تبرک کی اقسام اور مروجہ بدعی تبرکات کا تحقیقی جائزہ

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ غلام مصطفےٰ ظہیر امن پوری کی کتاب تبرکات کی شرعی حیثیت سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

تبرک کی اقسام

تبرک دو طرح کا ہے:

تبرک مشروع (جائز تبرک)
② تبرک ممنوع (ناجائز تبرک)
آئیے اب دونوں قسموں کا تفصیلی جائزہ لیتے ہیں:

تبرک مشروع:

تبرک امور توقیفی میں سے ہے، یعنی اس کا تعلق ان چیزوں سے ہے، جن کا تعین شریعت نے خود کیا ہے۔ کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ شریعت کی معتبر دلیل کے بغیر کسی چیز کو متبرک قرار دے۔ لہذا وہی تبرک جائز اور مشروع ہو گا، جس کا جواز شریعت سے ثابت ہو گا، جیسا کہ صحابہ کرام، تابعین عظام اور تبع تابعین و ائمہ دین نے آثار نبوی سے تبرک حاصل کیا۔ یہ ان کی نبی کریم ﷺ سے کمال محبت کی دلیل ہے اور اسلاف امت کی اس روش کی پیروی لازم ہے۔
یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ کیا پگڑی شریف وغیرہ صحابہ، تابعین و تبع تابعین کے دور میں موجود تھیں اور کیا اسلاف امت کا ان سے تبرک لینا ثابت ہے؟ اگر اس دور میں بھی ان چیزوں کا کوئی وجود نہیں تھا، تو اتنی صدیوں بعد یہ کہاں سے دریافت ہو گئیں

تبرک ممنوع:

جو تبرک شرعی دلائل سے ثابت ہے، وہ جائز ہے، اس کے علاوہ باقی ہر قسم کا تبرک ممنوع و ناجائز اور حرام ہے۔ ممنوع تبرک کی پھر دو قسمیں ہیں:
① مشرکانہ تبرک
② بدعی تبرک

①مشرکانہ تبرک:

ایسا تبرک جس سے شرک لازم آئے۔ اس کی پھر دو قسمیں بنتی ہیں:
جس میں کسی چیز کے بارے میں یہ اعتقاد رکھا جائے کہ اس کی برکت ذاتی ہے اور یہ سمجھا جائے کہ وہ از خود مافوق الاسباب خیر و برکت عطا کرنے پر قدرت رکھتی ہے۔ ایسا اعتقاد چونکہ عبادت ہے اور اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی کی عبادت شرک ہے۔

حصول برکت کی نیت سے اولیا وصالحین اور ان کی قبروں، مزاروں اور آستانوں پر جانور ذبح کرنا یا ان کے نام کی منتیں ماننا، تاکہ ان کی برکت نصیب ہو جائے یا وہ خوش ہو کر دعا اور سفارش کریں یا قبر پر اعتکاف اور طواف سے تبرک حاصل کرنا۔ یہ بھی غیر اللہ کی عبادت ہونے کی بنا پر شرک میں داخل ہے۔
فرمان باری تعالیٰ ہے:
[فَلَا تَدۡعُوۡا مَعَ اللّٰہِ اَحَدًا] تم اللہ کے ساتھ کسی کو نہ پکارو۔ (الجن:18)

علامہ شاطبی رحمہ اللہ (790ھ) فرماتے ہیں:

[والآيات التي قرر فيها حال المشركين في إشراكهم أتى فيها بذكر الضلال، لأن حقيقته أنه خروج عن الصراط المستقيم، لأنهم وضعوا آلهتهم لتقربهم إلى الله زلفى (في زعمهم، فقالوا: {مَا نَعۡبُدُہُمۡ اِلَّا لِیُقَرِّبُوۡنَاۤ اِلَی اللّٰہِ زُلۡفٰی} (الزمر: 3)، فوضعوهم موضع من يتوسل به حتى عبدوهم من دون الله، إذ كان أول وضعها فيما ذكر العلماء صورا لقوم يودونهم ويتبركون بهم، ثم عبدت فأخذتها العرب من غيرها على ذلك القصد، وهو الضلال المبين.]

جن آیات میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے شرک کا حال بیان فرمایا ہے، ان میں گمراہی کا ذکر کیا ہے، کیونکہ حقیقت میں یہ صراط مستقیم سے بھٹک جانا ہے۔ مشرکین نے (بتوں کی صورت میں) اپنے معبود اس لیے گھڑے تھے کہ وہ ان کے خیال میں انہیں اللہ کے قریب کرتے تھے، چنانچہ انہوں نے کہا: [مَا نَعۡبُدُہُمۡ اِلَّا لِیُقَرِّبُوۡنَاۤ اِلَی اللّٰہِ زُلۡفٰی] ہم ان کی عبادت صرف اس لیے کرتے ہیں کہ یہ مرتبے میں ہمیں اللہ کے قریب کر دیں۔ (الزمر:3) یوں انہوں نے انہیں تقرب الہی کا وسیلہ بنایا تھا، لیکن ایک وقت آیا کہ ان کی عبادت کرنے لگے۔ علما نے ذکر کیا ہے کہ انہوں نے آغاز میں ان لوگوں کی تصویریں بنائیں جن سے وہ محبت کرتے تھے اور تبرک حاصل کرتے تھے، پھر ان کی پوجا کی جانے لگی۔ عربوں نے بھی اسی نیت سے غیروں سے یہ فعل لے لیا، لیکن یہ واضح گمراہی ہے۔
(الاعتصام:1/ 239-240)

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (728ھ) فرماتے ہیں:

