تبرج کی حرمت
مسلمان خاتون کافر اور جاہلی خاتون کے مقابلہ میں ممتاز اخلاق اور اوصافِ پوشیدہ کی حامل ہوتی ہے۔ اس کے اندر اخلاق کی پاسداری، عزت و عفت اور شرم و حیاء جیسے اوصاف ہوتے ہیں۔ لیکن جاہلی عورت کا اخلاق تبرج (بے پردگی) اور مردوں کے صنفی جذبات کو مشتعل کرنا ہوتا ہے۔
تبرج کے معنی کھل جانے اور ظاہر ہونے کے ہیں۔ علامہ زمخشری حنفی کہتے ہیں کہ تبرج کی حقیقت یہ ہے کہ جس چیز کو چھپانا از حد ضروری ہو اس کو بتکلف ظاہر کیا جائے۔ لیکن یہ لفظ اس اظہارِ زینت اور ان محاسن کے اظہار کے لیے مخصوص ہو گیا ہے جو عورتیں مردوں کے سامنے کرتی ہیں۔ اور علامہ زمخشری نے اس پر اس خصوصیت کا اضافہ کیا ہے کہ جس زینت کا اخفاء ضروری ہے اس کا قصداً اور بتکلف اظہار کیا جائے۔ یہ چیز جس کا اخفاء ضروری ہے، جسم کا کوئی حصہ بھی ہو سکتا ہے اور کسی عضو کی حرکت بھی، گفتگو اور چلنے کا طریقہ بھی ہو سکتا ہے اور زیور وغیرہ جیسی آرائش کی چیزیں بھی۔
تبرج کی مختلف صورتیں اور مظاہر ہیں جن سے لوگ قدیم زمانہ میں بھی آشنا تھے اور جدید زمانہ میں بھی آشنا ہیں۔ مفسرین نے بعض صورتوں کا ذکر :
وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْن تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَى
”تم اپنے گھروں میں وقار کے ساتھ رہو اور سابق دورِ جاہلیت کا سا دکھاوا نہ کرتی پھرو“ کی تفسیر کرتے ہوئے کیا ہے۔
سورہ الاحزاب : 33
مجاہد بن جبیر رحمہ اللہ (سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے شاگردِ خاص) کہتے ہیں : ”عورت باہر نکل کر مردوں کے درمیان چلا کرتی تھی۔“ مشہور مفسر قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں : ”عورتیں ناز نخرے کے ساتھ چلا کرتی تھیں۔“ اور مفسر مقاتل رحمہ اللہ کہتے ہیں : ”تبرج یہ ہے کہ عورتیں اپنا دوپٹہ اس طرح سروں پر ڈال لیا کرتیں کہ ہار، بالیاں، گردن وغیرہ کھلے رہتے۔“
تفسير ابن كثير ص : 1061 تفسیر در منشور : 602/6
یہ تھیں قدیم جاہلیت کے تبرج کی صورتیں یعنی مردوں کے ساتھ اختلاط ، چلنے میں ناز نخرہ اور دوپٹہ اس طرح اوڑھنا کہ جسم کے محاسن اور زینت ظاہر ہو جائے۔ لیکن فی زمانہ جدید جاہلیت نے تبرج کی جو نئی نئی صورتیں اور جو نت نئے ڈھنگ ایجاد کیے ہیں ان کے سامنے قدیم جاہلیت کا تبرج مات کھا گیا ہے۔
تبرج کا اطلاق کس صورت میں نہیں ہوگا
درجِ ذیل آداب کی پابندی کرنے کی صورت میں مسلم خاتون تبرج کے دائرہ سے نکل کر اسلامی تہذیب کی آغوش میں آ جاتی ہے :
(ا) غضِ بصر۔ کہ شرم و حیاء عورت کا سب سے زیادہ قیمتی زیور ہے۔ اور حیاء کا نمایاں ترین عنوان غضِ بصر ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْن مِنْ أَبْصَارِهِنَّ
”مومن عورتوں سے کہو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں۔“
سورہ النور : 31
(ب) مردوں کے ساتھ جسم کے مس ہونے (چھونے) کی حد تک اختلاط سے احتراز کہ جس کا مظاہرہ اس زمانہ میں سینما گھروں، یونیورسٹی کے راستوں، لیکچر ہالوں اور مسافر گاڑیوں میں ہوتا ہے۔
