من گھڑت کرامات، وحدت الوجود اور توحیدِ خالص کا دفاع

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ارشاد اللہ مان کی کتاب حق کی تلاش سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

اب ہم دیو بندی حضرات کے صوفیائے کرام کی کرامات کا ذکر ان ہی کتابوں سے کریں گے:

[1] عبدالقدوس گنگوہی نے ایک جوگی سے مقابلہ کیا۔ جوگی پانی بن گیا مگر وہ پانی بدبودار تھا۔ پھر یہ پانی بن گئے اور یہ پانی خوشبودار تھا۔ فرمایا: یہ کفر و اسلام کا فرق ہے۔ وہ مع چیلوں کے مسلمان ہو گیا۔ آپ نے اسے صاحبِ ولایت مقرر کر کے کہیں بھیج دیا۔ [ماہنامہ دارالعلوم دیوبند، جنوری 1960ء]

[2] عبداللہ شاہ قریشی نے بکری مار کر دوبارہ زندہ کر دی۔ [ایضا جنوری 1958ء]

[3] ایک بزرگ نے اپنے مرید سے کہا: رسول اللہ ﷺ کو میرا سلام کہنا۔ رسول اللہ ﷺ نے جواب دیا: اپنے بدعتی پیر کو ہمارا بھی سلام کہنا۔ یہ پیغام سن کر پیر صاحب خوشی سے ناچنے لگے۔ [ماہنامہ البلاغ بابت ماہ صفر 1334ھ زیر سرپرستی مفتی محمد شفیع]

[4] یوسف بنوری صاحب نے اپنے والد مولانا محمد زکریا کے بارے میں لکھا ہے۔ کہ انھوں نے امام بخاری رحمہ اللہ سے خواب میں پوری صحیح بخاری پڑھ کر اجازت لی اور حافظ بدر الدین عینی رحمہ اللہ سے عمدۃ القاری اور ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ سے فتح الباری پڑھ کر اجازت لی۔ [البینات اگست 1975ء]

دیوبندی بھائیو! سوچیے ذرا:

عقائد کی ابتدا سے پہلے ہم انھی کی زبانی ان کے مسلک کی ترجمانی کروا دینا زیادہ بہتر سمجھتے ہیں۔ مولانا خلیل احمد سہارنپوری فرماتے ہیں: ہم اور ہمارے مشائخ اور ہماری جماعت بحمداللہ فروعات میں مقلد ہیں، مقتدائے خلق امامِ ہمام امام اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت رحمہ اللہ کے اور اصول و اعتقادیات میں پیرو ہیں امام ابوالحسن اشعری اور امام منصور ماتریدی کے اور طریق ہائے صوفیہ میں ہم کو انتساب حاصل ہے سلسلہ عالیہ حضرت نقشبندیہ اور طریقہ زکیہ مشائخ چشت اور سلسلہ بہیہ حضرات قادریہ اور طریقہ مرضیہ مشائخ سہروردیہ کے ساتھ۔ [المہند علی المفند: 22]

مولانا محمد یوسف بنوری صاحب مسلکِ دیوبند کے بارے میں فرماتے ہیں: اکابرِ دیوبند کا مسلک وہی رہا ہے کہ حدیث کے بعد فقہ و اجتہاد کی اہمیت کے پیش نظر فقیہِ امت حضرت امام ابوحنیفہ کو امام تسلیم کر لیا جائے اور ساتھ ہی ساتھ اربابِ قلوب کے علومِ تصوف و علومِ تزکیہقلوب کا صحیح امتزاج کیا جائے۔ اگر ایک طرف ابن تیمیہ کی جلالتِ قدر کا اعتراف ہو تو دوسری طرف شیخِ اکبر محی الدین ابن عربی کے کمالات کا اعتراف ہو۔ امام ابوحنیفہ کی تقلید و اتباع کے ساتھ احادیث نبویہ اور علومِ صوفیہ دونوں کو جمع کر کے ایک خوبصورت، مؤثر، دل نشین مسلک ظہور میں آگیا، اس کا نام دیوبند مکتبِ فکر کا مسلک بن گیا۔ [مسلک علمائے دیوبند:ص5]

وحدت الوجود:

دیوبندیوں کے امام حاجی امداد اللہ مہاجر مکی (جن کی بڑے بڑے دیوبندی علماء نے بیعت کی مثلاً مولوی محمد قاسم نانوتوی، مولوی محمد یعقوب صاحب، مولوی احمد حسن صاحب اور مولوی رشید احمد گنگوہی صاحب وغیرہ) اور جن کی تعریف تبلیغی جماعت کے امیر زکریا صاحب ان الفاظ میں کرتے ہیں کہ حاجی صاحب عالم گر تھے۔ [آپ بیتی نمبر7، ص153]

اور حاجی صاحب خود بھی قاسم نانوتوی اور رشید احمد گنگوہی کے حق میں رطب اللسان ہیں اور اپنے معتقدین کو ان کی صحبت یا برکت سے استفادہ کا حکم دے رہے ہیں۔ [المہند علی المفند: ص 6]

حاجی صاحب مسئلہ وحدت الوجود کے بارے میں کہتے ہیں۔ مسئلہ وحدت الوجود حق و صحیح ہے، اول جس شخص نے اس مسئلہ میں خوض فرمایا شیخ محی الدین ابن عربی ہیں۔ [شمائم امدادیہ ص 32]

اور ابن عربی کا عقیدہ تو واضح ہے جیسا کہ کہتا ہے: [اِنَّ الْوَجود الْمَخْلُوْقَ ھُوَ الْوُجُوْدُ الْخَالِقُ] مخلوق کا وجود دراصل خالق کا وجود ہے۔ [شرح طحاویہ: 556]

[وَفِيْ كُلِّ شَيْءٍ اٰيَتُہٗ دَلَّ عَلٰی عَيْنِہٖ] ہر چیز میں اس کی نشانی ہے جو اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ وہ اس کا عین ہے۔

