نبی کریم ﷺ کی زبان اقدس پر کثرت سے جاری رہنے والی دعا

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ابو حمزہ عبدالخالق صدیقی کی کتاب صحیح فضائل اعمال سے ماخوذ ہے۔

نبی کریم ﷺ کی زبان اقدس پر کثرت سے جاری رہنے والی دعا

سورۃ بقرہ میں حج کے ذکر کے فوراً بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی دو بڑی بڑی قسموں کا ذکر فرمایا ہے: پہلی قسم ان لوگوں کی جن کا مطمع نظر صرف دنیوی منفعت ہوتی ہے، ان کے متعلق فرمایا کہ ایسے لوگوں کے لیے آخرت کی کامیابی کا کوئی حصہ ان کو نہیں ملے گا، الا یہ کہ وہ توبہ کر لیں اور اللہ انہیں معاف کر دے۔
دوسری قسم ان لوگوں کی، جن کے پیش نظر صرف دنیا نہیں، بلکہ آخرت بھی ہوتی ہے، اور ان کی پوری زندگی ان دعائیہ الفاظ سے تعبیر ہوتی ہے:
﴿رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ﴾
”اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا فرما، اور آخرت میں بھی ہمارے لیے بھلائی مقدر کر دے اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچانا۔“
(2-البقرة:201)

فائدہ:

احادیث میں اس دعا کی بڑی فضیلت آئی ہے، سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کثرت سے یہ دعا کرتے تھے۔
صحیح بخاری، کتاب الدعوات، رقم: 6389.
ابوداؤد وغیرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان یہی دعا کرتے تھے۔
سنن ابوداؤد، کتاب الحج، رقم: 1892.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک مریض کی عیادت کی جو سوکھ کر کانٹا ہو گیا تھا، آپ نے اسے یہی دعا کرنے کی نصیحت کی، اس نے ایسا ہی کیا اور اس کی بیماری دور ہو گئی.
صحیح مسلم، كتاب الذكر والدعاء، رقم: 2688 ـ مسند احمد: رقم: 11988.