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
لأن يطعن فى رأس أحدكم بمخيط من حديد خير له من أن يمس امرأة لا تحل له
”اپنے سر میں لوہے کی سوئی چبھو دینا اس سے بہتر ہے کہ آدمی کسی ایسی عورت کو چھوئے، جس کو چھونا اس کے لیے جائز نہیں ہے۔“
بيهقي في شعب الايمان 374/4 ، ح : 5455) – والطبراني في الكبير : 211-212/20
(ج) اس کا لباس اسلامی تہذیب کے مطابق ہو۔ شرعی لباس وہ ہے جس میں درجِ ذیل اوصاف پائے جائیں :
◈ جو پورے جسم کے لیے ساتر (چھپانے والا) ہو سوائے مَا ظَهَرَ مِنْهَا کے یعنی چہرہ اور ہتھیلیوں کو مستثنیٰ کر کے پورا جسم ڈھک جانا چاہیے۔
◈ کپڑے کے اندر سے بدن دکھائی نہ دے اور نہ جھلکے اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
إن من أهل النار نساء كاسيات عاريات مائلات مميلات لا يدخلن الجنة ولا يجدن ريحها
”وہ عورتیں دوزخی ہیں جو کپڑے پہن کر برہنہ رہتی ہیں، مردوں کی طرف راغب ہوتی ہیں اور مردوں کو اپنی طرف راغب کرتی ہیں۔ ایسی عورتیں نہ جنت میں جائیں گی اور نہ اس کی خوشبو ہی پا سکیں گی۔“
مسلم كتاب الأدب باب النساء الكاسيات العاريات ح : 2128
کپڑے پہن کر برہنہ رہنے کا مطلب یہ ہے کہ ان کے کپڑے ساتر (جسم کو چھپانے والے) نہیں ہوں گے بلکہ باریک اور شفاف ہونے کی وجہ سے ان کے اندر سے بدن جھلک رہا ہو گا۔ بنی تمیم کی کچھ عورتیں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئیں اور ان کے جسم پر باریک کپڑے تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : ”اگر تم مومن عورتیں ہو تو یہ مومن عورتوں کے کپڑے نہیں ہیں۔“
(الطبرانی)
اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک دلہن آئی جو باریک اور شفاف اوڑھنی اوڑھے ہوئے تھی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : ”جو عورت اس قسم کے کپڑے پہنتی ہے وہ سورۃ النور پر ایمان نہیں رکھتی۔“
◈ عورتوں کا لباس ایسا چست نہ ہو کہ جسم کے نشیب و فراز نمایاں ہو جائیں جیسا کہ مغربی تہذیب کا لباس ہے، جو جسم اور شہوت کی پرستار تہذیب ہے اس تہذیب کے زیر اثر فیشن اختراع کرنے والے، اس انداز سے کپڑوں کی کٹنگ کرتے ہیں کہ پستان، کمر اور سرین جیسے اعضائے جسم نمایاں ہو جاتے ہیں اور اس طرز پر سلے ہوئے ہوتے ہیں کہ اس سے جذبات میں ہیجان اور سفلی خواہشات میں تحریک پیدا ہوتی ہے۔ اس قسم کا لباس پہننے والی عورتیں بھی كاسيات عاريات (کپڑے پہن کر برہنہ رہنے والیوں) میں شامل ہیں۔ اور یہ کپڑے باریک اور شفاف کپڑوں سے بھی زیادہ ترغیب اور فتنہ کا باعث ہیں۔
◈ عورتیں ایسا لباس نہ پہنیں جو مردوں کے لیے مخصوص ہو مثلاً : پتلون جو ہمارے زمانہ میں مردوں کے لیے مخصوص ہے۔ یہ اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کی مشابہت کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے جس طرح عورتوں کی مشابہت کرنے والے مردوں پر لعنت فرمائی ہے اور عورت کو مرد کا لباس اور مرد کو عورت کا لباس پہننے سے منع فرمایا ہے۔