[فَمَا فِي الْوُجُوْدِ اِلَّا اللہ] پس وجود میں اللہ کے سوا کوئی نہیں۔ [فتوحات مکیہ:1/272]

حاجی امداد اللہ مہاجر مکی نے دلائلِ قرآنی سے اس کو ثابت کرنے کی کوشش بھی کی ہے، مثلاً لکھتے ہیں: رسول اللہ ﷺ واصل بحق ہیں، عباد اللہ کو عباد الرسول کہہ سکتے ہیں، جبکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: [قُلۡ یٰعِبَادِیَ الَّذِیۡنَ اَسۡرَفُوۡا عَلٰۤی اَنۡفُسِہِمۡ لَا تَقۡنَطُوۡا مِنۡ رَّحۡمَۃِ اللّٰہِ] مرجع ضمیر متکلم رسول اللہ ﷺ ہیں۔ مولوی اشرف علی تھانوی صاحب نے فرمایا: کہ قرینہ بھی انھی معنی کا ہے (اس لیے) آگے فرمایا: [لَا تَقۡنَطُوۡا مِنۡ رَّحۡمَۃِ اللّٰہِ] اگر مرجع اس کا ،،اللہ،، ہوتا تو فرماتا: [مِنْ رَّحْمَتِیْ] تاکہ مناسبت [عِبَادِیْ] کی ہوتی۔ [شمائم امدادیہ:ص71]

حالانکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: [مَا کَانَ لِبَشَرٍ اَنۡ یُّؤۡتِیَہُ اللّٰہُ الۡکِتٰبَ وَ الۡحُکۡمَ وَ النُّبُوَّۃَ ثُمَّ یَقُوۡلَ لِلنَّاسِ کُوۡنُوۡا عِبَادًا لِّیۡ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ] کسی بشر کے لیے لائق نہیں کہ اللہ اس کو کتاب اور حکمت اور نبوت دے پھر وہ (لوگوں سے) یہ کہے کہ اللہ کی بجائے میرے بندے بن جاؤ۔ (آل عمران: 79)

لیکن حاجی امداد اللہ کہتے ہیں: عابد و معبود میں فرق کرنا شرک ہے۔ (شمائم امدادیہ:ص37)

لہٰذا آپ کی خاص امت میں سے بایزید بسطامی قدس سرہ نے اور منصور حلاج نے [سبحانی ما اعظم شانی] اور [انا الحق] کہا یہ سب اسی باب (وحدت الوجود) میں سے ہے۔ اسی طرح حاجی صاحب فرماتے ہیں: بندہ قبل وجود خود باطن خدا تھا اور ظاہر بندہ [کنت کنزا مخفيا] اس پر دلیل ہے۔ مثلا اللہ کی مثال تخم کی اور مخلوق کی مثال درخت کی سی ہے، درخت مع تمام شاخوں اور پتوں و پھل و پھول کے اس میں چھپا تھا۔ جب تخم نے اپنے باطن کو ظاہر کیا خود چھپ گیا، جو کوئی دیکھتا ہے درخت ہے تخم دکھائی نہیں دیتا۔ (شمائم امدادیہ ص 38)

حالانکہ قرآن کہتا ہے: [لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْ] نہ اس نے کسی کو جنا نہ وہ کسی سے جنا گیا۔ (الاخلاص: 3)

اور یہ دیو بندی عالم کہتا ہے کہ اللہ (نعوذ باللہ) کتے، بلی، چوہے، گدھے و گھوڑے کی شکل میں ظاہر ہو رہا ہے۔ اس لیے حاجی امداد اللہ کہتے ہیں: [مَنْ اَرَادَ اَنْ يَّجْلِسَ مَعَ اللہِ فَلْيَجْلِسْ مَعَ اَہْلِ التَّصَوُّفِ] جو اللہ کے ساتھ بیٹھنا چاہے اسے چاہیے کہ اہل تصوف کے ساتھ بیٹھے۔ [یا،،من راٰني فقد رای الحق] اس کا دوسرا معنی یہ ہے کہ: [من راٰني فقد رای اللہ تعالٰی] جس نے مجھ کو دیکھا اس نے اللہ کو دیکھا۔ (شمائم امدادیہ 49) اسی طرح [اِنِّىْ اَنَا رَبُّكَ فَاخْلَعْ نَعْلَيْكَ] بے شک میں تیرا رب ہوں اپنے جوتے اتار دے۔ جو طور پر آواز آئی تھی وہ موسیٰ کے باطن سے آئی تھی۔ (شمائم امدادیہ: 59)

اسی طرح علامہ محمد فضل حق خیر آبادی دیوبندی لکھتے ہیں: اگر انبیاء وحدت الوجود کی دعوت دیتے تو ان کی رسالت کا فائدہ فوت ہو جاتا، یہ عقیدہ عوام کے ذہنوں کی سطح سے بلند ہے، اس لیے ان حضرات کو یہ حکم دیا گیا کہ وہ لوگوں کی ذہنی سطح کو سامنے رکھ کر گفتگو کریں۔ [الروض المجود از خیر آبادی: ص 44]

غور کیجیے! اگر یہ عقیدہ وحدت الوجود واقعی انبیاء علیہم السلام پر اترا تھا تو انبیاء نے اس کو امت تک کیوں نہ پہنچایا۔۔۔۔۔ حالانکہ انھیں اللہ تعالیٰ نے بڑی سختی کے ساتھ تاکید فرمائی تھی: [یٰۤاَیُّہَا الرَّسُوۡلُ بَلِّغۡ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ مِنۡ رَّبِّکَ ؕ وَ اِنۡ لَّمۡ تَفۡعَلۡ فَمَا بَلَّغۡتَ رِسَالَتَہٗ] اے رسول! پہنچا دے جو تیرے رب کی طرف سے تجھ پر نازل کیا گیا ہے، اگر تو نے یہ کام نہ کیا تو تو نے رسالت کو نہیں پہنچای۔ (المائدہ: 67)

اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے تنبیہ فرمائی: جو شخص یہ کہے کہ اللہ کے رسول نے کچھ چھپا لیا ہے، وہ اللہ کے رسول ﷺ پر بہتان باندھتا ہے۔ [بخاری، کتاب التفسیر (سورۃ والنجم) باب: 4855]

اسی طرح مولوی انور شاہ کشمیری جو دیوبندیوں کے مشہور عالم ہیں، حدیث [فكنت سمعه الذي يسمع بہٖ] کے تحت لکھتے ہیں:

[قلت و ھٰذا عدول عن حق الالفاظ لان قولہٗ كنت سمعہ الذي بصيغة المتكلم يدل علٰی انہٗ لم يبق من المتقرب بالنوافل الا بجسدہٖ وشبہہٖ وصار المتصرف فيہ الحضرة الالٰھية فسحب و ھٰذا الذي عناہ الصوفية بالفناء في اللہ تعالٰی ای الانسلاخ عن دواعی نفسہٖ حتی لا يكون المتصرف فيہ الا ھو و في الحديث لمعة الٰی وحدة الوجود وکان مشائحنا مولعون بتلك المسئلة الٰی زمن الشاہ عبدالعزيز اما انا لست بمتشدد فيہا]

[کنت سمعہ الذي] کے یہ معنی بیان کرنا کہ بندہ کے کان، آنکھ وغیرہ اعضاء حکمالہی کی نافرمانی نہیں کرتے، حق الفاظ سے عدول کرنا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کے قول [كنت سمعہ الذي] میں [كنت] صیغہ متکلم اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ مقرب بالنوافل یعنی بندہ میں سوائے جسد و صورت کے کوئی چیز باقی ہی نہیں رہی اور اس میں صرف اللہ تعالیٰ ہی متصرف ہے اور یہی وہ معنی ہے جن کو صوفیائے کرام فنا فی اللہ سے تعبیر کرتے ہیں۔ یعنی بندہ کا دواعی نفس سے بالکل پاک ہو جانا، یہاں تک کہ اس بندہ میں اللہ کے سوا کوئی شے متصرف نہ رہے اور حدیث مذکور میں وحدت الوجود کی طرف چمکتا ہوا اشارہ ہے، ہمارے مشائخ شاہ عبدالعزیز صاحب کے زمانے تک اس مسئلہ وحدت الوجود میں بڑے متشدد اور حریص تھے لیکن میں متشدد نہیں ہوں۔ [فیض الباری:4/428]

اس طرح زکریا صاحب لکھتے ہیں: اس جگہ دو واقعے اپنے اکابر کے نمونے کے لیے لکھنے کو دل چاہتا ہے، ایک تو وہ مکتوب گرامی جو شیخ المشائخ قطب الارشاد حضرت گنگوہی قدس سرہ نے اپنے پیر و مرشد شیخ العرب والعجم حاجی امداد اللہ صاحب اعلیٰ اللہ مراتبہ کی خدمت میں لکھا، جو مکاتیب رشیدیہ میں بھی طبع ہو چکا ہے، پس زیادہ عرض کرنا گستاخی اور شوخ چشمی ہے، یا اللہ! معاف فرمانا کہ حضرت کے ارشاد کے تحریر ہوا ہے۔ جھوٹا ہوں، کچھ نہیں ہوں، تیرا ہی ظل ہے، تیرا ہی وجود ہے، میں کیا ہوں کچھ نہیں ہوں اور جو میں ہوں وہ تو ہے اور میں اور تو خود شرک در شرک ہیں۔ [فضائل صدقات: 556]

[اَسْتَغْفِرُ اللہَ اَسْتَغْفِرُ اللہَ اَسْتَغْفِرُ اللہَ وَ لَا حَوْلَ وَ لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللہِ]

تعلیم الاسلام کے دیوبندی مصنف لکھتے ہیں:علم تصوف کا ایک نہایت باریک مسئلہ وحدت الوجود یا ،،ہمہ اوس،، ہے یعنی تمام موجودات کو حق تعالیٰ کا وجود سمجھنا اور وجود ماسوا کو محض معتبر سمجھنا، شمار کرنا جیسے موج حباب قطرہ اور برف کو پانی خیال کرنا، چنانچہ مولانا جامی فرماتے ہیں:

[ليس في الكائنات غيرك شيء انت شمس الضحٰی وغيرك]

فی چہ باشد بفارسی سایہ

سایہ از روشنی بر بمایہ

دو جہاں مایہ است و معنی تو

نیست موجود صورتے بے تو

امیر شاہ خان صاحب رشید احمد گنگوہی سے بیان کرتے ہیں: سید صاحب کی نسبت میں ذاتِ بحت کی تجلی تھی۔ [ارواحِ ثلاثہ: 185] اور [ذاتِ بحت] کا معنی ذاتِ الٰہی ہے۔

اشرف علی تھانوی صاحب لکھتے ہیں: کاملین میں ایک درجہ ہے ابوالوقت کہ وہ جس وقت تجلی کو چاہیں اپنے اوپر وارد کر لیں، کذا سمعت مرشدی۔ عجب نہیں کہ حضرت شاہ صاحب نے اس وقت اپنے پر جبار کی تجلی کو وارد کیا ہو اور اس کی مظہریت کی حیثیت سے اس کو توجہ سے دفع فرما دیا ہو۔ [ارواحِ ثلاثہ:8]

زکریا صاحب منصور حلاج کے بارے میں لکھتے ہیں: دی گئی منصور کو پھانسی ادب کے ترک پر۔۔۔۔ تھا انا الحق ،،حق،، مگر ایک لفظ گستاخانہ تھا۔ [ولی کامل از مفتی عزیز الرحمن: ص 249]

ایک دوسری جگہ زکریا صاحب فرماتے ہیں: حق سبحانہ و تقدس جو حقیقتا ہر جمال و حسن کا منبع ہیں اور حقیقتا دنیا میں کوئی بھی جمال ان کے علاوہ نہیں ہے۔ [فضائلِ قرآن:ص300]

اسی طرح زکریا صاحب کے مریدِ خاص صوفی اقبال لکھتے ہیں: عشق و معشوق و عاشق ایک کہہ کر سرِ وحدت سمجھا دیا کس نے۔ [محبت:ص70]

