مضمون کے اہم نکات
مولانا مودودی کی تعبیرات قرآن وحدیث کی روشنی میں
مولانا حافظ محمد گوندلوی رحمہ اللہ
یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہے کہ دین (جو عقائد، عبادات، اخلاق اور معاملات کے مجموعہ کا نام ہے) کا مآخذ چار چیزیں ہیں۔
[1] کتاب اللہ
[2] حدیث شریف
[3] اجماعِ امت، جس کی سند کتاب وسنت میں موجود ہو۔
[4] صحیح قیاس۔
ان میں اصل کتاب وسنت ہے۔ اجماع وقیاس انہی دو پر متفرع ہیں۔ کتاب اللہ متن، اور حدیث اس کی تفسیر اور بیان ہے۔ اجماع حقیقت میں طریقِ عمل کا نام ہے۔ قیاس عام طور پر استدلالِ خفی کو کہتے ہیں۔ حدیث کے ضبط اور اس سے استنباط کرنے میں محدثین یدِ طولیٰ رکھتے ہیں۔ مسائلِ ضروریہ کے استقصاء اور احکام کے مراتب کی تدقیق میں اہل تخریج کا پلّہ بھاری ہے۔
فقہاء حدیث میں سب مجتہدین اور اکابر محدثین داخل ہیں۔ ان کی دو قسمیں ہیں۔ ایک اہل تخریج اور ایک اہل حدیث۔
جو فریق اختلافی مسائل کے لینے اور سمجھنے میں یہ روش رکھتا ہے (کہ پہلے کتاب اللہ کی طرف رجوع کرنا پھر حدیث کی طرف۔ کیونکہ اجماع کی سند بھی دو چیزیں ہیں) پھر اقوال صحابہ کی طرف توجہ کی جائے۔ اگر ان کا اتفاق ہو تو فبہا ورنہ ان کا وہ قول لیا جائے جو کتاب وسنت کے زیادہ قریب ہو۔ اس پر بھی جواب نہ ملے تو وہ قول لیا جائے جہاں اصل وفرع میں فرق نہ ہو، یہی مسلکِ اہل حدیث ہے۔
اور جو فریق مسائل کے سلسلے میں کسی مجتہد کی طرف رجوع کرے اور اس کے طریقے پر مسائلِ اختلافیہ کا جواب تلاش کرے وہ اہل تخریج کہلاتا ہے۔ یہ فریق رفتہ رفتہ سابق مجتہدین میں سے کسی ایک کے ساتھ وابستہ ہو جاتا ہے۔
اہلِ حدیث چونکہ طریقِ استدلال کلی رکھتے ہیں۔ یعنی استنباط کی بنا پر کسی خاص مجتہد کی روش کو درست قرار نہیں دیتے۔ بلکہ حقیقتِ حال کی جستجو میں اسی مآخذ کو لیتے ہیں جو مجتہد کا طریقِ کار ہو۔ اس لئے جزئیات کا استقصاء دائمی شریعت سمجھ کر نہیں کرتے۔
ہاں اہل تخریج کے طریق سے ظنِ غالب کی بنا پر ضرورت کے وقت مستفید ہوتے ہیں۔ حقیقت میں دونوں گروہ ایک ہی مقصد کے خواہش مند ہیں۔ یعنی شارع کی مرضی معلوم کرنا چاہتے ہیں۔
جس طرح طریقِ استدلال میں امت کی دو قسمیں ہیں:
[1] ایک اہل حدیث
[2] اور ایک اہل تخریج
عقائد کے اعتبار سے بھی دو قسمیں ہیں۔
[1] ایک اہل حق
[2] اور ایک اہل ہوا۔
اہل حق وہ ہیں جن کے عقائد کی بنیاد کتاب وسنت واجماع پر ہو۔
اہل ہوا وہ ہیں جن کے عقائد میں کشف ورائے اور فلاسفہ کے اختیار کردہ امور کو دخل ہو، اور جو آیت و حدیث ان کے خیال میں عقل وکشف وفلسفہ کے خلاف ہوں، ان کی تاویل کریں۔
سیاست کے اعتبار سے بھی دو گروہ ہیں۔
[1] ایک اہل حق جو اس معاملہ میں کتاب وسنت کی طرف رجوع کرتے ہیں۔
[2] دوسرے وہ لوگ ہیں جو بجائے کتاب وسنت کے، یورپ وروس کے نظام کی نقل اتارنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ سیاست میں اہل باطل ہیں۔ اہل حدیث اور حنفی وغیرہ عقائد وسیاست میں کتاب وسنت کو مدار قرار دیتے ہیں۔ صرف طریقِ استدلال میں اختلاف ہے۔ دونوں گروہوں میں مسلک کے پابند کم ہیں، بدعمل زیادہ ہیں، قلت وکثرت میں تفاوت ہے۔
مسلمانوں میں فرقہ بندی:
اسلام نے سوائے اسلام کے کسی اور چیز کو مسلمان کہلانے یا بننے کیلئے مرکزی چیز قرار نہیں دیا۔ کسی نسل، نسب، رنگ، وطن اور زبان کا اعتبار نہیں کیا۔ یہاں تک کہ ہجرت و نصرت (جس کی وجہ سے مہاجر و انصار کے نام سے ایک رسمی امتیاز پیدا ہو گیا تھا) کی بنا پر بھی ایسی جماعت نہیں بنائی جا سکتی جو اسلام کی قائم مقام ہو۔ اسی طرح تقویٰ و پرہیزگاری کو بھی ایسی جماعت کی بناء قرار نہیں دیا جا سکتا ہے۔ بلکہ اسلامی عقیدہ ہی مرکزی چیز قرار دیا جا سکتا ہے، جو کتاب وسنت سے صاف طور پر ثابت ہو۔
عمل اگرچہ لازم ہے مگر اس کا لزوم عقیدہ کے لزوم کا ہم پلہ نہیں۔ اس لئے اس کو اسلامی جماعت کے لئے مرکز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ عمل سے مراد یہاں کام کرنا ہے نہ کہ التزامِ متابعت، کیونکہ متابعت کا التزام ایمان ونجات کے لئے لازمی ہے۔
اسلامی جماعت کا نام:
اب کوئی فرقہ اگر کوئی خصوصیت کو لے کر اٹھتا ہے جو دوسرے فرقوں سے اسے ممتاز کرے تو اس صورت میں عام نام سوائے منفی معنی کے کچھ مفہوم نہیں رکھتا۔ بس اس صورت میں کسی نئے فرقہ کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اپنی جماعت کو اسلامی جماعت کے نام سے موسوم کرے۔ پس جو فرقہ اپنی جماعت کا نام اسلامی جماعت رکھتا ہے وہ دراصل اپنے سوابق فرقوں کو غیر مسلم قرار دیتا ہے۔ یعنی ان کی جماعتیں اسلامی جماعت نہیں۔ جیسے آج کل مودودی فرقہ اپنی جماعت کو جو ان کے خیال میں عین اسلام ہے، اسلامی جماعت کے نام سے موسوم کرتا ہے۔
دوسرے فرقوں سے اسلامی جماعت کے نام کی نفی جو ان کے اختیار کردہ نام سے التزاماً سمجھی جاتی ہے۔ ان کے بعض عبارات میں اس کی تصریح بھی موجود ہے۔ جس سے ان کے نزدیک دوسرے فرقوں کی حیثیت اور مقام معلوم ہوتا ہے۔
ان کے خیال میں ہندوستان کے مسلمانوں پر حجت قائم ہو چکی ہے۔ اب ان کے لئے دو ہی راستے ہیں۔ یا اس تحریک کو قبول کر لیں، یا یہودیوں کی طرح رد کر دیں۔
[مثلاً رودادِ جماعتِ اسلامی حصہ دوم صفحہ 13 میں ہے]
❀ اس موقعہ پر ایک بات نہایت صفائی کے ساتھ کہہ دینا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ اس قسم کی ایک دعوت کا جیسی ہماری یہ دعوت ہے کسی مسلمان قوم کے اندر اٹھنا اس کو ایک بڑی سخت آزمائش میں ڈال دیتا ہے۔ جب تک حق کے بعض منتشر اجزاء باطل کی آمیزش کے ساتھ سامنے آتے رہیں۔ ایک مسلمان قوم کے لئے ان کو قبول نہ کرنے اور ان کا ساتھ نہ دینے کا ایک معقول سبب موجود رہتا ہے، اور اس کا عذر مقبول ہوتا رہتا ہے۔ مگر جب پورا حق بالکل بے نقاب ہو کر اپنی خالص صورت میں سامنے رکھ دیا جائے، اور اس کی طرف اسلام کا دعویٰ رکھنے والی قوم کو دعوت دی جائے، تو اس کے لئے ناگزیر ہو جاتا ہے کہ یا تو اس کا ساتھ دے۔ اور اس خدمت کو سر انجام دینے کیلئے اٹھ کھڑی ہو۔ جو امت مسلمہ کی پیدائش کی اصل غرض ہے، یا پھر اس کو رد کر کے وہی پوزیشن اختیار کرے جو اس سے پہلے یہودی قوم اختیار کر چکی ہے۔ ایسی صورت میں ان دو راہوں کے سوا کسی تیسری راہ کی گنجائش اس قوم کیلئے باقی نہیں رہتی۔
مودودی صاحب نے اپنی تحریک کے رد و قبول کے متعلق اپنا نکتہ نگاہ پیش کر دیا ہے۔
اب ذیل میں اس تحریک کی خصوصیت اور اس کا مقصد انہی کے الفاظ میں بیان کیا جاتا ہے کہتے ہیں۔
"مسلمانوں میں عموماً جو تحریکیں اٹھتی رہی ہیں اور جواب چل رہی ہیں پہلے ان کے اور اس تحریک کے اصولی فرق کو ذہن نشین کر لینا چاہیے۔ اولاً ان میں یا تو اسلام کے کسی جزو کو یا دنیوی مقاصد میں سے کسی مقصد کو لے کر بنائے تحریک کا بنا یا گیا ہے، لیکن ہم اسلام اور اصل اسلام کو لے کر اٹھ رہے ہیں۔ اور پورا کا پورا اسلام ہی ہماری تحریک ہے۔
ثانیاً ان میں جماعتی تنظیم دنیا کی مختلف انجمنوں اور پارٹیوں کے ڈھنگ پر کی گئی ہے۔ مگر ہم وہی نظامِ جماعت اختیار کر رہے ہیں جو شروع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قائم کردہ جماعت کا تھا؟”۔ (روداد جماعت اسلامی)
❀ ان کی مذکورہ بالا عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ مودودی صاحب کی دعوت ان کے خیال میں جامع دعوت ہے۔ جیسے دوسرے مذاہب کی دعوت ہوتی ہے۔ کیونکہ ہر مذہب، اسلامی مذاہب سے خواہ سنی ہو یا غیر سنی، اہل حدیث ہو یا حنفی، اپنے مذہبی دستور میں ہر چیز کو داخل کرتا ہے۔ مگر مودودی صاحب کے خیال میں اور کسی فرقہ کی دعوت جامع نہیں۔ شاید وہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ ان کی چونکہ تنظیم نہیں۔ صرف وعظ ہی وعظ ہے۔ اس لئے ان کے پھلنے پھولنے اور حکومتِ الٰہیہ کے قیام میں ان کی جدوجہد کو دخل نہیں۔ اگر تنظیم ہے بھی تو اس کی غرض و غایت حکومتِ الٰہیہ کے قیام میں صرف دعوت و تبلیغ ہے۔ اس خدشہ کا جواب آیندہ ذکر ہو گا۔ یہاں صرف یہ بیان کرنا مقصود ہے کہ اسلامی جماعت کا نام دوسرے فرقوں کے لئے طنز ہے۔ کہ وہ اسلامی نہیں بلکہ ان کے یہودیوں کی طرح ہونے کی تلمیح ہے۔
اس مختصر سی بحث کے بعد اب ہم مودودی نظریہ پر کچھ لکھتے ہیں۔ تیرہ سو سال سے اہل سنت (اہل حدیث) یہی سمجھتے رہے ہیں کہ عبادت نماز، روزہ، حج، ذکر، تلاوتِ قرآن اور دیگر افعالِ تعظیمیہ کا نام ہے مگر مودودی صاحب نے ان کا رتبہ کم دیا ہے۔ اصل عبادت کسی اور چیز کو کہا ہے۔ اور ان افعالِ تعظیمیہ کو اس کے لئے تمرینات ٹریننگ کورس قرار دیا ہے۔
عبادت کے مفہوم میں غلطی کرنے سے متواتر غلطیاں:
عبادت انسان کی پیدائش کا اصل مقصد ہے۔ جیسے قرآن مجید نے ذکر کیا ہے۔
[وَ مَا خَلَقۡتُ الۡجِنَّ وَ الۡاِنۡسَ اِلَّا لِیَعۡبُدُوۡنِ]
ترجمہ: میں نے جن اور انس کو صرف اپنی عبادت کے لئے بنایا ہے۔ (سورہ الذاریات:56)
اور انبیاء علیہم السلام کی بعثت سے غرض و غایت اور سماوی کتب کا بنیادی مسئلہ ہے۔ اس لئے اس مسئلہ میں ٹھوکر کھانے سے ایمان و کفر دو متضاد حقیقتوں کو سمجھنے میں غلطی واقع ہوتی ہے۔ اور یہی غلیظ غلطی علمی نظام میں بے راہ روی کا باعث بنتی ہے۔ جس کی وجہ سے شروع زمانہ سے خوارج، معتزلہ نے ٹھوکر کھا کر تمام اہل کبائر کو ابدی جہنمی قرار دیا ہے۔ اور بعض نے اتنا غلو کیا کہ جویہ عقیدہ نہ رکھے اس کے ساتھ جنگ کرنا فرض قرار دیا ہے۔ اور بعض نے اس سے ترقی کر کے یہ کہہ دیا ہے کہ جو ان سے جنگ نہ کرے، وہ بھی کافر ہے۔
یہ غلطی اس نوع کی ہے کہ اس سے انسانی جدوجہد کا نظام بدل جاتا ہے۔ اس واسطے ہم نے ضروری سمجھا کہ اصل حقیقت کو واضح کر دیا جائے تاکہ عوام بلکہ خواص جو حقیقت میں عوام کی طرح ہیں غلطی میں نہ پڑ جائیں۔ اگرچہ بعض معاند اور ان کے جامد مقلدین سے تو اتنی توقع نہیں کہ وہ غور وفکر کی زحمت گوارا کریں۔ مگر بعض اہلِ تحقیق جو ظاہر بینی کی بنا پر اس میں پھنس گئے ہیں اگر غور و فکر سے کام لیں گے تو اصل بات کے سمجھنے میں ان کی مدد ہو گی۔ وماعلینا إلا البلاغ
حضرت مولانا تحریک کی پہلی فکری صورت متعین کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:
"اس نصب العین کی طرف پیش قدمی کرنے کے لئے راہِ راست وہی ہے جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اختیار کی۔ یعنی یہ کہ لوگوں کو الہدیٰ اور دینِ حق کی طرف دعوت دی جائے۔ پھر جو لوگ اس دعوت کو قبول کر کے اپنی بندگی اور اطاعت کو اللہ کے لئے خالص کر دیں، دوسری اطاعتوں کو اللہ کی اطاعت کے ساتھ شریک کرنا چھوڑ دیں۔ اور خدا کے قانون کو اپنی زندگی کا قانون بنائیں۔ ان کا ایک مضبوط جتھا بنایا جائے۔ پھر یہ جتھا عام اخلاقی اور مادی ذرائع سے جو اس کے امکان میں ہوں۔ دینِ حق کو قائم کرنے کیلئے جہادِ کبیر کرے۔ یہاں تک کہ اللہ کے سواد و سری اطاعتیں جن جن اطاعتوں کے بل پر قائم ہیں، ان سب کا زور ٹوٹ جائے، اور پورے نظامِ اطاعت پر وہی الہدیٰ اور دینِ حق غالب آ جائیں”۔ (مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش ص 116-117)
اس عبارت میں طریقِ اختیار کردہ کے راست ہونے پر یہ دلیل قائم کی ہے کہ یہ طریقہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اختیار کیا تھا۔ لہٰذا یہ حق ہے۔ مگر اس پر غور نہیں کیا، یہ طریقہ کن لوگوں میں اور کن حالات میں اختیار کیا گیا ہے۔ کیا اس کے علاوہ کوئی اور طریقہ کار بھی ہو سکتا ہے، جس پر عمل کیا جائے۔
اس لئے ہم واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ جو طریقہ آپ نے اختیار کیا تھا وہ ابتدائی دعوت کا ہے۔ جب کفار مخاطب ہوں؟ مگر موجودہ حالات میں اصلاحِ حال کی دعوت ہے۔ جس میں مخاطب مسلمان ہیں۔ ان دونوں صورتوں میں دعوت کی نوعیت میں فرق ہوتا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام کی دعوت بنی اسرائیل کے لئے اصلاحی دعوت تھی۔ آپ نے قوم میں چھانٹ نہیں کی۔ بلکہ ہر ایک کو صالح ہو یا غیر صالح منظم کیا۔ اور ہر ایک قبیلہ پر انہی سے ایک نقیب مقرر کیا۔ ان نقباء کا یہ حال تھا کہ بارہ (12) سے صرف دو (2) ہی قائم رہے، موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی۔
❀ [فَافۡرُقۡ بَیۡنَنَا وَ بَیۡنَ الۡقَوۡمِ الۡفٰسِقِیۡنَ] ہمارے اور فاسق قوم کے درمیان جدائی فرما۔ (المائدہ:25)
اللہ تعالیٰ نے بھی فرمایا۔
❀ [فَلَا تَاۡسَ عَلَی الۡقَوۡمِ الۡفٰسِقِیۡنَ] فاسق قوم پر غم نہ کھا۔ (المائدہ:26)
اور جماعت اسلامی میں ایسے لوگ بھی تھے، جنہوں نے موسیٰ علیہ السلام سے ایک معبود بنانے کی درخواست کی۔
❀ [اجۡعَلۡ لَّنَاۤ اِلٰـہًا کَمَا لَہُمۡ اٰلِـہَۃٌ] ہمارے لئے ایک معبود بنا جیسے ان کے عبادت ہو۔ (الاعراف:138)
اور بعض نے کہا۔
❀ [لَنۡ نُّؤۡمِنَ لَکَ حَتّٰی نَرَی اللّٰہَ جَہۡرَۃً] تیری بات نہ مانیں گے جب تک ہم اللہ کو کھلم کھلا نہ دیکھیں۔ (سورہ البقرة:55)
اور بہت سے لوگ بچھڑے کی پرستش کرتے رہے اور ہارون علیہ السلام کے قتل کے درپے ہوئے۔
❀ [وَ کَادُوۡا یَقۡتُلُوۡنَنِیۡ] قریب تھے کہ مجھے قتل کر ڈالتے۔ (سورہ الاعراف:150)
اور موسیٰ علیہ السلام کو تکلیفیں پہنچاتے تھے، یہاں تک کہ موسیٰ علیہ السلام نے کہا۔
❀ [لِمَ تُؤۡذُوۡنَنِیۡ وَ قَدۡ تَّعۡلَمُوۡنَ اَنِّیۡ رَسُوۡلُ اللّٰہِ اِلَیۡکُمۡ]
مجھے اللہ کا رسول مانتے ہوئے کیوں تکلیف پہنچاتے ہو۔ (سورۃ الصف:5)
❀ ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کی جماعت میں ہر طرح کے آدمی صالح و غیر صالح داخل تھے۔ آپ نے چھانٹ کر صرف بہترین کا انتخاب نہیں کیا تھا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلم اور غیر مسلم کی اصلاح کا فرق ہوتا ہے۔ جب کوئی قوم مسلمان ہو تو سب کو بلا امتیاز جماعت میں شریک کرنا چاہیے۔
❀ دوسری بات یہ بھی معلوم ہوتی ہے کہ اگر کوئی غیر مسلم قوم غلام ہو تو اس کی آزادی کے لئے پہلے کوشش کرنی چاہیے۔ اور آزادی کی جنگ میں سب افراد صالح و غیر صالح کو شامل کیا جا سکتا ہے۔ کیونکہ تمام فسادات کی جڑ حقیقت میں غلامی ہے۔ اس لئے اس کو مقدم کرنا چاہیے۔ سب سے پہلے جو موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کو کہا وہ یہی تھا۔
[اَنۡ اَرۡسِلۡ مَعَنَا بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ] ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج۔ [سورۃ الشعراء، آیت: 17]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی گنہگاروں کو جماعت میں شامل رکھا ہے۔ اگرچہ نجاتِ اخروی کا ان کو مستحق قرار نہیں دیا۔
ایک حدیث میں ہے۔
[ثلاث من أصل الإيمان، الكف عمن قال لا إله إلا الله ولا نكفره بذنب ولا نخرجه من الإسلام بعمل، والجهاد ماض منذ بعثني الله إلى أن يقاتل آخر أمتي الدجال، لا يبطله جور جائر ولا عدل عادل والإيمان بالأقدار]
تین چیزیں ایمان کی اصل ہیں: جو لا الٰہ الا اللہ کا قائل ہو اس سے رک جانا، اور کسی (غیر مکفر) گناہ کی بنا پر کافر نہ کہو، اور نہ کسی عمل (غیر مخرج عن الاسلام) کی وجہ سے اسلام سے نکالو۔ اور جہاد میری بعثت سے جاری ہے یہاں تک کہ میری امت کا آخری حصہ دجال سے لڑے گا۔ ظالم (امیر) کا ظلم، عادل (امیر) کا عدل اسے موقوف نہیں کر سکتا۔
تقدیر پر ایمان۔ (أبوداؤد:2532)
بلکہ شریعت کے ظاہری احکام میں منافق بھی داخل رہتا ہے۔ حالانکہ آخرت میں آگ کے نچلے طبقے میں ہوگا مسلمان اس کا وارث ہے۔ اور وہ اس کا وارث ہے۔ ان کا نکاح نہیں ٹوٹتا لڑائی میں مسلمانوں کے ساتھ شامل رہتا ہے۔ مودودی صاحب نے ان تمام امور کو نظر انداز کر دیا ہے۔
تحریک کی بنیادی غلطی میں منطقی ربط کو دخل:
جو فلاسفہ کی اتباع میں آپ نے اختیار کیا ہے۔ احکام کی حکم و مصالح، اصل علم (صلب علم) میں داخل نہیں۔ صرف ایک قسم کی رنگینی جاذبِ طبع پیدا کرنے والی چیزوں میں سے ہے۔ ان کی جستجو اس حد تک جائز ہے کہ ان سے منصوص کی مخالفت لازم نہ آئے۔ ورنہ یہ زندقہ و الحاد کا پیش خیمہ ثابت ہوتا ہے۔
منطقی ربط کی صورت:
کہتے ہیں، اسلام محض منتشر خیالات اور منتشر طریق ہائے عمل کا مجموعہ نہیں ہے۔ جس طرح ادھر ادھر سے مختلف چیزیں لا کر جمع کر دی گئی ہوں۔ بلکہ باضابطہ نظام ہے۔ جس کی بنیاد چند اصولوں پر رکھی گئی ہے۔ اس کے بڑے بڑے ارکان سے لے کر چھوٹے چھوٹے جزئیات تک ہر چیز اس کے بنیادی اصولوں کے ساتھ ایک منطقی ربط ہے۔
اسلام کا نظریہ سیاسی:
دوسری جگہ فرماتے ہیں، کہ دین دراصل حکومت کا نام ہے، شریعت اس حکومت کا قانون ہے۔ اور عبادت اس کے قانون اور ضابطے کی پابندی ہے۔ (خطبات: ص 217)
اور نماز، روزہ، ذکر کے متعلق کہتے ہیں۔ یہ ہے اس عبادت کی حقیقت، جس کے متعلق لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ محض نماز، روزہ اور تسبیح و تہلیل کا نام ہے۔ اور دنیا کے معاملات سے اس کو کچھ سروکار نہیں۔ حالانکہ دراصل صوم وصلوٰۃ اور حج و زکوٰۃ اور ذکر و تسبیح انسان کو اس بڑی عبادت کے مستعد کرنے والے تمرینات ٹریننگ کورس ہیں۔ (تفہیمات: ص 56)
عبارات بالا سے مندرجہ ذیل امور کا پتہ چلتا ہے۔
[1] تمام امورِ اسلام میں منطقی ربط ہے۔
[2] اگر منطقی ربط نہ ہو تو یہ امور منتشر خیالات ہوں گے۔
[3] ربطِ منطقی اس شکل مذکور میں منحصر ہے۔
[4] نماز، روزہ، تسبیح و تہلیل، دنیوی معاملات کیلئے ٹریننگ کورس ہے۔
[5] دنیوی معاملات میں احکام کی پابندی بڑی بات ہے۔
[6] شریعت حکومت کے قانون کا نام ہے۔
[7] عبادت اس کے ضابطے اور قانون کی پابندی کا نام ہے۔
[8] دین حکومت کا نام ہے۔
❀ دین جو عقائد، عبادات، اخلاق و معاملات وغیرہ کے مجموعہ کا نام ہے۔ اس کے اجزاء کے متعلق یہ سمجھ لینا کہ یہ چیزیں دنیا اور آخرت کی اصلاح کے لئے مفید ہیں۔ ان کے بیان کردہ ربط منطقی سے مستغنی کر دیتا ہے اور ان تمام امور کی اصلاح آخرت و دنیا میں مفید ہونا ان میں ایک قسم کا منطقی ربط پیدا کرنا ہے۔ منطقی ربط کے لئے یہ ضروری نہیں کہ ان کو آپس میں بھی ایک دوسرے سے مخصوص صورت میں جوڑنے کی کوشش کی جائے۔ مودودی صاحب کی غلطی سے یہ سمجھ لیا گیا کہ جو ربط ان کے دماغ میں آیا ہے۔ وہی صحیح ہے۔ اس کے سوا اور کوئی ربط نہیں۔ اور ربط کا ہونا بھی ضروری ہے۔ یہ غلطی اس قسم کی ہے۔ جیسے آج کل بعض لوگ قرآن مجید کے ظاہری معنی کو پھیر کر ایسے بعید معنی مراد لینا شروع کر دیتے ہیں۔ جن کی تائید سلف کے بیان کردہ معانی سے نہیں ہوتی۔ بلکہ محض نئی نئی تاویلات اور اعتبارات کی ایک غیر بیّن صورت ہوتی ہے۔ اگرچہ بصورتِ اعتبار ایک حد تک ان کو برداشت کیا جا سکتا ہے۔ مگر قرآنی بیان میں تسلسل پیدا کرنے کے لئے ان کا ذکر ایک قسم کی تحریف ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ قرآن مجید کے واقعات میں ربط ہونے یا نہ ہونے میں جو اختلاف ہے ان میں صحیح قول یہی ہے۔ کہ ربط ہے۔ مگر ربط ثابت کرنے کے لئے قرآن مجید کے ظاہر معانی میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں کرنی چاہئے۔ کیونکہ قرآن مجید کی تفسیر سلف سے ثابت ہے اور جو ربط بیان کرتے ہیں ان سے مروی نہیں ہے۔ پس ضروری ہے کہ ایک غیر ثابت شدہ امر کو اس طرح ذکر نہیں کرنا چاہئے کہ ایک ثابت شدہ حقیقت میں تبدیل کرنے کی ضرورت پڑے۔ یہی حال منطقی ربط کا ہے۔ قرآن و سنت کے متعدد احکام میں ان کو اس طرح ثابت نہیں کرنا چاہئے۔ جیسے اس بیان کردہ منطقی ربط میں ہوا ہے۔ کہ نماز، روزہ، ذکر تسبیح و تہلیل کو غیر اصلی اور چھوٹی عبادت قرار دیا ہے۔ بڑی عبادت اور اصل کسی دوسری چیز کو قرار دیا ہے۔
چونکہ مودودی صاحب اسی عینک سے تمام مسائل کو دیکھتے ہیں۔ اس لئے ان کی تمام تحریرات میں، خواہ ان کا تعلق سیاست سے ہو، یا جماعت بندی سے، اس کا اثر ظاہر نظر آتا ہے۔
جب تجدید کا ذکر کرتے ہیں تو وہاں بھی چونکہ سابق مجددین نے اصلِ دین (حکومت) میں کوئی نمایاں تبدیلی نہیں کی، کوئی کامل مجدد نظر نہیں آتا۔ صرف مولانا اسماعیل شہید رحمہ اللہ اور ان کے پیر سید احمد بریلوی رحمہ اللہ کی تحریک میں ان کو اس کا نمونہ ملتا ہے۔ کیونکہ انہوں نے ایک نمونہ حکومتِ اسلامی کا قائم کیا تھا، اگرچہ آخر ناکام ہو گئے۔
[2] کہتے ہیں اگر یہ منطقی ربط نہ ہو تو اسلامی احکام منتشر خیالات ہوں گے۔ یعنی منطقی ربط کی صورت میں تو حقیقی نفس الامری امور ہوں گے۔ ورنہ خیالات میں داخل ہو جائیں گے۔ ایک امر اگر مودودی صاحب کے نظریہ پر دیکھا جائے تو حقیقت بن جاتا ہے۔ ورنہ خیال ٹھہرتا ہے۔ حالانکہ منطقی ربط نہ ہونے سے اس وقت ان میں انتشار پیدا ہوتا ہے۔ جب ان میں کوئی امر جامع نہ ہو۔ پھر امر جامع کے عدم علم سے ان کی نفی لازم نہیں آتی۔
[3] مودودی صاحب نے اپنے خیال میں اسلام کے اصول و ارکان اور چھوٹے چھوٹے جزئیات میں منطقی ربط اس طرح سمجھا ہے۔
[1] اسلام ایک معاشی اور سیاسی نظام ہے۔
[2] نماز، روزہ، ذکر وغیرہ ٹریننگ کورس ہیں۔
[3] عقیدہ میں اس امر کا ذکر ہے کہ حاکم اور قابلِ اطاعت صرف اللہ ہے۔
چنانچہ لکھتے ہیں۔
