تسبیح، سبحان اللہ، الحمد للہ اور اللہ اکبر کے احکامات

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

تسبیح کے متعلق احکامات

① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
كلمتان خفيفتان على اللسان ثقيلتان فى الميزان حبيبتان إلى الرحمن: سبحان الله وبحمده سبحان الله العظيم
”دو کلمے زبان پر ہلکے، ترازو میں بھاری اور رحمان کو پیارے ہیں: سبحان الله وبحمده سبحان الله العظيم“۔
بخاری، کتاب الدعوات 6406، مسلم، الدعاء والذکر والتوبة والاستغفار 2694، ترمذی، کتاب الدعوات 3467۔
② سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أيعجز أحدكم أن يكسب كل يوم ألف حسنة
”کیا تم میں سے کوئی شخص روزانہ ایک ہزار نیکی کما سکتا ہے؟“
آپ کے ہم نشینوں میں سے کسی نے دریافت کیا: ہم میں سے کوئی ایک ہزار نیکی کیسے کما سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
يسبح مائة تسبيحة فيكتب له ألف حسنة أو تحط عنه ألف خطيئة
”جو شخص سو مرتبہ سبحان اللہ کہتا ہے تو اس کے لیے ایک ہزار نیکی لکھ دی جاتی ہے یا اس کی ایک ہزار خطائیں مٹا دی جاتی ہیں“۔
مسلم، الذکر والدعاء والتوبة والاستغفار 2698، ترمذی، کتاب الدعوات 3463۔
③ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من قال حين يصبح وحين يمسي: سبحان الله وبحمده مائة مرة لم يأت أحد يوم القيامة بأفضل مما جاء به إلا أحد قال مثل ما قال أو زاد عليه
”جو شخص صبح شام سو مرتبہ "سبحان الله وبحمده” پڑھتا ہے تو قیامت کے دن اس سے بہتر عمل لے کر کوئی نہیں پیش ہوگا سوائے اس شخص کے جس نے اس کی مثل یا زائد مرتبہ یہ کلمات پڑھے ہوں گے“۔
مسلم، الذکر والدعاء والتوبة والاستغفار 2691، ابوداؤد، کتاب الادب 5091، ترمذی، کتاب الدعوات 3469۔
④ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ألا أخبرك بأحب الكلام إلى الله؟ إن أحب الكلام إلى الله سبحان الله وبحمده
”کیا میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ کلام نہ بتاؤں؟ "سبحان الله و بحمده” اس کا پسندیدہ کلام ہے“۔
مسلم، کتاب الذکر والدعاء والتوبة والاستغفار 2731، ترمذی، کتاب الدعوات 3593۔
⑤ سیدہ ام المؤمنین جویریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح صبح ان کے پاس سے تشریف لے گئے، حتیٰ کہ آپ نے نمازِ صبح ادا کی اور وہ اس وقت اپنی جائے نماز پر تھیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کے بعد تشریف لائے اور وہ ابھی بیٹھی ہوئی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ما زلت على الحال التى فارقتك عليها؟
”میں نے جس حالت میں تمہیں چھوڑا تھا، تم ابھی تک اسی حالت میں ہو؟“
انہوں نے کہا: ”جی ہاں!“
پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لقد قلت بعدك أربع كلمات ثلاث مرات لو وزنت بما قلت منذ اليوم لوزنتهن: سبحان الله وبحمده عدد خلقه ورضا نفسه وزنة عرشه ومداد كلماته
”میں نے تمہارے بعد چار کلمات تین مرتبہ کہے ہیں اگر ان کا اس چیز سے وزن کیا جائے جو تم نے صبح سے کہے ہیں تو یہ ان پر بھاری ہوں گے: اللہ تعالیٰ اپنی تعریف سمیت پاک ہے اپنی مخلوق کی تعداد کے برابر، اپنی ذات کی رضا کے برابر، اپنے عرش کے وزن کے برابر اور اپنے کلمات کی روشنائی کے برابر“۔
مسلم، کتاب الذکر والدعاء والتوبة والاستغفار 2726، ابوداؤد، کتاب الصلوة 1503، ترمذی، کتاب الدعوات 3555۔
⑥ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من قال سبحان الله العظيم وبحمده غرست له نخلة فى الجنة
”جو شخص سبحان الله العظيم وبحمده پڑھتا ہے تو اس کے لیے جنت میں ایک کھجور کا درخت لگا دیا جاتا ہے“۔
ترمذی، کتاب الدعوات 3464، روایت حسن ہے۔

