انصار سے بغض رکھنے کی ممانعت
① سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
آية المنافق بغض الأنصار، وآية المؤمن حب الأنصار
”انصار سے بغض رکھنا منافق کی علامت ہے اور انصار سے محبت مومن کی علامت ہے۔“
بخاری، کتاب الایمان 17۔ مسلم، کتاب الایمان 74/128۔
② سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ خود بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا يبغض الأنصار رجل يؤمن بالله وباليوم الآخر
”جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ انصار سے بغض نہیں رکھتا۔“
مسلم، کتاب الایمان 130/77۔
عرب سے بغض رکھنے کی ممانعت
① سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا تبغضني فتفارق دينك
”مجھ سے بغض نہ رکھنا ورنہ وہ تجھے تیرے دین سے جدا کر دے گا۔“
میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیسے بغض رکھوں گا جبکہ اللہ نے آپ کے ذریعے مجھے ہدایت سے نوازا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
تبغض العرب فتبغضني
”تو عرب سے بغض رکھے گا تو وہ مجھ سے بغض رکھنے کے مترادف ہے۔“
ترمذی، کتاب المناقب 723/5 حدیث 3927۔ مسند احمد 5/441۔
امام ترمذی رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ حدیث حسن غریب ہے یہ ابو بدر شجاع بن ولید کی حدیث سے معروف ہے اور میں نے محمد بن اسماعیل کو کہتے ہوئے سنا: ابو ظبیان کی مسلمان سے ملاقات ثابت نہیں اور سلمان علی سے پہلے فوت ہو گئے تھے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو گالی دینے کی ممانعت
① سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا تسبوا أصحابي، فلو أن أحدكم أنفق مثل أحد ذهبا ما بلغ مد أحدهم ولا نصيفه
”میرے صحابہ کو گالی نہ دینا! اگر تم میں سے کوئی احد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کر دے تو وہ ان میں سے کسی کے مد (تقریباً 700 گرام) یا نصف مد خرچ کرنے کے مقام کو بھی نہیں پہنچ سکتا۔“
بخاری 3673۔ مسلم 2541/222۔
② سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا تسبوا أصحابي، فوالذي نفسي بيده لو أن أحدكم أنفق مثل أحد ذهبا ما أدرك مد أحدهم ولا نصيفه
”میرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو گالی نہ دینا! پس اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تم میں سے کوئی احد پہاڑ برابر سونا خرچ کر دے تو وہ ان میں سے کسی کے مد (تقریباً 700 گرام) خرچ کرنے کے مقام کو پہنچ سکتا ہے نہ اس کے نصف کو۔“
مسلم، فضائل الصحابة 2540۔
③ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا رأيتم الذين يسبون أصحابي فقولوا: لعنة الله على شركم
”جب تم میرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو گالی دینے والوں کو دیکھو تو کہو: تمہاری شر پر اللہ کی لعنت ہو۔“
ترمذی، کتاب المناقب 3866۔ امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ حدیث منکر ہے۔ اس میں نضر بن حماد اور سیف بن عمر مجہول ہیں۔
④ سیدنا عروہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے فرمایا:
میرے بھانجے! انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے لیے مغفرت طلب کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
مسلم، کتاب التفسیر 3022/15۔