"مختصرًا میں یہ بات آپ کے ذہن نشین کرنا چاہتا ہوں کہ اسلام کی دعوت توحید اور خدا پرستی محض اس معنی میں ایک مذہبی عقیدہ کی دعوت نہ تھی۔ جس طرح دوسرے مذہبی عقائد کی دعوت ہوا کرتی ہے بلکہ حقیقت میں یہ ایک اجتماعی انقلاب کی دعوت تھی۔ اس کی ضرب بلا واسطہ ان طبقوں پر پڑتی ہے جنہوں نے مذہبی رنگ میں پروہت بن کر یا سیاسی رنگ میں بادشاہ، رئیس اور حکمران بن کر معاشی رنگ میں ساہوکار، مہاجن، زمین دار اور اجارہ دار بن کر عامۃ الناس کو اپنا بندہ بنا لیا تھا”۔ (تفہیمات: ص67)
ایک جگہ لکھتے ہیں:
"البتہ اسلام کے حق میں اس رکاوٹ کو جس چیز نے شدید تر رکاوٹ بنا دیا ہے وہ ہماری یہ…… بے روح مذہبیت ہے جسے آج کل اسلام سمجھا جا رہا ہے۔ اس بے روح مذہبیت کا پہلا بنیادی نقص یہ ہے کہ اس میں اسلام کے عقائد محض ایک دھرم کے مزعومات بنا کر رکھ دیئے گئے ہیں۔ حالانکہ وہ ایک مکمل فلسفہ اجتماع اور نظامِ تمدن کی منطقی بنیاد ہیں۔ اور اسی طرح اس کی عبادات محض پوجا اور تپسیا بنا کر رکھ دی گئی ہیں۔ حالانکہ وہ ان ذہنی اور اخلاقی بنیادوں کو مضبوط اور مستحکم کرنے کے وسائل ہیں۔ جن پر اسلام نے اپنا نظامِ اجتماع تعمیر کیا ہے۔ اس عملِ تحریف کا نتیجہ ہے، کہ لوگوں کی سمجھ میں کسی طرح یہ بات نہیں آتی، کہ آخر ایک سیاسی، معاشی، تمدنی لائحہ عمل کو چلانے کے لئے ان عقائد اور عبادات کی ضرورت ہی کیا ہے”۔ (مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش: ص3)
اس منطقی ربط کے سمجھنے کے بعد مودودی صاحب نے اس طرح اسلام کو سمجھا ہے۔
پہلے اصل الاصول کلمہ طیبہ "لا إلہ إلا اللہ” کو لیا ہے۔
[1] إلہ کے معنی معبود کے (جو مشہور ہیں) کئے ہیں۔
[2] اور عبادت کے معنی اطاعت کے لئے ہیں۔
[3] اطاعت چونکہ حکم کی تعمیل کا نام ہے اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ حاکمیت اللہ کے ساتھ مختص ہے۔
[4] انبیاء علیہم السلام نے جو زندگی کے لئے نظام مرتب کیا ہے۔ اس کا مرکزی بھی عقیدہ ہے۔ اس سے یہ سمجھا کہ انبیاء علیہم السلام کی آمد کا اصل مقصد حکومتِ الٰہیہ کا قیام ہے۔
[5] اور اس کے قیام میں کوشش کرنا ہی اصل عبادت ہے۔ ارکانِ اسلام جو پوجا پاٹ کی صورتیں ہیں وہ اصل عبادت نہیں بلکہ اصل عبادت کیلئے ٹریننگ کورس ہیں۔
انبیاء علیہم السلام کی بعثت کی غرض چونکہ حکومتِ الٰہیہ کا قیام ہے۔ اس واسطے مجدد کا اصل کارنامہ بھی یہی ہونا چاہیے کہ جاہلیت کے ہجوم سے اسلام کو از سر نو چمکا دینا، اس پر یہ نتیجہ مرتب ہوتا ہے کہ مجدد کا مقام خالی ہے۔ اس جگہ قابلِ تحقیق امر یہ ہے کہ عبادت کی حقیقت کیا ہے۔
کیا عبادت صرف طاعت ہے؟
"عبادت” حقیقت میں تعظیم مخصوص کا نام ہے۔ یعنی جو تعظیم اس خیال پر بجا لائی جائے کہ معظم میرا مشکل کشا یا حاجت روا ہے۔ حاجت روائی یا مشکل کشائی سے غیبی قوت یا قهری شفاعت سے حاجت روائی یا مشکل کشائی مراد ہے۔
قرآن مجید میں ہے۔
❀ [وَ قَالَ رَبُّکُمُ ادۡعُوۡنِیۡۤ اَسۡتَجِبۡ لَکُمۡ ؕ اِنَّ الَّذِیۡنَ یَسۡتَکۡبِرُوۡنَ عَنۡ عِبَادَتِیۡ سَیَدۡخُلُوۡنَ جَہَنَّمَ دٰخِرِیۡنَ]
تمہارے رب نے کہا مجھے پکارو۔ میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔ جو لوگ میری عبادت سے تکبر کرتے ہیں وہ جہنم میں ذلیل و خوار ہوں گے۔ [سورۃ غافر: 60]
پہلے شروع آیت میں دعا کرنے یعنی مانگنے کا ذکر ہے۔ اور آخر آیت میں اس کو عبادت کہا ہے۔ جس کا یہ مطلب ہے کہ جس تعظیم سے غرض مشکل کشائی و حاجت روائی ہو، وہ عبادت ہے۔ حدیث شریف میں ہے۔
"الدعاء هو العبادة” عبادت دراصل مانگنے کا نام ہے۔
اسی طرح دوسری جگہ فرمایا۔
❀ [وَ مَنۡ اَضَلُّ مِمَّنۡ یَّدۡعُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مَنۡ لَّا یَسۡتَجِیۡبُ لَہٗۤ اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ وَ ہُمۡ عَنۡ دُعَآئِہِمۡ غٰفِلُوۡنَ]،[ وَ اِذَا حُشِرَ النَّاسُ کَانُوۡا لَہُمۡ اَعۡدَآءً وَّ کَانُوۡا بِعِبَادَتِہِمۡ کٰفِرِیۡنَ]
اس شخص سے بڑا گمراہ کون ہے جو ان سے مانگتا ہے جو اس کی مشکل حل نہیں کرتے بلکہ ان کی طلب سے بے خبر ہیں اور جب لوگ جمع ہوں گے تو ان کے دشمن بن جائیں گے اور ان کی عبادت سے انکار کریں گے۔ [سورۃ الأحقاف:5-6]
اس آیت میں پہلے مانگنے کا ذکر کیا اور بعد میں اس کو عبادت سے تعبیر کیا ہے۔ اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ جو تعظیم مانگنے کے لئے ہو وہ عبادت ہے۔ مگر مطلق مانگنا مراد نہیں بلکہ ایسی چیز مانگنا مراد ہے جو صرف اللہ ہی دے سکتا ہے۔ جیسے اس آیت میں ذکر ہے کہ ان کے معبود اس کے دینے سے عاجز ہیں۔ یعنی وہ صرف اللہ ہی دے سکتا ہے۔ اور لغت میں عبادت انتہائی ذلت کو کہتے ہیں جیسے زمخشری وغیرہ نے اس کی تصریح کی ہے۔
حافظ ابن قیم رحمہ اللہ:
وغیرہ نے عبادت کے معنی (غاية المحبة مع غاية الذل) کیا ہے۔ انتہائی محبت کے ساتھ انتہائی تعظیم و عاجزی و پستی ہے۔ مگر انتہائی پستی کا تعلق دل سے ہے یعنی معبود میں غیبی قوت یا قهری شفاعت کا مقام سمجھ کر اس سے محبت کرے۔ پس جو تعظیم اس اعتقاد کی بنا پر ہو جن کا ذکر کیا ہے وہ عبادت ہوگی۔ پس طاعت کو عبادت کہنا درست نہیں۔ بلکہ اس کے معنی پوجا پاٹ کا ہی لینا چاہیے، یا تعظیم مخصوص جس کا ذکر ہو چکا ہے، طاعت اس لئے عبادت نہیں کی عبادت اللہ کے ساتھ مختص ہے۔ جیسے قرآن مجید میں ہے۔
❀ [وَ سۡـَٔلۡ مَنۡ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِکَ مِنۡ رُّسُلِنَاۤ اَجَعَلۡنَا مِنۡ دُوۡنِ الرَّحۡمٰنِ اٰلِـہَۃً یُّعۡبَدُوۡنَ]
ان پیغمبروں سے جن کو ہم نے آپ سے پہلے بھیجا ہے، پوچھ کیا ہم نے رحمن کے علاوہ اور الہ ٹھہرائے ہیں جن کی عبادت کی جائے۔ [سورۃ الزخرف، آیت: 45]
یعنی اللہ تعالیٰ نے کسی نبی کی معرفت یہ حکم نہیں دیا کہ اس کے سوا کسی کی عبادت کی جائے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں، صرف اللہ ہی کی عبادت ہونی چاہیے غیر کی عبادت نہ استقلالاً جائز ہے نہ تبعاً۔
دوسری جگہ فرمایا ہے۔
❀ [وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِکَ مِنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا نُوۡحِیۡۤ اِلَیۡہِ اَنَّہٗ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعۡبُدُوۡنِ]
جو رسول آیا اس کی طرف ہم نے یہ وحی کی کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، پس میری عبادت کرو۔ [سورۃ الأنبیاء، آیت: 25]
تیسری جگہ فرمایا۔
❀ [وَ قَضٰی رَبُّکَ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّاۤ اِیَّاہُ]
اللہ کا یہ فیصلہ ہے کہ صرف اسی کی عبادت ہو۔ [سورۃ الإسراء: 23]
چوتھی جگہ فرمایا۔
❀ [اَمَرَ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّاۤ اِیَّاہُ]
اس نے حکم دیا ہے کہ صرف اسی کی عبادت ہو۔ [سورۃ یوسف، آیت: 40]
اور اطاعت غیر کی بھی جائز ہیں۔ جیسے مندرجہ ذیل آیت سے معلوم ہوتا ہے۔
❀ [یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَطِیۡعُوا اللّٰہَ وَ اَطِیۡعُوا الرَّسُوۡلَ وَ اُولِی الۡاَمۡرِ مِنۡکُمۡ ۚ]
اے ایمان والو اللہ کی اور رسول کی اطاعت کرو، اور امراء کی بھی اطاعت کرو۔ [سورۃ النساء، آیت: 59]
اس آیت میں اللہ کے سوا پیغمبر اور امیر کی بھی اطاعت کا حکم ہے۔ اگرچہ پیغمبر کی اطاعت اس لئے ہے کہ وہ رسول ہے۔ اور امیر کی اطاعت ان امور میں ہے جو اس کے سپرد ہیں۔ اگر شریعت کے خلاف حکم دے تو اس کی اطاعت منع ہے۔ بہر کیف اطاعت ایک طرح سے غیر کی بھی ہو سکتی ہے۔ مگر عبادت کسی طرح بھی غیر کی جائز نہیں۔ جیسے آیاتِ بالا سے معلوم ہوتا ہے۔ یاد رکھنا چاہیے طاعت اور عبادت میں عام وخاص کی نسبت ہے یعنی طاعت عام ہے اور عبادت خاص تعظیم کا نام ہے، ہر تعظیم عبادت نہیں، اسی طرح ہر اطاعت عبادت نہیں۔
عبد اور عابد میں فرق:
عبد کے معنی غلام کے ہیں۔ یہ عبودیت بمعنی غلامی سے ماخوذ ہے۔ اور عابد کے معنی پرستش کرنے والا ہے۔ اور یہ عبادت سے ماخوذ ہے۔ اور عبادت پرستش، پوجا پاٹ، تعظیم مخصوص کے معنی میں۔ بعض لوگ آیت ذیل سے عبودیت اور عبادت کے ایک ہونے پر استدلال کرتے ہیں۔
❀ [اَنُؤۡمِنُ لِبَشَرَیۡنِ مِثۡلِنَا وَ قَوۡمُہُمَا لَنَا عٰبِدُوۡنَ]
فرعون اور اس کے سرداروں نے کہا کیا ہم اپنے اپنے جیسے دو انسانوں کی بات مان لیں اور ان کی قوم ہماری پرستار ہیں۔ [سورۃ المؤمنون، آیت: 47]
اس آیت میں قومِ بنی اسرائیل کو عابد کہا ہے۔ حالانکہ وہ فرعون کی غلامی ہی کرتے تھے۔ پس معلوم ہوا کہ غلامی کو بھی عبادت کہا ہے۔ پس عبودیت کا عبادت ہونا ثابت ہو گیا۔
غلطی کی وجہ:
غلطی کی وجہ یہ ہے کہ عابد مطیع کا ہم معنی سمجھا گیا ہے۔ اور اس معنی کو حقیقی سمجھ لیا گیا ہے۔ حالانکہ اس آیت کی تفسیر میں اختلاف ہے۔ بعض نے عابد کے معنی پرستش کرنے کے لئے کئے ہیں کیونکہ فرعون بنی اسرائیل سے اپنی پرستش کراتا تھا جیسے قرآن مجید کی یہ قرأت "والهتك” "تیری عبادت کو (چھوڑتا ہے) سے معلوم ہوتا ہے۔ پس اس صورت میں استدلال درست نہیں۔ اور بعض نے اطاعت کو ہی عبادت کہا ہے۔ مگر اطاعت بمعنی مجازی کہا ہے۔ یعنی لغوی معنی عبادت کا طاعت نہیں۔ بلکہ مجازاً اطاعت کو عبادت کہا ہے۔ پس اس صورت میں بھی استدلال درست نہیں۔ کیونکہ یہ اطلاق مجازی ہے حقیقی نہیں ہے۔ زمخشری نے کشاف میں تصریح کی ہے۔ پس اس آیت سے استدلال کرنا حقیقتِ حال ناواقفی پر مبنی ہے۔
عبادت اور طاعت میں فرق کی دوسری وجہ:
علماءِ اہل سنت کا اس امر پر اتفاق ہے کہ گناہ دو قسم کے ہیں۔
ایک وہ ہے جو بدونِ توبہ بھی معاف ہو سکتے ہیں۔ اگر ان کی سزا بصورتِ جہنم ملی تو محدود ہوگی۔ اس کے بعد رہائی ہوگی۔ اخیر جنت میں دخول ہوگا۔ اور بعض گناہ ایسے ہیں جن کی سزا میں خلودِ ہمیشہ کی ہے۔ رہائی کی امید نہیں۔ نا بدونِ توبہ معافی کی گنجائش ہے۔ اس قسم کے گناہ کو کفر و شرک، نفاقِ حقیقی سے تعبیر کرتے ہیں۔ اور پہلے گناہ وہ ہیں جو ان کے علاوہ میں ہیں۔ یعنی مومن کی عملی غلطیاں ہیں جو ایمان لانے کے بعد کفر و شرک کے سوا صادر ہوتی ہیں۔ جیسے جھوٹ، چغلی، بدکاری، والدین کی نافرمانی، یتیموں پر ظلم، جھوٹی گواہی، جھوٹی قسم وغیرہ۔
مندرجہ ذیل قرآنی آیت سے وہ استدلال کرتے ہیں۔
[اِنَّ اللّٰہَ لَا یَغۡفِرُ اَنۡ یُّشۡرَکَ بِہٖ وَ یَغۡفِرُ مَا دُوۡنَ ذٰلِکَ لِمَنۡ یَّشَآءُ]
اللہ تعالیٰ شرک معاف نہیں کرتا۔ اور اس کے علاوہ جس کو چاہے معاف کر دے۔ [سورۃ النساء، آیت: 48]
