کتاب الجهاد
اللہ کی راہ میں لڑنے کی فضیلت
؎ چھین لو بڑھ کے سمندر سے تلاطم کی لگام
ایسے ٹکراؤ کہ ہر موج کو خواں کردو
﴿وَأَعِدُّوا لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ وَمِن رِّبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُوَّ اللَّهِ وَعَدُوَّكُمْ وَآخَرِينَ مِن دُونِهِمْ لَا تَعْلَمُونَهُمُ اللَّهُ يَعْلَمُهُمْ ۚ وَمَا تُنفِقُوا مِن شَيْءٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يُوَفَّ إِلَيْكُمْ وَأَنتُمْ لَا تُظْلَمُونَ﴾
” تم کفار کے مقابلے کے لیے اپنی طاقت بھر قوت، اور گھوڑوں کو تیار رکھو کہ اس سے تم اللہ کے دشمنوں کو خوف زدہ رکھ سکو گے، اور ان کے سوا اوروں کو بھی، جنہیں تم نہیں جانتے ، اللہ انہیں خوب جان رہا ہے، جو کچھ بھی اللہ کی راہ میں صرف کرو گے وہ تمہیں پورا پورا دیا جائے گا اور تمہارا حق نہ مارا جائے گا۔“
(8-الأنفال:60)
﴿كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ وَهُوَ كُرْهٌ لَّكُمْ ۖ وَعَسَىٰ أَن تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ۖ وَعَسَىٰ أَن تُحِبُّوا شَيْئًا وَهُوَ شَرٌّ لَّكُمْ ۗ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ﴾
”تم پر جہاد فرض کیا گیا گو وہ تمہیں دشوار معلوم ہو، ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو بری جانو اور دراصل وہی تمہارے لیے بھلی ہو ۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو اچھی سمجھو حالانکہ وہ تمہارے لیے بری ہو، حقیقت کا علم اللہ ہی کو ہے ، تم محض بے خبر ہو۔“
(2-البقرة:216)
﴿أَجَعَلْتُمْ سِقَايَةَ الْحَاجِّ وَعِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَمَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَجَاهَدَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ۚ لَا يَسْتَوُونَ عِندَ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ. الَّذِينَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا وَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ أَعْظَمُ دَرَجَةً عِندَ اللَّهِ ۚ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْفَائِزُونَ. يُبَشِّرُهُمْ رَبُّهُم بِرَحْمَةٍ مِّنْهُ وَرِضْوَانٍ وَجَنَّاتٍ لَّهُمْ فِيهَا نَعِيمٌ مُّقِيمٌ. خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ۚ إِنَّ اللَّهَ عِندَهُ أَجْرٌ عَظِيمٌ.﴾
” کیا تم لوگوں نے حاجیوں کو پانی پلانے والے اور مسجد حرام کو آباد کرنے والے کو اس آدمی کے برابر بنا دیا ہے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لایا اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا، یہ لوگ اللہ کے نزدیک برابر نہیں ہیں، اور اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا ۔ جو لوگ ایمان لائے ، اور انہوں نے ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں اپنے مال اور اپنی جان سے جہاد کیا، ان کا مقام اللہ کے نزدیک اونچا ہے۔ اور وہی لوگ کامیاب ہیں ۔ ان کا رب انہیں اپنی جانب سے رحمت اور اپنی خوشنودی اور ایسی جنتوں کی خوشخبری دیتا ہے جن میں انھیں ہمیشہ باقی رہنے والی نعمتیں ملیں گی۔ وہ لوگ ان جنتوں میں ہمیشہ رہیں گے، بے شک اللہ کے پاس اجر عظیم ہے۔“
(9-التوبة:19 تا 22)
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
میں منبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھا تھا ، تو ایک آدمی نے کہا: اسلام لانے کے بعد میرے لیے یہی کافی ہے کہ میں حاجیوں کو پانی پلاؤں، دوسرے نے کہا: اسلام لانے کے بعد میرے لیے افضل عمل مسجد حرام کو آباد کرنا ہے۔ تیسرے نے کہا: میرے نزدیک اللہ کی راہ میں جہاد کرنا تمہارے بیان کردہ کاموں سے افضل ہے۔ (اسی اثناء میں ان کی آوازیں بلند ہوئیں تو) سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے انھیں ڈانٹا کہ تم لوگ جمعہ کے دن منبر رسول کے نزدیک اپنی آوازیں بلند نہ کرو۔ ہاں جمعہ کی ادائیگی کے بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بارے میں سوال کروں گا۔ تو اللہ رب العزت نے مذکورہ بالا آیات نازل فرما دیں۔
صحیح مسلم، كتاب الامارة، باب فضل الشهادة في سبيل الله تعالیٰ، رقم: 1879.
عن أبى هريرة رضي الله عنه قال: قال النبى صلى الله عليه وسلم : إن فى الجنة مائة درجة أعدها الله للمجاهدين فى سبيل الله ، ما بين الدرجتين كما بين السماء والأرض .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ” جنت میں سو درجے ہیں، جو اللہ نے اپنی راہ میں جہاد کرنے والوں کے لیے تیار کیے ہیں۔ دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان اور زمین کے درمیان ہے۔“
صحيح بخاري، كتاب الجهاد، باب درجات المجاهدين في سبيل الله، رقم: 2790
فضائے بدر پیدا کر فرشتے تیری نصرت کو!!!
اتر سکتے ہیں گردوں سے قطار اندر قطار اب بھی
عن أبى سعيد الخدري أن رجلا أتى النبى صلى الله عليه وسلم فقال: أى الناس أفضل؟ قال: رجل يجاهد فى سبيل الله بنفسه وماله قال: ثم من؟ قال: رجل مؤمن فى شعب من الشعاب يعبد الله، ويدع الناس من شره .
سیدنا ابوسعید الخدری رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا اور عرض کیا: کون سے لوگ افضل ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ مومن جو اپنے نفس اور مال کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کرے ۔“ اس نے کہا: پھر کون؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ مومن جو پہاڑ کی گھاٹیوں میں سے کسی گھائی میں اللہ کی عبادت کرے اور لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ رکھے۔“
صحيح بخاري، كتاب الجهاد، باب أفضل الناس مؤمن رقم: 2786 ـ صحيح مسلم، کتاب الإمارة، باب فضل الجهاد والرباط، رقم: 1888 .
عبد الله بن مسعود رضى الله عنه قال: سألت النبى صلى الله عليه وسلم أى العمل أحب إلى الله عز وجل؟ قال: الصلاة على وقتها قلت: ثم أي؟ قال: بر الوالدين قلت: ثم أي؟ قال: الجهاد فى سبيل الله .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا: کون سا عمل سب سے زیادہ فضیلت والا ہے؟ آپ نے فرمایا: ” وقت پر نماز پڑھنا۔“ میں نے کہا: پھر کون سا ؟ آپ نے فرمایا: ” ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنا۔“ میں نے کہا، پھر کون سا؟ آپ نے فرمایا: ”اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔“
صحيح بخاري، كتاب الادب، باب البر والصلة ، رقم: 5970 – صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب بیان كون الايمان بالله افضل الاعمال ، رقم: 85 .