،،انکشاف،، کے دیوبندی مصنف لکھتے ہیں: کشفِ کبریٰ کو کشفِ الٰہی بھی کہتے ہیں یعنی ذاتِ حق سبحانہ کا مشاہدہ اور معائنہ ہو جانا اور جملہ حجابات اور اعتبارات کا اٹھ جانا اور نورِ بصیرت سے خلق کو عینِ حق اور حق کو عینِ خلق دیکھنا، سالک کا مقصودِ اصلی کشف یہی ہے۔ [انکشاف:ص36]

نظریہ وحدت الوجود میں ڈوبا ہوا ایک قصہ پڑھیے جو تذکرۃ الرشید میں پیر جیو محمد جعفر صاحب ساڈھوری بیان کرتے ہیں:

ایک روز مولانا خلیل احمد صاحب زید مجدہ نے دریافت کیا کہ یہ حافظ مینڈھو شیخ پوری کیسے شخص تھے۔آپ نے فرمایا: پکا کافر تھا۔ اور اس کے بعد مسکرا کر ارشاد فرمایا کہ:ضامن علی جلال آبادی تو توحید میں غرق تھے۔ ایک بار ارشاد فرمایا: ضامن علی جلال آبادی کی سہارنپور میں بہت کی رنڈیاں مرید تھیں، ایک بار یہ سہارنپور میں کسی رنڈی کے مکان پر ٹھہرے ہوئے تھے۔ سب مرید نیاں اپنے میاں صاحب کی زیارت کے لیے حاضر ہوئیں مگر ایک رنڈی نہیں آئی۔ میاں صاحب بولے کہ فلانی کیوں نہیں آئی؟ رنڈیوں نے جواب دیا: میاں صاحب ہم نے اس کو بہت سمجھایا کہ چل میاں صاحب کی زیارت کو تو اس نے کہا میں بہت گنہگار ہوں اور بہت روسیاہ ہوں، میاں صاحب کو کیا منہ دکھاؤں، میں زیارت کے قابل نہیں۔ میاں صاحب نے کہا: نہیں جی! تم اسے ہمارے پاس ضرور لانا۔ چنانچہ رنڈیاں اسے لے کر آئیں۔ جب وہ سامنے آئی تو میاں صاحب نے پوچھا: بی! تم کیوں نہیں آئی تھیں؟ اس نے کہا کہ جناب روسیاہی کی وجہ سے زیارت کو آتے ہوئے شرماتی تھی۔ میاں صاحب بولے: بی! تم کیوں شرماتی ہو؟ کرنے والا کون ہے اور کروانے والا کون؟ وہ تو وہی ہے۔ رنڈی یہ سن کر آگ بگولا ہو گئی اور خفا ہو کر کہا: لاحول ولا قوۃ، اگر چہ میں روسیاہ، گنہگار ہوں مگر ایسے پیر کے منہ پر پیشاب بھی نہیں کرتی ۔ میاں صاحب تو شرمندہ ہو کر سرنگوں رہ گئے اور وہ اٹھ کر چل دی۔ (تذكرة الرشيد :2/242)

بزرگوں کی روحوں سے امداد:

دیو بندیوں کے مشہور عالم احسن گیلانی صاحب لکھتے ہیں:پس بزرگوں کی ارواح سے مدد لینے کے ہم منکر نہیں۔ (حاشیہ سوانح قاسمی:1/337)

مولانا نجم الدین دیوبندی لکھتے ہیں:

علمائے دیوبند اس بات کے بھی قائل نہیں ہیں کہ انسان اپنی زندگی میں یا مرنے کے بعد سرے سے کوئی تصرف نہیں کر سکتا۔ (زلزله در زلزله:ص101)

اس عقیدے پر مبنی مندرجہ ذیل واقعہ اس عقیدے کو قاری کے لیے اور واضح کرتا ہے۔

مولانا اشرف علی تھانوی مولوی نظام الدین صاحب کرانوی سے، وہ مولوی عبداللہ براقی سے روایت کرتے ہیں، ایک نہایت معتبر شخص ولایتی بیان کرتے ہیں کہ میرے ایک دوست جو کہ بقية السلف، حجة الخلف، قدوة السالكين، زبدة العارفین، شیخ الکل فی الکل مولانا حاجی امداد الله صاحب چشتی صابری تھانوی ثم المکی سلمہ اللہ سے بیعت تھے، حج خانہ کعبہ کو تشریف لے جاتے تھے۔ بمبئی سے آگبوٹ میں سوار ہوئے، آگبوٹ نے چلتے چلتے ٹکر کھائی اور قریب تھا کہ چکر کھا کر غرق ہو جائے یا دوبارہ ٹکرا کر پاش پاش ہو جائے۔ انھوں نے جب دیکھا کہ اب مرنے کے سوا چارہ نہیں، اسی مایوسانہ حالت میں گھبرا کر اپنے پیر روشن ضمیر کی طرف خیال کیا اور عرض کیا: اس وقت سے زیادہ کون سا وقتِ امداد کا ہو گا؟ اللہ تعالیٰ سمیع و بصیر کارساز مطلق ہے۔ اسی وقت ان کا آگبوٹ غرق سے نکل گیا اور تمام لوگوں کو نجات ملی۔ ادھر تو یہ قصہ پیش آیا ادھر اگلے روز مخدوم جہاں اپنے خادم سے بولے: ذرا میری کمر تو دباؤ نہایت درد کرتی ہے۔ خادم نے کمر دباتے دباتے پیراہنِ مبارک جو اٹھایا تو دیکھا کمر چھلی ہوئی ہے اور اکثر جگہ سے کھال اتر گئی ہے۔ پوچھا: یہ کیا بات ہے، کمر کیوں چھلی؟ فرمایا کچھ نہیں، پھر پوچھا آپ خاموش رہے، تیسری مرتبہ پھر دریافت کیا: یہ کہیں سے رگڑ لگی ہے اور آپ تو کہیں تشریف بھی نہیں لے گئے۔ فرمایا: ایک آگبوٹ ڈوبا جاتا تھا، اس میں تمھارا دینی اور سلسلے کا بھائی تھا، اس کی گریہ وزاری نے مجھے بے چین کر دیا، آگبوٹ کو کمر کا سہارا دے کر اوپر اٹھایا، جب آگے چلا اور بندگانِ خدا کو نجات ملی، اسی سے چھل گئی ہو گی اور اس وجہ سے درد ہے مگر اس کا ذکر نہ کرنا۔ (کراماتِ امدادیہ:ص36)

