عن سهل بن سعد الساعدي رضى الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: رباط يوم فى سبيل الله خير من الدنيا وما فيها وموضع سوط أحدكم من الجنة خير من الدنيا وما فيها والروحة يروحها العبد فى سبيل الله أو الغدوة خير من الدنيا وما فيها.
”سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک دن (دشمن سے ملی ہوئی) سرحد پر پہرہ دینا، دنیا و مافیہا سے بہتر ہے، اور جنت کی ایک کوڑے (چابک) کی تمہاری جگہ یہ دنیا و مافیہا سے بہتر ہے، اور جو شخص اللہ کی راہ میں (جہاد) میں شام کو چلے یا صبح کو، یہ دنیا و مافیہا سے بہتر ہے۔ “
(صحیح بخاری و مسلم) (رواه البخاري كتاب الجهاد والسير باب فضل رباط يوم في سبيل الله، الرقم: 2892 / مسلم كتاب الامارة باب فضل الغدوة والروحة فى سبيل الله، الرقم: 1881 مختصرا)
تشریح
اس حدیث میں کئی باتوں کا ذکر کیا گیا ہے:
➊ دشمنوں کی زمین سے متصل اسلامی ریاست کی سرحد پر صرف ایک دن تک کے لیے پہرہ دینا یہ دنیا و مافیہا سے بہتر ہے، یہ اس لیے کہ اسلامی ریاست مسلمانوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے، یہاں مسلمان بلا روک ٹوک اسلامی طور و طریقہ سے زندگی بسر کرتے ہیں، اس ریاست کی سرحدوں کی حفاظت بھی جہاد کا حصہ ہے اور اس میں عملی طور پر حصہ لینے والا مجاہد ہے، اگر وہ یہ خدمت اللہ کی رضا کے لیے بخوبی انجام دیتا ہے اگرچہ صرف ایک دن کے لیے ہی سہی تو وہ اللہ کے ہاں بہت بڑے اجر کا مستحق ہے۔
➋ جنت میں ایک کوڑے (چابک) کی جگہ دنیا و مافیہا سے بہتر ہے۔
➌ اللہ کی راہ (جہاد) میں دن کے پہلے حصے میں وقت دینا یا دن کے پچھلے حصے میں وقت دینا، یہ بھی دنیا و مافیہا سے بہتر ہے۔
➍ حدیث مذکور سے یہ بھی معلوم ہوا کہ صبح یا شام کو اللہ کی راہ میں نکلنے سے جہاد فی سبیل اللہ مراد ہے کیونکہ حدیث کے اول میں لفظ رباط آیا ہے اور رباط عموماً جہاد فی سبیل اللہ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