بارگاہ الہی میں دجال کی حیثیت ”پرِ کاہ“ کے برابر بھی نہیں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حافظ مبشر حسین لاہوری کی کتاب قیامت کی نشانیاں صحیح احادیث کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

بارگاہ الہی میں دجال کی حیثیت ”پرِ کاہ“ کے برابر بھی نہیں

عن المغيرة بن شعبة رضى الله عنه قال ما سأل أحد النبى صلى الله عليه وسلم عن الدجال ما سألته وإنه قال لي : ما يضرك منه ؟ قلت لأنهم يقولون إن معه جبل خبز ونهر ماء ، قال بل هو أهون على الله من ذلك
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دجال کے بارے میں جتنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے پوچھا ہے اتنا کسی نے نہیں پوچھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا تھا کہ اس سے تمہیں کیا نقصان پہنچے گا؟ میں نے عرض کیا کہ لوگ کہتے ہیں کہ اس کے ساتھ روٹیوں کا پہاڑ اور پانی کا دریا ہوگا! فرمایا : کہ وہ اللہ پر اس سے بھی زیادہ آسان ہے۔ (یعنی قدرت الہی کے مقابلے میں دجال کی کیا حیثیت ؟ اور دجال کو بھی اللہ تعالیٰ ہی نے یہ ڈھیل دی ہوگی تاکہ لوگوں کی آزمائش ہو۔)
بخاری : كتاب الفتن : باب ذكر الدجال 7122 احمد 338/4 ، 343 مسلم 2152 ابن ابی شیبہ 647/8 ابن ماجة 4124 ابن مندہ 184/3

دجال كتنے دن زمين پر دندناتا پهرے گا :

عن النواس بن سمعان رضى الله عنه قال : ذكر رسول الله صلى الله عليه وسلم الدجال ذات غداة .. قلنا : يا رسول الله وما لبثه ؟ قال : أربعون يوما يوم كسنة ويوم كشهر ويوم كجمعة وسائر أيامه كأيامكم ، قلنا يا رسول الله : فذلك اليوم الذى كسنة، أتكفينا فيه صلاة يوم ؟ قال : لا ، اقدروا له قدره
حضرت نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کا تذکرہ کیا۔ ہم نے کہا : یا رسول اللہ! دجال کتنا عرصہ ٹھہرے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : چالیس دن ایک دن سال کے برابر ہوگا، دوسرا ماہ کے برابر، تیسرا ہفتہ کے برابر ہوگا اور پھر باقی ایام عام دنوں کے برابر ہوں گے (یعنی ایک سال دو ماہ اور دو ہفتے)۔ ہم نے کہا یا رسول اللہ! جو دن سال کے برابر ہوگا کیا اس میں ہمیں ایک دن کی (پانی) نمازیں کافی ہوں گی؟ (یا پورے سال کی پڑھنا ہوں گی) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں (پانچ نہیں) بلکہ اس دن کا (سال کے برابر) اندازہ کر لینا (اور سال بھر کی نمازیں اندازے کے ساتھ ادا کرتے رہنا)۔
مسلم : كتاب الفتن : باب ذكر الدجال 2937 احمد 248/4 ابو داؤد 4321 حاکم 537/4 ابن ماجة 4075
عن عبد الله بن عمرو رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : يخرج الدجال فى أمتي فيمكث فيهم أربعين لا أدري أربعين يوما أو أربعين سنة أو أربعين ليلة أو أربعين شهرا فيبعث الله عز وجل عيسى بن مريم
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میری امت میں دجال نکلے گا اور چالیس (تک) رہے گا۔ عبد اللہ راوی فرماتے ہیں کہ میں نہیں جانتا کہ چالیس دن ہیں یا چالیس سال ہیں یا چالیس راتیں ہیں یا چالیس مہینے ہیں۔
مسلم : كتاب الفتن : باب في خروج الدجال 6940 احمد 221/2 حاکم 503/4 تفسير ابن كثير 97/4
ایک روایت میں ہے کہ :
وأنه يمكث فى الأرض أربعين صباحا
دجال چالیس دن تک زمین پر دندناتا پھرے گا۔
احمد 541/5 مجمع الزوائد 659/7 فتح الباري 112/13
مذکورہ احادیث باہم متعارض معلوم ہوتی ہیں ان میں تطبیق کے لئے فوائد کی طرف مراجعت فرمائیں۔