مضمون کے اہم نکات
کیا نبی ﷺموسیقی سے لطف اندوز ہوتے تھے؟
کہنے کو تو انہوں نے یہ بات کہی ہے کہ: بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ماہرِ فن مغنی اور مغنیات، رقاص اور رقاصائیں عرب میں موجود تھیں اور نبی ﷺان کے فن سے لطف اندوز ہونے کو معیوب نہیں سمجھتے تھے۔ (اشراق:ص33 جنوری2004ء)
وہ ،،بعض روایات،، کون سی اور کیسی ہیں اور ان سے استدلال کی نوعیت کیا ہے؟ اس پر ہم پہلے بحث کر چکے ہیں اور آئندہ بھی اشراق کے ایرادات پر اپنی گزارشات قارئینِ کرام کی خدمت میں پیش کریں گے ان شاء اللہ۔ لیکن ان مباحث سے پہلے یہ دیکھیے کہ اس بارے میں خود آپ ﷺ کا کوئی ارشاد ہے یا نہیں؟ جی ہاں! اس کے متعلق حدیث اور سیّر کی کتابوں میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: اہلِ جاہلیت جن باتوں کا اہتمام کرتے تھے، میں نے انہیں دیکھنے کا صرف دو بار ارادہ کیا مگر دونوں بار اللہ تعالیٰ نے مجھے اس سے محفوظ رکھا۔ ایک بار مکہ کے بالائی علاقے میں قریشی نوجوان کے ساتھ بکریاں چرا رہا تھا کہ میں نے اسے کہا: آج رات تم بکریوں کی نگرانی کرو، میں رات مکہ مکرمہ میں نوجوانوں کی طرح قصہ گوئی کی محفل میں شرکت کر لوں۔ اس نے کہا ٹھیک ہے۔ اس کے بعد میں وہاں سے نکلا ابھی مکہ کے پہلے ہی گھر کے پاس پہنچا تھا کہ میں نے گانے بجانے اور مزامیر کی آواز سنی، میں نے پوچھا یہ کیا ہو رہا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ فلاں کی فلاں عورت سے شادی ہو رہی ہے۔ میں اسے سننے بیٹھ گیا۔ اللہ نے میرے کان بند کر دیے اور نیند کے غلبہ کی وجہ سے میں ایسا سویا کہ سورج کی تپش ہی سے میری آنکھ کھلی، اور میں اپنے ساتھی کے پاس واپس چلا گیا۔ اس کے بعد ایک رات پھر میں نے یہی بات کہی اور حسبِ سابق مکہ پہنچا، اس رات بھی وہی واقعہ پیش آیا جو پہلے پیش آ چکا تھا کہ میں سورج طلوع ہونے تک سویا رہا، پھر میں وہاں سے واپس آ گیا، اللہ کی قسم! اس کے بعد میں نے اہلِ جاہلیت جو کچھ کرتے تھے اس کا کبھی تصور بھی نہیں کیا تا آنکہ اللہ نے مجھے نبوت سے سرفراز فرمایا۔
یہ روایت [صحیح ابن حبان الاحسان: ص 56 ج 8]،[الموارد:ص 515، رقم: 2100]،[البحر الزخار:ص 241 ج 2]،[دلائل النبوۃ:ص33 ج2]،[المستدرک:ص245 ج4]،[التاریخ الکبیر:ص 130 ج 1]،[المطالب العالیہ:رقم 4212] میں مختصر اور مطول طور پر منقول ہے۔ امام ابن حبان رحمہ اللہ کا اسے اپنی الصحیح میں ذکر کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ روایت ان کے ہاں حسن صحیح ہے۔ امام حاکم رحمہ اللہ نے اسے شرطِ مسلم پر صحیح کہا ہے اور علامہ ذہبی رحمہ اللہ نے تلخیص المستدرک میں ان کی موافقت کی ہے۔ لیکن شرطِ مسلم پر اسے قرار دینا محلِ نظر ہے۔ علامہ ہیثمی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ اس کے راوی ثقہ ہیں: رجاله ثقات (المجمع: ص226 ج8)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے المطالب العالیہ میں فرمایا ہے: [هو حديث حسن متصل ورجاله ثقات] یہ حدیث حسن متصل ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں۔
