قربانی کے جانور
قربانی کے جانوروں کی تفصیل:
قربانی کے لیے بھیمۃ الانعام (اونٹ، گائے، بھیڑ، بکری) کا ہونا شرط ہے۔ ان کے علاوہ کسی اور جنس کی قربانی کتاب و سنت کی رو سے مشروع نہیں۔ دلائل حسبِ ذیل ہیں:
① قربانی کے متعلق ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿وَلِكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنسَكًا لِّيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَىٰ مَا رَزَقَهُم مِّن بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ﴾
”اور ہم نے ہر امت کے لیے ایک قربانی مقرر کی ہے، تاکہ وہ ان پالتو چوپاؤں پر اللہ کا نام ذکر کریں جو اس نے انھیں دیے ہیں۔“
سورة الحج: 34
② دوسری جگہ ارشاد فرمایا:
﴿لِّيَشْهَدُوا مَنَافِعَ لَهُمْ وَيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ فِي أَيَّامٍ مَّعْلُومَاتٍ عَلَىٰ مَا رَزَقَهُم مِّن بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ﴾
”تاکہ وہ اپنے بہت سے فائدوں میں حاضر ہوں اور چند معلوم دنوں میں ان پالتو چوپاؤں پر اللہ کا نام ذکر کریں جو اس نے انھیں دیے ہیں۔“
سورة الحج: 28
مذکورہ بالا آیات میں قربانی کے مخصوص جانوروں (بھیمۃ الانعام) کا بیان ہوا ہے۔ بھیمۃ الانعام (پالتو چوپاؤں) سے کون سے چوپائے مراد ہیں، اس کی توضیح قرآن میں دوسرے مقام پر ہوئی ہے کہ پالتو چوپاؤں سے مقصود اونٹ، گائے اور بھیڑ، بکری ہیں:
ارشادِ ربانی ہے:
﴿وَمِنَ الْأَنْعَامِ حَمُولَةً وَفَرْشًا ۚ كُلُوا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللَّهُ وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ ۚ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ ثَمَانِيَةَ أَزْوَاجٍ ۖ مِّنَ الضَّأْنِ اثْنَيْنِ وَمِنَ الْمَعْزِ اثْنَيْنِ ۗ قُلْ آلذَّكَرَيْنِ حَرَّمَ أَمِ الْأُنثَيَيْنِ أَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَيْهِ أَرْحَامُ الْأُنثَيَيْنِ ۖ نَبِّئُونِي بِعِلْمٍ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ وَمِنَ الْإِبِلِ اثْنَيْنِ وَمِنَ الْبَقَرِ اثْنَيْنِ﴾
”اور چوپاؤں میں سے کچھ بوجھ اٹھانے والے اور کچھ زمین سے لگے ہوئے (پیدا کیے)۔ کھاؤ اس میں سے جو اللہ نے تمھیں رزق دیا اور شیطان کے قدموں کے پیچھے مت چلو، بے شک وہ تمھارا کھلا دشمن ہے۔ آٹھ قسمیں، بھیڑ میں سے دو اور بکری میں سے دو۔ کہہ کیا اس نے دونوں نر حرام کیے یا دونوں مادہ؟ یا وہ (بچہ) جس پر دونوں ماداؤں کے رحم لپٹے ہوئے ہیں؟ مجھے کسی علم کے ساتھ بتاؤ، اگر تم سچے ہو۔ اور اونٹوں میں سے دو اور گائیوں میں سے دو، کہہ کیا اس نے دونوں نر حرام کیے ہیں یا دونوں مادہ؟“
سورة الأنعام: 142-144
تفسیر:
یہ آیت دلیل ہے کہ بھیمۃ الانعام کا اطلاق چوپاؤں کی چار اقسام اونٹ، گائے، بھیڑ اور بکری پر ہی ہوتا ہے۔
① ابن جریر طبری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
وأما النعم، فإنها عند العرب اسم للإبل والبقر والغنم خاصة
”انعام، نعم کی جمع ہے اور اہل عرب کے نزدیک نعم، بالخصوص اونٹ، گائے اور بھیڑ بکری کا نام ہے۔“
تفسیر طبری 457/9
② حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
