں اکثر لوگ دھوکا کھا جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ توحید حق ہے اور ہم اس کو سمجھتے ہیں اور گواہی دیتے ہیں کہ یہ حق ہے۔ لیکن اس پر عمل کرنے کی ہمیں طاقت نہیں ہے۔ نیز ہمارے علاقے کے لوگ ایسے ہیں جن کی موافقت کے بغیر گزارہ نہیں، اس کے علاوہ بھی کئی عذر لنگ پیش کرتے ہیں۔
یہ مسکین نہیں جانتا کہ ائمہ کفر کی غالب اکثریت بھی حق کو پہچانتی تھی، اور کئی قسم کے بہانوں کے پیش نظر ہی انھوں نے حق کو چھوڑا تھا، جیسا کہ ارشاد ربانی ہے:
[اِشۡتَرَوۡا بِاٰیٰتِ اللّٰہِ ثَمَنًا قَلِیۡلًا] یہ اللہ کی آیتوں کے عوض تھوڑا سا فائدہ حاصل کرتے ہیں۔ [التوبة:9]
ایک جگہ ارشاد ہے: [یَعۡرِفُوۡنَہٗ کَمَا یَعۡرِفُوۡنَ اَبۡنَآءَہُمۡ]
وہ ان (پیغمبر آخر الزماںﷺ) کو اس طرح پہچانتے ہیں جس طرح اپنے بیٹوں کو پہچانا کرتے ہیں۔ [البقرة:146]
جو شخص بظاہر توحید پر عمل کرتا ہے لیکن اس کے مفہوم کو نہیں سمجھتا یا دل سے اس پر ایمان نہیں رکھتا وہ منافق ہے جو خالص کافر سے بھی برا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: [اِنَّ الۡمُنٰفِقِیۡنَ فِی الدَّرۡکِ الۡاَسۡفَلِ مِنَ النَّارِ] کچھ شک نہیں کہ منافق لوگ دوزخ کے سب سے نچلے درجے میں ہوں گے۔ [النساء:145]
یہ مسئلہ بہت طویل ہے، جب تم لوگوں کی باتوں پر غور کرو گے تو تمھیں اچھی طرح معلوم ہو جائے گا اور تم کئی ایسے افراد کو دیکھو گے، کہ وہ حق کو جانتے تو ہیں لیکن اس پر عمل نہیں کرتے۔ دنیا کے نقص یا مرتبہ اور خاطر ومدارات میں کمی کے ڈر سے سستی کرتے ہیں۔ نیز کچھ ایسے افراد بھی نظر آئیں گے، جو بظاہر تو عمل کرتے ہیں، لیکن دل سے نہیں۔ اگر ان سے دلی عقیدہ کے بارے میں سوال کرو تو معلوم ہو گا، کہ ان کو کچھ علم نہیں۔ لہذا قرآن کریم کی دو آیات پر غور و فکر کرنا تمھارے لیے بہت ہی ضروری ہے:
[1] پہلی تو وہی ہے جو ہم ذکر کر چکے ہیں:
[لَا تَعۡتَذِرُوۡا قَدۡ کَفَرۡتُمۡ بَعۡدَ اِیۡمَانِکُمۡ] بہانے مت بناؤ، تم ایمان لانے کے بعد کافر ہو چکے ہو۔ [التوبة :66]
جب یہ بات ثابت ہو گئی کہ بعض وہ صحابہ جنھوں نے رسول اللہﷺ کی معیت میں رومیوں سے جنگ لڑی تھی، وہ صرف ایک کلمہ کی وجہ سے کافر ہو گئے۔ جو انھوں نے محض ہنسی اور مذاق کے طور پر کہا تھا۔ تو پھر یہ بات واضح ہو گئی کہ جو شخص کسی کی مدارات یا اپنے مرتبہ کی خاطر یا مال میں کمی کے خوف سے کفریہ کلمہ کہہ دے یا اس پر عمل کرے تو ایسا شخص بلحاظ گناہ کے بڑا ہے یہ نسبت اس شخص کے جو بطور مذاق کفریہ کلمہ کہ دے۔
[2]دوسری آیت یہ ہے:
[مَنۡ کَفَرَ بِاللّٰہِ مِنۡۢ بَعۡدِ اِیۡمَانِہٖۤ اِلَّا مَنۡ اُکۡرِہَ وَ قَلۡبُہٗ مُطۡمَئِنٌّۢ بِالۡاِیۡمَانِ]
جو شخص ایمان لانے کے بعد اللہ کے ساتھ کفر کرے، وہ نہیں جو (کفر پر ) مجبور کیا جائے اور اس کا دل ایمان کے ساتھ مطمئن ہو۔ [النحل:106]
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالی نے سوائے اس شخص کے جو مجبور کر دیا گیا ہو، اور کسی کے عذر کو تسلیم نہیں کیا۔ اس میں بھی ایمان پر اطمینان قلب کی شرط لگا دی ہے۔ اس کے علاوہ سب کافر ہیں، خواہ وہ خوف کی وجہ سے یا مدارات کے طور پر یا اپنے وطن اور اہل و عیال یا برادری اور مال و متاع کی محبت میں آکر یا ہنسی اور مذاق کے طور پر یا کسی اور غرض کی بنا پر کلمہ کفر کہیں۔ بس اللہ تعالی نے صرف مجبور شخص کو مستثنی قرار دیا ہے۔ مندرجہ بالا آیت کریمہ دو طریق سے اس پر دلالت کرتی ہے۔
[مَنۡ اُکۡرِہَ] [النحل:106] جو (کفر پر) مجبور کیا جائے۔ اس جملہ میں صرف مجبور شخص کو مستثنی کیا گیا ہے۔ یہ تو معلوم ہے ہی کہ انسان کی مجبوری کا تعلق صرف زبان یا عمل سے ہے، رہی دل کی کیفیت تو اس میں کوئی شخص کسی کو مجبور نہیں کر سکتا۔
[ذٰلِکَ بِاَنَّہُمُ اسۡتَحَبُّوا الۡحَیٰوۃَ الدُّنۡیَا عَلَی الۡاٰخِرَۃِ] یہ اس لیے کہ انھوں نے دنیا کی زندگی کو آخرت کے مقابلے میں عزیز رکھا۔ [النحل:107]
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تصریح فرمادی ہے کہ یہ کفر اور عذاب اعتقاد یا جہالت یا دین سے بغض و عداوت یا کفر سے محبت کے باعث نہیں تھا، بلکہ اس کا سب سے بڑا سبب دنیا کی لذتوں میں گرفتار ہونا تھا جس کی وجہ سے انسان نے دنیا کو دین پر ترجیح دی۔
[والله سبحانه وتعالى أعلم والحمد لله رب العالمين وصلى الله على محمد و آله وصحبه أجمعين]