[وأما الأشجار والأحجار والعيون ونحوها مما ينذر لها بعض العامة أو يعلقون بها خرقا أو غير ذلك أو يأخذون ورقها يتبركون به أو يصلون عندها أو نحو ذلك: فهذا كله من البدع المنكرة وهو من عمل أهل الجاهلية ومن أسباب الشرك بالله تعالى]
درخت، پتھر اور چشمے وغیرہ، جن کے لیے کچھ لوگ نذریں مانتے ہیں یا ان کے ساتھ کپڑوں کے ٹکڑے وغیرہ باندھتے ہیں یا ان کے پتے تبرک کے لیے لیتے ہیں یا ان کے پاس نماز وغیرہ پڑھتے ہیں، یہ سب کام منکر بدعات اور جاہلیت والے اعمال اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کے اسباب میں سے ہیں۔
[مجموع الفتاوى: 27/ 136-137]

علامہ شاہ ولی اللہ دہلوی رحمہ اللہ (1176ھ) فرماتے ہیں:

[كان أهل الجاهلية يقصدون مواضع معظمة بزعمهم يزورونها، ويتبركون بها، وفيه من التحريف والفساد ما لا يخفى، فسد النبي صلى الله عليه وسلم الفساد لئلا يلتحق غير الشعائر بالشعائر، ولئلا يصير ذريعة لعبادة غير الله، والحق عندي أن القبر ومحل عبادة ولي من أولياء الله والطور كل ذلك سواء في النهي]
زمانہ جاہلیت میں لوگ ایسے مقامات کی زیارت کے لیے جاتے تھے جو ان کے خیال میں قابل احترام ہوتے تھے، وہ ان سے برکت حاصل کرتے تھے۔ اس عمل میں چونکہ واضح طور پر تحریف اور فساد موجود تھا، اس لیے نبی کریم ﷺ نے بگاڑ کے اس دروازے کو بند کر دیا تاکہ جو چیزیں شعائر اسلام میں شامل نہیں، وہ شعائر میں شامل نہ ہو جائیں اور غیر اللہ کی عبادت کا ذریعہ نہ بن جائیں۔ میرے نزدیک حق بات یہ ہے کہ قبر، کسی ولی کی عبادت گاہ، حتیٰ کہ کوہ طور سب اس (حکم ممانعت) میں برابر ہیں (ان سب کی طرف تقرب وتبرک کی نیت سے سفر ممنوع ہے۔
[حجة الله البالغة، من أبواب الصلاة: 325/1]

شیخ عبد الرحمن بن ناصر سعدی رحمہ اللہ (1376ھ) فرماتے ہیں:

[إن ذلك من الشرك ومن أعمال المشركين، فإن العلماء اتفقوا على أنه لا يشرع التبرك بشيء من الأشجار والأحجار والبقع والمشاهد وغيرها، فإن هذا التبرك غلو فيها، وذلك يتدرج به إلى دعائها وعبادتها، وهذا هو الشرك الأكبر، كما تقدم انطباق الحد عليه، وهذا عام في كل شيء حتى مقام إبراهيم وحجرة النبي صلى الله عليه وسلم وصخرة بيت المقدس وغيرها من البقع الفاضلة، وأما استلام الحجر الأسود وتقبيله، واستلام الركن اليماني من الكعبة المشرفة، فهذا عبودية لله، وتعظيم لله، وخضوع لعظمته، فهو روح التعبد، فهذا تعظيم للخالق وتعبد له، وذلك تعظيم للمخلوق وتأله له، فالفرق بين الأمرين كالفرق بين الدعاء لله الذي هو إخلاص وتوحيد، والدعاء للمخلوق الذي هو شرک وتنديد.]
یہ اعمال شرک ہیں اور مشرکین کے اعمال ہیں، کیونکہ علماء کرام اس بات پر متفق ہیں کہ شجر و حجر اور مزارات وغیرہ میں سے کسی بھی چیز سے تبرک لینا جائز نہیں۔ یہ تبرک غلو پر مبنی ہے اور یہ عمل بتدریج دعا اور عبادت کی طرف لے جاتا ہے، جو کہ شرک اکبر ہے۔ سابقہ سطور میں اسے شرک اکبر قرار دینے پر بات ہو چکی ہے۔ یہ قاعدہ ہر چیز کے لیے عام ہے، حتی کہ مقام ابراہیم، حجرہ نبوی اور بیت المقدس وغیرہ جیسی فضیلت والی جگہیں بھی اس میں شامل ہیں۔ رہا حجر اسود کا استلام اور اس کو چومنا اور کعبہ شریف کے رکن یمانی کا استلام، تو یہ اللہ کی عبادت، اس کی تعظیم اور اس کی عظمت کے آگے جھکنا ہے۔ یہی عبادت کی روح ہوتی ہے۔ یہ خالق کی تعظیم اور عبادت ہے، جبکہ اشجار و احجار اور مزارات سے تبرک لینا مخلوق کی تعظیم اور عبادت ہے۔ ان دونوں میں وہی فرق ہے، جو اللہ اور مخلوق کو پکارنے میں ہے۔ اللہ کو پکارنا اخلاص اور توحید ہے، جبکہ مخلوق کو (مافوق الاسباب) پکارنا شرک اور ساجھی بنانا ہے۔
[القول السديد شرح كتاب التوحيد:ص 51]

ایک دلیل:

ممنوع تبرک کے شرک میں داخل ہونے کی ایک دلیل ملاحظہ فرمائیں:
سیدنا ابو واقد حارث بن عوف لیثی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
[لما افتتح رسول الله صلى الله عليه وسلم مكة؛ خرج بنا معه قبل هوازن، حتى مررنا على سدرة الكفار، سدرة يعكفون حولها ويدعونها ذات أنواط، قلنا: يا رسول الله، اجعل لنا ذات أنواط كَمَا لَهُمْ ذَاتُ أَنْوَاطٍ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اللهُ أَكْبَرُ، إِنَّهَا السُّنَنُ، هَذَا كَمَا قَالَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ لِمُوسَى: [اجۡعَلۡ لَّنَاۤ اِلٰـہًا کَمَا لَہُمۡ اٰلِـہَۃٌ ؕ قَالَ اِنَّکُمۡ قَوۡمٌ تَجۡہَلُوۡنَ] (الأعراف: 138)، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّكُمْ لَتَرْكَبُنَّ سَنَنَ مَنْ قَبْلَكُمْ.]
جب رسول اللہ ﷺ نے مکہ فتح کیا، تو ہمارے ساتھ ہوازن کی طرف تشریف لے گئے۔ ہم کفار کی اس بیری کے پاس سے گزرے، جس کے گرد وہ قیام کرتے تھے اور اسے ذات انواط کا نام دیتے تھے۔ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارے لیے بھی ان کی طرح کا کوئی ذات انواط مقرر کر دیجیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ اکبر! یہ تو بنی اسرائیل کے نقش قدم کی پیروی ہے۔ یہ تو ایسے ہی ہے، جیسے بنی اسرائیل نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا تھا: [اجۡعَلۡ لَّنَاۤ اِلٰـہًا کَمَا لَہُمۡ اٰلِـہَۃٌ ؕ قَالَ اِنَّکُمۡ قَوۡمٌ تَجۡہَلُوۡنَ] ہمارے لیے بھی الہ مقرر کر دیجیے، جس طرح ان [مشرکین] کے الہ ہیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ تم جاہل قوم ہو۔ (الأعراف: 138) پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بلاشبہ تم ضرور اپنے سے پہلے لوگوں کے نقش قدم پر چلو گے۔
[مسند الإمام أحمد: 21897، 21900، سنن الترمذي: 2180، السنة للمروزي: 40، وسنده صحيح]
اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے ”حسن صحیح“ اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (6702) نے ”صحیح“ قرار دیا ہے۔

علامہ طرطوشی رحمہ اللہ (520ھ) اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں:

[انظروا رحمكم الله، أينما وجدتم سدرة أو شجرة يقصدها الناس، ويعظمون من شأنها، ويرجون البرء والشفاء من قبلها، وينوطون بها المسامير والخرق؛ فهي ذات أنواط، فاقطعوها.]
اللہ آپ پر رحم کرے، آپ جہاں بھی ایسی بیری یا کوئی درخت دیکھیں، جس کی زیارت کے لیے لوگ آتے ہوں، اس کی تعظیم کرتے ہوں، اس سے شفا یابی کی امید رکھتے ہوں اور اس کے ساتھ کیل اور کپڑے وغیرہ لٹکاتے ہوں، تو وہ ذات انواط ہے، اسے کاٹ دیں۔
(الحوادث والبدع:ص38-39)

علامہ ابو شامہ رحمہ اللہ (665ھ) فرماتے ہیں:

[من هذا القسم أيضا ما قد عم الإبتلاء به؛ من تزيين الشيطان للعامة تخليق الحيطان والعمد وسرح مواضع مخصوصة في كل بلد، يحكي لهم حاك أنه رأى في منامه بها أحدا ممن اشتهر بالصلاح والولاية، فيفعلون ذلك، ويحافظون عليه مع تضييعهم فرائض الله تعالى وسننه، ويظنون أنهم متقربون بذلك، ثم يتجاوزون هذا إلى أن يعظم وقع تلك الأماكن في قلوبهم، فيعظمونها، ويرجون الشفاء لمرضاهم، وقضاء حوائجهم بالنذر لهم، وهي من بين عيون وشجر وحائط وحجر.]
اسی قبیل سے وہ خرافات ہیں، جس میں بہت سے لوگ مبتلا ہو چکے ہیں۔ شیطان عوام کو آمادہ کرتا ہے کہ وہ دیواریں اور مینار بنائیں، نیز ہر علاقے میں مخصوص جگہوں پر عمارتیں کھڑی کریں۔ ایک بیان کرنے والا بیان کرتا ہے کہ اس نے اپنے خواب میں فلاں مشہور نیک ولی کو دیکھا ہے، اس پر لوگ قبور کی تعمیر شروع کر دیتے ہیں اور اللہ کے فرائض وسنن کو ضائع کر کے ان کی حفاظت کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ اس کام کے ذریعے اللہ کا تقرب حاصل کر رہے ہیں۔ پھر وہ اس سے آگے بڑھتے ہیں اور شیطان ان کے دلوں میں ان جگہوں کی تعظیم بٹھا دیتا ہے اور وہ ان کی تعظیم شروع کر دیتے ہیں، نیز وہ ان جگہوں پر نذر مان کر اپنے مریضوں کی شفا اور اپنی ضرورتوں کے پورا ہونے کی امید رکھنے لگتے ہیں۔ یہ جگہیں چشموں، درختوں، دیواروں اور پتھروں کے درمیان ہیں۔
[الباعث على إنكار البدع والحوادث:ص 25-26]

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (728ھ) فرماتے ہیں:

[أنكر النبي صلى الله عليه وسلم مجرد مشابهتهم للكفار في اتخاذ شجرة يعكفون عليها، معلقين عليها سلاحهم، فكيف بما هو أعظم من ذلك من مشابهتهم المشركين، أو هو الشرك بعينه؟]
نبی کریم ﷺ نے کافروں کے ساتھ محض اس مشابہت پر سختی سے رد فرمایا کہ ایک درخت مقرر کیا جائے، جس کے اردگرد وہ بیٹھا کریں اور اس پر اپنا اسلحہ لٹکائیں۔ ایسی صورت میں وہ کام کیسے جائز ہو سکتا ہے، جو اس سے بڑھ کر مشرکین سے مشابہت کا باعث ہو یا بعینہ شرک ہو؟
[اقتضاء الصراط المستقيم:2/ 157-158]

علامہ محمد بن صالح عثیمین رحمہ اللہ (1421ھ) فرماتے ہیں:

