قبولیت اعمال کی شرائط:
قربانی کرنے والے کا صحیح العقیدہ مسلمان و متبع کتاب و سنت ہونا اور شرک، کفر و بدعات سے پاک ہونا ضروری ہے اور جس کا عقیدہ خراب ہو، اس کا کوئی عمل قابل قبول نہیں ہے۔ حدیث قدسی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
أنا أغنى الشركاء عن الشرك من عمل عملا أشرك فيه معي غيري تركته وشركه
”میں اپنے شریکوں کی شراکت اور حصہ داروں سے بالکل بے نیاز ہوں۔ جس نے کوئی ایسا کام کیا جس میں میرے ساتھ کسی اور کو بھی شریک کیا تو میں اس (عمل) اور اس (میں کیے جانے والے) شرک دونوں کو چھوڑ دیتا ہوں۔“ (صحیح مسلم: 2985)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کسی نے ایسا عمل کیا کہ جس کا حکم ہم نے نہیں دیا اس کا وہ عمل مردود ہے۔“ (صحیح مسلم: 1718)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ہمارے دین میں کوئی نئی بات (بدعت) نکالی تو وہ مردود ہے۔“ (جزء من حدیث لوین: 71 وسندہ صحیح)
فتح مکہ کے روز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو خطبہ دیا اس میں یہ الفاظ بھی تھے:
من أحدث حدثا أو آوى محدثا فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين لا يقبل منه صرف ولا عدل
”جو شخص کوئی بدعت ایجاد کرے، یا کسی بدعتی کو پناہ دے، اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہو، اس سے نہ تو فرض عبادت قبول کی جاتی ہے اور نہ نفل عبادت۔“
(اتحاف الخيرة المهرة: 7/ 281، وسندہ حسن)
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ قنوت نازلہ میں پڑھتے تھے:
نخلع ونترك من يفجرك
”اے اللہ! جو بھی تیری معصیت و نافرمانی کرے ہم اس سے علیحدگی اور کنارہ کشی اختیار کرتے ہیں۔“
(سنن الکبری للبیہقی: 2/ 210 وسندہ صحیح)
مشهور ثقه و ثبت امام فضيل بن عياض رحمه الله (المتوفي 187ه) اهل بدعات كے بارے ميں فرماتے هيں:
لأن آكل عند اليهودي والنصراني أحب إلى من أن آكل عند صاحب بدعة فإني إذا أكلت عندهما لا يقتدى بي وإذا أكلت عند صاحب بدعة اقتدى بي الناس أحب أن يكون بيني وبين صاحب بدعة حصن من حديد وعمل قليل فى سنة خير من عمل صاحب بدعة ومن جلس مع صاحب بدعة لم يعط الحكمة ومن جلس إلى صاحب بدعة فاحذره وصاحب بدعة لا تأمنه على دينك ولا تشاوره فى أمرك ولا تجلس إليه فمن جلس إليه ورثه الله عز وجل العمى
”اگر میں کسی یہودی یا نصرانی کے پاس کھانا کھاؤں تو مجھے یہ بات اس بات سے زیادہ پسند ہے کہ میں کسی بدعتی کے پاس کھانا کھاؤں کیونکہ جب میں کسی یہودی یا نصرانی کے پاس کھانا کھاؤں گا تو لوگ میری اقتدا نہیں کریں گے جب میں کسی بدعتی کے پاس کھانا کھاؤں گا تو لوگ میری اقتدا کریں گے۔ میں یہ بات پسند کرتا ہوں کہ میرے اور اہل بدعات کے درمیان لوہے کا قلعہ ہو، سنت کے مطابق تھوڑا عمل بدعتی کے زیادہ عمل سے زیادہ بہتر ہے۔ جو کسی بدعتی کے ساتھ نشست و برخاست رکھتا ہے اسے حکمت نہیں عطا کی جاتی۔ جو شخص کسی بدعتی کے پاس نشست و برخاست رکھے تو اس سے بچ جا اور تو بدعتی سے اپنے دین کے بارے میں بے فکر مت ہونا اور نہ ہی بدعتی سے اپنے کسی معاملے میں مشورہ لینا اور نہ ہی اس کے پاس اٹھنا بیٹھنا۔ جو کسی بدعتی کے پاس اٹھتا بیٹھتا ہے اللہ تعالیٰ اسے بصیرت سے محروم کر دیتا ہے۔“