احادیثِ متواترہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے۔ آخری رہائی کے لئے کفر، شرک اور نفاق سے پاک ہونا شرط ہے۔ اگر ادنیٰ درجہ کا ایمان بھی دل میں ہوگا تو دوزخ سے رہائی ہوگی۔
مگر طاعت کو عبادت کہنے سے یہ تفریق باطل ہو جاتی ہے۔ کیونکہ اس صورت میں ہر گناہ میں چونکہ نفس وغیرہ کی، طاعت ہی ہوتی ہے۔ اس لئے وہ نفس وغیرہ کی عبادت ہوگی اور غیر کی عبادت چونکہ شرک ہے۔ اس لئے ہر گنہگار مشرک ہوگا۔ اور شرک کی سزا قابلِ معاف نہیں بلکہ خلودِ ہمیشہ کی ہے۔ اور یہ مذہب اہل سنت کا نہیں۔ بلکہ خوارج و معتزلہ کا ہے۔ وہ کہتے ہیں مرتکبِ کبیرہ اگر بدونِ توبہ مر جائے تو ابدی جہنمی ہوگا، کیونکہ خوارج کے نزدیک وہ کافر ہے۔ اور معتزلہ کے نزدیک مومن نہیں۔
حکم کا اطلاق مختلف معانی پر ہوتا ہے:
[1] تکوینی اس جہاں میں متصرف صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ اس کے تصرف کو حکمِ تکوینی کہتے ہیں۔ جیسے اس آیت میں ہے۔
[اِنِ الۡحُکۡمُ اِلَّا لِلّٰہِ] [سورۃ یوسف، آیت:40]
اخروی مصلحت یا مفسدت کی بنا پر کسی امر کو واجب یا حرام وغیرہ قرار دینا حکمِ شرعی کہلاتا ہے۔ حکمِ عقلی، عقلی طور پر کسی چیز میں خوبی ثابت کرنا یا خرابی ظاہر کرنا اس مصلحتِ دنیوی کی بنا پر لازم یا منع قرار دینا حکمِ عقلی ہے۔ حکمِ حسّی، حکمِ تجربی، حکمِ حدسی وغیرہ اس کے قریب قریب ہیں۔
پس جو شخص یہ خیال کرتا ہے، کہ عبادت اصل میں طاعت کا نام ہے۔ اور پرستش اس کی ایک تکمیلی صورت ہے، یا اس کے تمرین ٹریننگ کورس ہے۔ اور اطاعت میں اجتماعی نظم کے متعلقہ احکام کی پابندی کو اصلی عبادت قرار دیتا ہے۔ تو لا محالہ اس کی تمام جدوجہد قائم شدہ اسلامی حکومت کی قانونی حدود میں طاعت و فرمانبرداری بڑی عبادت ہوگی۔ اگر اسلامی حکومت قائم نہیں تو اس کے قیام کی کوشش کرنا اس کا اصل مقصد اور بڑی عبادت ہوگی۔ اور اس کے لئے وسائل جمع کرنا، جرنلسٹوں کی تحقیر اور اسلامی عبادت کو صرف وسیلہ سمجھ کر بقدرِ ضرورت اختیار کرنا ہوگا۔ اور جو شخص نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، تلاوتِ قرآن وغیرہ میں لگا رہے، اور اسلامی حکومت کے قیام میں زیادہ منہمک نہ رہے، یا وقتی حالات کا جائزہ لے کر اس میں سرگرمِ عمل نہ ہو۔ اگر اسلامی حکومت قائم ہو چکی ہو مگر اس کے قائد اچھے نہ ہوں، تو قیادتِ صالح کے لئے ان کی طرح اس منطقی ربط والے طریقہ کار پر کاربند نہ ہو تو ایسا شخص پہلے خیال والے اشخاص کے نزدیک اعلیٰ عبادت سے غافل اور ہدفِ ملامت بننے کے لائق ٹھہرے گا۔
اور جس شخص نے سمجھا کہ عبادت ان چند تعظیمی امور کا نام ہے جن کو نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، ذکر و تلواتِ قرآن کہتے ہیں۔ تو ایسا شخص حتیٰ الامکان انہیں میں لگا رہے گا اور باقی فرائض سے بری الذمہ ہونے کی کوشش کرے گا۔ اگر اسلامی حکومت قائم ہے، تو اس میں بغاوت نہ پھیلائے گا۔ اور کام کے ساتھ نزاع و جھگڑا نہ کرے گا۔ اگر اسلامی حکومت قائم نہیں تو اصل مقصد جو اللہ تعالیٰ کی عبادت ہے۔ اس میں لگا رہنے کے باوجود وقتی فرض سے بھی غافل نہ رہے گا یعنی اسلامی حکومت کے قیام کی کوئی ممکن صورت نظر آئے تو حتیٰ الامکان اس کے لئے بھی کوشش کرے گا۔ مگر اصل مقصد اللہ کی عبادت ہی کو سمجھے گا۔ اگر امیر یا بادشاہ غلط راستہ پر ہو، تو حتیٰ الامکان صحیح راستہ کی طرف راہنمائی کرے گا۔ تلاوتِ قرآن، ذکر، نماز، روزہ کو اپنا خاص شغل بنائے گا۔
قرآن مجید میں ہے۔
[وَ مَا خَلَقۡتُ الۡجِنَّ وَ الۡاِنۡسَ اِلَّا لِیَعۡبُدُوۡنِ]،[مَاۤ اُرِیۡدُ مِنۡہُمۡ مِّنۡ رِّزۡقٍ وَّ مَاۤ اُرِیۡدُ اَنۡ یُّطۡعِمُوۡنِ]،[اِنَّ اللّٰہَ ہُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الۡقُوَّۃِ الۡمَتِیۡنُ]
[میں نے جن اور انس کو صرف اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے]،[میں ان سے روزی کمانے کا مطالبہ نہیں کرتا، اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ مجھے کھلائیں]،[یقیناً اللہ ہی رازق، طاقت والا مضبوط ہے] [سورۃ الذاریات، آیات: 56-58]
ان آیتوں میں انسانی مساعی کے دو حصے کئے ہیں۔ ایک عبادت اور ایک معیشت کے اسباب و ذرائع حرفت، تجارت، زراعت، ملازمت، مزدوری کا اختیار کرنا۔ آیت کا یہ مطلب ہوا کہ انسان عبادت کیلئے بنا ہے۔ معاشی ذرائع میں لگا رہنے کے لئے نہیں بنا۔ اگرچہ ضرورت کے وقت ان کا اختیار کرنا لازمی ہو جاتا ہے۔ مگر ان کو عبادت کا درجہ نہیں دیا جا سکتا۔ یعنی یہ چیزیں اصل وضع میں عبادت نہیں۔ اگرچہ طاعت کی صورت میں قیودِ مذکور بالا کے ساتھ ان میں عبادت بننے کی صلاحیت ہے۔
دوسری جگہ فرمایا۔
[وَ سَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّکَ قَبۡلَ طُلُوۡعِ الشَّمۡسِ وَ قَبۡلَ غُرُوۡبِہَا ۚ وَ مِنۡ اٰنَآیِٔ الَّیۡلِ فَسَبِّحۡ وَ اَطۡرَافَ النَّہَارِ لَعَلَّکَ تَرۡضٰی]،[وَ لَا تَمُدَّنَّ عَیۡنَیۡکَ اِلٰی مَا مَتَّعۡنَا بِہٖۤ اَزۡوَاجًا مِّنۡہُمۡ زَہۡرَۃَ الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ۬ۙ لِنَفۡتِنَہُمۡ فِیۡہِ ؕ وَ رِزۡقُ رَبِّکَ خَیۡرٌ وَّ اَبۡقٰی]،[وَ اۡمُرۡ اَہۡلَکَ بِالصَّلٰوۃِ وَ اصۡطَبِرۡ عَلَیۡہَا ؕ لَا نَسۡـَٔلُکَ رِزۡقًا ؕ نَحۡنُ نَرۡزُقُکَ ؕ وَ الۡعَاقِبَۃُ لِلتَّقۡوٰی]
اپنے رب کی تسبیح اس کی حمد کے ساتھ سورج نکلنے اور غروب ہونے سے پہلے بیان کیا کرو اور رات کی گھڑیوں میں تسبیح بیان کرو اور دن کے دونوں طرف شاید تو راضی ہو جائے۔ اور جو چیز ہم نے دنیا کی تروتازگی کے قسم قسم ان کو امتحان کرنے کے لئے دی ہیں۔ اس کی طرف نظر جما کر نہ دیکھ، تیرے رب کا رزق بہتر اور پائیدار ہے۔ اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دے اور اس پر صبر کر۔ ہم تجھ سے روزی کمانے کا مطالبہ نہیں کرتے، تجھے ہم روزی دیں گے۔ اور پرہیز گاروں کا انجام بہتر ہے۔ [سورۃ طٰہٰ: 130-132]
اس آیت میں بھی ذکرِ نماز کی طرف ترغیب دلائی اور معاشی ذرائع اختیار کرنے کو فرائض سے خارج کر دیا۔
اسی طرح ایک جگہ فرمایا:
[وَ اصۡبِرۡ نَفۡسَکَ مَعَ الَّذِیۡنَ یَدۡعُوۡنَ رَبَّہُمۡ بِالۡغَدٰوۃِ وَ الۡعَشِیِّ یُرِیۡدُوۡنَ وَجۡہَہٗ وَ لَا تَعۡدُ عَیۡنٰکَ عَنۡہُمۡ ۚ تُرِیۡدُ زِیۡنَۃَ الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ۚ وَ لَا تُطِعۡ مَنۡ اَغۡفَلۡنَا قَلۡبَہٗ عَنۡ ذِکۡرِنَا وَ اتَّبَعَ ہَوٰىہُ وَ کَانَ اَمۡرُہٗ فُرُطًا]
(اے پیغمبر) اپنے آپ کو ان لوگوں کے ساتھ روک رکھ جو اپنے رب کو صبح و شام پکارتے ہیں۔ اس کی رضامندی چاہتے ہیں۔ اور اس کا کہنا نہ مان، جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دیا، اور اپنی خواہش کے پیچھے لگا، اور اس کا کام حد سے گزر ہوا ہے۔ [سورۃ الکہف، آیت: 28]
اس آیت میں بھی صبح و شام اپنے رب کو پکارنے والوں یعنی "سبحان اللہ والحمد للہ” کہنے والوں کے ساتھ رہنے کا حکم دیا۔
ایک جگہ فرمایا:
[فَسَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّکَ وَ کُنۡ مِّنَ السّٰجِدِیۡنَ]،[وَ اعۡبُدۡ رَبَّکَ حَتّٰی یَاۡتِیَکَ الۡیَقِیۡنُ]
اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح بیان کر اور سجدہ کرنے والوں میں ہو اور موت تک اپنے رب کی عبادت کر۔ [سورۃ الحجر، آیات: 98-99]
تفسیر ابنِ کثیر میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ حکم نہیں دیا کہ مال جمع کروں اور تاجر بنوں۔ بلکہ مجھے یہی فرمایا ہے کہ اپنے رب کی حمد اور تسبیح بیان کرو اور سجدہ کر، اور موت تک عبادت میں لگا رہ۔
ان آیاتِ مذکورہ بالا سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل انسانی زندگی کا مقصد عبادت ہے۔ اور عبادت نماز، روزہ، ذکر کا نام ہے۔
حدیث شریف میں ہے۔
❀ [بني الإسلام على خمس، شهادة أن لا إله إلا الله وأن محمدا عبده ورسوله، وإقام الصلاة، وإيتاء الزكاة، وحج البيت، وصوم رمضان]
اسلام کا سائبان پانچ ستونوں پر قائم ہے۔ اس امر کی شہادت کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کا بندہ اور اس کا رسول ہے، نماز کا قائم کرنا، زکوۃ کا ادا کرنا، حج کرنا اور ماہِ رمضان کے روزے رکھنا۔ (صحیح البخاری:8)
جبرئیل علیہ السلام نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، احسان (نیکی کرنا) کیا ہے۔ آپ نے فرمایا۔
❀ [أن تعبد اللٰه كأنك تراه] اللہ کی اس طرح عبادت کرے کہ تو اس کو دیکھ رہا ہے۔ (صحیح المسلم:8)
اس حدیث سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ عبادت پرستش ہی کا نام ہے۔
اسلامی حکومت کا قیام بھی اس لئے ہے، کہ عبادت میں سہولت ہو۔ جیسا آیتِ استخلاف سے معلوم ہوتا ہے۔ اس کے اخیر میں فرمایا:
❀ (يَعْبُدُوْنَنِیْ) (اللہ تعالیٰ بحسبِ وعدہ ان کو خلیفہ بنائے گا) وہ میری عبادت کریں گے۔ (سورۃ النور:55)
اور دوسری جگہ فرمایا۔
❀ [اَلَّذِیۡنَ اِنۡ مَّکَّنّٰہُمۡ فِی الۡاَرۡضِ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَ اٰتَوُا الزَّکٰوۃَ وَ اَمَرُوۡا بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَ نَہَوۡا عَنِ الۡمُنۡکَرِ]
ان کو ہم نے اگر زمین میں جگہ دی تو نماز قائم کریں گے اور زکوۃ دیں گے اور نیکی کا حکم دیں گے اور برائی سے روکیں گے۔ [سورۃ الحج، آیت: 41]
عبادت اور طاعت اپنے اُخروی اثر میں ایک لحاظ سے برابر ہیں، یعنی دونوں کے بجالانے سے فلاح اور دونوں کے چھوڑنے سے خسران ہے۔ اگرچہ خسران خسران میں فرق ہے۔
اور دار دنیا کی عادات میں اکثر جگہ مقصد دنیا کی اصلاح ہے۔ مگر عبادات سے اصل غرض اصلاحِ دنیا نہیں بلکہ اصلاحِ آخرت اور رضائے الٰہی ہے۔ ہاں یہ ضروری بات ہے کہ عبادت سے دنیا میں ایسے فوائد مرتب ہوتے ہیں جن سے دنیوی امور کی بھی کچھ نہ کچھ اصلاح ہوتی ہے۔ اگرچہ وہ اصلاح مقصد نہیں۔
عبادت کی اصلی غرض اور اس کے دوسرے فوائد:
حقیقت میں عبادت اس فطری امر کے اظہار کے لئے ہے۔ جو اللہ تعالیٰ نے انسان میں پیدائشی طور پر رکھا ہے۔ انسان کی بناوٹ اس طرح واقع ہوئی ہے کہ اس کا کمالِ روحانی، اس کی عبادت سے وابستہ کر دیا گیا ہے۔ عبادت کرنے سے جنت میں داخل ہونے کی استعداد اور اللہ کے دیدار کی قابلیت دور جہنم کا ایندھن بننے کے خلاف ایک صفت پیدا ہوتی ہے۔ جیسا پہلے بیان ہو چکا ہے۔ عبادت کے ترک سے انسان میں روحانی اندھا پن اور جہنم کا ایندھن بننے کی استعداد اور جنت میں داخل ہونے کی قابلیت کا فقدان ظاہر ہوتا ہے۔ اس اصل غرض کے علاوہ عبادت پر جو فوائد مرتب ہوتے ہیں وہ مندرجہ ذیل ہیں۔