سبحان اللہ، الحمد للہ اور اللہ اکبر کے متعلق احکامات

① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مہاجر فقراء رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے عرض کی: صاحبِ ثروت تو بلند درجے اور دائمی نعمتیں حاصل کر گئے، وہ بھی ہماری طرح نماز پڑھتے اور روزہ رکھتے ہیں لیکن ان کے پاس مال ہے، وہ اس سے حج کرتے ہیں، عمرہ کرتے ہیں، جہاد کرتے ہیں اور صدقہ کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ألا أعلمكم شيئا تدركون به من سبقكم وتسبقون من بعدكم ولا يكون أحد أفضل منكم إلا من صنع مثل ما صنعتم؟
”کیا میں تمہیں کوئی ایسا عمل نہ بتاؤں جس کے ذریعے تم اس چیز کو پا لو گے جس میں لوگ تم سے سبقت لے گئے اور اپنے بعد آنے والوں میں سے تم سبقت لے جاؤ گے، اور اس شخص کے سوا کوئی بھی تم سے افضل نہیں ہوگا جو تمہاری طرح کا عمل کرے گا؟“
انہوں نے عرض کی: ”کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم!“
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
تسبحون وتحمدون وتكبرون خلف كل صلاة ثلاثا وثلاثين
”تم ہر نماز کے بعد تینتیس بار سبحان اللہ، تینتیس بار الحمد للہ اور تینتیس بار اللہ اکبر پڑھو“۔
بخاری، کتاب الدعوات 6329، مسلم، المساجد ومواضع الصلوة 595، ابوداؤد، کتاب الصلوة 1504۔
② سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من سبح الله فى دبر كل صلاة ثلاثا وثلاثين وحمد الله ثلاثا وثلاثين وكبر الله ثلاثا وثلاثين فتلك تسعة وتسعون وقال تمام المائة: لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير غفرت خطاياه وإن كانت مثل زبد البحر
”جو شخص ہر نماز کے بعد تینتیس بار سبحان اللہ، تینتیس بار الحمد للہ اور تینتیس بار اللہ اکبر کہتا ہے اور یہ نانوے ہو گئے پھر سو پورا کرنے کے لیے کہا:
لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير
اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اس کی بادشاہت ہے، ہر قسم کی تعریف اسی کے لیے ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
تو اس کی خطائیں سمندر کی جھاگ کے برابر بھی ہوں تو وہ معاف کر دی جاتی ہیں“۔
بخاری، کتاب الدعوات 6329، مسلم، المساجد ومواضع الصلوة 595، ابو داؤد، کتاب الصلوة 1504۔
③ اور وہی بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لأن أقول: سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر أحب إلى مما طلعت عليه الشمس
”یہ کلمات سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر (اللہ پاک ہے، ہر قسم کی تعریف اس کے لیے ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور وہ سب سے بڑا ہے) کہنا مجھے دنیا بھر کی چیزوں سے زیادہ محبوب ہے“۔
مسلم، کتاب الذکر والدعاء والتوبة والاستغفار 2695، ترمذی، کتاب الدعوات 3597۔
④ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لقيت إبراهيم ليلة أسري بي فقال: يا محمد أقرئ أمتك مني السلام وأخبرهم أن الجنة طيبة التربة عذبة الماء وأنها قيعان وأن غراسها: سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر
”معراج کی رات میں ابراہیم علیہ السلام سے ملا تو انہوں نے فرمایا: اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)! میری طرف سے اپنی امت کو سلام پہنچانا اور انہیں بتانا کہ جنت کی مٹی نہایت زرخیز اور اس کا پانی شیریں ہے، اور وہ چٹیل میدان ہے، اور سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر پڑھنا وہاں پودے لگانا ہے“۔
ترمذی، کتاب الدعوات 3462، یہ روایت نہایت ضعیف ہے، اس کی سند میں عبد الرحمن بن اسحاق راوی نہایت کمزور ہے، نیز عبد الرحمن بن عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اپنے والد سے نہیں سنا۔

الحمد للہ کہنے کے متعلق احکامات

① سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن الله عز وجل ليرضى عن العبد أن يأكل الأكلة فيحمده عليها ويشرب الشربة فيحمده عليها
”اللہ عزوجل بندے سے اس بات پر راضی ہوتا ہے کہ وہ کھانا کھا کر اور پانی پی کر اللہ کا شکر اور اس کی حمد بیان کرتا ہے“۔
مسلم، کتاب الذکر والدعاء والتوبه والاستغفار 2734، ترمذی، کتاب الاطعمة 1816۔
② سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
كل أمر ذي بال لا يبدأ فيه بالحمد لله فهو أقطع
”ہر اہم کام جس کی ابتدا الحمد للہ سے نہ کی جائے وہ دست بریدہ اور نامکمل ہے“۔
ابوداؤد، کتاب الادب 4840، ابن ماجه، کتاب النکاح 1894، روایت ضعیف ہے، اس کی سند میں قرة بن عبد الرحمن صدوق ہے لیکن وہ منکر روایات بیان کرتا ہے، اس حدیث کی سند اور متن میں اضطراب ہے، دیکھئے ارواء الغلیل رقم 1، 2۔