ردی اور گھٹیا چیز کا صدقہ کرنے کی ممانعت
① سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لائے تو دیکھا کہ ہم میں سے کسی آدمی نے خراب اور ردی کھجور کا خوشہ (خیرات کے طور پر) لٹکا دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خوشے کے بارے میں طعن کرنا شروع کیا اور فرمایا:
لوشاء رب هذه الصدقة تصدق بأطيب من هذا ، إن رب هذه الصدقة يأكل حشفا يوم القيامة
”اگر اس صدقہ کا مالک چاہتا تو اس سے بہتر صدقہ کرتا، اس صدقہ کا مالک روز قیامت خراب اور گھٹیا کھجوریں ہی کھائے گا۔“
ابوداؤد، کتاب الزكاة 1608. النسائي ، الزكاة 5 / 33.
ساری جائیداد صدقہ کر دینے کی ممانعت
① سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ اتنے میں ایک آدمی سونے کا ایک انڈہ لے کر آیا تو اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ چیز مجھے کان (معدن) سے ملی ہے۔ آپ اسے قبول فرمائیں، پس یہ صدقہ ہے، میرے پاس اس کے سوا کوئی اور چیز نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اعراض فرمایا تو وہ آپ کی دائیں جانب سے پھر آپ کے سامنے آ گیا اور پھر ویسے ہی کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اس سے اعراض فرمایا تو وہ بائیں جانب سے آ گیا، آپ نے پھر اس سے اعراض کیا تو وہ آپ کی پچھلی جانب سے آ گیا، پس آپ نے اسے پکڑ کر اس کی طرف پھینکا، اگر وہ اسے لگ جاتا تو اسے زخمی کر دیتا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
يأتى أحدكم بجميع ما يملك فيقول: هذه صدقة. ثم يقعد يستكف الناس. خير الصدقة ما كان عن ظهر غنى
”تم میں سے کوئی شخص اپنی کل جمع پونجی لے کر آتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ صدقہ ہے، پھر لوگوں سے سوال کرنے بیٹھ جاتا ہے، بہترین صدقہ وہ ہے جو دولت مندی اور تونگری کے بعد ہو“۔
ابوداؤد، کتاب الزكاة 1673. البيهقي في الكبر 259/4 حدیث 7643 .