إن الحمد لله نحمده ونستعينه من يهده الله فلا مضل له ومن يضلل فلا هادي له وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له و أشهد أن محمدا عبده ورسوله أما بعد.
یہ ایک مختصر سا رسالہ ہے جس کو میں نے جہاد کے موضوع پر جمع کیا ہے اور وہ صرف 40 احادیث کا مجموعہ ہے جو کہ صرف صحیح بخاری و صحیح مسلم کی چند منتخب شدہ احادیث پر مشتمل ہے۔ اگرچہ فی سبیل اللہ (اللہ کی راہ میں) ہر اس نیکی والے کام کو کہا جا سکتا ہے جو کہ کامل خلوص کے ساتھ خالص اللہ کے لیے کیا جائے مگر قرآن و حدیث کی اصطلاح میں یہ لفظ عموماً جہاد فی سبیل اللہ کے لیے استعمال ہوا ہے۔
وجه تاليف
ہر ایجاد کے لیے عموماً کچھ نہ کچھ اسباب یا کم از کم ایک سبب ہوتا ہے تو اس قانون کی بناء پر اس مختصر رسالہ کے لیے بھی کچھ اسباب ہیں اور وہ حسب ذیل ہیں:
➊ معلوم ہونا چاہیے کہ جہاد فی سبیل اللہ بہترین و افضل ترین اعمال میں سے ہے جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کا کوہان قرار دیا ہے جیسا کہ حدیث میں آیا ہے:
عن معاذ بن جبل قال: كنت مع النبى صلى الله عليه وسلم فى سفر فأصبحت يوما قريبا منه ونحن نسير فقلت يا نبي الله أخبرني بعمل يدخلني الجنة ويباعدني من النار قال: لقد سألت عن عظيم وإنه ليسير على من يسره الله عليه، تعبد الله ولا تشرك به شيئا وتقيم الصلاة وتؤتي الزكاة وتصوم رمضان وتحج البيت ثم قال ألا أدلك على أبواب الجنة؟ الصوم جنة والصدقة تطفئ الخطيئة وصلاة الرجل فى جوف الليل ثم قرأ قوله تعالى تتجافى جنوبهم عن المضاجع حتى بلغ يعملون ثم قال: ألا أخبرك برأس الأمر وعموده، وذروة سنامه فقلت: بلى يا رسول الله، قال: رأس الأمر الإسلام وعموده الصلاة وذروة سنامه الجهاد.
”معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں ایک سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، ایک دن ہم چل رہے تھے تو میں آپ کے قریب ہوا تو میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جو مجھے جنت میں داخل کر دے اور مجھے جہنم سے دور لے جائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے بہت بڑی بات کے متعلق پوچھا ہے اور بے شک وہ بات آسان ہے اس شخص کے لیے جس پر اللہ تعالیٰ آسانی فرما دے، تو اللہ تعالیٰ کی عبادت کر اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کر اور نماز قائم کر اور زکوۃ ادا کر اور رمضان کے روزے رکھ اور بیت اللہ کا حج کر۔ “ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں جنت کے دروازوں کی راہنمائی کروں؟ روزہ ڈھال ہے اور صدقہ گناہ کو مٹا دیتا ہے اور بندے کا درمیان رات میں نماز پڑھنا۔ “ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی: “ ان کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں ، اپنے رب کو خوف وطمع کے ساتھ پکارتے ہیں اور جو ہم نے انہیں رزق دیا ہوا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں، پس کوئی بھی نفس نہیں جانتا کہ اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک کیلئے کیا ( نعمتیں ) چھپا کر رکھی گئیں ہیں ، یہ ( نعمتیں ) صلہ ہے ان کے اعمال کا ۔
(رواه أحمد الرقم: 21915، مسند معاذ بن جبل اسنادہ صحیح كما حققه حمزة أحمد الزين)
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا نہ خبر دوں میں تجھے اصل امر، اس کے ستون اور اس کی چوٹی کی؟“ میں نے کہا: کیوں نہیں اے رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اصل امر اسلام ہے اور اس کا ستون نماز ہے اور اس کی سب سے اونچی چوٹی جہاد ہے۔ “حدیث مذکور مختلف الفاظ سے مروی ہے۔
تو میں نے بھی یہی ارادہ کیا کہ میں اگر اس افضل ترین عمل میں عملی صورت میں رہ چکا ہوں تو کم از کم قلمی صورت میں اس میں شامل ہو جاؤں اپنے رب سے اخلاص کی درخواست ہے کہ ہمیں کامل اخلاص نصیب فرمائے۔