علامہ سیوطی رحمہ اللہ نے [الخصائص الکبریٰ:ص219 ج1] میں اور علامہ محمد یوسف الشامی رحمہ اللہ نے [سبل الہدیٰ:ص 148ج2] میں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ سے اس کی تحسین نقل کی ہے اور علامہ البوصیری رحمہ اللہ نے بھی [اتحاف الخیرہ :ص 75 ج 7] میں وہی الفاظ کہے ہیں جو حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کے ہیں، یہی روایت امام ابن جریر طبری رحمہ اللہ نے [التاریخ:ص 196 ج 2] میں اور امام ابو نعیم رحمہ اللہ نے [دلائل النبوۃ: ص143] میں بھی ذکر کی ہے۔ علامہ البانی رحمہ اللہ نے سند کے ایک راوی محمد بن عبداللہ بن قیس کی وجہ سے اس پر کلام کیا ہے کہ وہ مشہور نہیں صرف ابن حبان رحمہ اللہ ہی نے ثقات میں ذکر کیا ہے۔ مگر اس اعتراض میں کوئی وزن نہیں، دو سے زائد ثقہ راوی اس سے روایت کرتے ہیں۔ ابن حبان کے علاوہ امام حاکم رحمہ اللہ اور ذہبی رحمہ اللہ کا اس روایت کو صحیح کہنا محمد بن عبداللہ کے صدوق ہونے کی دلیل ہے۔ تقریب التہذیب میں حافظ ابن حجر کا اسے مقبول کہنا صرف التہذیب میں منقول اقوال کی روشنی میں ہے۔ اس لئے تقریب اور المطالب العالیہ میں محمد بن عبداللہ پر ان کے کلام میں جو بظاہر تعارض بعض حضرات کو محسوس ہوا وہ بھی درست نہیں، ہم اس حوالے سے اس بحث کو طول دینا مناسب نہیں سمجھتے ، ضرورت محسوس ہوئی تو اس بارے میں اپنی معروضات قارئین کرام کی خدمت میں پیش کر دیں گے۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اس حسن روایت سے یہ بات نصف النہار کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ آپ ﷺ کو منصبِ نبوت سے سرفراز فرمانے سے پہلے اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے آپ کو غنا ومزامیر کی مجلس سے ’لطف اندوز‘ ہونے سے محفوظ رکھا، اور آپ نے یہ وضاحت بھی فرما دی کہ اللہ کی قسم! اس کے بعد کبھی ان کے سننے کا ارادہ نہیں کیا۔ مگر جناب جاوید احمد غامدی صاحب اور اربابِ اشراق فرماتے ہیں: کہ آپ ایسی مجلسوں اور محفلوں سے لطف اندوز ہونے کو معیوب نہیں سمجھتے تھے۔ معاذ الله، كبرت كلمة تخرج من أفواههم
اب آیئے اشراق کی اس تنقید کا مختصراً جائزہ قارئین کرام کی خدمت میں پیش کرتے ہیں۔
عید پر موسیقی:
اسی عنوان کے تحت اشراق نے [بخاری: 952] سے موسیقی کے جواز پر استدلال کیا کہ عید کے دن حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں دو جاریہ گیت گا رہی تھیں، اسی اثنا میں نبی کریم ﷺ تشریف لائے، اپنا رخ دوسری جانب کر کے بستر پر درازہو گئے پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو سرزنش کرتے ہوئے فرمایا: کہ نبیﷺ کے سامنے یہ شیطانی ساز کیوں بجائے جا رہے ہیں؟ یہ سن کر نبی کریم ﷺ نے فرمایا: کہ انہیں کرنے دو۔ جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ دوسرے کام میں مشغول ہوئے تو سیدہ رضی اللہ عنہا نے ان گانے والیوں کو جانے کا اشارہ کیا اور وہ چلی گئیں۔
اشراق کا استدلال اس پر تھا کہ حدیث میں جاریتان کا لفظ آیا ہے جس کے معنی لونڈیاں ہیں اور وہ گانے والی لونڈیاں ماہرِ فن مغنیہ تھیں کیوں کہ ایک روایت میں [جاریتان] کی بجائے [قینتان] کا لفظ آیا ہے اور قینہ کے معروف معنی پیشہ ور مغنیہ ہیں۔
[ليستا بمغنيتين] کا جملہ جس کے جواب میں عرض کیا گیا تھا کہ صحیح بخاری ہی میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی یہ وضاحت موجود ہے کہ [قالت:ولیستا بمغنيتین] انہوں نے فرمایا: کہ وہ دونوں مغنیہ نہ تھیں۔ اس لئے جاریہ یا قینہ کے معنی یہاں ماہرِ فن مغنیہ کرنا قطعاً درست نہیں۔ جس کے جواب میں اشراق نے لکھا ہے:اس جملے کے بارے میں ہمارا نقطۂ نظر یہ ہے کہ یہ در حقیقت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا قول ہی نہیں ہے۔ یہ بعد کے راویوں کا اپنا قیاس ہے جسے انہوں نے متن میں شامل کر دیا ہے۔ (اشراق: ص 30، مارچ 2006ء)