نماز پڑھنے سے چونکہ دل، اس زنگ سے صاف ہوتا ہے۔ جو دل کو اندھا کرتا ہے۔ اس لئے ایک قسم کی روشنی دل کو عنایت ہوتی ہے۔ جس کی بنا پر انسان گناہوں سے متنفر ہوتا ہے اور شہوت میں اعتدال پیدا ہو جاتا ہے۔ اور یہ چیز تمدن کے لئے مفید ہے۔
نماز کا مقصد قرآن میں "إن الصلاة تنهى عن الفحشاء والمنكر” بیان کیا گیا ہے۔
نماز کا طبی فائدہ:
نماز میں نجاست (گندگی ظاہری) سے پر ہیز لازمی قرار دی گئی۔ طہارت، وضو، غسل یا پاکیزگی کا حکم دیا گیا ہے۔ اس لئے لازمی طور پر اس کا صحت پر اچھا اثر پڑتا ہے۔ پانچ وقت کی پابندی سے کاہلی اور سستی کم ہو جاتی ہے۔ قیام میں ٹانگوں اور رکوع میں پیٹھ، اور سجدہ میں سب اعضاء، اور بیٹھنے میں پاؤں، اور رفع یدین کرنے، اور ہاتھ باندھنے سے ہاتھوں کے فضلات تحلیل ہو جاتے ہیں۔
اقتصادی فائدہ:
نماز پڑھنے اور پابندی کرنے سے جب انسانی جذبات میں اعتدال آیا تا ہے تو خواہ مخواہ اس کی اقتصادی زندگی پر اچھا اثر پڑتا ہے۔ کیونکہ اقتصادی زندگی پر جذبات کا کم و بیش اثر ضرور پڑتا ہے۔
سیاسی فائدہ:
نماز پڑھنے سے اللہ تعالیٰ کا شعور اور پابندیِ اوقات سے فرض شناسی اور ضبطِ نفس کا ملکہ پیدا ہوتا ہے۔ قربانی کی عادت پڑتی ہے۔ یہ امور سیاست میں مفید اور کارآمد ہیں۔
معاشرتی فائدہ:
نماز با جماعت سے ایک دوسرے کی پہچان اور اختلاط کی بنا پر ایک دوسرے سے انس اور رحمت و شفقت کا پیدا ہو جانا ایک واقعی امر ہے۔ ایک دوسرے کی معرفت سے ایک دوسرے کی حاجت کا احساس لابدّی چیز ہے۔ یہ چیزیں معاشرے کو مضبوط کرتی ہیں۔
مساوات کا سبق:
ایک صف میں بلا امتیاز فقیر و غنی، خاندانی و غیر خاندانی کا کھڑا ہونا، امام بننے کے لئے صرف قرآن کا زیادہ جاننا، سنت سے زیادہ واقف ہونا، جو پہلے آئے اس کا پہلی صف میں جگہ پانا، یہ سب امور مساوات کا سبق دیتے ہیں۔
دینی فائدہ:
اللہ تعالیٰ کا شعور، نورانیتِ قلب، دل کی اصلاح، ملاءِ اعلیٰ کے ساتھ تعلق، اللہ تعالیٰ کی محبت اس سے پیدا ہوتی ہے، روح میں وہ کمال پیدا ہوتا ہے۔ جس پر نجاتِ اُخروی موقوف ہے۔ اعتقاد میں پختگی پیدا ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ بعض افراد یقین کے بلند مقام پر پہنچ جاتے ہیں۔
❀ مگر ان فوائد میں فرق ہے۔ عبادت کے لئے جو دنیوی فائدے ذکر کئے گئے ہیں، وہ نماز کی غرض و غایت قرار نہیں دیئے جا سکتے۔ کیونکہ عبادت کی حقیقت سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔ بلکہ صورت سے ہے۔ مثلاً نماز کا طبی فائدہ بعض اعضاء کے فضلات کا تحلیل ہونا، عبادت یعنی تعظیم مخصوص یا ذات کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں بلکہ تعظیم کی ایک مخصوص صورت کے ساتھ ہے۔
یہی حال باقی فوائدِ مذکور کا ہے۔ سوائے اس دینی فائدہ کے جس کے متعلق ہم نے بار بار یہ لکھا ہے کہ وہ نماز کی غرض و غایت ہے۔ یعنی دنیا میں رضاءِ الٰہی اور آخرت میں نجات و فلاح۔
ارکانِ اسلام کے متعلق مولانا کا نظریہ:
فرماتے ہیں۔ عام طور پر لوگ کہتے رہے ہیں، کہ اسلام کے پانچ ارکان کلمہ توحید و رسالت، نماز، روزہ، حج اور زکوۃ لوگ یہ سمجھتے رہے ہیں،
اور ایک مدت سے یہ غلط فہمی رہی ہے کہ ان ہی چیزوں کا نام اسلام ہے اور واقعہ یہ ہے کہ یہ ایک بڑی غلط فہمی ہے۔ اس سے مسلمانوں کا طریقہ اور طرزِ عمل پوری طرح بگڑتا گیا ہے۔ (کوثر 9 فروری 51 بیان مودودی)
❀ مولانا صاحب کا یہ محض خیال معلوم ہوتا ہے کہ یہ چیزیں ارکانِ اسلام کے نام سے ویسے ہی مشہور ہو گئی ہیں، کتاب وسنت میں اس کی کوئی سند نہیں ملتی۔ محض غلطی کی بنا پر ایسا کہا جاتا ہے۔ اس کی وجہ سے مسلمانوں کا طرزِ عمل بگڑتا گیا ہے۔ حالانکہ دینی علوم سے ادنیٰ واقفیت رکھنے والا بھی ان امور کے ارکانِ اسلام ہونے کو جانتا ہے۔ امام بخاری نے اپنی صحیح میں کتاب الایمان کو اسی حدیث سے شروع کیا ہے۔ اور عبادات (نماز، زکوٰۃ، حج، روزہ) کی ترتیب میں اسی حدیث کو بنیاد قرار دیا ہے۔
امورِ مذکورہ کے ارکان ہونے کا ثبوت: [بني الإسلام على خمس] (صحیح البخاری:8)
اسلام پانچ ارکان پر بنایا گیا ہے۔
اس حدیث میں صاف طور پر مذکور ہے کہ اسلام کی بنا پانچ چیزوں پر ہے۔ توحید و رسالت کا دل سے اقرار، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ کا ادا کرنا، رمضان کے روزے، بیت اللہ کا حج کرنا، فتح الباری میں ان کو ارکان کہا گیا ہے۔
انہی چیزوں کو اسلام یا اسلام کے ارکان کیوں قرار دیا گیا ہے۔ حافظ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے کتاب الایمان میں اس کی تفصیل بیان فرمائی ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کے معنی انقیاد کے ہیں، حقوق دو قسم کے ہیں۔ حقوق اللہ اور حقوق العباد۔ حقوق اللہ دو قسم پر ہیں فرض اور مستحب۔ فرض دو قسم ہیں، عین اور فرضِ کفایہ۔ حقوقِ العباد چونکہ بندوں کے حقوق ہوتے ہیں۔ اس واسطے مطالبہ انکی طرف سے قائم ہوتا ہے۔ ان کا ادا کرنا انقیاد الٰہی کی بنا پر نہیں ہوتا صرف انقیاد حقوق اللہ ہی میں ہوتا ہے۔ جو فرض ہیں۔ وہ چونکہ دو قسم پر ہیں۔ ایک فرضِ عین اور ایک فرضِ کفایہ۔ فرضِ کفایہ چونکہ بعض کے ادا کرنے سے ساقط ہو جاتا ہے۔ اس واسطے صحیح معنی میں صرف انہی حقوق اللہ میں جو فرضِ عین ہیں۔ انقیاد الٰہی متحقق ہوتا ہے اور وہ صرف یہی امور ہیں۔
پس اسلام سے مراد وہ انقیاد الٰہی ہے۔ جو لازم ہو اور اس میں اللہ تعالیٰ کے آگے عاجزی ہو۔ اور یہ باتیں صرف انہی امور میں پائی جاتی ہیں۔
جہاد اگرچہ سب سے اہم امر ہے۔ مگر وہ مقاصد میں داخل نہیں ہے۔ مقصد صرف اللہ کی عبادت ہی ہے۔ اور جہاد اگرچہ ایک معنی سے عبادت ہے۔ اور بعض وقت وہ افضل عبادات بن جاتا ہے، مگر پھر بھی اصل میں فرضِ کفایہ اور وسیلہ ہے مقصد نہیں۔
مودودی صاحب نے امورِ مذکورہ کے ارکانِ اسلام ہونے سے کیوں انکار کیا ہے۔
ان کا خیال ہے کہ پوجا پاٹ کے طریقوں کو مذہب کہا جاتا ہے۔ اور اسلام اس معنی میں مذہب نہیں۔ بلکہ ایک انقلابی نظریہ ہے، معاشی اور سیاسی لائحہ عمل ہے۔ معاشی اور سیاسی لائحہ عمل کے ساتھ محض پوجا پاٹ کو کوئی نسبت نہیں۔ امورِ مذکورہ دراصل ٹریننگ کا کام دیتے ہیں۔ اور اصل عبادت کے لئے تیار کرتے ہیں۔ پس ضروری ہے، کہ ان امور کو ارکانِ اسلام نہ کہا جائے۔ کیونکہ ان کو اگر ارکانِ اسلام کہا جائے گا تو غلط فہمی میں مبتلا ہو کر یہ سمجھنے لگیں گے کہ اصل مقصد یہی امور ہیں۔ اور اصل اسلام (جو سیاسی اور معاشی لائحہ عمل ہے) کی اہمیت کم ہو جائے گی۔ لوگ نماز، روزہ، حج، زکوۃ، توحید و رسالت کے دلی اقرار کو ہی اہم سمجھ کر ان میں لگے رہیں گے۔ اور باقی امور کو زندگی کی ضروریات سمجھ کر ان پر عمل کریں گے۔ مقصدِ زندگی نہیں سمجھیں گے۔ اصل میں علماء نے لوگوں کو اس غلطی میں ڈال کر دین کی تحریف کر دی ہے۔ یہ لوگ سارا دن قال اللہ قال الرسول کی گردان کرتے رہتے ہیں۔ مگر اصل حال سے بالکل بے خبر اور ناواقف ہیں۔ ان کو کچھ پتہ نہیں کہ اسلامی تحریک کیسے چلائی جاتی ہے۔ پس دراصل یہی وجہ ہے جس کی بنا پر مودودی صاحب نے امورِ مذکورہ کے ارکانِ اسلام ہونے کو پسند نہیں فرمایا۔ مودودی صاحب کے اس خیال کا ذکر اور رَدّ مفصل طور پر گزر چکا ہے۔ اور یہ خیالات خود غلط ہیں۔ مقصدِ زندگی عبادت ہے۔ اور عبادت کا اکثر حصہ دراصل یہی امور ہیں۔ باقی اکثر چیزیں خواہ معاشی ہوں یا سیاسی ضروریاتِ زندگی سے ہیں نہ مقصدِ زندگی سے۔
اصل مقصد جس کے لئے انسان پیدا کیا گیا: یہی ایمان اور روزہ ہیں۔ جہاد وغیرہ دنیا کی اصلاح کے لئے ہیں۔ تا کہ عبادت میں سہولت ہو۔ قرآن مجید میں ہے۔
❀ [وَ کُلًّا وَّعَدَ اللّٰہُ الۡحُسۡنٰی ؕ]
ہر ایک (مجاہد غیر مجاہد) سے اللہ نے نیکی (جنت) کا وعدہ کیا ہے۔ [سورۃ النساء:95]
مگر جس وقت اصل مقصد قیامِ حکومتِ الٰہیہ قرار دیا جائے۔ تو ہر جگہ معاملہ کی نوعیت اسی قسم کی ہونی چاہیے۔ اسی واسطے مودودی صاحب نے جب یہ سمجھا تو سابق مجددین سے کسی کو کامل مجدد قرار نہیں دیا۔ کیونکہ ان سے پہلے اکثر مجددین نے حکومتِ الٰہیہ کے قیام کی کوشش نہیں کی۔ بلکہ حکومت سے بھاگتے رہے۔ اور نہ ہی کوئی جماعت، اسلامی جماعت کی نوعیت کی بنائی۔ جیسے
مودودی صاحب فرماتے ہیں۔
❀ "چونکہ میرے پیشِ نظر ایک اسلامی کا احیاء ہے اس لئے مجھے بھی اسی تدریج کے ساتھ اپنے مقصد کی طرف پیش قدمی کرنی پڑی ہے۔ جس کی طرف اوپر اشارہ کیا گیا ہے”۔ (سیاسی کشمکش: حصہ سوم ص 2)
❀ "مسلمانوں میں عموماً جو تحریکیں اٹھتی رہی ہیں اور جواب چل رہی ہیں۔ پہلے ان کے اور اس تحریک میں اصولی فرق کو ذہن نشین کر لینا چاہیے۔ اولاً ان میں یا تو اسلام کے کسی جزو کو یا دنیوی مقاصد میں سے کسی مقصد کو لے کر بنائے تحریک بنایا گیا۔ لیکن ہم عین اسلام اور اصل اسلام کو لے کر اٹھ رہے ہیں۔ اور پورا کا پورا اسلام ہی ہماری تحریک ہے”۔ (رودادِ جماعتِ اسلامی: حصہ اول ص 5)
تجدیدِ احیاءِ دین مودودی صاحب کی نظر میں:
"تجدید در اصل نام ہے جاہلیت کے ہجوم سے اسلام کو نکال کر از سر نو چمکا دینا”۔ (تجدید و احیاءِ دین)
پھر جاہلیت کی تین قسمیں بیان کی ہیں۔
[1] ایک جاہلیتِ خالصہ۔
[2] دوم جاہلیتِ مشرکانہ ۔
[3] سوم جاہلیتِ راہبانہ۔
ان تینوں جاہلیتوں کا اثر جو نظامِ حکومت پر پڑتا ہے اس کو نمایاں کرنے کی کوشش کی ہے۔ پھر ان تینوں کے نتائج متحد کرنے کی لا طائل کھینچا تانی کی ہے۔ پھر اسلامی نظامِ حکومت کا ذکر کیا ہے۔ تا کہ ان نظامات کو جو ان جاہلیتوں نے کھڑے کئے ہیں، اسلامی نظام کے مقابل پیش کر کے ایک امتیازی خط کھینچ دیا جائے۔ جاہلیتِ خالصہ کی بنیاد دہریت پر رکھی گئی ہے۔ یعنی انکارِ خدا پر، اس کے متعلق لکھا ہے کہ اس نظریہ کی عینِ فطرت یہی ہے کہ اس کی بنیاد پر ایک خالص مادہ پرستانہ نظامِ اخلاق بنتا ہے۔ یہ ظلم مملکت کی شکل اختیار کرتا ہے کہ طاقتور طبقے اپنے سے کمزور طبقوں کو کھاتے اور دباتے ہیں۔ اور مملکت کے باہر اس کا ظہور قوم پرستی (امپیریلزم) اور ملک گیری اور اقوام کشی کی صورت میں ہوتا ہے۔ (تجدید و احیاءِ دین: ص 10)
❀ جاہلیتِ مشرکانہ میں لکھا ہے۔ انبیاء علیہم السلام تعلیم کے اثر سے جہاں لوگ اللہ واحد قہار کی خدائی کے قائل ہو گئے، وہاں سے خدائی کی دوسری صورتیں رخصت ہو گئیں مگر انبیاء، اولیاء، شہداء، صالحین، مجاذیب، اقطاب، ابدال، علما و مشائخ اور ظلِّ الٰہی کی خدائی پر بھی کسی نہ کسی طرح عقائد میں سر نکالتی رہی۔ (تجدید و احیاءِ دین: ص 11)
