لوگوں سے کنارہ کشی کرنا
① سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا: لوگوں میں سے کون شخص افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من يجاهد بنفسه وماله فى سبيل الله
”جو شخص اپنے مال و جان سے اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہے“۔
پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ورجل معتزل فى شعب من الشعاب يعبد ربه
”اور وہ شخص جو کسی گھاٹی میں کنارہ کشی اور گوشہ نشینی اختیار کر کے اپنے رب کی عبادت کرنے والا ہو“۔
اور ایک روایت میں ہے: ”وہ اللہ سے ڈرتا ہے اور لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ رکھتا ہے“۔
صحيح البخاري، كتاب الجهاد والسیر 6494،2876۔
② سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ألا أخبركم بخير الناس منزلا؟
”کیا میں تمہیں مقام و مرتبہ کے لحاظ سے بہتر شخص کے بارے میں نہ بتاؤں؟“
ہم نے کہا (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا): اے اللہ کے رسول! ضرور بتائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
رجل أخذ برأس فرسه فى سبيل الله حتى يموت أو يقتل ، وأخبركم بالذي يليه؟
”وہ آدمی جو اپنے گھوڑے کی لگام پکڑ کر اللہ کی راہ میں نکلتا ہے حتیٰ کہ وہ فوت ہو جاتا ہے یا شہید کر دیا جاتا ہے، اور کیا میں تمہیں اس شخص کے بارے میں بتاؤں جس کا درجہ اس کے بعد ہے؟“
ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! بتائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
رجل يعتزل فى شعب من الشعاب يقيم الصلاة ويؤتي الزكاة ويعتزل شر الناس ، وأخبركم بشر الناس؟
”وہ آدمی جو کسی گھاٹی میں گوشہ نشین ہو کر نماز قائم کرتا ہے، زکوٰۃ دیتا ہے اور لوگوں کے شر سے کنارہ کش ہو جاتا ہے، اور کیا میں تمہیں بدترین شخص کے بارے میں بتاؤں؟“
ہم نے عرض کیا: جی ہاں! اے اللہ کے رسول۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الذي يسأل بالله ولا يعطي به
”جو اللہ کے نام پر سوال کیے جانے (مانگے جانے) کے باوجود دیتا نہیں ہے“۔
نسائی، کتاب الزكاة 83/5 ابن ابی شیبه 294/5۔ روایت حسن ہے۔
اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے کے احکامات
① سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ما من غازية أو سرية تغزو فى سبيل الله فيسلمون ويصيبون إلا تعجلوا ثلثي أجرهم ، وما من غازية أو سرية تخفق وتصاب إلا تم أجورهم
”جو جماعت یا لشکر اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہے اور وہ صحیح سلامت مالِ غنیمت کے ساتھ یا زخم خوردہ ہو کر واپس آ جاتے ہیں تو وہ اپنا دو تہائی اجر دنیا ہی میں حاصل کر لیتے ہیں اور جو جماعت یا لشکر شکست کھا جاتا ہے یا خوف کا شکار ہو جاتا ہے اور اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے (مالِ غنیمت حاصل نہیں ہوتا) تو ان کا پورا ثواب محفوظ رہتا ہے“۔
مسلم، كتاب الامارة 1906/154۔ ابوداؤد، كتاب الجهاد 2497۔
② سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من مات ولم يغز أو لم يحدث به نفسه مات على شعبة من النفاق
”جو شخص اس حالت میں فوت ہو جائے کہ اس نے جہاد کیا نہ اس کے دل میں اس کا خیال آیا تو اس نے نفاق کی ایک شاخ پر وفات پائی“۔
مسلم كتاب الامارة 1910۔ ابو داؤد، كتاب الجهاد 2502۔
③ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من لم يغز أو لم يجهز غازيا أو يخلف غازيا فى أهله بخير أصابه الله بقارعة قبل يوم القيامة
”جس نے خود جہاد کیا نہ کسی مجاہد کو تیار کیا اور نہ ہی کسی مجاہد کی عدم موجودگی میں اس کے اہل خانہ کا اچھی طرح خیال رکھا تو اللہ قیامت سے پہلے اسے کسی بڑی آفت و آزمائش سے دوچار کر دے گا“۔
ابوداؤد، کتاب الجهاد 2503۔ ابن ماجه، كتاب الجهاد 2762۔ روایت حسن ہے۔
اللہ تعالیٰ کی راہ میں سفر کے متعلق احکامات
① سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لغدوة فى سبيل الله أو روحة خير من الدنيا وما فيها
”اللہ کی راہ میں صبح یا شام چلنا دنیا اور اس میں موجود تمام چیزوں سے بہتر ہے“۔
بخاري، كتاب الجهاد والسیر 2792۔ مسلم، كتاب الامارة 1880۔ ترمذی كتاب الجهاد فضائل 1651۔
② سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
عدوة فى سبيل الله أو روحة خير مما طلعت عليه الشمس أو غربت
”اللہ کی راہ میں صبح یا شام کے وقت چلنا ہر اس چیز سے بہتر ہے جس پر سورج طلوع یا غروب ہوتا ہے“۔
مسلم، كتاب الامارة 1883۔