اس دعویٰ کے لئے انہوں نے اپنے معاون، مدیر الشریعہ اور المورد جناب عمار خان صاحب ناصر کی تحقیق سے استفادہ کرتے ہوئے جو کچھ لکھا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ عروہ بن زبیر کے چار شاگرد جو اس روایت کو بیان کرتے ہیں ان میں سے صرف ایک شاگرد ہشام بن عروہ اس لفظ [لیستا بمغنيتین] کو بیان کرتا ہے اور ہشام سے بھی ان کے ایک شاگرد ابو اسامہ ہی اس جملے کو بیان کرتے ہیں اصولِ روایت کی رو سے یہ بات بعید از قیاس ہے کہ استاد کے تمام شاگردوں میں سے صرف ایک کو ہی یہ جملہ یاد رہا ہو۔ اس لئے یہ جملہ اصل روایت کا حصہ نہیں اور نہ اسے ام المؤمنین کی طرف منسوب کیا جا سکتا ہے۔ (اشراق: ص 30، 31، مارچ 2006ء)
بڑے ہی افسوس بلکہ تعجب کی بات ہے کہ راوی بالصراحت بیان کرتا ہے: [قالت:وليستا بمغنيتين] کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کہ وہ دونوں پیشہ ور مغنیہ نہ تھیں۔ مگر اربابِ اشراق کو [قالت] کا لفظ شاید نظر نہیں آیا، بالکل اسی طرح جس طرح اس سے پہلے انہیں یہ جملہ سرے سے نظر ہی نہیں آیا اور [قينة] کا لفظ نظر آ گیا۔ تبھی تو فرمایا جا رہا ہے کہ یہ در حقیقت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا قول ہی نہیں، یہ بعد کے راوی کا اپنا قیاس ہے۔ آپ صاف طور کیوں نہیں کہہ دیتے: کہ عروہ نے یا ہشام نے یا ابواسامہ نے قالت کہنے میں غلط بیانی سے کام لیا ہے، تھا تو یہ اس کا اپنا قول و قیاس اور نسبت کر دی حضرت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف۔ سبحان اللہ
یہ الفاظ مسند یا سنن و معاجم کی کسی کتاب کے نہیں، ہم عرض کر چکے ہیں کہ یہ الفاظ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کے ہیں۔ اربابِ اشراق کو یہ الفاظ گوارا نہیں اس لئے انہوں نے اس کی صحت کے انکار کا بیڑا اٹھایا۔ ان سے پہلے ان الفاظ کی صحت کا انکار کسی بھی صاحبِ علم سے ثابت نہیں۔ ہم شکر گزار ہوں گے اگر وہ اپنی تائید میں ائمۂ فن میں سے کسی ایک کا قول پیش کریں، ان کی یہ کوشش یقیناً ہمارے علم میں اضافہ کا باعث ہو گی۔ جو حضرات امتِ اسلامیہ کے بالکل برعکس مصادرِ شریعت کو بدل دینے کی رائے رکھتے ہوں ان سے اس قسم کی جسارت قطعاً غیر متوقع نہیں، اور صحیح بخاری و صحیح مسلم کی متفق علیہ حدیث پر ایسا خود ساختہ اعتراض بالکل ناممکن نہیں۔
جس وہم میں اربابِ اشراق مبتلا ہیں کہ ”یہ بعد کے راوی کا اپنا قیاس ہے“ اس وہم کے ازالہ کے لئے ہی تو راوی نے قالت کی پہلے ہی صراحت کر دی کہ یہ کسی راوی کا نہیں خود حضرت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا اپنا ارشاد ہے۔ راوی نے تو اس وہم سے بچایا اور تمام اہل علم اس وہم میں مبتلا ہونے سے بحمدللہ محفوظ رہے، مگر افسوس کہ اربابِ اشراق اس کے باوجود اس وہم میں مبتلا ہیں، اگر یہ امر واقع نہیں تو آپ فرمائیے کہ یہ جملہ ہوشیار راوی نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف منسوب کر دیا ان کا فرمودہ نہیں تھا، یوں راوی کی عدالت پرحرف گیری کیجئے اور میدان میں آیئے، اور بتلایئے کہ عروہ یا ہشام یا ابواسامہ ایسا ویسا راوی تھا۔ جس نے اپنی بات غلط طور پر سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی طرف منسوب کر دی۔