(حلیۃ الاولیاء: 8/ 103 وسندہ صحیح)
❀ امام فضیل بن عیاض رحمہ اللہ مزید فرماتے ہیں:
علامة النفاق أن يقوم الرجل ويقعد مع صاحب بدعة وأدركت خيار الناس كلهم أصحاب سنة وهم ينهون عن أصحاب البدعة
”نفاق کی علامت یہ ہے کہ آدمی کسی بدعتی کے ساتھ اٹھے بیٹھے، میں نے خیر والے تمام اہل سنت کو پایا ہے کہ وہ اہل بدعات کے ساتھ میل جول رکھنے سے منع کرتے تھے۔“
(حلیۃ الاولیاء: 8/ 104 وسندہ صحیح)
ثقہ و ثبت محدث امام ابو محمد الحسین بن مسعود البغوی رحمہ اللہ (المتوفی 516ھ) فرماتے ہیں:
وقد مضت الصحابة والتابعون وأتباعهم وعلماء السنة على هذا مجمعين متفقين على معاداة أهل البدعة ومهاجرتهم
صحابہ کرام، تابعین، تبع تابعین، ائمہ دین اور علماء اہل سنت اہل الحدیث کا اہل بدعات سے نفرت کرنے پر اور ان سے لاتعلقی کرنے پر اجماع و اتفاق تھا۔
(شرح السنہ: 1/ 27 مفہوما)
قرآن، حدیث اور اجماع کو مدنظر رکھتے ہوئے ہر وقت اپنے ایمان و عمل کا خاص خیال رکھیں۔ قاضی شریح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے قاضیوں کی طرف یہ خط ارسال کیا:
إذا جاءك شيء فى كتاب الله فاقض به ولا يلفتنك عنه الرجال فإن جاءك أمر ليس فى كتاب الله فانظر سنة رسول الله صلى الله عليه وسلم فاقض بها فإن جاءك ما ليس فى كتاب الله وليس فيه سنة من رسول الله فانظر ما اجتمع الناس عليه فخذ به فإن جاءك ما ليس فى كتاب الله ولم يكن فيه سنة من رسول الله ولم يتكلم فيه أحد قبلك فاختر أى الأمرين شئت إن شئت أن تجتهد برأيك وتقدم فتقدم وإن شئت أن تتأخر فتأخر ولا أرى التأخر إلا خيرا لك
”جب تیرے پاس کوئی مسئلہ آئے اگر وہ کتاب اللہ میں ہو تو اسی کے مطابق فیصلہ کر، لوگوں کی آراء کی طرف توجہ نہ کر اور جب تیرے پاس کوئی ایسا مسئلہ آئے جو کتاب اللہ میں نہ ہو تو پھر تو دیکھ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کیا ہے۔ پھر سنت کے مطابق فیصلہ کرنا اور اگر تیرے پاس کوئی ایسا مسئلہ آئے جو نہ کتاب اللہ اور نہ سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں ہو تو پھر تو دیکھ کہ لوگوں کا اجماع کس بات پر ہے۔ پھر اسی (اجماع) کو بنیاد بنا لے اور جب تیرے پاس کوئی ایسا مسئلہ آئے، جو نہ کتاب اللہ میں ہو اور نہ ہی سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں ہو اور نہ ہی تجھ سے پہلے اس کے بارے میں کسی نے گفتگو کی ہو، تو پھر دو امور میں سے جسے چاہے پسند کر لے۔ اگر چاہے تو اپنی رائے سے اجتہاد کر کے آگے بڑھنا اور اگر چاہے تو پیچھے ہٹ جانا، اور پیچھے ہٹنے کو میں تیرے لیے بہتر سمجھتا ہوں۔“
(مصنف ابن ابی شیبہ: 2/ 543 ح 22980 وسندہ صحیح صححه ضیاء المقدسى في الاحاديث المختارة / 239 ح133)