[هؤلاء طلبوا سدرة يتبركون بها كما يتبرك المشركون بها، وأولئك طلبوا إلها كما لهم آلهة، فيكون في كلا الطلبين منافاة للتوحيد، لأن التبرك بالشجر نوع من الشرك، واتخاذه إلها شرك واضح.]
صحابہ کرام نے رسول اللہ ﷺ سے مطالبہ کیا کہ ان کے لیے بیری کا ایک درخت ہونا چاہیے جس سے وہ تبرک حاصل کریں، جیسا کہ مشرکین تبرک حاصل کرتے تھے، جبکہ موسیٰ علیہ السلام کے پیروکاروں نے مطالبہ کیا کہ ان کے لیے معبود ہوں، جیسے اس دور کے کفار نے بنائے ہوئے تھے۔ ان دونوں مطالبات میں توحید کی نفی تھی، کیونکہ درختوں سے تبرک شرک کی ایک قسم ہے اور ان کو الہ بنانا واضح شرک ہے۔
[القول المفيد على كتاب التوحيد: 205/1]

②بدعی تبرک:

آثار صالحین اور آثار اولیا سے تبرک حاصل کرنا بدعت ہے، کیونکہ آثار سے تبرک نبی کریم ﷺ کے ساتھ خاص ہے۔ قبر نبوی یا قبور صالحین سے تبرک غیر مشروع ہے، کیونکہ اس پر کوئی دلیل شرعی نہیں، بلکہ بہت سی احادیث نبویہ صریح طور پر اس فعل کی قباحت و شناعت بیان کرتی ہیں۔
مقام ابراہیم کو بطور تبرک بوسہ دینا، کعبۃ اللہ کی دیواروں کو چومنا، غلاف کعبہ کو پکڑ کر دعائیں کرنا، کعبہ کے پرنالے کے نیچے کھڑے ہو جانا، صالحین کے آثار کو چومنا، بطور تبرک صالحین کے پاؤں کو بوسہ دینا اور برکت حاصل کرنے کی نیت سے حجر اسود کو چومنا، انبیاء کرام اور اولیائے عظام کے مقامات ولادت و وفات سے تبرک حاصل کرنا، شب برات، شب میلاد النبی اور شب معراج کو عبادت کے ساتھ خاص کر کے تبرک حاصل کرنا، مسجد حرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصی کی زمین کو چومنا، مسجد نبوی کے ستونوں کو چومنا، جمعرات یا کسی بھی دن اس نظریے سے نکاح کرنا کہ اس میں برکت ہوگی، نعلین شریفین کی (جو کہ فرضی ہوتی ہے) بنا کر اس سے تبرک حاصل کرنا، کعبۃ اللہ کی شبیہ بنانا، صالحین کی قبروں کی مٹی کو متبرک سمجھنا، صالحین کی نشست گاہوں، اقامت گاہوں کو متبرک خیال کرنا، خاص نیت سے ان کی قبروں کی طرف سفر کرنا، وہاں نماز پڑھنا، صالحین کی قبروں پر مساجد بنانا، وہاں صدقات و خیرات تقسیم کرنا، ننگے پاؤں چل کر قبروں پر حاضری دینا، نذر و نیاز دینا اور ان کی اشیا و آثار کے وسیلہ سے اللہ کی بارگاہ میں دعا کر کے تبرک حاصل کرنا بدعت ہے۔
سلف صالحین، صحابہ کرام، تابعین عظام، تبع تابعین اور ائمہ اسلام سے ایسا کچھ ثابت نہیں۔ اگر یہ افعال و اعمال دین کا حصہ ہوتے، تو اسلاف امت بڑھ چڑھ کر ان کو اپناتے، کیونکہ وہ خیر و برکت کے حصول پر بہت زیادہ حریص تھے۔ وہ دین ہی کیا جس کا بافضیلت زمانوں میں ذکر تک نہ ہو؟

امام بریلویت، احمد رضا خان صاحب لکھتے ہیں:

لہذا دربارہ کربلائے معلی (قبر حسین رضی اللہ عنہ) اب صرف کاغذ پر صحیح نقشہ لکھا ہوا محض بقصد تبرک بے آمیزش منہیات پاس رکھنے کی اجازت ہو سکتی ہے۔
[فتاوی رضویہ:ج21، ص424]

نیز لکھتے ہیں:

یونہی اگر روضہ مبارک حضرت شہزادہ گلگوں قبا حسین شہید ظلم و جفا صلوات اللہ و تعالی وسلامہ علی جدہ الکریم وعلیہ کی صحیح مثل بنا کر محض تبرک بےآمیزش منکرات شرعیہ مکان میں رکھے تو شرعا کوئی حرج نہ تھا۔
(فتاوی رضویہ:423/21)

قارئین کرام! جس مذہب پر قرآن و حدیث، آثار صحابہ اور ائمہ محدثین کے قول وفعل سے دلیل نہ ملے، یقینا وہ عجمی اور بدعی مذہب ہے۔

شیخ سلیمان بن عبد اللہ بن محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ (1233ھ) فرماتے ہیں:

[ذكر بعض المتأخرين أن التبرك بآثار الصالحين مستحب كشرب سؤرهم، والتمسح بهم أو بثيابهم، وحمل المولود إلى أحد منهم ليحنكه بتمرة حتى يكون أول ما يدخل جوفه ريق الصالحين، والتبرك بعرقهم ونحو ذلك، وقد أكثر من ذلك أبو زكريا النووي في "شرح مسلم” في الأحاديث التي فيها أن الصحابة فعلوا شيئًا من ذلك مع النبي صلى الله عليه وسلم وظن أن بقية الصالحين في ذلك كالنبي صلى الله عليه وسلم. وهذا خطأ صريح لوجوه: منها: عدم المقاربة فضلاً عن المساواة للنبي صلى الله عليه وسلم في الفضل والبركة. ومنها: عدم تحقق الصلاح، فإنه لا يتحقق إلا بصلاح القلب، وهذا أمر لا يمكن الاطلاع عليه إلا بنص، كالصحابة الذين أثنى الله عليهم ورسوله، أو أئمة التابعين، ومن شهر بصلاح ودين كالأئمة الأربعة ونحوهم من الذين تشهد لهم الأمة بالصلاح وقد عدم أولئك، أما غيرهم، فغاية الأمر أن نظن أنهم صالحون فنرجو لهم. ومنها: أنا لو ظننا صلاح شخص، فلا نأمن أن يختم له بخاتمة سوء، والأعمال بالخواتيم، فلا يكون أهلاً للتبرك بآثاره. ومنها: أن الصحابة لم يكونوا يفعلون ذلك مع غيره لا في حياته، ولا بعد موته، ولو كان خيرًا لسبقونا إليه، فهلا فعلوه مع أبي بكر وعمر وعثمان وعلي ونحوهم من الذين شهد لهم النبي صلى الله عليه وسلم بالجنة، وكذلك التابعون، هلا فعلوه مع سعيد بن المسيب وعلي بن الحسين وأويس القرني، والحسن البصري ونحوهم ممن يقطع بصلاحهم، فدل أن ذلك مخصوص بالنبي صلى الله عليه وسلم. ومنها: أن فعل هذا مع غيره صلى الله عليه وسلم لا يؤمن أن يفتنه، وتعجبه نفسه، فيورثه العجب والكبر والرياء، فيكون هذا كالمدح في الوجه بل أعظم.]

بعض متاخرین نے ذکر کیا ہے کہ نیک لوگوں کے آثار سے تبرک لینا مستحب ہے، مثلا ان کا بچا ہوا پانی وغیرہ پینا، ان کے جسم یا کپڑوں کو چھونا، نومولود بچے کو ان میں سے کسی کے پاس لے کر جانا تاکہ وہ اسے کھجور کی گھٹی دے اور بچے کے پیٹ میں سب سے پہلے جو چیز داخل ہو، وہ نیک لوگوں کا لعاب ہو، اسی طرح ان کے پسینے سے برکت حاصل کرنا وغیرہ۔ اس قسم کی بہت سی باتیں علامہ ابو زکریا نووی رحمہ اللہ نے شرح صحیح مسلم میں ان احادیث کے تحت کی ہیں،
جن میں صحابہ کرام کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آثار سے تبرک لینے کا بیان تھا۔ علامہ نووی رحمہ اللہ نے یہ سمجھ لیا کہ باقی نیک لوگوں کا بھی اس سلسلے میں وہی معاملہ ہے، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تھا، لیکن یہ واضح غلطی ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہیں؛
[1] نیک لوگ فضل و برکت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے برابر تو کجا قریب قریب بھی نہیں پھٹکتے۔ [2] عام نیک لوگوں کی نیکی متحقق نہیں ہوتی، کیونکہ نیکی تو دل کی پاکیزگی سے ثابت ہوتی ہے اور دل کا معاملہ ایسا ہے، جس کا علم صرف نص سے ہو سکتا ہے۔ مثلا صحابہ کرام جن کی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تعریف کی یا تابعین ائمہ اور وہ لوگ جن کی نیکی اور دین داری مشہور ہو گئی، جیسے ائمہ اربعہ وغیرہ، جن کی نیکی کی ساری امت گواہی دیتی ہے۔ یہ سب لوگ تو گزر چکے ہیں۔ رہے باقی نیک لوگ، تو ان کی نیکی کے بارے میں زیادہ سے زیادہ ہمارا گمان ہوتا ہے۔ ہم اللہ کے ہاں ان کے نیک ہونے کی امید رکھتے ہیں۔ [3] اگر ہم کسی شخص کے نیک ہونے کا گمان کر بھی لیں، تو اس بات کا خدشہ ختم نہیں ہوتا کہ ان کا خاتمہ برا ہو جائے، جبکہ اعمال کا دارومدار خاتمے پر ہے۔ اگر کسی کا خاتمہ برا ہو جائے، تو وہ تبرک کا اہل نہیں رہے گا۔ [4] صحابہ کرام نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی سے تبرک نہیں لیا، نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد۔ اگر یہ نیکی کا کام ہوتا، تو وہ ضرور ہم سے پہلے اسے کرتے۔ صحابہ کرام نے سیدنا ابوبکر وعمر وعثمان وعلی وغیرہم رضی اللہ عنہم کے ساتھ ایسا کیوں نہ کیا، جن کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کی گواہی دی تھی؟ اسی طرح تابعین کرام نے امام سعید بن مسیب، علی بن حسین، اویس قرنی، حسن بصری وغیرہ رحمہم اللہ سے کیوں تبرک نہ لیا، جن کو یقینی طور پر نیک کہا جا سکتا ہے؟ اس سے معلوم ہوا کہ تبرک کا معاملہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے ساتھ خاص تھا۔ [5] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی اور کا تبرک لینے سے یہ خطرہ پیدا ہو جائے گا کہ ایسا کرنا اسے فتنے میں مبتلا نہ کر دے۔ وہ اس وجہ سے خود پسندی، تکبر اور ریا کاری کا شکار نہ ہو جائے۔ یہ معاملہ کسی کے سامنے تعریف کرنے کی طرح ہے، بلکہ اس سے بڑھ کر مضر ہے۔
[تيسير العزيز الحميد، ص 150-151]

علامہ ڈاکٹر شمس الدین، افغانی سلفی رحمہ اللہ (1420ھ) فرماتے ہیں :