ہشام بن عروہ پر بحث:
کسی راوی کی عدالت پر اس حیثیت سے نقد تو اربابِ اشراق نہ کر سکے مگر تہذیب کے حوالہ سے فرمایا: کہ ہشام عراق جانے کے بعد غیر محتاط ہو گئے تھے۔ اور امام حاکم نے (معرفۃ علوم الحدیث:ص 105) میں ان کا اپنا اعتراف نقل کیا ہے کہ میں نے اپنے والد سے صرف ایک روایت سنی ہے باقی تمام روایات میں نے نہیں سنیں۔ بلکہ اس کے ساتھ یہ نادر تحقیق بھی ذکر کر دی کہ یہ روایت ان سے شعبہ، حماد بن سلمہ، معمر، ابو معاویہ، عبداللہ بن نمیر اور ابواسامہ نے نقل کی ہے جو سب اہل عراق میں سے ہیں۔ (اشراق:ص20، 21۔ اپریل2006ء)
بلاشبہ امام یعقوب بن شیبہ نے فرمایا ہے کہ عراق جانے کے بعد وہ اپنے والد سے روایات نقل کرنے میں غیر محتاط ہو گئے تھے۔ لیکن عراق سے مراد کیا اقلیم عراق ہے یا کوفہ؟ (تہذیب:ص 50، ج11) ہی میں یہ تفصیل موجود ہے کہ کوفہ میں ہشام تین مرتبہ آئے اور معتنن روایات وہ دوسری اور تیسری بار آمد پر بیان کرنے لگے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا گیا کہ محرم مچھر مار سکتا ہے یا نہیں؟ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اہل عراق مچھر کے بارے میں پوچھتے ہیں اور رسول اللہﷺ کے نواسے کو شہید کرتے ہیں۔ (بخاری:3753) ظاہر ہے کہ یہاں عراق سے مراد کوفہ ہے پورا اقلیم عراق نہیں۔ عراق اور عراقی روایات کے بارے میں جس قدر آثار واقوال ہیں ان میں سے اکثر وبیشتر مراد یہی الکوفہ ہے پورا اقلیم عراق نہیں۔ بلکہ ہم نے عرض کیا کہ ہشام بن عروہ کے بارے میں یہ اعتراض کوفہ میں دوسری اور تیسری بار آمد سے متعلق ہے۔ اس لئے اسے پورے اقلیم عراق سے نتھی کرنا درست نہیں، ہشام سے روایت کرنے والوں کی فہرست میں حماد بن سلمہ اور معمر دونوں بصری شاگرد ہیں کوفی قطعاً نہیں، اس لئے ہشام کی روایت کو ضعیف قرار دینے کی کوشش قابلِ التفات نہیں۔ اسی طرح (معرفۃ علوم الحدیث للحاکم: ص105) کےحوالے سے ہشام کا یہ قول کہ میں نے اپنے والد سے صرف ایک حدیث سنی ہے اور اسی بنا پر یہ فرمایا کہ ہشام کی روایت کو یقینی طور پر متصل قرار نہیں دیا جا سکتا۔ (اشراق:ص61۔ اپریل2006ء)
اس سلسلے میں اولاً ہماری گزارش یہ ہے کہ امام حاکم نے یہ قول [محمد بن صالح الہاشمی ثنا أبو جعفر المستعینی ثنا علی بن عبد اللہ المدینی قال: قال أبی: وسمعت یحیی یقول کان ہشام] کی سند سے ذکر کیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ سند میں علی بن عبد اللہ المدینی کون سا راوی ہے؟ اگر اس سے مراد معروف امام علی بن عبد اللہ بن جعفر المدینی ہیں، جو معروف امام ہیں تو ان کے والد ضعیف ہیں (تقریب: ص260) معرفۃ علوم الحدیث کے حاشیہ میں بعض نسخوں سے نقل کیا ہے کہ یہ علی بن عبد اللہ بن علی بن المدینی ہے، لیکن یہ علی بن عبد اللہ بن علی اور اس کا والد کون ہیں اور ان کو کس نے ثقہ کہا ہے؟ ایک احتمال یہ ہے کہ صحیح عبد اللہ بن علی بن عبد اللہ المدینی ہے، جو امام علی ابن المدینی کے صاحبزادے ہیں اور اپنے والد کے اقوال ذکر کرتے ہیں، مگر عبد اللہ بن علی کی توثیق وتعدیل تتبعِ بسیار کے باوجود نہیں ملی۔ یہی بات علامہ البانی رحمہ اللہ نے (الارواء:ص93 ج6)،(معجم اسامی الرواۃ: ص241 ج2) میں کہی ہے۔ اسی طرح ابو جعفر المستعینی کا ترجمہ بھی ہمیں نہیں ملا۔ [ولعل الله يحدث بعد ذلك أمراً]
