مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

تراویح کے امام کے علاوہ دوسرے امام کا وتر پڑھنا

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ مبشر احمد ربانی کی کتاب احکام و مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

سوال :

نماز تراویح میں یہ عمل دیکھنے میں آیا ہے کہ تراویح ایک امام پڑھاتا ہے جبکہ وتر کی جماعت دوسرا امام کراتا ہے، کیا یہ عمل قرآن و سنت کے مطابق ہے ؟

جواب :

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث مبارکہ سے امام کے لیے جو شرائط ملتی ہیں ان میں یہ بات کہیں بھی موجود نہیں کہ تراویح اور وتر کے لیے ایک امام ہونا چاہیے، کوئی بھی صحیح العقیدہ امام ہو اس کی اقتداء میں نماز ادا کر لیں۔ تراویح اور وتر کی ایک امام بھی جماعت کروا سکتا ہے اور الگ الگ امام بھی، اس میں کوئی قباحت نہیں۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