اجتہاد، سنت اور رسول اللہ ﷺ و صحابہ کے طریقے پر عمل کے احکامات

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

فیصلہ کرنے میں اجتہاد کرنا

① سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا حكم الحاكم فاجتهد ثم أصاب فله أجران، وإذا حكم فاجتهد ثم أخطأ فله أجر
”جب قاضی فیصلہ کرتے وقت اجتہاد اور پوری کوشش کرتا ہے اور درست فیصلہ کرتا ہے تو اس کے لیے دو اجر ہیں۔ اور جب وہ (اجتہاد کے باوجود) کوئی غلط فیصلہ کر بیٹھتا ہے تو بھی اس کے لیے ایک اجر ہے۔“
بخاری، کتاب الاعتصام بالکتاب والسنة، حدیث 7352، مسلم، کتاب الاقضیة، حدیث 1716/15۔

سنت کے مطابق عمل کرنے کے متعلق احکامات

① سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من أكل طيبا وعمل فى سنة وأمن الناس بوائقه دخل الجنة
”جو شخص حلال کھائے، سنت کے مطابق عمل کرے اور لوگوں کو اپنے شر سے بچائے تو وہ جنتی ہے۔“
ایک آدمی نے عرض کیا: اللہ کے رسول! موجودہ دور میں تو پھر ایسے بہت سے لوگ ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
وسيكون فى قرون بعدي
”میرے بعد کے دور میں ہوں گے ؟“
ترمذی، حدیث 2520، روایت ضعیف ہے، اس میں ابو بشر صاحب ابی وائل مجہول ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے طریقے پر عمل کرنے کے احکامات

① سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ليأتين على أمتي ما أتى على بني إسرائيل حذو النعل بالنعل حتى إن كان منهم من أتى أمه علانية لكان فى أمتي من يصنع ذلك، وإن بني إسرائيل تفرقت على ثنتين وسبعين ملة، وستفترق أمتي على ثلاث وسبعين ملة كلهم فى النار إلا ملة واحدة
”میری امت پر بھی وہ حالات آئیں گے جو بنی اسرائیل پر آئے تھے۔ وہ آپس میں اس قدر برابر ہوں گے جیسے جوتا جوتے کے برابر ہوتا ہے۔ حتیٰ کہ اگر ان میں سے کسی نے اعلانیہ طور پر اپنی ماں سے برا تعلق قائم کیا ہوگا تو میری امت میں بھی ایسا شخص ہوگا جو اس طرح کرے گا۔ اور بنی اسرائیل بہتر فرقوں میں تقسیم ہوئے اور میری امت تہتر فرقوں میں تقسیم ہوگی، ایک کے سوا سب جہنم میں جائیں گے۔“
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: وہ کون سا گروہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من كان على ما أنا عليه وأصحابي
”جس کا عمل میرے اور میرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے عمل کے مطابق ہوگا۔“
ابوداؤد، کتاب السنة 4597 عكن معاويه رضی اللہ عنہ ۔ ترمذی، کتاب الایمان، حدیث 2641۔