اس قول کے غلط ہونے کی یہ بات بھی برہانِ قاطع ہے کہ یہ روایت بخاری اور مسلم کی ہے بلکہ شیخین نے تقریباً تین سو روایات ہشام بن عروہ کی سند سے ذکر کی ہیں۔ کیا اس قول کی بنا پر سمجھ لیا جائے کہ یہ سب روایات یقینی طور پر متصل نہیں ہیں۔ صحیحین میں تو مدلسین کا عنعن محمول علی السماع قرار دیا گیا ہے۔ مگر ہشام کی یہ روایت غیر متصل ہے، سبحان اللہ۔ اس قول کے غلط ہونے کی اس سے بڑھ کر اور کیا دلیل ہو سکتی ہے کہ بخاری شریف میں ہشام أخبرنی أبی، ہشام حدثنی أبی، ہشام سمعت أبی کی سند سے جس میں تصریح بسماع ہے، روایات موجود ہیں۔ ملاحظہ ہوں، حدیث 43، 293، 325، 347، 584، 951، 890، 998، 1148، 1786، 1727، 1928، 1942، 1954، 1996 وغیرہ، یہ ابتدائی دو ہزار احادیث میں چودہ احادیث ہیں جن میں ہشام اپنے باپ سے سماع کی صراحت کرتے ہیں۔ صحیح بخاری، مسلم اور مسانید وسنن وغیرہ کی روایات میں تصریحِ سماع اس پر مستزاد ہے۔ لیکن افسوس کہ ادارۂ اشراق اپنے غلط موقف کے لئے ایک ایسے قول کا سہارا لینے پر ادھار کھائے بیٹھا ہے جس کی اپنی سند محلِ نظر ہے اور اس کا نتیجہ بھی بالکل غلط اور حقائق کے منافی ہے۔
مزید برآں یہ بھی دیکھیے کہ صحیح بخاری کی یہ حدیث جو عبید اللہ بن إسماعيل عن أبي أسامة عن هشام عن عروة کی سند سے مروی ہے۔ تنہا یہی روایت اس سند سے منقول نہیں بلکہ اس کے علاوہ تیرہ احادیث اور بھی ہیں جو من وعن اسی سند سے مروی ہیں۔ ملاحظہ ہو: تحفۃ الاشراف (ص 129۔135 ج 14) ادارۂ اشراق تو اپنی جرأتِ رندانہ کے تحت کہہ سکتا ہے کہ یہ سب یقینی طور پر متصل نہیں، اور یہ بھی عراقی کوفی شاگرد حماد بن اسامہ ابو اسامہ سے مروی ہیں، اس لئے یہ سب متصل نہیں ہیں، لیکن حدیث کا ذوقِ سلیم رکھنے والا کوئی طالبِ علم یہ بات نہیں کہہ سکتا۔
چلیے ہم فرض کرتے ہیں کہ آخری دور میں عراق جانے کے بعد ہشام بن عروہ غیر محتاط ہو گئے تھے، لیکن کیا دلیل ہے کہ یہ روایت ہشام نے اسی غیر محتاط دور میں بیان کی تھی؟ تہذیب التہذیب کے حوالہ سے ہشام کے اس غیر محتاط دور کا ذکر تو اربابِ اشراق نے کر دیا مگر اسی تہذیب میں یہ صراحت بھی ہے کہ اس دور میں ہشام سے وکیع، ابن نمیر اور محاضر نے سنا ہے۔ چناں چہ اس کے الفاظ ہیں: [سمع منه بآخره وكيع وابن نمير ومحاضر] (التہذیب: ص50 ج11)
بتلائیے کہ امانت و دیانت کی یہ کیا معراج ہوئی کہ اپنے موقف کی تائید میں ہشام کی روایت کو ضعیف قرار دینے کے لئے ایک بات تو نقل کر دی جائے اور جس سے اس کی کمزوری کا ازالہ ہوتا ہو اسے نظر انداز کر دیا جائے۔ صحیح بخاری اور مسلم میں جب یہ روایت وکیع، ابن نمیر اور محاضر کے علاوہ ہشام کے دیگر متقدمین تلامذہ سے مروی ہے تو ہشام کی روایت کو اس اعتراض کی بنا پر غیر متصل قرار دینا قطعاً قرینِ انصاف نہیں۔
محدثین کے ہاں یہ بات تقریباً طے شدہ ہے کہ صحیحین میں مدلسین کی معنعن روایات محمول علی السماع ہیں اور مختلطین کی روایات قبل از اختلاط مروی ہیں۔ اگر کہیں ایسے راوی سے روایات لی ہیں تو دیگر شواہد کی تائید کی بنا پر لی ہیں، کیوں کہ شیخین کا اس حوالے سے تتبع معروف ہے۔ کجا ائمۂ حدیث کا یہ فیصلہ اور کجا ادارۂ اشراق کا ہشام عن عروۃ کے بارے میں ایک روایت کے علاوہ باقی روایات کو غیر متصل قرار دینا اور فرمانا کہ عراق جانے کے بعد ہشام کی روایات کو اکابر محدثین تسلیم نہیں کرتے۔ (اشراق: ص60، اپریل2006ء) غور فرمائیے کہ اگر اکابر محدثین کی یہی رائے تھی تو کیا اصحابِ الصحاح عراقی تلامذہ سے ہشام کی روایات کو اپنی کتابوں میں ذکر کرتے؟ اور ائمۂ فن ان روایات کو صحیح قرار دیتے؟ ہمیں بتلایا جائے کہ وہ کون سے اکابر محدثین ہیں جنہوں نے صحیحین میں ہشام عن عروہ کی روایات کو غیر متصل قرار دیا ہے؟ بلکہ حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے تو یہاں تک فرما دیا ہے کہ: [في حديث العراقيين عن هشام أوهام تحتمل] ہشام سے عراقیوں کی حدیث میں اوہام محتمل ہیں۔ (السير: ص46 ج6)
لہٰذا علیٰ الاطلاق ہشام سے عراقیوں کی روایات پر کلام کرنا درست نہیں۔
ادارۂ اشراق کا نیا اصول
اسی بحث کے ضمن میں ادارۂ اشراق نے ایک اور خود ساختہ اصول بھی یہاں ذکر کیا کہ اس روایت میں عروہ سے ابو الاسود کی روایت تو زیادہ مضبوط ہے کیوں کہ ان سے صرف ایک راوی عمرو بن الحارث اسے نقل کرتے ہیں اور عمرو سے ان کے ایک ہی شاگرد عبد اللہ بن وہب روایت کرتے ہیں اور راویوں کے محدود ہونے کے باعث متن مختلف راویوں کے تصرفات سے محفوظ رہا۔ اس کے برعکس ابن شہاب اور ہشام بن عروہ سے ان کے متعدد شاگردوں نے اس متن کو نقل کیا ہے۔ جس کی وجہ سے متن میں راویوں کے شخصی رجحانات کا اثر نمایاں ہے۔ جیسے صحیح ابن حبان میں ابن شہاب سے اسحاق بن راشد نے متن میں یہ الفاظ داخل کئے ہیں: [فسبهما وخرق دفيهما] یا جیسے ابو اسامہ نے [قالت: وليستا بمغنيتين] کا اضافہ ہشام کی روایت میں کیا ہے۔ (اشراق: ص61-62)
ایک حدیث کا متن مختلف راویوں سے مروی ہو تو قاعدہ یہ ہے کہ تمام ثقہ راویوں کی بیان کردہ روایت کو ملایا جاتا ہے اور مختلف اجزا کو جمع کر کے ایک مکمل روایت کو معین کیا جاتا ہے، بشرطیکہ ثقہ کا بیان کیا ہوا کوئی جملہ یا حصہ شاذ نہ ہو۔ اس بحث میں حصہ لینے والے اشراق کے مقالہ نگار جناب محترم عمار خان صاحب اپنے داداجان ہی سے دریافت فرما لیتے کہ ثقہ کی زیادتی کا کیا حکم ہے تو وہ اس قدر طول بیانی بلکہ لن ترانی میں اپنا وقت ضائع نہ کرتے۔ چناں چہ مولانا سرفراز صاحب صفدر نقل فرماتے ہیں کہ زیادتیِ ثقہ کی بالاتفاقِ جملہ محدثین صحیح و معتبر ہے۔ (احسن الکلام: ص194 ج1)
مولانا انور شاہ کشمیری فرماتے ہیں:
[اعلم أن الحديث لم يجمع إلا قطعة قطعة فتكون قطعة منه عند واحد وقطعة أخرى عند واحد فليجمع طرقه وليعمل بالقدر المشترك ولا يجعل كل قطعة منه حديثا مستقلا]
اور خوب جان لو کہ حدیث کو ٹکڑوں کی صورت میں جمع کیا گیا ہے۔ پس ایک ٹکڑا ایک راوی کے پاس، اور دوسرا دوسرے راوی کے پاس ہوتا ہے، لہٰذا چاہیے کہ حدیث کی تمام سندیں (اور متون) جمع کر کے قدرِ مشترک پر عمل کیا جائے اور ہر ٹکڑے کو مستقل حدیث نہ بنایا جائے۔ (فیض الباری: ص455 ج3)
حماد بن اسامہ ابو اسامہ بالاتفاق ثقہ و ثبت ہیں، ان کا بیان کیا ہوا جملہ روایت کے مخالف نہیں، امام بخاری اور امام مسلم کا اپنی صحیح میں اسے بیان کرنا اس پر مستزاد ہے، بلکہ ادارۂ اشراق کے علاوہ تمام علمائے امت کا اس کی صحت پر اتفاق ہے۔ متقدمین میں سے کسی صاحبِ علم سے اس پر اعتراض منقول نہیں۔ ادارۂ اشراق نے محض اوہام کی بنا پر اس پر حرف گیری کی ہے تو اس میں اچنبھے کی کوئی بات نہیں۔