ان روایات کی تخریج ”لباس اور زینت“ کے باب ”عورت اور مرد کا ایک دوسرے کی مشابہت کرنا“ کے تحت گزر چکی ہے۔
◈ ایسا لباس نہ ہو جو یہودی، نصرانی اور مشرک عورتوں کے لیے مخصوص ہو کیونکہ ان سے مشابہت اسلام میں ممنوع ہے۔ اسلام مرد اور عورت میں امتیاز اور ظاہر و باطن میں کافر قوموں کی تقلید سے آزادی چاہتا ہے۔ چنانچہ اس نے بہت سے امور پر کفار کی مخالفت کرنے کا حکم دیا ہے۔ ارشادِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے :
من تشبه بقوم فهومنهم
”جس نے کسی قوم کی مشابہت کی وہ انہی میں سے ہے۔“
ابو داود كتاب اللباس باب في لبس الشهرة ح : 4031
(و) گفتار اور چال ڈھال میں وقار اور استقامت اختیار کرے اور چہرہ اور جسم کو ایسی حرکتوں سے بچائے رکھے جس سے جذبات مشتعل ہوتے ہوں۔ ناز نخرے اور بری ادائیں فاجر عورتوں کا ڈھنگ ہے۔ مسلم خواتین کے اخلاق سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے :
فلا تخضعن بالقول فيطمع الذى فى قلبه مرض
”دبی زبان سے بات نہ کرو کہ جس کے دل میں بیماری ہے وہ بری خواہش کرنے لگے۔“
سورہ الاحزاب : 32
(ھ) اپنی پوشیدہ زینت کی طرف مردوں کو متوجہ کرنے کے لیے کشش پیدا نہ کرے مثلاً : خوشبوؤں کا استعمال، زیورات کی جھنکار وغیرہ۔ ارشادِ الہی ہے :
وَلَا يَضْرِبْنَ بِأَرْجُلِهِنَّ لِيُعْلَمَ مَا يُخْفِينَ مِنْ زِينَتِهِنَّ
”اپنے پاؤں زمین پر مارتی ہوئی نہ چلیں کہ جو زینت انہوں نے چھپا رکھی ہے وہ معلوم ہو جائے۔“
سورہ النور : 31
دورِ جاہلیت میں جب عورت لوگوں کے پاس سے گزرتی تو اپنے پاؤں زمین پر مار کر چلتی، تاکہ پازیب کی جھنکار لوگ سنیں۔ قرآن نے اس سے منع فرمایا، کیونکہ یہ حرکت شہوت پسند مردوں کے شہوانی خیالات کو شہ دیتی ہے اور عورت کے بارے میں یہ برا خیال پیدا ہونے لگتا ہے کہ وہ مردوں کی نگاہوں کو اپنی طرف اور اپنی زینت کی طرف مائل کرنا چاہتی ہے۔
اس حکم میں مختلف قسم کی مہکنے والی خوشبوئیں اور عطریات شامل ہیں جن کو عورتیں صنفی جذبات کو برانگیختہ کرنے اور مردوں کو اپنی طرف راغب کرنے کی غرض سے استعمال کرتی ہیں۔ چنانچہ حدیث میں ہے :
المرأة إذا استعطرت فمرت بالمجلس فهي كذا وكذا يعني زانية
”عورت جب خوشبو لگا کر نکلتی ہے اور کسی مجلس کے پاس سے گزرتی ہے تو وہ ایسی اور ایسی ہے یعنی زانیہ ہے۔“
ابو داود كتاب الترجل : باب في طيب المرأة للخروج ح: 4173 – ترمذی کتاب الادب : باب ماجاء في كراهية خروج المرأة متعطرة ح : 2786 – نسائى كتاب الزينة باب مايكره للنساء من الطيب ح : 5129
معلوم ہوا کہ اسلام نے عورت کو اس بات کا پابند نہیں کیا ہے کہ وہ گھر کی چار دیواری میں مقید ہو کر رہ جائے اور جب قبر میں جانے کی نوبت آئے تب ہی باہر نکلے بلکہ اس کے لیے جائز کر دیا گیا ہے کہ نماز، حصولِ علم اور ہر قسم کی دینی اور جائز دنیوی ضرورتیں پوری کرنے کے لیے باہر نکل سکتی ہے چنانچہ صحابہ رضی اللہ عنہم کی عورتیں اور ان کے بعد خیر القرون کی عورتیں ان اغراض کے لیے باہر نکلا کرتی تھیں۔ ان میں ایسی خواتین بھی تھیں جو قتال اور غزوات میں شرکت کے لیے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلفاء اور قائدینِ اسلام کے ساتھ باہر نکلی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المؤمنین سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا تھا :