اس واقعہ کی ایک اور روایت یوں ہے: ایک طالب علم قدرت علی ساکن ایندری ملک پنجاب مرید و خادم حاجی صاحب کی خدمت میں حاضر تھا۔ اس نے بیان کیا کہ بے شک فلاں وقت میں حاضر تھا، حاجی صاحب حجرے سے باہر تشریف لائے اور اپنی لنگی بھیگی ہوئی مجھ کو دی اور فرمایا: اس کو کنویں کے پانی سے دھو کر صاف کر لو۔ اس لنگی کو جب سونگھا، اس میں دریا شور کی بو اور چکنا پن معلوم ہوا۔ اس کے بعد حافظ صاحب اپنے حجرے سے برآمد ہوئے اور اپنی لنگی دی، اس میں بھی اثرِ دریا کا معلوم ہوتا تھا۔ (کراماتِ امدادیہ: ص14)

مشرکینِ مکہ سے سبقت لے جانا:

اس ایک من گھڑت قصے میں حاجی امداد اللہ کو حاجت روا، مشکل کشا، عالم الغیب اور حاضر و ناظر ثابت کیا گیا ہے اور مرید صاحب گمراہی میں مشرکینِ مکہ سے بھی سبقت لے گئے، اس لیے کہ جب مشرکینِ مکہ کسی کشتی میں سوار ہوتے اور طوفان آنے کی وجہ سے [ظَنُّوۡۤا اَنَّہُمۡ اُحِیۡطَ بِہِمۡ ۙ دَعَوُا اللّٰہَ مُخۡلِصِیۡنَ لَہُ الدِّیۡنَ] انہیں یقین ہو جاتا کہ وہ گھیر لیے گئے ہیں تو اللہ کے لیے دین کو خالص کرتے ہوئے صرف اللہ ہی کو پکارتے۔ [یونس:22]

لیکن یہاں مرید صاحب کا عقیدہ دیکھیے جب انھوں نے دیکھا کہ مرنے کے سوا چارہ نہیں، اس مایوسانہ حالت میں گھبرا کر اپنے پیر روشن ضمیر کی طرف خیال کیا اور عرض کیا۔ مشرکین اللہ کو پکاریں اور یہ مرید صاحب پیر روشن ضمیر کی طرف خیال کریں اور عرض کریں۔ یہ عجب تقسیم ہے۔ اسی لیے ابو جہل کا بیٹا عکرمہ رضی اللہ عنہ مسلمان ہوا کہ اے مشرکینِ مکہ! طوفان آنے پر تم صرف اللہ کو پکارتے ہو اور اپنے بنائے ہوئے معبود بھول جاتے ہو، اگر اللہ نے مجھے نجات دی تو میں خشکی پر بھی اللہ ہی کو پکارواں گا۔ زمین پر قدم رکھتے ہی اللہ کی توحید کا اعلان کر دیا، جیسا کہ قرآن بھی مشرکینِ مکہ کی عادت کا تذکرہ کرتا ہے: [فَاِذَا رَکِبُوۡا فِی الۡفُلۡکِ دَعَوُا اللّٰہَ مُخۡلِصِیۡنَ لَہُ الدِّیۡنَ ۬ۚ فَلَمَّا نَجّٰہُمۡ اِلَی الۡبَرِّ اِذَا ہُمۡ یُشۡرِکُوۡنَ]

جب وہ کشتی میں سوار ہوتے تو اللہ کے لیے دین کو خالص کرتے ہوئے صرف اسی کو پکارتے ہیں، جب اللہ انھیں خشکی کی طرف نجات دیتا ہے تو وہ شرک کرنے لگ جاتے ہیں۔ [العنکبوت:65]

اور مرید صاحب گمراہی اور ضلالت میں اتنے بڑھے ہوئے ہیں کہ جب کشتی طوفان میں گھر جاتی ہے اور موت سامنے ہوتی ہے تو اللہ کو بھول کر غیر اللہ سے عرض کرنے لگ جاتے ہیں۔ وہ شاید اس لیے کہ تھانوی صاحب کے بقول ہر قریہ میں ایک قطب ہوتا ہے اور ایک غوث ہوتا ہے۔ بعض نے کہا قطب الاقطاب کو ہی غوث کہتے ہیں۔ (تعلیم الدین:120)

مرید پھر غوث کو جو فریاد سن رہا ہوتا ہے، اسے نہ پکارے تو کسے پکارے۔ ایک جگہ اللہ مشرکینِ مکہ سے یہ سوال کرتا ہے:

[قُلۡ مَنۡ یُّنَجِّیۡکُمۡ مِّنۡ ظُلُمٰتِ الۡبَرِّ وَ الۡبَحۡرِ تَدۡعُوۡنَہٗ تَضَرُّعًا وَّ خُفۡیَۃً ۚ لَئِنۡ اَنۡجٰىنَا مِنۡ ہٰذِہٖ لَنَکُوۡنَنَّ مِنَ الشّٰکِرِیۡنَ]،[قُلِ اللّٰہُ یُنَجِّیۡکُمۡ مِّنۡہَا وَ مِنۡ کُلِّ کَرۡبٍ ثُمَّ اَنۡتُمۡ تُشۡرِکُوۡنَ]