رہے صحیح ابن حبان کی روایت کے الفاظ جس میں اسحاق بن راشد نے متن میں یہ الفاظ داخل کئے ہیں۔ [فسبهما وخرق دفيهما] کا ذکر کرتے ہیں تو یہ جملہ بالخصوص [وخرق دفيهما] کے الفاظ بلاشبہ محلِ نظر ہیں، اس لئے کہ اسحاق بن راشد گو ثقہ ہیں تاہم امام زہری سے روایت کرنے میں ان کے کچھ اوہام ہیں۔ چناں چہ حافظ ابن حجر کے الفاظ ہیں: [ثقة في حديثه عن الزهري بعض الوهم] (التقریب: ص 35)
اور یہ روایت بھی اسحاق بن راشد نے امام زہری سے ہی بیان کی ہے۔ اس لئے ادارۂ اشراق کا اس حوالے سے اعتراض قطعاً درست نہیں۔ رہی یہ بات کہ زیادہ مضبوط متن وہ ہے جو ابو الاسود کی روایت کرتے ہیں اور ان سے عمرو بن الحارث نقل کرتے ہیں اور عمرو سے ان کے صرف ایک شاگرد ابن وہب ہی روایت کرتے ہیں اور اس کے متن میں راوی کے تصرف کا شبہ نہیں، ہمارے نزدیک ابو الاسود یا ہشام یا زہری کا بیان کیا ہوا متن جو ثقہ راویوں سے منقول ہے ان میں بھی کوئی معنوی اشکال نہیں، جیسا کہ ان شاء اللہ آئندہ اس کی وضاحت آئے گی۔
یہ بات بھی عجیب ہے کہ ابو الاسود کے طریق سے متن راویوں کے قیاسات اور تصرفات سے محفوظ ہے۔ شاید انہوں نے توجہ نہیں فرمائی کہ ابو الاسود کی اسی سند سے اس کے متصل بعد یہ الفاظ بھی ہیں کہ عید کے روز حبشی لوگ برچھیوں سے کھیل رہے تھے۔ [فبما سألت النبی صلی اللٰه عليه وآله وسلم وإما قال:تشتهين تنظرين] پھر میں نے آپ سے ان کو دیکھنے کے بارے میں سوال کیا یا آپﷺ نے فرمایا: عائشہ (رضی اللہ عنہا)! کیا تم دیکھنا چاہتی ہو؟
اس ابو الاسود کی روایت میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ تر دو منقول ہے، دونوں میں کون سی بات راجح ہے؟ جس طرح دوسری روایات سے متعین کیا جائے گا بالکل اسی طرح ابو الاسود کی روایت میں جو جواری یعنی گانے والی کون اور کیسی تھیں؟ کی وضاحت اگر ہشام کی روایت سے ہو گئی ہے کہ وہ مغنیہ نہ تھیں تو دونوں میں کوئی منافات نہیں۔ ابو الاسود کی روایت میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے تردد کا حل اگر دوسری روایات سے درست ہے تو گانے والیوں کے بارے میں وضاحت نا قابلِ قبول کیوں ہے؟
ہماری اس وضاحت سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ہشام کی روایت میں ابو اسامہ کا اضافہ ثقہ و ثبت راوی کا ہے جو کسی لفظ کے منافی نہیں اس لئے یہ بالکل صحیح ہے۔ شیخین کا اسے اپنی الصحیح میں ذکر کرنا اور کسی قابلِ اعتبار محدث کا اس پر اعتراض نہ کرنا اس کے صحیح ہونے کی برہان ہے۔ اور ہشام بن عروہ کے بارے میں جن خدشات کا اظہار کیا گیا وہ بے بنیاد اور تارِ عنکبوت سے بھی زیادہ کمزور وساوس پر مبنی ہیں۔ جس طرح ابو الاسود کی روایت [قالت دخل علی رسول الله صلی اللٰه عليه وآله وسلم… قالت: وكان يوم عيد]۔ (بخاری:کتاب الجہاد، باب الدرق:2907) میں دونوں جگہ یہ مقولہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا ہے حالاں کہ [بخاری:کتاب العیدین:رقم 949] میں دوسری جگہ پر قالت نہیں۔ اسی طرح ہشام کی روایت [قالت دخل] اور [قالت ولیستا بمغنيتين] بھی مقولہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا ہے۔ یہاں اس کا انکار بے معنی اور محض باطل اعتراض پر مبنی ہے۔
ادارۂ اشراق کے استدلال کی کجی
ہمارے مہربان بڑی تحدی سے فرماتے ہیں: کہ جب تک اہل الاعتصام حسبِ ذیل نکات کی تردید نہیں کرتے ہمارا استدلال بدستور قائم ہے۔
① سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے غنا سنا ② نبی ﷺ نے سیدہ کو غنا سننے سے منع نہیں فرمایا ③ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے جب سیدہ کو غنا سننے سے روکنا چاہا تو نبی ﷺ انھیں روکنے سے منع فرما دیا۔