آگے چل کر لکھتے ہیں۔
مشرک انسان لا محالہ خود ایک اخلاقی نظریہ بناتا ہے۔ اور خود ہی اس نظریہ کی بنیاد پر ایک شریعت تصنیف کرتا ہے۔ اسی طرح وہ جاہلیتِ محضہ پر سازگار آتی ہے۔ (تجدید: ص 11)
اس کے آگے لکھتے ہیں۔
فرق صرف یہ ہے کہ مشرکین کی قوتِ واہمہ حد سے زیادہ بڑھی ہوئی ہوتی ہے۔ اس لئے ان کے افکار میں خیال آرائی کا عنصر بہت زیادہ ہوتا ہے۔ اور غیر عملی قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ (تجدید: ص 12)
❀ جاہلیتِ راہبانہ کے متعلق کہتے ہیں۔ یہ نظریہ بجائے خود تمدن کش نظریہ ہے۔ پھر کہتے ہیں۔
پہلی دونوں قسموں کی جاہلیتوں کے ساتھ تیسری قسم کا تعاون عموماً تین صورتوں سے ہوتا ہے۔
یہ راہبانہ جاہلیت کے نیک اور پاک باز افراد کو دنیا کے کاروبار سے ہٹا کر گوشۂ خلوت میں لے جاتی ہے۔ اور بدترین قسم کے شریر افراد کے لئے میدان صاف ہو جاتا ہے۔ (تجدید: ص 14)
❀ وہ ان کے اندر غلط قسم کا صبر و تحمل اور مایوسانہ نقطۂ نظر پیدا کر کے انہیں ظالموں کے لئے نرم نوالہ بنا دیتے ہیں۔ (تجدید: ص 15)
جب یہ رہبانی فلسفہ شکست کھاتا ہے تو مکیاویل کی تصنیف شروع ہوتی ہے۔ (تجدید)
مگر انبیاء علیہم السلام کی امتوں میں جب یہ گھس آتی ہے تو کچھ اور ہی گل کھلاتی ہے۔ خدا کے دین پر اس کی پہلی ضرب یہ ہوتی ہے۔ کہ دنیا کو دارالعمل، دارالامتحان اور مزرعۃ الآخرۃ کے بجائے دارالعذاب اور مایا کا جال کی حیثیت سے پیش کرتی ہے۔
اس ذہنیت نے انبیاء کی امتوں میں سے ایک گروہ کو مراقبہ اور مکاشفہ، چلہ کشی اور ریاضت اور اوراد و وظائف، احزابِ اعمال، اس پر مقامات اور حقیقت کی فلسفیانہ تعبیروں کے چکر میں ڈال دیا۔ اور مستحبات و نوافل کے التزام میں فرائض سے بھی زیادہ منہمک کر کے خلافتِ الٰہیہ کے اس کام سے غافل کر دیا۔ جس کو جاری کرنے کے لئے انبیاء علیہم السلام آئے تھے۔ اور دوسرے گروہ میں تعمق، تعمق فی الدین، موشگافی، چھوٹی چھوٹی چیزوں کو ناپ تول اور جزئیات کے ساتھ غیر معمولی اہتمام کی بیماری پیدا کر دی۔ حتیٰ کہ ان کے لئے خدا کا دین ایک نازک آبگینہ ہو گیا۔ جو ذرا سی باتوں سے ٹھیس کھا کر پاش پاش ہو گیا۔
پس انبیاء علیہم السلام کے مشن کا انتہائے مقصود یہ رہا ہے کہ حکومتِ الٰہیہ قائم کر کے اس پورے نظامِ زندگی کو نافذ کریں۔ جو وہ خدا کی طرف سے لائے تھے۔ وہ اہلِ جاہلیت کو یہ حق دینے کے لئے تیار تھے کہ انہی جاہلی اعتقادات پر قائم رہیں۔ اور جس حد کے اندر ان کے عمل کا اثر انہی کی ذات تک محدود رہتا ہے۔ اس میں اپنے جاہلی طریقوں پر بھی چلتے رہیں مگر وہ انہیں یہ حق دینے کے لئے تیار نہ تھے اور فطرتاً نہ دے سکتے تھے کہ اقتدار کی کنجیاں ان کے ہاتھ میں رہیں۔ اور وہ انسانی زندگی کے معاملات کو جاہلیت کے قوانین پر چلائیں۔ اسی وجہ سے تمام انبیاء نے سیاسی انقلاب برپا کرنے کی کوشش کی۔ (تجدید: ص 21)
❀ ان تینوں اقسام کی جاہلیتوں کے ہجوم سے اسلام کو نکالنا اور پھر سے اس کو چمکا دینا وہ کام تھا جن کیلئے دین کو مجدِّدین کی ضرورت پیش آئی۔ (تجدید: ص 25)
ان مذکورہ بالا عبارات سے ہمارے اس قول کی تائید ہوتی ہے کہ مودودی صاحب نے جب قیامِ حکومت کو اصلی غرض قرار دیا ہے تو سب جگہ اسی کو پیشِ نظر رکھا ہے۔ ہر جگہ حکومت کی صحت و سقم ملحوظِ خاطر ہے۔ اور انہی امراض کی طرف زیادہ التفات کرتے ہیں۔ جس کا تعلق بالواسطہ یا بلاواسطہ حکومت کے ساتھ ہے۔ اور ہر جاہلیت کو کھینچ تان کر حکومت میں بے اعتدالیوں کی علت ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے۔
مشرکانہ جاہلیت (جس کے متعلق یہ بھی ماننا ہے کہ انبیاء علیہم السلام کے متبعین میں گھس کر اور طرح کے گل کھلاتی ہے) کو خواہ مخواہ جاہلیتِ خالصہ کے ساتھ ملانے کی کوشش کی ہے۔ فرماتے ہیں۔ "مشرک انسان خود ہی ایک اخلاقی نظریہ بناتا ہے”۔ (تجدید ص 12) حالانکہ مشرک کے لئے ضروری نہیں۔ اللہ کا انکار کرے یا اس ضابطۂ اخلاق کا انکار کرے۔ جو انبیاء علیہم السلام نے پیش کیا ہے۔
اسی طرح اس کے بعد لکھا ہے۔
"بہر حال علمی حیثیت سے شرک اور جاہلیتِ خالصہ میں کوئی بنیادی اختلاف نہیں ہوتا۔ اور اس کا روشن ثبوت یہ ہے کہ یورپ اپنے موجودہ نظریات میں قدیم یونان و روم سے اس طرح سلسلہ جوڑتا ہے، گویا یہ بیٹا اور وہ باپ”۔ (تجدید ص 13)
❀ بالکل غلط ہے۔ اوّلاً اس لئے کہ آپ دماغ میں یہ سمجھ رہے ہیں کہ مشرک کے لئے ضروری ہے۔ کہ وہ کسی روحانی ضابطۂ حیات کا قائل نہ ہو۔ حالانکہ شرک، اللہ کے انکار یا انبیاء علیہم السلام کی بعثت کے انکار کا نام نہیں۔
ہو سکتا ہے کہ ایک شخص با وجود اس کے کہ وہ خدا کو مانتا ہے اور انبیاء علیہم السلام کی بعثت اور ضابطۂ حیاتِ روحانی کا قائل ہو۔ عبادت میں غیر کو شریک ٹھہراتا ہے۔
ثانیاً آپ نے یہ سمجھا ہے۔ کہ یورپ کی موجودہ خرابی کی علت ان کا مشرکانہ عقیدہ ہے۔ حالاں کہ اصل وجہ یہ ہے کہ وہ ضابطۂ حیات میں سماوی آئین کی پابندی کے قائل نہیں رہے۔
اسی طرح تکلّف کے ساتھ شاہی خاندان اور مذہبی عہدہ داروں کا تعلق شرک کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی ہے۔
حالانکہ یہ امراض غیر مشرکین میں بھی پیدا ہو جاتے ہیں۔ اور مشرکوں کے شرک میں اس کے پیدا ہونے کی قطعی ضرورت نہیں۔
❀ اسی طرح جاہلیتِ خالصہ میں جو لکھا ہے۔
"کہ اس کی بنیاد پر ایک خالص مادہ پرستانہ نظامِ اخلاق بنتا ہے”۔ (تجدید ص 10)
ہر حالت میں درست نہیں۔ کیونکہ بعض دہریہ بھی ایسی چیز کو مانتے ہیں جس پر روحانی ضابطۂ اخلاق تیار ہوتا ہے۔ جیسے بدھ کے پیروان کے ہاں خدا کا نام نہیں مگر آواگون (تناسخ) کے عقیدہ کی بنا پر وہ غیر مادہ پرستانہ ضابطۂ اخلاق کے قائل ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ جو شخص اعمال کی جزا وسزا کا قائل ہو، خدا کو مانے یا نہ مانے، وہ ایک طرح کا ضابطۂ حیات ضرور مانتا ہے۔
اسی طرح جو بعد میں راہبانہ جاہلیت کو پہلی دونوں قسم جاہلیت سے ملانے کی کوشش کی ہے، بالکل بے معنی ہے۔ نیز اس کو مابعد الطبیعی نظریہ قرار دینا بھی ایک فضول امر ہے۔ کیونکہ اس نظریہ کا تعلق اللہ کے انکار یا شرک کے ساتھ نہیں۔
اصل میں اس نظریہ کی بنیادی غلطی یہ ہے کہ دنیا کی قباحت اس کے دماغ میں حد سے زیادہ جاگزیں ہو گئی ہے۔ اس کی نفرت حد سے بڑھ گئی ہے۔ رہبانیت کی مذمت میں مودودی صاحب نے مبالغہ سے کام لیا ہے۔
دین کی حفاظت کے لئے لوگوں سے الگ ہونا بعض حالات کی بنا پر جائز ہے۔ مگر اس کو مقاصد میں شمار کرنا اور بلا امتیاز ضرورت ہر حالت میں اس کے ساتھ لپٹے رہنا درست نہیں ہے۔
دین کی اصلاح کا نام تجدید ہے:
پس دین کی حقیقت سمجھنے کے لئے اتنا سمجھ لینا کافی ہے کہ دین کس چیز سے عبارت ہے۔ اور اس میں کس طرح خرابیاں پیدا ہوتی ہیں اور ان کی اصلاح کس طرح ہوتی ہے۔
[معنى التجديد احياء مادرس من العمل بالكتاب والسنة والامر بمقتضاها]
تجدید کا معنی یہ ہے کہ کتاب وسنت پر عمل کرنے اور ان کے مقتضی پر حکم کرنے میں جو سستی، بے توجہی اور جہالت پائی جاتی ہے، اسکو تعلیم اور عمل کے ذریعے دور کرنا۔ (شرح جامی صغیر ج 2 ص 281)
یعنی جو دین کی باتیں مٹ گئی ہیں، لوگوں نے ان پر عمل کرنا چھوڑ دیا ہے، ان کو دوبارہ رائج کرنا۔
فتح القدیر شرح جامع الصغیر میں ہے۔
[(يجدد لها دينها) أي يبين السنة من البدعة ويكثر العلم وينصر أهله ويكسر أهل البدعة ويذلهم وقالوا لا يكون إلا عالما بالعلوم الدينية الظاهرة والباطنة] (ج 2 ص 282)
(امت کیلئے دین کو تازہ کرے گا) یعنی سنت کو بدعت سے الگ کرے گا، علم (شرعی) کو رائج کریگا اور اہل علم کی مدد کرے گا اور اہل بدعت کو دندانِ شکن جواب دیگا۔ علماء نے کہا ہے ایسا شخص وہی ہو سکتا ہے جسکو دینی علوم ظاہری اور باطنی کا پورا علم ہو۔
اسی صفحہ میں ہے ابن کثیر فرماتے ہیں۔ ہر قوم نے اپنے امام کو ہی مجدد بنانے کی کوشش کی ہے۔ ظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ حدیث عام ہے۔ ہر جماعت کے علماء کو شامل ہے، خواہ مفسر ہو، محدث یا فقیہ، نحوی، لغوی یا کوئی اور۔
ابنِ کثیر نے اس طرف اشارہ کیا ہے کہ جس شخص نے کسی ایسے علم کی خدمت کی ہو، جس کا دین کے ساتھ گہرا تعلق ہے، جس کی خدمت سے کتاب وسنت کے متروک حصہ کے احیاء میں مدد ملتی ہو، وہ مجدد ہے۔ خواہ وہ فنِ تفسیر ہو یا حدیث فقہ ہو یا نحو لغت ہو یا کوئی اور فن۔ پس تجدید در اصل علمی اور عملی کموری کا رفع کرنا فراموش شدہ بات کو یاد کرانا اور متروک عمل کرنے یا کرانے کی کوشش کرنا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ایک شخص ان تمام ضروری اوصاف کے ساتھ متصف ہو، مگر اس کا اثر ایک خطہ تک محدود ہو۔ اور ہو سکتا ہے کہ اس کا اثر تمام عالمِ اسلامی پر محیط ہو۔ پھر یہ بھی ممکن ہے کہ علم کے ساتھ قوتِ حاکمہ بھی رکھتا ہو۔ اور ہو سکتا ہے کہ ایک بوریا نشین درویش ہو۔
تجدید میں کمال ونقصان:
تجدید دراصل ملکۂ اجتہاد اور ملکۂ عمل کا نام ہے۔ جس کا اثر اصلاحِ دین پر ہو۔ ظاہر ہے کہ ملکہ میں تجزّی نہیں ہوتی، کمال و نقصان کی گنجائش ہے۔ اس کمال ونقصان میں جیسے علوم کی کمی وبیشی کو دخل ہے۔ اسی طرح انسانی جدوجہد کو بھی دخل ہے۔ اور اس کے حلقۂ عمل میں وسعت و تنگی کی گنجائش ہے۔
نبی کا کام:
انبیاء علیہم السلام عبادات اور ان کا طریق بتانے، عدل اور انصاف کے لئے انسانی تمدّن کو سازگار بنانے کی کوشش و تلقین کے لئے آتے ہیں۔ ان کے احکام کا تعلق آخرت سے ہوتا ہے۔ عبادات اور ان کا طریقہ خاص ظاہر ہے، کہ اس میں مفادِ دنیا مقصود ہے، مگر اس کی بنیاد بھی شریعت نے آخرت پر رکھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ احکامِ شریعت میں اپنی طرف سے ردّو بدل کی گنجائش نہیں ہے۔ حالانکہ مفادِ دنیا کے اعتبار سے ردّو بدل کرنے میں چنداں فرق نہیں پڑتا۔ پس نبی دراصل اللہ تعالیٰ کے احکام کی تبلیغ کے لئے آتے ہیں۔ اور یہی ان کا نصب العین ہوتا ہے۔ اور اس میں وہ کامیاب ہوتے ہیں۔ اگر فضا سازگار ہو تو حکومت بھی قائم کر لیتے ہیں ورنہ ہر حالت میں کامیاب رخصت ہوتے ہیں، خواہ شہید ہی کیوں نہ ہو جائیں۔
یہی حال مجدّدِ دین کا ہے۔ اگر خلافتِ راشدہ کے قیام کے لئے فضا سازگار ہو تو حکومت کا کام بھی ان سے سر انجام پا جاتا ہے۔ ورنہ ہر حالت میں وہ کامیاب رخصت ہوتے ہیں۔