➋ جہاد فی سبیل اللہ کے فضائل کے متعلق قرآن و حدیث کے اندر بے شمار دلائل موجود ہیں تو قرآن و حدیث کے ان دلائل کے ہوتے ہوئے ضرورت نہیں کہ ہم فضائل جہاد کے متعلق ادھر ادھر کی بے سند باتوں اور من گھڑت قصوں کے پیچھے چلیں ہونا تو یہی چاہیے تھا مگر اس کے باوجود بہت سے لوگوں نے جہاد فی سبیل اللہ کے لیے غلو سے کام لے کر بہت سے موضوع روایات اور جھوٹی حکایات وغیرہ کا سہارا لے کر کافی بدنام کیے ہیں۔
➌ اور ان کے علاوہ کچھ ساتھیوں نے مجھ سے جہاد کے موضوع پر کچھ تحریر کرنے کے لیے مطالبہ بھی کیا ہے۔
چنانچہ مذکورہ اسباب کی بناء پر ہم فضائل جہاد فی سبیل اللہ کے لیے صحیح بخاری و صحیح مسلم کی مختصر سی چند 40 احادیث ذکر کرتے ہیں تا کہ جہاد فی سبیل اللہ کے ساتھ لوگوں کی صحیح طریقہ سے راہنمائی ہو سکے۔ مگر ان احادیث کے ذکر سے پہلے جو کہ اصل رسالہ کا موضوع ہیں بطور تبرک و تیمن کے چند آیات ذکر کرتے ہیں جن کا تعلق بھی جہاد فی سبیل اللہ کے ساتھ ہے، اور وہ آیات حسب ذیل ہیں :
ذكر بعض آيات الجهاد فى سبيل الله
فَلْيُقَاتِلْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ الَّذِينَ يَشْرُونَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا بِالْآخِرَةِ ۚ وَمَن يُقَاتِلْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيُقْتَلْ أَوْ يَغْلِبْ فَسَوْفَ نُؤْتِيهِ أَجْرًا عَظِيمًا ﴿٧٤﴾ وَمَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ الَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْ هَٰذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ أَهْلُهَا وَاجْعَل لَّنَا مِن لَّدُنكَ وَلِيًّا وَاجْعَل لَّنَا مِن لَّدُنكَ نَصِيرًا ﴿٧٥﴾ الَّذِينَ آمَنُوا يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ۖ وَالَّذِينَ كَفَرُوا يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ الطَّاغُوتِ فَقَاتِلُوا أَوْلِيَاءَ الشَّيْطَانِ ۖ إِنَّ كَيْدَ الشَّيْطَانِ كَانَ ضَعِيفًا ﴿٧٦﴾
پس جو لوگ دنیا کی زندگی کو آخرت کے بدلے بیچ چکے ہیں، انہیں اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنا چاہیے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے شہادت پالے یا غالب آجائے، یقیناً ہم اسے بہت بڑا اجر عنایت فرمائیں گے۔ بھلا کیا وجہ ہے کہ تم اللہ کی راہ میں اور ان ناتواں مردوں، عورتوں اور ننھے ننھے بچوں کے چھٹکارے کے لیے جہاد نہ کرو؟ جو یوں دعائیں مانگ رہے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار! ان ظالموں کی بستی سے ہمیں نجات دے اور ہمارے لیے خود اپنے پاس سے حمایتی مقرر کر دے اور ہمارے لیے خاص اپنے پاس سے مدد گار بنا۔ جو لوگ ایمان لائے ہیں وہ تو اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں اور جن لوگوں نے کفر کیا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے سوا اوروں کی راہ میں لڑتے ہیں۔ پس تم شیطان کے دوستوں سے جنگ کرو! یقین مانو کہ شیطانی حیلہ (بالکل بودا اور) سخت کمزور ہے۔
(4-النساء:74-76)
إِنَّ اللَّهَ اشْتَرَىٰ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُم بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ ۚ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيَقْتُلُونَ وَيُقْتَلُونَ ۖ وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنجِيلِ وَالْقُرْآنِ ۚ وَمَنْ أَوْفَىٰ بِعَهْدِهِ مِنَ اللَّهِ ۚ فَاسْتَبْشِرُوا بِبَيْعِكُمُ الَّذِي بَايَعْتُم بِهِ ۚ وَذَٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ ﴿١١١﴾
بلا شبہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے ان کی جانوں کو اور ان کے مالوں کو اس بات کے عوض میں خرید لیا ہے کہ ان کو جنت ملے گی۔ وہ لوگ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں جس میں قتل کرتے ہیں اور قتل کیے جاتے ہیں، اس پر سچا وعدہ کیا گیا ہے تورات میں اور انجیل میں اور قرآن میں اور اللہ سے زیادہ اپنے عہد کو کون پورا کرنے والا ہے، تو تم لوگ اپنی اس بیع پر جس کا تم نے معاملہ ٹھہرایا ہے خوشی مناؤ، اور یہ بڑی کامیابی ہے۔