”بھیمۃ الانعام سے مراد اونٹ، گائے اور بھیڑ بکری ہے، اور حسن بصری رحمہ اللہ اور قتادہ رحمہ اللہ کا بھی یہی قول ہے۔“
تفسیر ابن کثیر 8/2
③ امام قرطبی رحمہ اللہ سورہ حج، آیت (28) کی تشریح بیان کرتے ہیں:
والأنعام هنا الإبل، والبقر والغنم، وبهيمة الأنعام هي الأنعام
”یہاں انعام سے مراد اونٹ، گائے اور بھیڑ بکری ہے اور بھیمۃ الانعام اور انعام ہم معنی الفاظ ہیں۔“
تفسیر قرطبی 44/12
④ شوکانی رحمہ اللہ، سورہ حج کی آیت (28) کی شرح میں لکھتے ہیں:
”بھیمۃ الانعام اونٹ، گائے اور بھیڑ بکری ہے اور بھیمۃ الانعام سے مراد انعام ہی ہے۔“
فتح القدیر 115/5
پھر سورۃ حج، آیت 34: ﴿عَلَىٰ مَا رَزَقَهُم مِّن بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ﴾ کی تفسیر میں رقم طراز ہیں:
وفيه إشارة إلى أن القربان لا يكون إلا من الأنعام دون غيرها
”اس آیت میں اشارہ ہے کہ قربانی صرف انعام اونٹ، گائے اور بھیڑ بکری ہی کی ہوتی ہے اور ان کے علاوہ کسی اور جانور کی قربانی نہیں ہوتی۔“
فتح القدیر 115/5
⑤ نواب صدیق حسن خان بیان کرتے ہیں:
”(قربانی کے لیے) انعام کی قید اس لیے لگائی گئی کہ انعام کے سوا کسی اور جانور کی قربانی درست نہیں، اگرچہ اس کا کھانا حلال ہے۔“
ترجمان القرآن 741
⑥ وإنما خص بهيمة الأنعام، لأنها المشروعة فى القرب
”(قربانی کے لیے) بھیمۃ الانعام کا ذکر خاص اس لیے کیا گیا ہے، کیونکہ بھیمۃ الانعام ہی کی قربانی مشروع ہے۔“
زاد المسیر 383/4
⑦ ابن قدامہ حنبلی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”قربانی میں فقط بھیمۃ الانعام (اونٹ، گائے اور بھیڑ بکری) کفایت کرتے ہیں، اس کی دلیل یہ آیت ہے:
﴿لِّيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَىٰ مَا رَزَقَهُم مِّن بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ﴾
اور بھیمۃ الانعام سے مراد اونٹ، گائے اور بھیڑ بکری ہے۔“
المغنی لابن قدامہ الشرح الکبیر: 100/11
⑧ سید سابق رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
ولا تكون إلا من الإبل والبقر والغنم ولا تجزئ من غير هذه الثلاثة، يقول الله سبحانه: ليذكروا اسم الله على ما رزقهم من بهيمة الأنعام
”قربانی صرف اونٹ، گائے اور بھیڑ بکری ہی کی ہوتی ہے اور ان جنسوں کے سوا کسی اور جانور کی قربانی کفایت نہیں کرتی، کیونکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتے ہیں: تاکہ وہ ان پالتو چوپاؤں پر اللہ کا نام ذکر کریں جو اس نے انھیں دیے ہیں۔“
فقہ السنہ 34/2
درج بالا آیات اور مفسرین کے اقوال سے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ چار جانوروں (اونٹ، گائے اور بھیڑ بکری) ہی کی قربانی مشروع ہے اور اس کے علاوہ کسی اور حلال جانور کی قربانی قبول نہیں، لہٰذا قربانی کے لیے انھی چار اجناس کے چوپاؤں میں سے کسی چوپائے کا انتخاب کیا جائے، نیز نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بھی انھی چوپاؤں (اونٹ، گائے اور بھیڑ بکری) کی قربانی ثابت ہے۔
لہٰذا قرآن و سنت، تعاملِ صحابہ اور اقوالِ مفسرین کھلی دلیل ہیں کہ انھی جانوروں کی قربانی مشروع ہے اور ان چار اجناس کے علاوہ کسی اور جانور کی قربانی کے جواز کا ثبوت قرآن و سنت میں موجود نہیں، لہٰذا مبنی بر احتیاط اور راجح موقف یہی ہے کہ ان جانوروں کے علاوہ کسی اور جانور کی قربانی نہ کی جائے۔