قد أذن الله لكن أن تخرجن لحوائحكن
”اللہ نے تمہیں اپنی ضرورتوں کے لیے باہر نکلنے کی اجازت دی ہے۔“
بخارى كتاب النكاح : باب خروج النساء الحوائجهن ح : 5237 – مسلم کتاب السلام باب اباحة الخروج للنساء لقضاء حاجة الانسان ح : 2170
نیز فرمایا :
إذا استأذنت امراه أحدكم إلى المسجد فلا يمنعها
”جب کسی کی بیوی مسجد جانے کی اجازت چاہے تو اسے چاہیے کہ اسے روکے نہیں۔“
بخاری کتاب النکاح باب استئذان المرأة زوجها في الخروج الى المسجد وغيره ح : 5238 ، مسلم كتاب الصلوة : باب خروج النساء الى المساجد ح : 442
دوسری حدیث میں ہے :
لا تمنعوا اماء الله مساجد الله
”اللہ کی بندیوں کو اللہ کی مسجدوں میں جانے سے نہ روکو۔“
بخاری کتاب الجمعة باب 13 ح : 900 مسلم حواله سابق ح : 442/136
بعض متشدد قسم کے علماء اس طرف گئے ہیں کہ عورت کے لیے مرد کے جسم کے کسی بھی حصہ کا دیکھنا حرام ہے۔ وہ ترمذی کی نبهان ام سلمہ کے غلام، والی حدیث سے استدلال کرتے ہیں :
أن النبى صلى الله عليه وسلم قال لها و لميمونة وقد دخل عليهما ابن أم مكتوم احتجبا فقالتا إنه أعمى، قال أفعمياوان أنتما ألستما تبصرانه؟
”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اور میمونہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا جبکہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ ان کے پاس آگئے تھے کہ ان سے پردہ کرو۔ انہوں نے کہا : وہ نابینا ہیں۔ فرمایا : ”کیا تم بھی نابینا ہو؟ تم دونوں انہیں دیکھ نہیں رہی ہو؟۔“
ابو داود كتاب اللباس باب في قوله تعالى وقل للمؤمنات يغضضن ح : 4112 ترمذی کتاب الادب باب ما جاء في احتجاب النساء من الرجال ح : 2778
لیکن محققین اہلِ علم کہتے ہیں کہ یہ حدیث محدثین کے نزدیک صحیح نہیں ہے، کیونکہ اس کا راوی نبهان جو ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا غلام ہے حدیث کے معاملہ میں قابلِ حجت نہیں ہے۔ اور اگر بالفرض اسے صحیح بھی مان لیا جائے تو اس کی توجیہ کی جا سکتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کے ساتھ ان کی حرمت کے پیش نظر سختی برتی ہو گی جس طرح پردہ کے معاملہ میں ان کے لیے احکام سخت تھے۔ اس کی طرف امام ابو داود رحمہ اللہ اور دیگر ائمہ نے اشارہ کیا ہے۔ ایسی صورت میں فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا والی حدیث رہ جاتی ہے جو صحیح بھی ہے اور ثابت شدہ بھی ، اور جس کا مفہوم بھی واضح ہے اور وہ یہ ہے :
إن النبى صلى الله عليه وسلم أمر فاطمة بنت قيس أن تقضي عدتها فى بيت أم شريك ثم استدرك فقال تلك امرأة يغشاها أصحابي اعتدى عند ابن أم مكتوم فإنه رجل أعمى، تضعين ثيابك ولا يراك