حکومت میں اصلاحی نظام العمل بنانا تو انبیاء علیہم السلام کا کام ہے۔ مگر حکومت پر قابض ہونا انکے مقاصد میں اصالۃً داخل نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت کی خواہش کرنا شریعت میں اچھا کام نہیں۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ نے اس امت کو حکومت عطا کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کہ میری امت کا ملک مشرق و مغرب تک پہنچ جائے گا۔ اس کے کارندے جہنمی ہوں گے۔ مگر وہ جو اللہ سے ڈرے اور امانت ادا کرے۔ (مسنداحمد:23109)
اسی طرح مجدد کے فرائض میں بھی حکومت پر قابض ہونا نہیں بلکہ حکومت کے امور میں جو کمی وبیشی پیدا ہو چکی ہو، اس کے متعلق علمی اور عملی جدوجہد کرنا ہے، میرا یہ مطلب نہیں کہ حکومت پر قابض ہونا نبوت یا تجدید کے منافی ہے۔ بلکہ یہ مطلب ہے کہ ان کے منصب کے لئے حکومت پر قبضہ لازمی چیز نہیں۔ پس امامت و جماعت ان کے لئے کوئی ضروری چیز نہیں۔ اگرچہ بعض حالات میں امامت اور جماعت کی شکل میں نبوت و تجدید کا ظہور ہوتا ہے۔
مجدّد اور مبتدع میں فرق:
مجدّد مردہ سنت کو زندہ کرتا ہے۔ عوام جو رواج اور بدعت سے مانوس ہوتے ہیں وہ اس کے اس فعل کو بدعت کہتے ہیں۔ حالانکہ عقائد اور اعمال کا نیا اور پرانا ہونا اس بات پر موقوف نہیں کہ نفسِ رواج سے نئے یا پرانے ہوں، بلکہ جو عقائد اور اعمال کتاب وسنت سے ثابت ہوں، اگرچہ بعد میں بعض جگہ یا اکثر جگہ لوگوں نے ان پر عمل کرنا چھوڑ دیا ہو وہ شریعت میں پرانے ہی ہوتے ہیں نئے نہیں ہوتے۔ اور جو عقائد اور اعمال کتاب وسنت میں ثابت نہ ہوں، اگرچہ قرونِ ثلاثہ (تین زمانوں صحابہ، تابعین، تبع تابعین) کے بعد مدتِ مدید سے ان پر رواج چلا آتا ہو وہ نئے ہوتے ہیں۔
پس بدعت اس قول وفعل کا نام ہے جو دین میں بلا دلیل نکالی جائے۔ اگرچہ موجودہ وقت میں عام و خاص میں وہ رائج ہی ہوں، بس مجدّد کا کام تو یہ ہے کہ دین کا جو حصہ لوگوں نے چھوڑ دیا ہے اس کو تقریر و تحریر یا عمل سے رائج کرنے کی کوشش کرے۔ اور مبتدع وہ شخص ہے جو دین میں اپنی طرف سے کسی ایسی مصلحت کی بنا پر جس کو شریعت نے غیر معتبر قرار دیا ہے، استحسان اور قیاس سے کوئی چیز نکالے۔ پس عقائد، اخلاق، عبادات، اور معاملات وغیرہ میں جو شخص دین سمجھ کر کوئی نئی چیز نکالے، وہ کبھی مجدّد نہیں ہو سکتا۔
مجدّد اور امورِ دین کی اصلاح:
مجدّد کا یہ کام ہے کہ جو کام دین میں زائد ہو یعنی بدعت ہو اس کو دین سے الگ کرے۔ اور جو کام دین سے کم ہو چکا ہے اس کو جاری کرے۔ یعنی سنت کا احیاء اور بدعت کا ازالہ مجدّد کا کام ہے۔
مجدّد کی اصلاح کا دائرہ بعض مصالح کی بنا پر کبھی تنگ اور کبھی فراخ ہوتا ہے۔
سیاست اور حکومت:
شریعت نے حکومت کے تین مراتب قائم کئے ہیں۔
[1] ایک خلافت علیٰ منہاج النبوۃ یا خلافتِ راشدہ۔
[2] دوسرا خلافتِ راشدہ نہ ہو، مگر قابلِ برداشت ہو، یعنی امیر میں سیاسی صفات خلیفہ راشد کی نہ ہوں مگر مسلم ہو۔
[3] تیسرا درجہ جو قابلِ برداشت نہیں، جس میں کفرِ بواح کھلا ہو، جس کی مخالفت ہمارے نزدیک شرعی برہان ہو۔
حکومت کا پہلا مرتبہ وہ ہے جس کی بنیاد انتخابِ شرعی پر ہو قرآن وسنت آئینِ حکومت ہو، عمال کا انتخاب ان کی قابلیت کی بنا پر ہو، عمال دیانتداری کی بنا پر حکومت کریں۔
دوسرا مرتبہ وہ ہے، جس میں انتخابِ شرعی طریقہ پر نہ ہو، بلکہ حکومت کو خاندانی چیز سمجھ کر امیر کا انتخاب ہو، مگر آئین اسلامی ہو۔ اگرچہ عمال زیادہ دیانت دار نہ ہوں مگر شریعت کا نفاذ ان کا نصب العین ہو۔ اس مرتبہ کی بہت سی قسمیں ہیں۔ آئین کا اسلامی ہونا سب میں مشترک چیز ہے۔ خلیفہ سے لے کر ادنیٰ ملازموں تک دیانت داری میں اختلاف ہوتا ہے۔ بعض وقت اس میں ایسے امیر بھی منتخب ہو کر آ جاتے ہیں، جو اوصاف کے لحاظ سے خلیفہ راشد بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جیسے عمر بن عبدالعزیز بنی امیہ میں اور بعض خلفاء بنی عباس سے۔ اگرچہ ان دونوں حکومتوں کی بنیاد خاندان پر تھی، مگر حسنِ اتفاق سے بعض ایسے افراد دیکھنے میں آتے ہیں، جو کہ دراصل خلافت کے اہل و مستحق تھے، انہوں نے دیانت داری سے حکومت چلانے کی کوشش کی۔ اس مرتبہ میں امیر کا گناہ گار ہونا قابلِ برداشت ہے مگر کافر ہونا قابلِ برداشت نہیں۔
تیسرا درجہ کفرِ بواح کا ہے
جب حاکم کافر ہو، شریعت کا منکر ہو، آئینِ اسلام کا قائل نہ ہو۔ اس قسم کی حکومت قابلِ برداشت نہیں۔
حکومت کی دوسری قسم (خلافتِ راشدہ کی صورت نہ ہو) کے متعلق علماء کا اختلاف ہے۔ بعض اہل علم وفضل کا خیال ہے۔ ایسی حکومت بھی قابلِ برداشت نہیں۔ مگر جمہور اہل علم کے نزدیک قابلِ برداشت ہے۔ اس کی مخالفت انقلابی شکل میں نہیں کرنی چاہئے۔ بلکہ بصورتِ وعظ و تذکیر کرنی چاہئے۔ امر بالمعروف ونہی عن المنکر سے اصلاح کرنی مناسب ہے۔ انقلابی کاروائی سے احتراز چاہئے، جس قدر آئین اور عمال میں نقص ہوں، ان کو بغیر انقلابی کاروائی کے دور کرنا چاہئے۔
تیسری صورت میں انقلابی کوشش کرنی جائز، بلکہ بعض حالات میں فرض ہے۔ انقلاب کے لئے فضا سازگار بنانی چاہئے۔ فساد کے اسباب جو ہم نے بیان کئے ہیں ان کو اٹھانے کی کوشش کا نام تجدید ہے۔ خواہ مجدّد کامیاب ہو یا نہ ہو۔ مگر اپنے فرض کے ادا کرنے میں وہ ضرور کامیاب ہوگا۔ کیونکہ کامیابی حقیقت میں اس فرض سے بری الذمہ ہونے کا نام ہے جو موجودہ وقت میں اس پر عائد ہوتا ہے۔
مگر مجدّد کے دائرۂ عمل کے بعض صیغے اس قسم کے ہوتے ہیں، جن میں رکاوٹیں کم ہوتی ہیں، جیسے تعلیم، وعظ، تصنیف، تالیف ان میں ضرورتِ زمانہ کے مطابق اس کو اپنی محنت کا ثمرہ دیکھنا بسا اوقات نصیب ہوتا ہے۔ اس کے وعظ سے لوگ مستفید ہوتے ہیں۔ اس کی تعلیم سے دلوں کو تسکین ہوتی ہے۔ اس کی تصنیف دنیا کے لئے مشعلِ راہ کا کام دیتی ہے۔ اس کی صحبت سے دلوں میں تقویٰ کے آثار ظاہر ہوتے ہیں۔
تیسری قسم کی حکومت کے خلاف جد و جہد کی دو صورتیں ہیں۔
[1] ایک انفرادی بصورتِ وعظ و تعلیم، لوگوں کو انقلاب کے لئے تیار کرنا۔
[2] دوسری اجتماعی، جس میں نظم وضبط کی سخت ضرورت ہے۔ اور حالاتِ حاضرہ کے مطابق اس جماعت کا لائحہ عمل سختی و نرمی، اظہار و اخفاء میں مختلف ہوتا ہے۔ اس جماعت کی مخالفت منع ہے۔ اس کی اعانت حتی الامکان لازمی ہے۔ اور یہ جماعت انقلابی کہلاتی ہے۔
دوسری قسم کی حکومت میں انقلابی جماعت قائم کرنا منع ہے۔ اگر جماعت ہو تو اس کا دائرۂ عمل صرف امر بالمعروف ونہی عن المنکر کے حدود میں بدونِ تصادم و تمانع کے ہونا چاہئے۔ حکومت سے ٹکر لینا یا اپنی متوازی حکومت بنانا مقصد نہیں ہونا چاہئے۔
مودودی صاحب کہتے ہیں:
اسلامی سیاست کا اولین اصول یہ ہے کہ حکم دینے اور قانون بنانے کے اختیارات تمام انسانوں سے فرداً فرداً اور مجتمعاً سلب کر لئے جائیں، کسی شخص کا یہ حق تسلیم نہ کیا جائے کہ وہ حکم دے اور دوسرے اس کی اطاعت کریں۔ وہ قانون بنائے اور دوسرے اس کی پابندی کریں۔ اختیار صرف اللہ کو ہے۔
❀ [اِنِ الۡحُکۡمُ اِلَّا لِلّٰہِ ؕ اَمَرَ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّاۤ اِیَّاہُ ؕ ذٰلِکَ الدِّیۡنُ الۡقَیِّمُ]
حکم تو اللہ کے سوا کسی کا نہیں۔ اس کا فرمان ہے کہ اس کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو۔ یہی صحیح دین ہے۔ [سورۃ یوسف:40]
❀ [یَقُوۡلُوۡنَ ہَلۡ لَّنَا مِنَ الۡاَمۡرِ مِنۡ شَیۡءٍ ؕ قُلۡ اِنَّ الۡاَمۡرَ کُلَّہٗ لِلّٰہِ]
وہ پوچھتے ہیں کہ اختیارات میں ہمارا بھی کچھ حصہ ہے کہو کہ اختیارات تو سارے اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔ [سورۃ آل عمران:154]
❀ [وَ لَا تَقُوۡلُوۡا لِمَا تَصِفُ اَلۡسِنَتُکُمُ الۡکَذِبَ ہٰذَا حَلٰلٌ وَّ ہٰذَا حَرَامٌ]
اپنی زبان سے یونہی غلط نہ کہہ دیا کرو کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے۔ [سورۃ النحل:116]
❀ [وَ مَنۡ لَّمۡ یَحۡکُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوۡنَ]
جو کوئی خدا کی نازل کی ہوئی شریعت کے مطابق حکم عمل نہ کرے وہی دراصل ظالم ہیں۔ [سورۃ المائدۃ:45]
✿ اس نظریہ کے مطابق حاکمیت صرف اللہ کی ہے۔ قانون ساز صرف اللہ ہے۔ کوئی انسان خواہ وہ نبی ہی کیوں نہ ہو بذاتِ خود حکم دینے اور منع کرنے کا حقدار نہیں۔ (اسلام کا نظریہ سیاسی: ص 22)
ہم نے جو پہلے حکم کے اطلاقات کا ذکر کیا ہے۔ ان میں حکمِ تکوینی اور حکمِ شرعی تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ مختص ہیں۔ مگر حکمِ عقلی میں دوسرے کو بھی اجازت ہے۔ بشرطیکہ اللہ کے حکمِ شرعی کے متصادم نہ ہو۔
مودودی صاحب نے جن آیات سے استدلال کیا ہے۔ اس استدلال کرنے میں سقم یہ ہے۔ کئی آیات میں وہ حکم مراد نہیں جن کو آپ ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ مدعا تو یہ تھا کہ قانون ساز صرف اللہ ہے۔ اور قانون سازی میں جن پابندی کا ذکر ہوتا ہے وہ دنیوی مصلحت یا مفسدت کی بناء پر ہوتی ہے اور یہ حکم عقلی ہے۔ اس میں شرعاً صرف یہ پابندی ہے کہ یہ شریعت کے خلاف نہ ہو۔ اور آیاتِ مذکورہ بالا جو پیش کی گئی ہیں۔ یا تو حکمِ تکوینی کا ذکر ہے۔ جیسے یہ آیت ہے۔
❀ [اِنِ الۡحُکۡمُ اِلَّا لِلّٰہِ ؕ] حکم سوائے اللہ کے کسی اور کا نہیں۔
اور آیت،
❀ [ہَلۡ لَّنَا مِنَ الۡاَمۡرِ مِنۡ شَیۡءٍ] اختیارات میں ہمارا بھی کچھ ہے۔ [سورۃ آل عمران:154]
ان دونوں آیتوں میں حکم اور امر سے مراد حکمِ تکوینی ہے۔
تیسری آیت میں حلال و حرام کا ذکر ہے۔ اس میں حکمِ شرعی کی طرف اشارہ ہے۔ حکمِ شرعی کا یہ مطلب ہے کہ مکلف کو کسی خاص طریقہ کا پابند بنانا جس پر عمل کرنے کا طریقہ دنیا میں اللہ کی رضامندی اور آخرت میں ثواب اور عمل کرنے کا نتیجہ دنیا میں اللہ کی ناراضگی اور آخرت میں عقاب (عذاب) کی شکل و صورت میں ظاہر ہو گا۔ چوتھی آیت میں عدالتی حکم کا ذکر ہے۔ یعنی عدالت میں حکمِ شرعی کی مخالفت نہیں ہونی چاہیئے۔ اگر حکمِ شرعی ہو تو اس صورت میں شرعی حکم کے خلاف فیصلہ نہیں کرنا چاہیے۔
اگر شریعت میں حکم نہ ہو تو اس صورت میں رائے پر عمل ہو سکتا ہے۔ قرآن وسنت میں حکم کا ذکر نہ ہو تو انسان اپنی رائے سے حکم دے سکتا ہے۔
حکومتِ الٰہیہ کا قیام:
مودودی صاحب کا خیال ہے کہ انبیاء علیہم السلام کی بعثت کا مقصد حکومتِ الٰہیہ کا قیام ہے۔ اس کی بناء اس
منطقی ربط پر ہے، جو انہوں نے سمجھا ہے۔
انبیاء علیہم السلام کی بعثت کا اصل مقصد حقیقت میں یہ ہے کہ لوگوں کو جنت میں داخل ہونے اور دوزخ سے بچنے اور دیدارِ الٰہی سے مشرف ہونے کے اعمال وعقائد بتائے جائیں۔ ان اعمال کے دو حصے ہیں حقوق اللہ اور حقوق العباد۔ اور اسی کا نام دین ہے۔ حکومت کا قیام ان کے مقاصد میں داخل نہیں۔ بلکہ جیسے انسانی زندگی کے دیگر شعبوں میں ان کی وحی میں ہدایات ہوتی ہیں، حکومت کے متعلق بھی وہ چند اصلاحی باتیں پیش کرتے ہیں۔