اے نبی (ﷺ)! ان سے پوچھیے کہ تمہیں خشکی اور تری کے اندھیروں سے کون نجات دیتا ہے اور تم اسی (اللہ) کو گڑگڑا کر اور آہستہ پکارتے ہو کہ اگر ہمیں اس مصیبت سے نجات دے دے تو ہم ضرور شکر گزار بندے بن جائیں گے۔ اے نبی! کہہ دیجیے اللہ ہی تمہیں اس مصیبت اور ہر مصیبت سے نجات دیتا ہے۔ پھر تم شرک کرنے لگ جاتے ہو۔ [الأنعام:64،63]

اللہ کا تو یہ دعویٰ ہے کہ اللہ نجات دیتا ہے اور مرید کا یہ عقیدہ کہ اے پیر! اس سے زیادہ کون سا وقتِ امداد کا ہو گا؟ مشرکینِ مکہ کی تو یہ عادت تھی کہ وہ اللہ کو پکارتے تھے اور ادھر یہ مرید ہے کہ پیر صاحب کو۔ فرق ملاحظہ فرمائیں۔ ایک جگہ اللہ تعالیٰ نے مشرکین سے یوں فرمایا:

[وَ اِذَا مَسَّکُمُ الضُّرُّ فِی الۡبَحۡرِ ضَلَّ مَنۡ تَدۡعُوۡنَ اِلَّاۤ اِیَّاہُ ۚ فَلَمَّا نَجّٰىکُمۡ اِلَی الۡبَرِّ اَعۡرَضۡتُمۡ ؕ وَ کَانَ الۡاِنۡسَانُ کَفُوۡرًا]

اور جب تمہیں سمندر میں تکلیف پہنچتی ہے تو اللہ کے سوا جن کو تم پکارتے ہو وہ تمہیں بھول جاتے ہیں۔ پھر جب وہ تمہیں خشکی کی طرف نجات دیتا ہے تو تم پھر جاتے ہو اور انسان ناشکرا ہے۔ [بنی اسرائیل:67]

مشرکین کو تو سمندر میں غیراللہ بھول جاتے ہیں صرف اللہ ہی یاد رہتا ہے اور دیوبندی مرید کو سمندر میں غیراللہ کی یاد ستاتی ہے اور غیراللہ کو پکارنے میں مشغول ہو جاتا ہے۔ یہ عجیب تقسیم ہے۔ مشرکین کے بارے میں اللہ فرماتا ہے: [وَ اِذَا غَشِیَہُمۡ مَّوۡجٌ کَالظُّلَلِ دَعَوُا اللّٰہَ مُخۡلِصِیۡنَ لَہُ الدِّیۡنَ]

اور جب انھیں سائبان کی طرح موج ڈھانپ لیتی ہے تو وہ اللہ کے لیے دین کو خالص کرتے ہوئے اللہ کو پکارتے ہیں۔ [لقمان:32]

ایک جگہ اللہ کافروں سے یہ سوال کرتا ہے کہ اگر تم پر اللہ کا عذاب آ جائے: [اَغَیۡرَ اللّٰہِ تَدۡعُوۡنَ ۚ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ]،[ بَلۡ اِیَّاہُ تَدۡعُوۡنَ]

کیا اس وقت بھی غیر اللہ کو پکارو گے اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو (نہیں) بلکہ تم خاص اللہ ہی کو پکارتے ہو۔ [الأنعام:41،40]

اور تمھاری یہ حالت ہو جاتی ہے: [وَ تَنۡسَوۡنَ مَا تُشۡرِکُوۡنَ] اور جن کو تم نے اللہ کا شریک بنایا تھا ان کو بھول جاتے ہو۔ (الأنعام:41)

لیکن یہاں تو مرید صاحب کا باوا آدم ہی نرالا ہے۔ حاجی امداد اللہ صاحب کو مشکل کشا حاجت روا مان کر عذاب و طوفان میں بھی غیر اللہ سے یہ عرض کی جاتی ہے کہ اس وقت سےزیادہ اور کون سا وقت امداد کا ہوگا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : [اَمَّنۡ یُّجِیۡبُ الۡمُضۡطَرَّ اِذَا دَعَاہُ وَ یَکۡشِفُ السُّوۡٓءَ]

آیا کون ہے جو مصیبت زدہ کی پکار کو سنتا ہے، جس وقت وہ اسے پکارتا ہے اورمصیبت کو دور کرتا ہے۔ (النمل:62)

پھر خود ہی جواب دیتا ہے: [ءَ اِلٰہٌ مَّعَ اللّٰہِ ؕ قَلِیۡلًا مَّا تَذَکَّرُوۡنَ](کیا اب بھی یہی کہو گے کہ) اللہ کے علاوہ کوئی اور اللہ ہے، تم بہت کم نصیحت پکڑتے ہو۔ (النمل:62)

اب مرید صاحب جن کو پکار رہے ہیں کیا ان میں مصیبت دور کرنے کی طاقت ہے، حالانکہ اللہ فرماتا ہے: [فَلَا یَمۡلِکُوۡنَ کَشۡفَ الضُّرِّ عَنۡکُمۡ وَ لَا تَحۡوِیۡلًا] وہ تو اتنا اختیار بھی نہیں رکھتے کہ تم سے مصیبت کو ہٹا دیں یا پھیر دیں۔ (بني إسرائيل:56)

لیکن ذرا پیر صاحب کی جسارت ملاحظہ فرمائیں، فرماتے ہیں ایک آگبوٹ ڈوبا جاتا تھا۔

اس میں ایک تمھارا دینی سلسلے کا بھائی تھا، اس کی گریہ وزاری نے مجھے بے چین کر دیا اس لیے انڈیا سے چلے سمندر میں اکیلے یا حافظ ضامن کے ساتھ مل کر جہاز کو اٹھا کر سیدھا کر دیا، اگر اتنا بھاری جہاز اٹھا کر سیدھا کرنا اتنا ہی آسان تھا تو جہاز کے مسافر ہی اسے کاندھا دے کر ڈوبنے سے بچا لیتے۔ اسی طرح حاجی صاحب کو عالم الغیب ثابت کیا گیا ہے کہ اتنی دور سے گریہ و زاری سنلی۔ اسی طرح حاجی صاحب کو ہر جگہ حاضر و ناظر بنا دیا گیا ہے کہ بغیر کسی ذریعے کے بیچ سمندر کے پہنچ کر واپس تھانہ تشریف لے آتے ہیں، جب کہ کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی، جیسا کہ خادم کہتا ہے۔ آپ تو کہیں تشریف بھی نہیں لے گئے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ فاصلے اور ذرائع ان کے لیے کوئی حقیقت نہیں رکھتے۔

