مضمون کے اہم نکات
فضائلِ اعمال کے کارنامے:
[1] کھلے شرک اور کفر کی ترغیب۔ غیر اللہ کی عبادت کی ترغیب،
[1] قرآن کہتا ہے غیر اللہ کو پکارنا شرک ہے:
ملاحظہ ہو: (النساء 40-41،63تا66)،( الاعراف:189تا198) خاص طور پر (194)،(یونس66)،(الرعد:14تا21)،(النمل:53، 54، 86)،(القصص:6تا64)،(الكهف:52)،(الروم :11تا40)،(سبا:22)،(فاطر:1تا26، 33تا41)
[2] قرآن کہتا ہے غیر اللہ کو پکارنا کفر ہے،
ملاحظہ ہو: (الاعراف:37تا41)،(الرعد:14تا21)،(بنی اسرائیل:67تا69)،(المومن:116، 117)،(فاطر:33تا41)،(الزمر:8تا16)،(المومن:12تا14، 73تا76)
[3] غیر اللہ کو پکارنا ان کی عبادت ہے۔
قرآنی فیصلے: (الانعام:56)،(یونس: 104تا107)،(ہود:101)،(النمل:1تا23)،(الكهف:14،15)،(مريم:48تا50)،(الاحقاف:2تا6)،(الشعراء:213)،(النمل:62)،(المومنون:116، 117)
تبصرہ:
ثابت ہوا کہ غیر اللہ کو پکارنے والا مشرک ہے، کافر ہے۔ وہ یقیناً غیر اللہ کی عبادت کر رہا ہے لیکن فضائلِ اعمال میں مثنوی مولانا جامی کا حوالہ دے کر ایک نعت لکھی گئی اور رسول اللہ ﷺ کو پکارنے کی کھلی ترغیب دی گئی ہے، جو کہ غیر اللہ کی عبادت ہے۔ اس طرح یہ لوگ کلمہ سے ہی مکر گئے کیونکہ کلمہ کا مطلب ہے اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہیں حالانکہ یہ بخاری میں ہے کہ صحابہ نے آپ کی وفات پر التحیات میں ایہا النبی کہنا چھوڑ دیا اور اس کے بجائے السلام علی النبی کہنا شروع کر دیا۔ (بخاری:حدیث نمبر:1202) اور [فضائلِ اعمال:صفحہ805] پر لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ فوت ہونے کے بعد جنت میں اعلیٰ ترین مقام پر ہیں اور قرآن میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو حجرے سے باہر سے پکارنے والے بے عقل ہیں اور اللہ تعالیٰ نے اسی جگہ فرمایا کہ ان بے عقلوں کو آپ کے حجرے سے باہر آنے کا انتظار کرنا چاہیے تھا۔ (الحجرات:5،4) اور جب آپ ان کے پاس آ جاتے تو پھر آپ سے با ادب بات کرنی چاہیے تھی جنھوں نے آپ کو حجرے کے اندر ہوتے ہوئے باہر سے پکارا وہ قرآن کی رو سے بے عقل ٹھہرے اور جو لوگ آپ کو زمین سے جبکہ آپ کو ان کے جنت میں ہوتے ہوئے پکار رہے ہوں ان کی عقل کا آپ خود اندازہ لگا لیں حالانکہ جنت عرش کے نیچے زمین سے کروڑوں میل دور ہے۔ نیز دیکھیے: [فضائلِ اعمال: ص875،877] یاد رہے کہ صحیح بخاری و صحیح مسلم کا فضائلِ اعمال میں بار بار ذکر ملتا ہے اور ان دونوں کتابوں کو صحیحین لکھا اور تسلیم کیا گیا ہے۔ دیکھیے: [فضائلِ اعمال:ص737،735،727،529]
فضائلِ اعمال کی وہ باتیں جو قرآن کے خلاف ہیں:
[1] رسول اللہ ﷺ کا سایہ نہ تھا۔
[فضائلِ اعمال: ص893 باب فضائلِ درود]
تبصرہ:
حالانکہ قرآن سے ثابت ہے کہ زمین اور آسمان میں موجود ہر چیز کا سایہ ہے۔ (الرعد:15)،(النحل:48)
[2] امام اعظمؒ کا قصہ مشہور ہے
کہ وضو کا پانی گرتے ہوئے آپ یہ محسوس فرما لیتے تھے کہ کون سا گناہ اس میں دھل رہا ہے، زنا، شراب وغیرہ۔(فضائلِ اعمال: ص379،723)
تبصرہ:
اور قرآن میں ہے: اور تمھارے گرد و نواح کے بعض منافق ہیں اور بعض مدینے والے بھی نفاق پر اڑے ہوئے ہیں، تم انھیں نہیں جانتے ہم انھیں خوب جانتے ہیں ہم انھیں دوگنی سزا دیں گے۔ یعنی رسول اللہ ﷺ کے سامنے منافق وضو کرتے، نمازیں پڑھتے، آپ کے ساتھ سفر کرتے، آپ کی مجلس میں حاضر ہوتے تھے جبکہ آپ کو بالکل معلوم نہ تھا کہ یہ منافق ہیں، یعنی امام اعظم رسول اللہ ﷺ سے بازی لے گئے حالانکہ ایسا سوچنا بھی خوفِ کفر سے خالی نہیں۔ (فضائلِ اعمال: ص737)