”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کو ام شریک رضی اللہ عنہا کے گھر میں عدت گزارنے کا حکم دیا۔ بعد میں آپ نے اس سے رجوع کرتے ہوئے فرمایا : ”اس عورت کے پاس میرے اصحاب کی آمد و رفت رہتی ہے لہذا تم ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے ہاں عدت گزارو۔ وہ نابینا ہیں، تم وہاں اپنی اوڑھنی وغیرہ اتارو گی تو تمہیں کوئی دیکھ نہ سکے گا۔“
مسلم كتاب الطلاق باب المطلقة البائن لا نفقة لها ح : 1480 – تفسير القرطبي ج 12 ص : 228
عورت شوہر کے مہمانوں کی خدمت کر سکتی ہے
مذکورہ بحث سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ عورت اپنے شوہر کی موجودگی میں اس کے مہمانوں کی خدمت کر سکتی ہے۔ بشرطیکہ لباس، زینت، گفتگو اور چال ڈھال میں اسلامی آداب کو ملحوظ رکھے۔ قدرتی بات ہے کہ اس حال میں مہمان اسے دیکھ لیں گے اور وہ مہمانوں کو دیکھ لے گی۔ لہذا اس میں کوئی حرج نہیں ہے بشرطیکہ فتنہ کا اندیشہ نہ ہو۔
مصنف نے جو موقف اختيار كيا هے كه عورت اپنے خاوند كي موجودگي ميں مطلقا مهمانوں كے سامنے آسكتي اور ان كي خدمت كر سكتي هے، يه موقف احاديث نبويه و تعليمات اسلام كي روشني ميں اخذ شده مجموعي نتيجه كے پيش نظر غلط هے. خاتون كو اپنے پردے اور حياء كا هر لمحه خيال ركهنا چاهيے. عورت كي اصل ذمه داري كهانا تيار كرنا هے، جبكه خاوند يا اهل خانه ميں سے كسي بهي مرد كي ذمه داري هے كه وه كهانا مهمانوں كے سامنے پيش كرے. مهمان اگر محرم رشته دار هے تو اس كا معامله الگ هے. ليكن احتياط اور پردے كے اهتمام كي ضرورت اس وقت انتهائي ضروري هے جب مهمان غير محرم هو. لهذا گهر ميں مرد كي عدم موجودگي كي صورت ميں اگر عورت مهمان كي خدمت ميں كهانا پيش كرتي يا اس سے كوئي ضروري بات كرتي هے تو اس ميں حرج نهيں ليكن يهاں چند آداب كو ملحوظ ركهنا ضروري هے. مثلا : عورت كا لباس اس كے مكمل جسم كو ڈهانپنے والا هو ، لباس اس قدر تنگ يا باريك نه هو كه اس كے جسماني محاسن نماياں هوتے هوں. لباس كو خوشبو نه لگا ركهي هو. اور بات كرنے ميں اس قدر نرمي نه هو كه سننے والا شيطاني وساوس كا شكار هو جائے. تنهائي ميں مهمان كے پاس فضول بيٹهنے، لمبي و غير ضروري گفتگو كرنے سے مدارجه گريز كرے كيونكه ايسي هي صورتيں اخلاقي و معاشرتي تباهي كا سبب بنتي هيں اور اس حكمت كے تحت رسول الله صلى الله عليه وسلم نے غير محرم مرد و عورت كے تنهائي ميں بيٹهنے كو معيوب قرار ديا اور اس سے شديد منع فرمايا هے. آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمايا : ” كوئي مرد جب كسي غير محرم عورت كے ساته تنهائي ميں هوتا هے تو ان كے ساته شيطان بهي هوتا هے.
سنن الترمذی : کتاب الفتن باب لزوم الجماعة حديث : 2165 – مسند احمد: 1/ 26 حدیث : 177
آنے والے مرد كو بهي جب معلوم هو كه اس وقت گهر كا مالك (خاوند يا كوئي محرم) گهر ميں موجود نهيں تو اس گهر ميں آنے سے گريز كرنا چاهيے. كيونكه نبي كريم صلى الله عليه وسلم نے فرمايا : عورتوں ميں جانے سے گريز كرو.
