اللہ کو مخلوق پر قیاس نہ کرنا اور صرف اسی کو پکارنا قرآنی آیاتِ کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی کتاب الجواب الباہر فی زوار المقابر سے ماخوذ ہے جس کا ترجمہ شیخ عطا اللہ ثاقب نے کیا ہے۔

اللہ کے لیے مخلوق سے مثالیں نہ دی جائیں :

حق سبحانہ و تعالیٰ نے اس بات سے بھی منع فرمایا ہے کہ اسے مخلوق کا مثیل ٹھہرایا جائے یا کسی مخلوق کو اس کے ساتھ تشبیہ دی جائے کیونکہ کوئی مخلوق ایسی نہیں جو اپنے اعمال و فرائض کی انجام دہی کے لیے اعوان و انصار و حاجب اور دربان وغیرہ کی محتاج نہ ہو۔ اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ ۖ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ ۖ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ ‎﴿١٨٦﴾‏
”اور اے نبی! میرے بندے اگر تم سے میرے متعلق پوچھیں، تو انہیں بتا دو کہ میں ان سے قریب ہی ہوں۔ پکارنے والا جب مجھے پکارتا ہے میں اس کی پکار سنتا، اور جواب دیتا ہوں۔ لہذا انہیں چاہئے کہ میری دعوت پر لبیک کہیں اور مجھ پر ایمان لائیں شاید کہ وہ راہ راست پالیں۔“
(2-البقرة:186)

پکار کر دیکھ لو :

❀ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :
قُلِ ادْعُوا الَّذِينَ زَعَمْتُم مِّن دُونِ اللَّهِ ۖ لَا يَمْلِكُونَ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ فِي السَّمَاوَاتِ وَلَا فِي الْأَرْضِ وَمَا لَهُمْ فِيهِمَا مِن شِرْكٍ وَمَا لَهُ مِنْهُم مِّن ظَهِيرٍ ‎﴿٢٢﴾‏وَلَا تَنفَعُ الشَّفَاعَةُ عِندَهُ إِلَّا لِمَنْ أَذِنَ لَهُ
”اے نبی! ان سے کہو کہ پکار دیکھو اپنے ان معبودوں کو جنہیں تم اللہ کے سوا اپنا معبود سمجھے بیٹھے ہو۔ وہ نہ صرف آسمانوں میں کسی ذرہ برابر چیز کے مالک ہیں نہ زمین میں۔ وہ آسمان و زمین کی ملکیت میں شریک بھی نہیں ہیں ان میں سے کوئی اللہ کا مددگار بھی نہیں ہے اور اللہ کے حضور کوئی شفاعت بھی کسی کے لیے نافع نہیں ہو سکتی بجز اس شخص کے جس کے لیے اللہ نے سفارش کی اجازت دے دی ہو۔“
(34-سبإ:22-23)