(9-التوبة:111)
إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِهِ صَفًّا كَأَنَّهُم بُنْيَانٌ مَّرْصُوصٌ ﴿٤﴾
بیشک اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اس کی راہ میں صف بستہ جہاد کرتے ہیں گویا وہ سیسہ پلائی ہوئی عمارت ہیں۔
(61-الصف:4)
وَمَن يُهَاجِرْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يَجِدْ فِي الْأَرْضِ مُرَاغَمًا كَثِيرًا وَسَعَةً ۚ وَمَن يَخْرُجْ مِن بَيْتِهِ مُهَاجِرًا إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ يُدْرِكْهُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَقَعَ أَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ ۗ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًا ﴿١٠٠﴾
جو کوئی اللہ کی راہ میں وطن کو چھوڑے گا، وہ زمین میں بہت سی قیام کی جگہیں بھی پائے گا اور کشادگی بھی، اور جو کوئی اپنے گھر سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اللہ کی طرف نکل کھڑا ہوا، پھر اسے موت نے آپکڑا تو بھی یقیناً اس کا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمہ ثابت ہو گیا، اور اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا مہربان ہے۔
(4-النساء:100)
وَقَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا ۚ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ ﴿١٩٠﴾ وَاقْتُلُوهُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوهُمْ وَأَخْرِجُوهُم مِّنْ حَيْثُ أَخْرَجُوكُمْ ۚ وَالْفِتْنَةُ أَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ ۚ وَلَا تُقَاتِلُوهُمْ عِندَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتَّىٰ يُقَاتِلُوكُمْ فِيهِ ۖ فَإِن قَاتَلُوكُمْ فَاقْتُلُوهُمْ ۗ كَذَٰلِكَ جَزَاءُ الْكَافِرِينَ ﴿١٩١﴾ فَإِنِ انتَهَوْا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ﴿١٩٢﴾ وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ لِلَّهِ ۖ فَإِنِ انتَهَوْا فَلَا عُدْوَانَ إِلَّا عَلَى الظَّالِمِينَ ﴿١٩٣﴾ الشَّهْرُ الْحَرَامُ بِالشَّهْرِ الْحَرَامِ وَالْحُرُمَاتُ قِصَاصٌ ۚ فَمَنِ اعْتَدَىٰ عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدَىٰ عَلَيْكُمْ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ مَعَ الْمُتَّقِينَ ﴿١٩٤﴾
لڑو اللہ کی راہ میں ان سے جو تم سے لڑتے ہیں اور زیادتی نہ کرو، اللہ تعالیٰ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔ انہیں مارو جہاں بھی پاؤ اور انہیں نکالو جہاں سے انہوں نے تمہیں نکالا ہے اور (سنو) فتنہ قتل سے زیادہ سخت ہے اور مسجد حرام کے پاس ان سے لڑائی نہ کرو جب تک کہ یہ خود تم سے نہ لڑیں، اگر یہ تم سے لڑیں تو تم بھی انہیں مارو کافروں کا بدلہ یہی ہے۔ اگر یہ باز آجائیں تو اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے۔ ان سے لڑو جب تک کہ فتنہ نہ مٹ جائے اور اللہ تعالیٰ کا دین غالب نہ آجائے، اگر یہ رک جائیں (تو تم بھی رک جاؤ) زیادتی تو صرف ظالموں پر ہی ہے۔ حرمت والے مہینے حرمت والے مہینوں کے بدلے ہیں اور حرمتیں ادلے بدلے کی ہیں جو تم پر زیادتی کرے تم بھی اس پر اسی کے مثل زیادتی کرو جو تم پر کی ہے اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہا کرو اور جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ پرہیز گاروں کے ساتھ ہے۔
(2-البقرة:190-194)
الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِن دِيَارِهِم بِغَيْرِ حَقٍّ إِلَّا أَن يَقُولُوا رَبُّنَا اللَّهُ ۗ وَلَوْلَا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُم بِبَعْضٍ لَّهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَصَلَوَاتٌ وَمَسَاجِدُ يُذْكَرُ فِيهَا اسْمُ اللَّهِ كَثِيرًا ۗ وَلَيَنصُرَنَّ اللَّهُ مَن يَنصُرُهُ ۗ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ ﴿٤٠﴾