مردہ بزرگوں سے مدد:

احسن گیلانی فرماتے ہیں: وفات یافتہ بزرگوں کی ارواح سے امداد کے مسئلہ میں علمائے دیوبند کا خیال بھی وہی ہے جو عام اہل سنت والجماعت کا ہے، آخر جب ملائکہ جیسی روحانی ہستیوں سے خود قرآن ہی میں ہے کہ حق تعالیٰ اپنے بندوں کی امداد کرواتے ہیں۔ صحیح حدیثوں میں ہے کہ واقعہ معراج میں رسول اللہ ﷺ کو موسیٰ علیہ السلام سے تخفیفِ صلٰوۃ کے مسئلے میں امداد ملی اور دوسرے انبیائے کرام علیہم السلام سے ملاقاتیں ہوئیں، بشارتیں ملیں تو اس قسم کی ارواحِ طیبہ سے کسی مصیبت زدہ مومن کی امداد کا کام قدرت اگر لے تو قرآن کی کس آیت یا حدیث سے اس کی تردید ہوتی ہے۔ (حاشیہ سوانح قاسمی:1/332)

،،انکشاف،، کے دیوبندی مصنف امام غزالی کی کتاب احیاء العلوم سے کچھ حوالے ذکر کر کے لکھتے ہیں: اب مذکورہ اثبات سے آپ یہ بخوبی نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ ارواحِ اولیاء کو کس قدر من جانب اللہ اختیارات ہیں۔ (انکشاف:ص70،7)

ایک جگہ لکھتے ہیں: اولیاء اللہ کی ولایت اور ان کی کرامت ان کی وفات کے بعد بھی باقی اور باذن اللہ جاری رہتی ہے۔ اس ضمن میں اتنا سمجھ لیجیے کہ اللہ کے حکم سے ارواحِ اولیاء دنیا میں بھی آ سکتی ہیں اور بحکم الٰہی دوسرے کی مدد بھی کر سکتی ہیں۔ (انکشاف:ص67)

اخلاق حسین قاسمی صدر جمعیت علماء صوبہ دہلی فرماتے ہیں: مومن کی روح خاص کر اولیائے حق اور صلحائے امت کی روحیں جسم سے جدائی کے بعد اس عالمِ مادی میں تصرف کی قدرت رکھتی ہیں اور ان ارواح کا تصرف قانونِ الٰہی کے مطابق ہوتا ہے۔

(اہل اللہ کی عظمت علمائے دیوبند کی نظر میں از اخلاق حسین قاسمی)

فتاویٰ امدادیہ میں ہے: استمداد ارواحِ مشائخ سے صاحبِ کشف الارواح کے لیے قسم ثابت ہے۔ (فتاویٰ امدادیہ:4/104)

سوانح قاسمی کے مصنف ایک واقعہ ذکر کرتے ہیں: ایک بریلوی عالم اور ایک دیوبندی طالب علم کا مناظرہ طے ہوا، (دیوبندی طالب علم نے) مناظرے کا وعدہ ڈرتے ڈرتے کر لیا۔ تاریخ و حمل و مقام سب کا مسئلہ طے ہو گیا۔ واعظ مولانا صاحب بڑا زبردست عمامہ طویلہ و عریضہ سر پر لپیٹے ہوئے کتابوں کے پٹارے کے ساتھ مجلس میں اپنے حواریوں کے ساتھ جلوہ افروز ہوئے۔ ادھر یہ غریب دیوبندی امام منحنی و ضعیف، مسکین شکل، مسکین آواز، خوفزدہ، لرزاں و ترساں بھی اللہ اللہ کرتے ہوئے سامنے آیا۔ سننے کی بات یہی ہے کہ اس کے بعد اس دیوبندی امام نے مشاہدہ کے بعد بیان کی۔ کہتے تھے کہ مولانا واعظ صاحب کے سامنے میں بھی بیٹھ گیا۔ ابھی گفتگو شروع نہیں ہوئی تھی کہ اچانک اپنے بازو میں مجھے محسوس ہوا کہ ایک شخص اور جسے میں نہیں پہچانتا وہ بھی آکر بیٹھ گیا اور مجھ سے وہ اجنبی اچانک نمودار ہونے والی شخصیت کہتی ہے: گفتگو شروع کرو اور ہرگز نہ ڈرو۔ دل میں غیر معمولی قوت اس سے پیدا ہوئی۔ اس کے بعد کیا ہوا (دیوبندی امام صاحب کا بیان سنیے) کہ میری زبان سے کچھ فقرے نکل رہے تھے اور اسی طور پر نکل رہے تھے کہ میں خود نہیں جانتا تھا کہ کیا کہہ رہا ہوں جس کا جواب مولانا واعظ صاحب نے ابتدا میں تو دیا لیکن سوال و جواب کا سلسلہ ابھی دراز بھی نہیں ہوا تھا کہ ایک دفعہ مولانا واعظ کو دیکھتا ہوں کہ اٹھ کھڑے ہوئے، میرے قدموں میں سر ڈالے ہوئے رو رہے ہیں، پگڑی بکھری ہوئی ہے اور کہتے جاتے ہیں میں نہیں جانتا تھا کہ آپ اتنے بڑے عالم ہیں، اللہ مجھے معاف کیجیے۔ آپ جو کچھ فرما رہے ہیں یہی صحیح اور درست ہے، میں ہی غلطی پر تھا۔ یہ منظر ہی ایسا تھا کہ مجمع دم بخود تھا، کیا سوچ کر آیا تھا اور کیا دیکھ رہا تھا۔ دیوبندی امام نے کہا کہ اچانک نمودار ہونے والی شخصیت میری نظر سے اس کے بعد اوجھل ہو گئی اور کچھ نہیں معلوم کہ کون تھے اور قصہ کیا تھا۔ قصہ تو ختم ہو گیا۔ قصبہ کے مسلمان جو پہلے ہی سے دیوبندی امام صاحب کے معتقد تھے، ان کے عقیدتمندوں میں اس واقعہ نے چار چاند لگا دیے اور پہلے سے بھی زیادہ راحت و آرام میں دیوبندی امام صاحب کے اضافہ ہو گیا۔ شیخ الہند فرماتے ہیں: میں نے ان مولوی صاحب سے دریافت کیا کہ اچانک نمودار ہو کر غائب ہو جانے والی شخصیت کا حلیہ کیا تھا، حلیہ جو بیان کیا، فرماتے تھے کہ سنتا جاتا تھا اور الاستاذ کا ایک ایک خال و خط نظر کے سامنے آتا چلا جا رہا تھا۔ جب وہ بیان ختم کر چکے تو میں نے ان سے کہا کہ یہ تو الاستاد  تھے جو تمھاری امداد کے لیے حق تعالی کی طرف سے ظاہر ہوئے۔ (سوانح قاسمی:1/331)