صحیح البخاری : كتاب النكاح باب لا يخلون رجل بامرأة … حدیث : 5232
آپ صلى الله عليه وسلم نے يهاں عورتوں كا لفظ (جمع كا صيغه) استعمال كيا هے جس سے يه بات واضح هوتي هے كه جب ايك سے زياده خواتين (غير محرم) هوں تو اس وقت بهي ان كے پاس جانے سے گريز هي كرنا چاهيے تو ايك خاتون كے پاس جانا اور بيٹهنا تو بالاولي ممنوع هے. ايك حديث مباركه ميں يوں مذكور هے كه كوئي مرد كسي غير محرم خاتون كے ساته عليحدگي اختيار نه كرے، البته اگر خاتون كے ساته اس كا كوئي محرم موجود هے تو ايسي صورت ميں جائز هے.
صحیح البخاری کتاب النکاح باب لا يخلون رجل بامرأة… حدیث : 5233
اس روايت كے پيش نظر خاتون كو بهي كوشش كرني چاهيے كه اگر مهمان كے پاس كسي اشد ضرورت كے پيش نظر بيٹهنا پڑے تو خاوند اگر موجود نه هو، تو كوئي محرم (بيٹا ، باپ، سسر وغيره) پاس ضرور موجود هو. يه خاتون كي عفت و عصمت كے تحفظ كے ليے بهت بهتر هے. اور مرد حضرات كو غير محرم خواتين كے پاس بلا ضرورت آنے ، بات كرنے ، عليحدگي ميں بيٹهنے اور كسي بهي صورت ميں ملاقات كرنے سے حتي الوسع گريز كرنا چاهيے كيونكه يه تمام صورتيں اخلاقي و معاشرتي برائيوں كي داعيه هيں. اور انسان كو فتنے ميں مبتلا كر دينے والي صورتيں هيں. نبي كريم صلى الله عليه وسلم نے خواتين كے فتنے كو بهت بڑا فتنه قرار ديا هے.
عورت اپنے مكمل حجاب ميں ره كر هي مهمانوں كي خدمت كر سكتي هے كوئي مشكل مرحله نهيں هے. (ابو الحسن مبشر احمد رباني رحمہ اللہ)
شیخین (بخاری و مسلم) نے سہل بن سعد انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی ہے۔ وہ کہتے ہیں :
لما أعرس أبو أسيد الساعدى دعا النبى صلى الله عليه وسلم وأصحابه فما صنع لهم طعاما ولا قرب إليهم إلا امرأته أم أسيد بلت تمرات فى تور من حجارة من الليل، فلما فرغ النبى صلى الله عليه وسلم من الطعام أمادته له فسقته تتحفه بذلك
”ابو اسید ساعدی رضی اللہ عنہ نے شادی کی تقریب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کو بلایا۔ اس موقع پر کھانا تیار کرنے اور اس کو پیش کرنے کی خدمت ان کی بیوی ام اسید رضی اللہ عنہا نے انجام دی۔ انہوں نے پتھر کے ایک برتن میں کچھ چھوہارے رات بھگونے کے لیے رکھ چھوڑے۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھانے سے فارغ ہو گئے تو ان کو اپنے ہاتھ سے گھول کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس کا تحفہ نوش کرنے کے لیے پیش کر دیا۔“
بخارى كتاب النكاح باب قيام المرأة على الرجال في العرس ح : 5182 – مسلم کتاب الاشربة باب اباحة النبيذ الذي لم يشتد ح : 2006
اس حدیث سے جیسا کہ شیخ الاسلام ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ”اس بات کا جواز نکلتا ہے کہ عورت اپنے شوہر کے علاوہ اس کے مہمانوں کی بھی خدمت کر سکتی ہے۔“
فتح الباری : 9-251
ظاہر ہے اس کا موقع محل وہی ہو سکتا ہے جبکہ فتنہ کا احتمال نہ ہو اور عورت پر ستر کی جو پابندیاں عائد ہوتی ہیں ان کا لحاظ کرے۔ ایسی صورت میں مرد کا اپنی بیوی سے مہمانوں کی تواضع کی خدمت لینا جائز ہے۔ لیکن اگر عورت ستر کے سلسلہ میں اسلام کی عائد کردہ پابندیوں کا لحاظ نہ کرے جیسا کہ موجودہ زمانہ کی اکثر عورتوں کا حال ہے، تو ایسی صورت میں ان کا مردوں کے سامنے آنا حرام ہو جاتا ہے۔