یہ وہ ہیں جنہیں ناحق اپنے گھروں سے نکالا گیا، صرف ان کے اس قول پر کہ ہمارا پروردگار فقط اللہ ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو آپس میں ایک دوسرے سے نہ ہٹاتا رہتا تو عبادتخانے اور گرجے اور یہودیوں کے معبد اور مسجدیں بھی ڈھا دی جاتیں جہاں اللہ کا نام بہ کثرت لیا جاتا ہے۔ جو اللہ کی مدد کرے گا اللہ بھی ضرور اس کی مدد کرے گا۔ بیشک اللہ تعالیٰ بڑی قوتوں والا بڑے غلبے والا ہے۔
(22-الحج:40)
وَأَعِدُّوا لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ وَمِن رِّبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُوَّ اللَّهِ وَعَدُوَّكُمْ وَآخَرِينَ مِن دُونِهِمْ لَا تَعْلَمُونَهُمُ اللَّهُ يَعْلَمُهُمْ ۚ وَمَا تُنفِقُوا مِن شَيْءٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يُوَفَّ إِلَيْكُمْ وَأَنتُمْ لَا تُظْلَمُونَ ﴿٦٠﴾ وَإِن جَنَحُوا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ ۚ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ ﴿٦١﴾
تم ان کے مقابلے کے لیے اپنی طاقت بھر قوت کی تیاری کرو اور گھوڑوں کے تیار رکھنے کی کہ اس سے تم اللہ کے دشمنوں کو خوف زدہ رکھ سکو اور ان کے سوا اوروں کو بھی، جنہیں تم نہیں جانتے، اللہ انہیں خوب جان رہا ہے جو کچھ بھی اللہ کی راہ میں صرف کرو گے وہ تمہیں پورا پورا دیا جائے گا اور تمہارا حق نہ مارا جائے گا۔ اگر وہ صلح کی طرف جھکیں تو تو بھی صلح کی طرف جھک جا اور اللہ پر بھروسہ رکھ، یقیناً وہ بہت سننے جاننے والا ہے۔
(8-الأنفال:60-61)
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا هَلْ أَدُلُّكُمْ عَلَىٰ تِجَارَةٍ تُنجِيكُم مِّنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ ﴿١٠﴾ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَتُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنفُسِكُمْ ۚ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ ﴿١١﴾ يَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَيُدْخِلْكُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ وَمَسَاكِنَ طَيِّبَةً فِي جَنَّاتِ عَدْنٍ ۚ ذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ ﴿١٢﴾
اے ایمان والو! کیا میں تمہیں وہ تجارت بتلا دوں جو تمہیں درد ناک عذاب سے بچائے؟ اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول اللہ پر ایمان لاؤ اور اللہ کی راہ میں اپنے مال اور اپنی جانوں سے جہاد کرو۔ یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم میں علم ہو۔ اللہ تعالیٰ تمہارے گناہ معاف فرما دے گا اور تمہیں ان جنتوں میں پہنچائے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی اور صاف ستھرے گھروں میں جو جنت عدن میں ہوں گے، یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔
(61-الصف:10-12)
وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا ۚ بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ ﴿١٦٩﴾ فَرِحِينَ بِمَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِن فَضْلِهِ وَيَسْتَبْشِرُونَ بِالَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُوا بِهِم مِّنْ خَلْفِهِمْ أَلَّا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ﴿١٧٠﴾
جو لوگ اللہ کی راہ میں شہید کیے گئے ہیں ان کو ہرگز مردہ نہ سمجھیں، بلکہ وہ زندہ ہیں اپنے رب کے پاس روزیاں دیے جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنا فضل جو انہیں دے رکھا ہے اس سے بہت خوش ہیں اور خوشیاں منا رہے ہیں ان لوگوں کی بابت جو اب تک ان سے نہیں ملے ان کے پیچھے ہیں، اس پر کہ انہیں نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔
(3-آل عمران:169-170)
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا زَحْفًا فَلَا تُوَلُّوهُمُ الْأَدْبَارَ ﴿١٥﴾ وَمَن يُوَلِّهِمْ يَوْمَئِذٍ دُبُرَهُ إِلَّا مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ أَوْ مُتَحَيِّزًا إِلَىٰ فِئَةٍ فَقَدْ بَاءَ بِغَضَبٍ مِّنَ اللَّهِ وَمَأْوَاهُ جَهَنَّمُ ۖ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ ﴿١٦﴾
اے ایمان والو! جب تم کافروں سے دو بدو مقابل ہو جاؤ تو ان سے پشت مت پھیرنا۔ اور جو شخص ان سے اس موقع پر پشت پھیرے گا مگر ہاں جو لڑائی کے لیے پینترا بدلتا ہو یا جو (اپنی) جماعت کی طرف پناہ لینے آتا ہو وہ مستثنیٰ ہے۔ باقی اور جو ایسا کرے گا وہ اللہ کے غضب میں آ جائے گا اور اس کا ٹھکانہ دوزخ ہوگا وہ بہت ہی بری جگہ ہے۔
(8-الأنفال:15-16)
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا مَا لَكُمْ إِذَا قِيلَ لَكُمُ انفِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ اثَّاقَلْتُمْ إِلَى الْأَرْضِ ۚ أَرَضِيتُم بِالْحَيَاةِ الدُّنْيَا مِنَ الْآخِرَةِ ۚ فَمَا مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا قَلِيلٌ ﴿٣٨﴾
اے ایمان والو! تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ جب تم سے کہا جاتا ہے کہ چلو اللہ کے راستے میں کوچ کرو تو تم زمین سے لگے جاتے ہو؟ کیا تم آخرت کے عوض دنیا کی زندگانی پر ہی ریجھ گئے ہو؟ سنو! دنیا کی زندگی تو آخرت کے مقابلے میں کچھ یونہی سی ہے۔
(9-التوبة:38)
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا خُذُوا حِذْرَكُمْ فَانفِرُوا ثُبَاتٍ أَوِ انفِرُوا جَمِيعًا ﴿٧١﴾
اے مسلمانو! اپنے بچاؤ کا سامان لے لو پھر گروہ گروہ بن کر کوچ کرو یا سب کے سب اکٹھے ہو کر نکل کھڑے ہو!۔
(4-النساء:71)
وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ ۚ فَإِنِ انتَهَوْا فَإِنَّ اللَّهَ بِمَا يَعْمَلُونَ بَصِيرٌ ﴿٣٩﴾ وَإِن تَوَلَّوْا فَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ مَوْلَاكُمْ ۚ نِعْمَ الْمَوْلَىٰ وَنِعْمَ النَّصِيرُ ﴿٤٠﴾
اور تم ان سے اس حد تک لڑو کہ ان میں فسادِ عقیدہ نہ رہے۔ اور دین اللہ ہی کا ہو جائے پھر اگر یہ باز آجائیں تو اللہ تعالیٰ ان اعمال کو خوب دیکھتا ہے۔ اور اگر روگردانی کریں تو یقین رکھیں کہ اللہ تعالیٰ تمہارا کارساز ہے وہ بہت اچھا کارساز ہے اور بہت اچھا مددگار ہے۔
(8-الأنفال:39-40)
انفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا وَجَاهِدُوا بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنفُسِكُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ۚ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ ﴿٤١﴾
نکل کھڑے ہو جاؤ ہلکے پھلکے ہو تو بھی اور بھاری بھر کم ہو تو بھی، اور راہ رب میں اپنے مال و جان سے جہاد کرو، یہی تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم میں علم ہو۔
(9-التوبة:41)
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا لَقِيتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوا وَاذْكُرُوا اللَّهَ كَثِيرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ﴿٤٥﴾ وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ ۖ وَاصْبِرُوا ۚ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ ﴿٤٦﴾
اے ایمان والو! جب تم کسی مخالف فوج سے بھڑ جاؤ تو ثابت قدم رہو اور بکثرت اللہ کو یاد کرو تا کہ تمہیں کامیابی حاصل ہو۔ اور اللہ کی اور اس کے رسول اللہ کی فرماں برداری کرتے رہو، آپس میں اختلاف نہ کرو ورنہ بزدل ہو جاؤ گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی اور صبر و سہارا رکھو، یقیناً اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
(8-الأنفال:45-46)