اشرف السوانح: کے مصنف اشرف علی تھانوی صاحب کے پردادا محمد فرید صاحب کی وفات کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں: صاحب کسی بارات میں تشریف لے جا رہے تھے کہ ڈاکوؤں نے آکر بارات پر حملہ کیا، ان کے پاس کمان تھی اور تیر تھے، انھوں نے ڈاکوؤں پر دلیرانہ تیر برسانا شروع کیے، چونکہ ڈاکوؤں کی تعداد کثیر تھی اور ادھر بے سرو سامانی تھی، یہ مقابلے میں شہید ہو گئے۔ شہادت کے بعد ایک عجیب واقعہ ہوا۔ شب کے وقت اپنے گھر میں مثل زنده تشریف لائے اور اپنے گھر والوں کو مٹھائی لا کر دی اور فرمایا: اگر تم کسی پر ظاہر نہ کرو گی تو اسی طرح سے روز آیا کریں گے۔ لیکن ان کے گھر والوں کو اندیشہ ہوا کہ گھر والے جب بچوں کو مٹھائی کھاتے دیکھیں گے تو معلوم نہیں کیا شبہ کریں گے۔ اس لیے ظاہر کر دیا اور آپ تشریف نہیں لائے۔ یہ واقعہ خاندان میں مشہور ہے۔ (اشرف السوانح:1/10)

اللہ تو اس شخص کا تذکرہ کرتا ہے جسے تبلیغ کے جرم میں شہید کر دیا گیا:

[قِیۡلَ ادۡخُلِ الۡجَنَّۃَ ؕ قَالَ یٰلَیۡتَ قَوۡمِیۡ یَعۡلَمُوۡنَ]،[ بِمَا غَفَرَ لِیۡ رَبِّیۡ وَ جَعَلَنِیۡ مِنَ الۡمُکۡرَمِیۡنَ]

کہا گیا جنت میں داخل ہو جا، کہنے لگا اے کاش! میری قوم جان لیتی کہ میرے رب نے مجھے معاف کر دیا ہے اور مجھے مقربین میں سے کر دیا ہے۔ (يس :27،26)

اگر اس شہید کو دنیا میں واپس آنے کی اجازت ہوتی تو وہ یہ بات نہ کہتا: [یٰلَیۡتَ قَوۡمِیۡ یَعۡلَمُوۡنَ] بلکہ خود آ کر بتلا دیتا۔ روح تو اس وقت بھی واپس نہیں ہو سکتی جب یہ حالت ہوتی ہے: [فَلَوۡ لَاۤ اِذَا بَلَغَتِ الۡحُلۡقُوۡمَ] اور اللہ یہ چیلنج کرتا ہے: جب روح حلق میں آ کر پھنس جاتی ہے۔ (الواقعة:83)

[فَلَوۡ لَاۤ اِنۡ کُنۡتُمۡ غَیۡرَ مَدِیۡنِیۡنَ]،[تَرۡجِعُوۡنَہَاۤ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ] [سو اگر تم (کسی کے) محکوم نہیں تو کیوں نہیں]،[تم اسے واپس لے آتے، اگر تم سچے ہو]۔ [الواقعة :87،86]

اللہ اس شہید کی اس تمنا کو بھی رد کر دیتا ہے جو کہتا ہے کہ اللہ ! میری روح کو میرے جسم میں لوٹا دے تاکہ میں تیرے راستے میں جہاد کروں ۔

[مسلم، كتاب الإمارة، باب بيان أن أرواح الشهداء في الجنة و أنهم أحياء عند ربهم يرزقون:1887]

اللہ تعالیٰ تو کہتا ہے: [اَمۡوَاتٌ غَیۡرُ اَحۡیَآءٍ ۚ وَ مَا یَشۡعُرُوۡنَ ۙ اَیَّانَ یُبۡعَثُوۡنَ] مردہ ہیں زندہ نہیں اور ان کو تو یہ شعور بھی نہیں کہ انھیں کب اٹھایا جائے گا۔ (النحل:21)

اور دیو بندیوں کے نزدیک الاستاد کو سب کچھ معلوم تھا۔ اللہ تو کہتا ہے:

[فَیُمۡسِکُ الَّتِیۡ قَضٰی عَلَیۡہَا الۡمَوۡتَ وَ یُرۡسِلُ الۡاُخۡرٰۤی اِلٰۤی اَجَلٍ مُّسَمًّی] پھر جن پر موت کا حکم کر چکتا ہے ان کو روک رکھتا ہے اور باقی روحوں کو ایک وقت مقرر تک کے لیے چھوڑ دیتا ہے۔ (الزمر:42)

اللہ موت والوں کی روحوں کو روک لیتا ہے اور ان ( دیوبندی علماء) کے بقول روح ہر جگہ آجا سکتی ہے۔