حکومت چونکہ انسانی معاشرے کے لئے لازمی چیز ہے۔ اس واسطے راعی اور رعیت کے حقوق کا ایک واضح خطِ امتیاز کھینچ دیا گیا ہے۔ اور اس کے اعلیٰ مرتبہ سے لے کر ادنیٰ مرتبہ تک کے احکام بیان کئے گئے ہیں۔
انبیاء علیہم السلام کی بعثت کی غرض دنیا میں اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول اور آخرت میں ثواب کا ہونا بتایا گیا ہے۔ قرآن مجید میں ہے۔
❀ [یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَرۡسَلۡنٰکَ شَاہِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیۡرًا]،[وَّ دَاعِیًا اِلَی اللّٰہِ بِاِذۡنِہٖ وَ سِرَاجًا مُّنِیۡرًا]
اے نبی ہم نے تجھے گواہی دینے والا، خوش خبری سنانے والا، اور ڈرانے والا، اور اللہ کی طرف بلانے والا، اور روشن چراغ بنا کر بھیجا ہے۔ [سورۃ الاحزاب:45-46]
اس آیت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کے پانچ مقاصد بیان کئے گئے ہیں۔
[1] گواہی دینا۔
[2] خوشخبری دینا۔
[3] ڈرانا۔
[4] اللہ کی طرف بلانا۔
[5] روشنی دینا۔
دوسری جگہ فرمایا۔
❀ [ہُوَ الَّذِیۡ بَعَثَ فِی الۡاُمِّیّٖنَ رَسُوۡلًا مِّنۡہُمۡ یَتۡلُوۡا عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتِہٖ وَ یُزَکِّیۡہِمۡ وَ یُعَلِّمُہُمُ الۡکِتٰبَ وَ الۡحِکۡمَۃَ ٭ وَ اِنۡ کَانُوۡا مِنۡ قَبۡلُ لَفِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ]
اسی (اللہ) نے بھیجا امیوں میں رسول ان سے، جو پڑھتا ہے ان پر اس کی آیات اور ان کو پاک کرتا ہے اور ان کو کتاب وحکمت سکھاتا ہے۔ یقیناً وہ لوگ اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے۔ [سورۃ الجمعہ:2]
اس آیت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تین وظیفے بیان کئے گئے ہیں۔
[1] تلاوتِ آیات۔
[2] تزکیہ وتطہیر۔
[3] تعلیمِ کتاب وحکمت۔
حکومت کا قیام اگرچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا اصل مقصد نہیں، مگر اللہ تعالیٰ کو یہی منظور تھا، کہ اس دین کا ظہور حکومت کی صورت میں ہو، تا کہ تمام آباد متمدن دنیا میں آپ کی بعثت کی خبر جلد پہنچ جائے اور تمام دنیا پر حجت قائم کر دی جائے۔ اس واسطے آنحضرت کو ایسی قوم میں مبعوث فرمایا۔ جس میں فطرتاً کچھ ایسے خصائل موجود تھے، جو ملک گیری اور ملک داری کے لئے موزوں تھے۔ اور بعض موانع تھے، جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے اٹھ گئے۔ اور غیبی مدد بھی شامل حال ہوئی۔
اس لئے ایمان اور عملِ صالح (جو اصل میں حالاتِ موجودہ کی بنا پر حکومت کی علت کے لئے بمنزلہ اس جزوِ اخیر کے تھے، جس سے علت پوری ہو جاتی ہے) پر خلافت کا وعدہ دیا فرمایا۔
❀ [وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡکُمۡ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسۡتَخۡلِفَنَّہُمۡ فِی الۡاَرۡضِ کَمَا اسۡتَخۡلَفَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ]
اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو وعدہ دیا ہے جو ایمان لائے اور عملِ نیک کئے ان کو زمین میں خلیفہ بنائے گا جیسے ان لوگوں کو بنایا جو ان سے پہلے گزرے ہیں۔ [سورۃ النور:55]
ملک گیری کے لئے چند اسباب بیان کئے ہیں۔ (جن کے نہ ہونے سے مسلمانوں کو غزوۂ اُحد میں تکلیف پہنچی) کچھ مادی اور کچھ روحانی۔
مادّی اسباب:
[1] اتحاد و اتفاق: [وَ اعۡتَصِمُوۡا بِحَبۡلِ اللّٰہِ جَمِیۡعًا وَّ لَا تَفَرَّقُوۡا] اللہ کی رسی (قرآن) سب مل کر مضبوطی سے پکڑو اور دھڑے بندی (گروہ بندی) مت کرو۔ [سورۃ آل عمران:103]
[2] نزاع سے پرہیز: [وَ لَا تَنَازَعُوۡا] نزاع کرو یعنی آپس میں جھگڑا نہ کرو۔ [سورۃ الأنفال: 46]
[3] سستی نہ ہو: [وَ لَا تَہِنُوۡا] سستی نہ ہو۔ [سورۃ آل عمران: 139]
[4] جم کر لڑنا: [فَاثۡبُتُوۡا] جم کر لڑو۔ [سورۃ الأنفال: 45]
[5] امیر کی اطاعت: [وَ اُولِی الۡاَمۡرِ مِنۡکُمۡ] اپنے اُمراء کی اطاعت کرو۔ [سورۃ النساء، آیت: 59]
[6] مادی اسباب میں پوری تیاری کرو: [وَ اَعِدُّوۡا لَہُمۡ مَّا اسۡتَطَعۡتُمۡ مِّنۡ قُوَّۃٍ وَّ مِنۡ رِّبَاطِ الۡخَیۡلِ] ان (دشمنوں) کے لئے طاقت کے مطابق گھوڑے باندھنے اور دیگر امور (حربی آلات) کو تیار کرو۔ [سورۃ الأنفال، آیت: 60]
یہ اور اس قسم کے دیگر مادی اسباب اور ذرائع جن کی طرف قرآن نے توجہ دلائی ہے۔ قدرتی طور پر جیسے میں نے پہلے ذکر کیا ہے، عرب بلحاظِ استعدادِ علم وعمل کے اس وقت کی سب قوموں سے بہترین استعداد رکھتے تھے۔ کیونکہ علم کی بنیاد، زبان کی وسعت، حافظہ اور ذہن پر ہوتی ہے۔ اور عمل کی بنیاد اندرونی خوبیوں پر ہوتی ہے۔ جن کو شجاعت، شرافت، سخاوت، عفت وغیرہ کہتے ہیں۔ ان سب امور میں اس وقت کے عرب دیگر قوموں سے فائق تھے۔ جیسے حافظ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے بیان کیا ہے۔
روحانی اسباب:
تقویٰ، صبر واستقامت کا قرآن نے ذکر کیا ہے۔ فرمایا۔
❀ [اِنۡ تَصۡبِرُوۡا وَ تَتَّقُوۡا وَ یَاۡتُوۡکُمۡ مِّنۡ فَوۡرِہِمۡ ہٰذَا یُمۡدِدۡکُمۡ رَبُّکُمۡ بِخَمۡسَۃِ اٰلٰفٍ مِّنَ الۡمَلٰٓئِکَۃِ مُسَوِّمِیۡنَ]
اگر تم صبر کرو اور پرہیزگاری اختیار کرو اور یہ لوگ اپنے اس جوش وخروش سے آئیں تو تمہارا رب پانچ ہزار فرشتوں سے تمہاری مدد کرے گا۔ [سورۃ آل عمران:125]
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مادی اور روحانی اسباب کا اسلام کی ترقی کے موافق ہونا، ان سے چند مندرجہ ذیل ہیں۔
[1] عربوں میں کامیاب قوموں کے صفات کا ہونا۔
[2] ان کی خامیوں (بد اخلاقی، بے ایمانی، افتراق) کا بذریعہ اسلام بند وبست کر کے متحد ومتفق ایک دوسرے کا خیر خواہ بنا دینا۔
[3] اس وقت کی بڑی بڑی متمدن قوموں کا اپنے فرمودہ نظام سے اکتا جانا اور زندہ قوموں کے صفات کو کھو دینا۔
یہ اور اس قسم کے دیگر اسباب ظاہری اور باطنی اس وقت اس امت کے حق میں جمع ہو گئے تھے جو تائیدِ غیبی کے ساتھ مل کر اسلامی حکومت کے قیام کا سبب بنے۔
مودودی صاحب کی دعوت میں تبدیلی:
جب انقلاب 1947ء میں ملک دو حصوں میں تقسیم ہو گیا۔ اور پاکستان معرضِ وجود میں آ گیا۔ تو مودودی صاحب بھی دارالاسلام کو چھوڑ کر مغربی پاکستان میں پناہ گزین ہونے پر مجبور ہو گئے۔ تو پہلی دعوت میں یکایک تبدیلی ہو گئی۔ وہ غیر سائنٹیفک طریقہ، سائنٹیفک طریقہ میں تبدیل ہو گیا۔ اور سیاسی کشمکش میں جو کچھ کہا تھا۔ اور اس طریقہ جاری کردہ کو غیر طریقہ انبیاء علیہم السلام کا قرار دیا تھا۔ وہ سب حرفِ غلط کی طرح عمل میں مٹ گیا۔ اور عمل کی طرح اسی طریقہ پر ڈالی جس پر ان سائنٹیفک ہونے کا حکم لگا چکے تھے جس انتخاب کو شجرِ ممنوعہ قرار دے چکے تھے۔ اسی کے پھل سے… اپنے مسلک کی حیات کو وابستہ کر دیا۔
اب ان کے طریقِ کار میں دوسری پارٹیوں کے حربے ہی کارگر ہیں۔ یعنی دوسری جماعتوں کے فیل کرنے اور کامیاب ہونے کے لئے ان کے عیوب اور اپنے فضائل بیان کرنا اور اپنے کمالات دکھانا، مگر عیوب اور فضائل نمایاں کرنے میں زیادہ تر شریعت اور دین سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے سادہ لوح جو حقیقت تک نہیں پہنچ سکتے۔ ان کے پروپیگنڈہ سے متاثر ہو کر ان کے دامِ تزویر میں آ گئے ہیں۔
مگر مودودی صاحب ابھی تک دو طریقوں کے دوراہے پر کھڑے ہیں۔ جس طریقہ کو بادل نخواستہ اختیار کر چکے ہیں۔ اس سے بھی مطمئن نہیں۔ چنانچہ ترجمان میں فرماتے ہیں۔ واضح طور پر سمجھ لیجئے کہ میاں اسلامی نظام کا قیام دو طریقوں سے ممکن ہے۔
ایک یہ کہ جن لوگوں کے ہاتھ میں اس وقت زمامِ کار ہے وہ اسلام کے معاملہ میں اتنے مخلص اور اپنے وعدوں کے بارے میں جو انہوں نے اپنی قوم سے کئے تھے۔ اتنے صادق ہوں کہ اسلامی حکومت قائم کرنے کی جو اہمیت ان کے اندر مقصود ہے، اسے خود محسوس کر لیں۔ کہ پاکستان حاصل کرنے کے بعد ان کا کام ختم ہو گیا ہے اور یہ کہ اب یہاں اسلامی نظام تعمیر کرنا ان لوگوں کا کام ہے۔ جو اس کے اہل ہوں۔ اس صورت میں مقصود و طریقِ کار یہ ہے کہ پہلے ہماری دستور ساز اسمبلی ان بنیادی امور کا اعلان کرے جو ایک غیر اسلامی نظام کو اسلامی نظام میں تبدیل کرنے کے لئے اصولاً ضروری ہیں۔ (جس کو ہم نے اپنے مطالبہ میں بیان کر دیا ہے) پھر وہ اسلام کا علم رکھنے والے لوگوں کو دستور سازی کے کام میں شریک کرے اور ان کی مدد سے ایک مناسب ترین دستور بنائے۔ پھر نئے انتخابات ہوں۔ اور قوم کو موقع دیا جائے کہ وہ زمامِ کار سنبھالنے کے لئے ایسے لوگوں کو منتخب کرے جو اس کی نگاہ میں اسلامی نظام کی تعمیر کے لئے اہل ترین ہوں۔ اس طرح صحیح جمہوری طریقہ پر اختیارات اہل ہاتھوں میں منتقل ہو جائیں گے۔ اور وہ حکومت کی طاقت اور ذرائع سے کام لے کر پورے نظامِ زندگی کی تعمیر جدید اسلامی طرز پر کر سکیں گے۔
دوسرا طریقہ یہ ہے کہ معاشرے کو جڑ سے ٹھیک کرنے کی کوشش کی جائے اور ایک عمومی تحریکِ اصلاح کے ذریعے سے اس میں خالص اسلامی شعور و ارادہ کو بتدریج اس حد تک نشو و نما دیا جائے۔ کہ جب وہ اپنی پختگی کو پہنچے تو خود اس سے ایک مکمل اسلامی نظام وجود میں آ جائے۔
ہم اس وقت پہلے طریقے کو آزما رہے ہیں۔ اگر اس میں ہم کامیاب ہو گئے تو اس کے معنی یہ ہونگے کہ پاکستان کے قیام کے لئے ہماری قوم نے جو جد و جہد کی تھی۔ وہ لا حاصل نہ تھی۔ بلکہ اس کی بدولت اسلامی نظام کے نصب العین تک پہنچنے کے لئے ایک سہل ترین اور قریب ترین راستہ ہاتھ آ گیا۔ لیکن اگر خدا نخواستہ ہمیں اس میں ناکامی ہو، اور اس ملک میں غیر اسلامی ریاست قائم کر دیں۔ تو یہ مسلمانوں کی ان تمام محنتوں اور قربانیوں کا صریح ضیاع ہو گا۔ جو قیامِ پاکستان کی راہ میں انہوں نے کیں۔ اور اس کے یہ معنی ہوں گے کہ ہم پاکستان بننے کے بعد بھی اسلامی نقطۂ نظر سے اسی مقام پر ہیں جہاں پہلے تھے۔ اس صورت میں ہم پھر دوسرے طریقہ پر کام شروع کر دیں گے۔ جس طرح پاکستان بننے سے پہلے کر رہے تھے۔ (ترجمان القرآن ستمبر 48ء)
اس مضمون سے صاف ظاہر ہے کہ مودودی صاحب جس طریقہ کار کو آزما رہے ہیں۔ اس پر وہ ہمیشہ اڑے رہنے پر مصر نہیں۔ بلکہ جب غیر اسلامی ریاست کے قیام کی صورت سامنے آئے گی۔ اس وقت اس کو چھوڑ کر پہلا طریقہ (جو ان کے نزدیک کامیابی کے ساتھ ایک منطقی ربط رکھتا ہے اور انبیاء علیہم السلام کا ہے) اختیار کریں گے۔