[3]فضائلِ اعمال کا ایمان شکن دعویٰ کہ ایک شخص خدا کو دیکھتا تھا۔
تبصرہ:
عام مسلمان بھی یہ جانتا ہے کہ دنیا میں اللہ تعالیٰ کو آنکھوں سے دیکھنے کا آج تک کسی نے دعویٰ نہیں کیا اور اللہ کریم کو دیکھنے کا دعویٰ سراسر قرآن و حدیث کے خلاف ہے۔ موسیٰ علیہ السلام کو دنیا میں اللہ کا دیدار نہ ہوا۔ (الاعراف:143) دنیا میں کسی کو اللہ کا دیدار نہیں ہو سکتا (الانعام:103) بخاری شریف میں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جس نے کہا رسول اللہ ﷺ نے معراج کی رات اللہ کو دیکھا وہ جھوٹا ہے۔ اور عین الہدایہ میں ہے جو دعویٰ کرے میں نے اللہ کو دیکھا وہ جھوٹا اور گمراہ ہے۔ (عین الہدایہ: ص48 جلداول)
[4]قرآن و حدیث میں جہاں جہاں تبلیغِ دین کا ذکر ہے:
وہاں وہاں نیکی کا حکم دینے کا حکم ہے اور برائی سے روکنے کا حکم بھی ہے لیکن تبلیغی جماعت والے صرف نیکی کا حکم دیتے ہیں برائی سے بالکل منع نہیں کرتے۔
تبصرہ:
تبلیغی جماعت والوں کا مندرجہ بالا رویہ قرآن حکیم کے سراسر خلاف ہے اور ایسا کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں سخت سزا کی وعید سنائی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا:کیا تم کتاب کے بعض حصے پر ایمان لاتے ہو اور دوسرے بعض کا انکار کرتے ہو اور جو تم میں ایسا کرے اس کا بدلہ یہ ہے کہ وہ دنیا میں تو رسوا ہو اور آخرت میںسخت عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ (البقرہ:85)
عام تبصرہ:
قرآن میں ہے اللہ کے سوا کوئی زمین و آسمان میں غیب نہیں جانتا۔ (النمل: 65) (ﷺ) فقہ حنفی کی مشہور کتاب عین الہدایہ میں لکھا ہے۔ جو کوئی دعویٰ کرے کہ نبی ﷺ علمِ غیب جانتے ہیں تو وہ کافر ہے۔ (مقدمہ عین الہدایہ: ص59)
(1)اور فقہ حنفی کی مشہور کتابوں میں یہ مسئلہ لکھا ہے کہ جس شخص نے کسی عورت سے نکاح کیا اور یہ کہا کہ ہم اللہ اور اس کے رسول کو گواہ بناتے ہیں تو وہ کافر ہو جائے گا اور اس کی وجہ یہ لکھی ہے کہ اس شخص نے رسول اللہ ﷺ کو عالم الغیب جانا حالانکہ علمِ غیب اللہ تعالیٰ کو خاص ہے۔ (درمختار: ج2 ص14)
(2) قرآن میں ہے (قُلۡ کُلٌّ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ) تم فرما دو سب اللہ کی طرف سے ہے)۔ (النساء:78)
(تفسیر کنز الایمان، سورت نساء آیت 78 تفسیر نعیم الدین مراد آبادی ف 203)، گرانی ہو یا ارزانی قحط ہو یا فراخ حالی، رنج ہو یا راحت، آرام ہو یا تکلیف، فتح ہو یا شکست حقیقت میں یہ سب اللہ کی طرف سے ہے۔
تبصرہ:
امام اعظمؒ نے کتاب الوصیہ میں فرمایا: پھر اقرار کرتے ہیں تقدیر بھلائی و برائی کی سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ بقولہ تعالیٰ (قُلۡ کُلٌّ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ) یعنی کہہ دے اے محمد! کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی کل ہے (یعنی سب خیر و شر) اور جس نے گمان کیا کہ بھلائی یا برائی غیر کی طرف سے ہوتی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ سے کافر ہوا اور اس کی توحید باطل ہوئی بشرطیکہ اس کی توحید ہو۔ (مقدمہ عین الہدایہ:ص10)
(3) پندرہ علوم پر مہارت کے بغیر قرآن کا بیان ممنوع ہے۔ (فضائلِ اعمال:293)
تبصرہ:
ان کا یہ دعویٰ و نظریہ نصِ قرآنی کے خلاف ہے (القمر:17، 22، 32، 40) جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے قرآن کو سمجھنے میں آسان کر دیا۔
(4)زندوں کا عمل مردوں پر پیش ہوتا ہے۔ (ایمان شکن دعویٰ، فضائلِ اعمال:389)
تبصرہ:
صریحاً قرآن و حدیث کے خلاف ہے جس میں فرمایا گیا کہ ہر انسان کے اعمال اللہ کے سامنے پیش ہوتے ہیں۔ (فضائلِ اعمال:ص519)
فضائلِ اعمال حدیث کے خلاف:
جو عمل سنت کے مطابق نہ ہو اللہ تعالیٰ کے ہاں مردود (ناقابلِ قبول) ہے اور بدعتی کا امتِ مسلمہ سے کوئی تعلق نہیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں :کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے دین میں کوئی ایسا کام جس کی بنیاد شریعت میں نہیں تو وہ کام مردود ہے۔ (بخاری،مسلم)
دوسری روایت میں ہے:جو شخص ایسا کام کرے جس کے لیے ہمارا حکم نہ ہو تو وہ مردود ہے۔ (بخاری،مسلم)
یعنی لغو اور مردود ہے، اس سے بچنا چاہیے اور اس پر عمل ہرگز نہیں کرنا چاہیے۔ یہ تینوں احادیث (تیسری حدیث کا حوالہ آگے آ رہا ہے) تمام بدعات اور نئی چیزوں کو جو لوگوں نے دین میں داخل کی ہیں، جامع ہیں اور دوسری حدیث پہلی حدیث سے بھی زیادہ واضح ہے۔ ان تینوں احادیث نے بدعتیوں کا سارا ڈھانچہ توڑ پھوڑ دیا اور ان کا بظاہر خوش نما گھر اجڑ گیا کیونکہ انھوں نے دین میں جو نئے کام نکالے یہ احادیث ان سب کو رد کرتی ہیں۔
تیسری حدیث جس کا ذکر ہوا وہ یہ ہے: سیدنا علی رضی اللہ عنہ، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کے متعلق ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی بیویوں اور امت کی ماؤں کے پاس آئے اور آپ کی عبادت کا حال پوچھا جب ان کو بتایا گیا تو انھوں نے اس عبادت کو کم خیال کیا (جو وہ کرتے تھے) کہنے لگے: ہم کہاں اور رسول اللہ ﷺ کہاں! ہم لوگ تو گناہ گار ہیں۔ ایک کہنے لگا: میں تو ساری عمر رات بھر نماز ہی پڑھتا رہوں گا، دوسرا کہنے لگا: میں ہمیشہ روزہ دار رہوں گا۔ تیسرے نے کہا میں تو عمر بھر عورتوں سے الگ رہوں گا اتنے میں رسول اللہ ﷺ تشریف لے آئے۔ فرمایا: میں روزہ بھی رکھتا ہوں افطار بھی کرتا ہوں رات کو نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں جو کوئی میرے طریقے کو ناپسند کرے وہ میرا نہیں۔ (بخاری و مسلم)
یاد رہے جس طرح نبی کی ذات تمام بزرگوں اور اماموں سے اعلیٰ و ارفع ہے اسی طرح آپ کی تعلیم ،،سنت،، طریقہ بھی روئے زمین کے تمام طریقوں سے اعلیٰ و ارفع ہے اور پیغمبر کی بات سب باتوں سے اعلیٰ ہے۔
ہر کلمہ گو آپ ﷺ کے طریقے کو اختیار کرے اور آپ کے اقوال و افعال کی پیروی کرے۔ آپ کے احکامات کی بجا آوری کرے اور آپ نے جن چیزوں سے روک دیا ہے ان سے پرہیز کرے، خوشی میں، غم میں، رنج میں، تنگی میں اور وسعت میں ہر حال میں آپ ﷺ کے طریقے پر چلے۔ (فضائلِ اعمال: ص230، 270، 271، 226، 28)
روز و شب میں سے آدھا وقت دین کے لیے خرچ ہونا چاہیے اور آدھا دنیا کے لیے۔ (فضائلِ اعمال:ص257)
مندرجہ بالا حقائق کو سامنے رکھ کر ذرا سوچیں کہ فضائلِ اعمال میں دیے گئے ان اعمال کرنے والوں کا امتِ محمدیہ سے کیا تعلق رہ گیا جن کی فہرست آئندہ صفحات میں دی گئی ہے اور ان کی تعداد 18 ہے اور امام ابو حنیفہؒ بھی زد میں آ گئے کیونکہ انھوں نے بھی بقول مولانا زکریا 50 سال تک عشاء کے وضو سے فجر کی نماز پڑھی۔ (فضائلِ اعمال:ص443)
تبلیغ کیجیے، ضرور کیجیے لیکن توحید پر مبنی تبلیغ کیجیے سنت پر مبنی تبلیغ کیجیے۔ نیکی کا حکم دیجیے برائی سے روکیے، قرآن کے مطابق تبلیغ کیجیے۔ صحیح احادیث کے مطابق تبلیغ کیجیے اس کے لیے ضروری ہے کہ تبلیغی جماعت والے قرآن اور صحیح احادیث کی تعلیم حاصل کر کے تبلیغ پر نکلیں۔ لیکن دیکھا گیا ہے کہ تبلیغی جماعت والے سب لوگ قرآن و حدیث کی تعلیم سے ناواقف ہیں نہ جانے پھر کس چیز کی تبلیغ کرتے ہیں!؟