[تبرك بدعي؛ وهو ما لم يكن فيه طلب الخير والنماء من غير الله تعالى فيما لا يقدر عليه إلا الله، بل كان فيه طلب الخير والنماء من الله تعالى، ولكن بواسطة شيء لم يرد الشرع به، كطلب البركة من الله تعالى بواسطة غلاف الكعبة، أو طلب البركة من الله تعالى بواسطة استلام الحجرة النبوية، أو طلب البركة من الله تعالى بواسطة تمر المدينة النبوية، ونحوها مما لم يرد به الكتاب والسنة، وقد ذكرت عدة أمثلة للتبركات البدعية التي يرتكبها القبورية عامة والديوبندية خاصة۔]
تبرک بدعی وہ ہے، جس میں غیر اللہ سے ایسی خیر و بھلائی کی طلب تو نہ ہو، جس پر صرف اللہ تعالی قادر ہے، البتہ اس میں اللہ تعالی سے کسی ایسی چیز کے
واسطے سے خیر و بھلائی طلب کی جائے۔ جس کا جواز شریعت میں موجود نہیں، جیسے اللہ تعالیٰ سے غلافِ کعبہ یا استلامِ حجرۂ نبویہ یا مدینہ نبویہ کی کھجور وغیرہ جیسی چیزوں کے واسطے سے برکت طلب کرنا جن کا کتاب وسنت سے کوئی ثبوت نہیں۔ میں نے بدعی تبرکات کی بہت سی مثالیں ذکر کی ہیں، جن کا ارتکاب قبر پرست عموماً اور دیوبندی لوگ خصوصاً کرتے ہیں۔
[جہود علماء الحنفیة في إبطال عقائد القبوریة:3/1579]

احناف کی معتبر کتاب میں لکھا ہے:

[لا يجوز أخذ شيء من طيب الكعبة، لا للتبرك ولا لغيره، ومن أخذ شيئا منه؛ لزمه رده إليها، فإن أراد التبرك أتى بطيب من عنده؛ فمسحه بها، ثم أخذه]
کعبہ کی کوئی خوشبو لینا جائز نہیں، نہ تبرک کے لیے نہ کسی اور مقصد کے لیے۔ جو شخص وہاں سے کوئی چیز لے، اسے لوٹانا لازم ہے۔ اگر اس کا ارادہ تبرک کا ہو، تو وہ اپنی خوشبو لے آئے اور کعبہ سے مس کر کے ساتھ لے جائے۔
[فتاوی عالمگیری:1/265]

یہ حصول تبرک کا نیا طریقہ ہے، جسے صحابہ وتابعین اور ائمہ دین نہیں جانتے تھے۔ اس کے بدعت ہونے کے لیے یہی کافی ہے۔

علامہ اشرف علی تھانوی دیوبندی صاحب کہتے ہیں:

غلاف کعبہ زادھا اللہ تنویراً کے تبرک ہونے اور اس کی تقبیل تبرک کے جواز میں کوئی کلام نہیں۔ اگر بوسہ دینے میں صرف اسی قدر اعتقاد ہو اور کسی کو ایذا بھی نہ ہو، تو کچھ مضائقہ نہیں، موجب ثواب و برکت ہے۔
(فتاوی اشرفیہ:ص65)

یہ غلو پر مبنی بدعی نظریہ ہے۔ سوائے حجر اسود کے کسی چیز کو بطور تبرک چومنا جائز نہیں۔

علامہ عینی حنفی رحمہ اللہ (855ھ) فرماتے ہیں:

[فيه كراهية تقبيل ما لم يرد الشرع بتقبيله من الأحجار وغيرها]
اس (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے فرمان) سے ثابت ہوتا ہے کہ جن پتھروں وغیرہ کے چومنے کا ذکر شریعت میں موجود نہیں، انہیں چومنا مکروہ ہے۔
[عمدة القاري:9/241]
غلافِ کعبہ کے چومنے پر کون سی شرعی دلیل ہے؟

علامہ گنگوہی صاحب اور تبرکات:

علامہ محمد عاشق الہی میرٹھی صاحب، علامہ رشید احمد گنگوہی دیوبندی صاحب کے بارے میں لکھتے ہیں:
انسان کو جب کسی کے ساتھ محبت ہوتی ہے، تو اس کے تمام متعلقات سے الفت پیدا ہو جاتی ہے۔ چونکہ حضرت امام ربانی قدس سرہ کے سوادِ قلب میں حق تعالیٰ شانہ اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت راسخ ہو گئی تھی، اس لیے حرمین شریفین کے خس و خاشاک تک آپ محبوب سمجھتے اور خاص وقعت کی نگاہ سے دیکھا کرتے تھے۔ مدنی کھجوروں کی گٹھلیاں پسوا کر صندوقچے میں رکھ لیتے اور کبھی کبھی سفوف بنا کر پھانکا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ فرمانے لگے کہ لوگ حرمین شریفین کی چیزوں زمزمی کے ٹین اور تخم خرما (کھجور کی گٹھلی) کو یونہی پھینک دیتے ہیں۔ یہ نہیں خیال کرتے کہ ان چیزوں کو مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کی ہوا لگی ہے۔ مولوی محمد اسماعیل صاحب فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ مدنی کھجور کی گٹھلی پسی ہوئی حضرت نے صندوقچے میں سے نکال کر مجھے عطا فرمائی کہ لو، اس کو پھانک لو۔ ایک مرتبہ مدینہ منورہ کی الائچی مجھے کھلائی اور ایک دفعہ مدینۃ الرسول کی مٹی عطا فرمائی کہ اس کو کھا لو۔ میں نے عرض کیا کہ حضرت مٹی کھانا تو حرام ہے! آپ نے فرمایا: میاں وہ مٹی اور ہوگی۔
[تذکرۃ الرشید :2/ 47-48]

نیز لکھتے ہیں:

حرمین شریفین سے آئے ہوئے تبرکات کو جب آپ اپنے خدام پر تقسیم فرماتے، تو چہرہ مبارک پر بشاشت اور آواز کے لہجہ میں مسرت و انبساط محسوس ہوتا تھا۔ آپ کا دل چاہتا تھا کہ دوسرے بھی ان اشیا کا احترام کریں۔ ایک مرتبہ مولوی حسین احمد صاحب مہاجر مدنی نے ایک گھڑا بھر کر غسالہ شریف کا بھیجا۔ جس دقت اور اہتمام کے ساتھ گنگوہ پہنچایا گیا، وہ ظاہر ہے۔ آپ نے اس کے پہنچتے ہی اس کو کھلوایا اور سبیل لگا دی۔ اس دن جو بھی آیا، جواب سلام کے بعد آپ کا یہ ارشاد ہوتا تھا: میاں مولوی یحییٰ، ان کو بھی پانی پلاؤ۔ بندہ بھی خوش نصیبی سے اس دن جا پہنچا اور تبرک سے فیض یاب ہوا۔۔۔۔۔
(تذکرۃ الرشید:48/2)

علامہ حسین احمد مدنی دیوبندی، گنگوہی صاحب کے بارے میں لکھتے ہیں:

گنگوہ شریف کے لیے جو تبرکات عامہ تھے، وہ بھائی صاحب اپنے ساتھ لے گئے، مگر حجرہ شریفہ کا غبار، مسجد شریف کی کھجوریں (اس زمانہ میں صحن مسجد نبوی میں بھی چند درخت کھجوروں کے تھے) اور بعض خصوصی دیگر تبرکات میرے ہی
پاس تھے۔ چونکہ حجرہ مطہرہ نبویہ علی صاحبہا الصلاة والسلام کے خاص خدام جن کو آغاوات کہتے ہیں، مجھ سے پڑھا کرتے تھے، اس لیے خصوصی تبرکات مجھ کو حاصل کرنے میں آسانی ہوتی تھی۔ (نقش حیات:102/1)

نیز لکھتے ہیں:

غبار حجرہ مطہرہ پیش کیا گیا، اس کو سرمہ میں ڈلوایا اور روزانہ اس سرمہ کو استعمال فرماتے رہے۔ مسجد نبوی علی صاحبہا الصلاة والسلام کی کھجوروں کے تین دانے پیش کیے گئے، ان کو تقریباً 72 حصہ میں کر کے تقسیم فرمائے۔ مدینہ منورہ کی کھجوریں جو تقسیم کی گئیں، ان کے متعلق ہدایت فرمائی کہ ان کی گٹھلیاں پھینکی نہ جائیں، ان کو ہاون دستہ میں کٹوا کر رکھ لیا اور روزانہ اس میں سے تھوڑا سا پھانک لیا کرتے تھے۔ (نقش حیات:103/1)

علامہ حسین احمد مدنی صاحب، گنگوہی صاحب کے بارے میں لکھتے ہیں:

بعض مخلصین نے کچھ کپڑے مدینہ منورہ سے خدمت اقدس میں تبرکاً ارسال کیے۔ حضرت نے نہایت تعظیم اور وقعت کی نظر سے ان کو دیکھا اور شرف قبول سے ممتاز فرمایا۔ بعض طلبہ حضار مجلس نے عرض بھی کیا کہ حضرت اس کپڑے میں کیا برکت حاصل ہوئی، یورپ کا بنا ہوا ہے، تاجر مدینہ میں لائے، وہاں سے دوسرے لوگ خرید لائے، اس میں تو کوئی وجہ تبرک ہونے کی نہیں معلوم ہوئی۔ حضرت نے شبہ کو رد فرمایا اور یوں ارشاد فرمایا کہ مدینہ منورہ کی اس کو ہوا تو لگی ہے۔ اسی وجہ سے اس کو یہ اعزاز اور برکت حاصل ہوئی۔
[الشہاب الثاقب:ص231۔232]

نیز لکھتے ہیں:

حضرت مولانا (گنگوہی) کے یہاں تبرکات میں حجرہ مطہرہ نبویہ کے غلاف کا ایک سبز ٹکڑا بھی تھا۔ بروز جمعہ کبھی کبھی حاضرین و خدام کو جب ان تبرکات کی زیارت خود کرایا کرتے تھے، تو صندوقچہ خود اپنے دست مبارک سے کھولتے اور غلاف کو نکال کر اول اپنی آنکھوں سے لگاتے اور منہ سے چومتے تھے، پھر اوروں کی آنکھوں سے لگاتے اور ان کے سروں پر رکھتے۔ (الشہاب الثاقب:ص231)

مزید لکھتے ہیں:

حجرہ مطہرہ نبویہ کا جلا ہوا زیتون کا تیل وہاں سے حضرت (گنگوہی) رحمۃ اللہ علیہ کے بعض مخلصین نے ارسال کیا تھا۔ حضرت نے باوجود نزاکت طبعی کے، جس کی حالت عام لوگوں پر ظاہر ہے، اس کو پی ڈالا۔ (الشہاب الثاقب:ص232)

نیز لکھتے ہیں:

خود احقر (حسین مدنی) نے سوال کیا کہ بعد چالیس روز کے جالی شریف میں اندرون حجرہ مطہرہ اہل مدینہ بچوں کو داخل کرتے ہیں اور خادم روضہ مطہرہ اس کو لے جا کر سامنے روضہ اقدس کے قبلہ کی طرف لٹا دیتا ہے اور دعا مانگتا ہے۔ یہ فعل کیسا ہے؟ تو آپ نے استحسان فرمایا اور پسند کیا۔
[الشہاب الثاقب:ص232۔233]

علامہ رشید احمد گنگوہی دیوبندی صاحب کے بارے میں علامہ عاشق الہی میرٹھی صاحب نے یہ بھی لکھا ہے:

مقام ابراہیم کا ٹکڑا جو حضرت کے پاس تھا، اس کی نسبت ارشاد فرمایا کہ میرے پاس ایسی چیز ہے کہ اگر شیخ عبدالقدوس رحمۃ اللہ علیہ موجود ہوتے، تو وہ بھی اس کی زیارت کو آتے۔ حضرت امام ربانی (گنگوہی) تبرکات کے نہایت قدر دان تھے۔ حق تعالیٰ نے آپ کو تبرکات بھی وہ عطا فرمائے تھے، جن کا دوسری جگہ وجود نہ تھا۔ مقامِ ابراہیم، جس کی زیارت سے حرم محترم میں بھی ہزار ہا مخلوق محروم رہتی ہے، اور اگر زیارت ہوتی ہے، تو عموماً رشوت دے کر، جو معصیت ہے، اس کا ٹکڑا آپ کے پاس تھا، جس کو خدام کی خواہش پر آپ صندوقچے سے نکالتے اور پانی میں ڈال کر نکال لیتے اور پانی کو مجمع پر تقسیم کرا دیا کرتے تھے۔ اس انمول تبرک کی آپ کو اس درجہ محبت و قدر تھی کہ کبھی معتبر سے معتبر خادم کے بھی حوالہ نہیں فرمایا۔ جس وقت آپ اس کی زیارت کراتے، تو مسرت سے باغ باغ ہو جاتے تھے، بمقتضائے واما بنعمة ربک فحدث آپ نے بارہا یہ الفاظ فرمائے کہ مجھے حق تعالیٰ نے وہ شے عطا فرمائی ہے، جو دوسرے کے پاس نہیں ہے۔ آپ کے پاس بیت اللہ زادھا اللہ شرفاً و تعظیماً کی مقدس چوکھٹ کا چھوٹا سا ایک ٹکڑا بھی تھا۔ اس کی محبت و قدر دانی بھی اسی درجہ کی تھی، بلکہ شاید اس سے بھی کچھ زیادہ۔
اعلیٰ حضرت حاجی صاحب (امداد اللہ مہاجر مکی) کا عطا فرمایا ہوا جبہ بھی آپ کے پاس تھا۔ یہ بھی انہیں تبرکات کے صندوقچے میں رہتا تھا۔ جس وقت آپ اس کو نکالتے، تو اوّل خود دستِ مبارک میں لے کر اپنی آنکھوں سے لگاتے اور پھر یکے بعد دیگرے دوسروں کو سر پر رکھنے کا موقع عطا فرماتے تھے۔ اس وقت آپ پر ایک خاص کیفیت طاری ہوتی اور یوں فرمایا کرتے تھے کہ اس کو کئی سال حضرت نے پہنا اور پھر مجھ کو خصوصیت کے ساتھ عطا فرمایا تھا۔ جو شخص لے کر آیا تھا، اسے یوں کہلا بھیجا تھا کہ اس کو پہننا۔ سو کبھی کبھی تعمیل ارشاد کو پہننا کرتا ہوں۔ تبرک ہے، رکھ چھوڑا ہے۔ (تذکرۃ الرشید:2/ 167-168)

قرآن وحدیث اور سلف صالحین کے خلاف تبرک کی نئی صورتیں نکالنا کوئی محبت کی نشانی نہیں۔ محبت وہی ہے جو شریعت کی ہدایات کے مطابق کی جائے۔

پاخانے سے تبرک:

جب کوئی انسان سلف صالحین اور ائمہ ہدیٰ کے راستے سے ہٹ جائے، تو اس سے مضحکہ خیز حرکات وسکنات کا صدور یقینی ہو جاتا ہے۔

الیاس صاحب کی نانی جی کے متعلق آتا ہے:

بی امی کی عمر طویل ہوئی اور انہوں نے نواسوں کی اولاد کو بھی دیکھا۔ اخیر عمر میں بصارت اور چلنے پھرنے سے معذور ہو گئی تھیں اور مرض الموت میں تین سال کامل صاحبِ فراش رہیں، مگر نہ قلبی ولسانی ذکر اللہ میں فرق آیا اور صبر ورضا بر قضا میں کمی لاحق ہوئی۔ جس مریض کو تین سال مرض اسہال میں اس طرح گزریں کہ کروٹ بدلنا بھی دشوار ہو، اس کے متعلق یہ خیال بے موقع نہ تھا کہ بستر کی بدبو دھوبی کے یہاں بھی نہ جائے گی، مگر دیکھنے والوں نے دیکھا کہ غسل کے لیے چارپائی سے اتارنے پر پوتڑے نکالے گئے، جو نیچے رکھ دیے جاتے تھے، تو ان میں بدبو کی جگہ خوشبو اور ایسی نرالی مہک پھوٹی تھی کہ ایک دوسرے کو سونگھاتا تھا اور ہر مرد وعورت تعجب کرتا تھا۔ چنانچہ بغیر دھلوائے ان کو تبرک بنا کر رکھ لیا گیا۔ (تذکرۃ الخلیل از محمد عاشق الہی میرٹھی، ص 96)

جس شریعت میں صحابہ کرام جیسی مقدس ہستیوں کے لباسوں سے تبرک لینا روانہ رکھا گیا، اس میں کسی عام آدمی کی نانی کے پاخانے والے پوتڑوں کے تبرک کی کیا حیثیت ہو سکتی ہے، اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔

علامہ اشرف علی تھانوی دیوبندی صاحب کہتے ہیں:

ایک متقی پرہیز گار بزرگ نے مجھے ایک انگرکھا (اچکن) مومی چھینٹ کا دیا تھا۔ میں اس کو تبرک سمجھ کر پہنتا تھا۔ اس کا یہ اثر تھا کہ جب تک وہ بدن پر رہتا، معصیت اور گناہ کا خطرہ تک نہ آتا تھا۔ لوگ کہتے ہیں کہ بزرگوں کے کپڑوں میں کیا رکھا ہے؟ مگر میں نے تو یہ مشاہدہ کیا ہے۔
[مجالس حکیم الامت از مفتی محمد شفیع، ص: 100]

کپڑوں سے تبرک صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خاصہ تھا۔ اس خصوصیت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی شریک نہیں ہو سکتا۔ جب صحابہ کرام وتابعین عظام نے خلفاء راشدین کے کپڑوں سے تبرک حاصل نہیں کیا، تو صدیوں بعد کسی بزرگ کو یہ شرف کیسے حاصل ہو سکتا ہے؟