وہ اگر ان نکات کی تردید کرنا چاہتے ہیں تو تھوڑی دیر کے لئے توقف کر کے یہ ضرور سوچ لیں کہ اس کی تردید کو کوئی شخص انکارِ حدیث سے بھی تعبیر کر سکتا ہے۔ (اشراق: ص 29 مارچ 2006ء)
حالاں کہ اربابِ اشراق اگر غور فرماتے تو ہماری معروضات میں انھیں ان ،،نکات،، کا جواب مل جاتا۔ ہم عرض کر چکے ہیں کہ روایت میں ،،غنا،، سے مراد کیا ہے اورگانے والی کون تھی، اور وہ روز، روزِ عید تھا جس کی بنا پر نبی کریم ﷺ نے اجازت دی۔ لیکن اس وضاحت کے باوجود اگر وہ فرماتے ہیں کہ ان کا جواب چاہیے تو اس کے جواب میں بس اتنا عرض ہے کہ
تیرا ہی جو جی نہ چاہے تو بہانے ہزار ہیں
اہل الاعتصام اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے اس حدیث کو اسی طرح تسلیم کرتے ہیں جس طرح حضراتِ محدثین وفقہائے کرام نے تسلیم کیا، امام بخاری رحمہ اللہ نے اسی حدیث پر [باب الحراب والدرق يوم العيد اور باب سنة العيدين لأ هل الإ سلام] باب قائم کیا اور جس لطیف انداز سے مسئلے کی حقیقت کی طرف اشارہ کیا اس کی تفصیل فتح الباری میں دیکھی جا سکتی ہے۔ صحیح مسلم پر شارحِ صحیح مسلم علامہ نووی رحمہ اللہ نے یہ باب قائم کیا جو محدثین وفقہاء کا ترجمان ہے۔ [فصل في جواز لعب الجوارى الصغار وغنائهن وضربهن بالدف يوم العيدين] (یعنی) یہ فصل ہے عیدین کے روز چھوٹی بچیوں کے کھیلنے اور ان کے گانے اور دف بجانے کے جواز میں۔ امیر علاء الدین الفارسی نے اس روایت پر یوں عنوان قائم کیا ہے:
[ذكر البيان بأن الغناء الذي وصفناه إنما كان ذٰلك أشعارا قيلت في أيام الجاهلية فكانوا ينشدونها ويذكرون تلك الأيام دون الغناء الذي يكون بغزل يقرب سخط اللٰه جل وعلا من قائله]
(الإحسان بترتیب صحیح ابن حبان: ص 549 ج 7)
امام بیہقی رحمہ اللہ نے اسی حدیث پر یوں باب قائم کیا ہے:
[باب الرجل لا ينسب نفسه إلى الغناء لا يؤتى لذٰلك ولا يأتي عليه وإنما يعرف بأنه يطرب في الحال فيترنم فيها] (السنن الکبریٰ: ص 224 ج 10)
غور فرمائیے: یہ ائمۂ کرام کیا فرماتے ہیں؟ یہی نا، کہ یہ غنا وہ ہے جسے کوئی شریف انسان اپنے لئے پسند نہیں کرتا، اللہ کی ناراضی کا وہ سبب نہیں، گانے والیاں چھوٹی لڑکیاں تھیں اور دن بھی عید کا تھا۔ سلف نے اس حدیث سے یہی مفہوم سمجھا اور بحمدللہ اہل الاعتصام بھی یہی سمجھتے ہیں۔ صحیح حدیث کا انکار تو اربابِ اشراق کر رہے ہیں، جو صحیح بخاری اور مسلم کی حدیث کو محض اپنی فکری کجی کی بنا پر کمزور اور غیر متصل قرار دیتے ہیں۔ اسے کہتے ہیں:
الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے
اس لئے صحیح حدیث کا یہاں بھی انکار ہے تو اربابِ اشراق کے حصہ میں آیا ہے جس طرح اس سے قبل احادیثِ رجم، احادیثِ نزولِ مسیح علیہ السلام وغیرہ کا انکار یہ حضرات بڑے دھڑلے سے کرتے آئے ہیں۔ [قالت وليستا بمغنيتين] کی صحت کا انکار بھی ماشاءاللہ انھی کے حصہ میں آیا ہے۔ اربابِ اشراق سے قبل علمائے امت میں سے کسی عالم نے اس کی صحت کا انکار نہیں کیا حتیٰ کہ حافظ ابن حزم رحمہ اللہ بھی اس کی صحت سے انکار نہیں کر سکے۔ (المحلى: ص62 ج9) انصاف سے فرمایئے صحیح حدیث کا منکر کون ہے؟
گانے والیاں کون تھیں؟
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی اس حدیث میں [جاريتان تغنیان] کے الفاظ سے کیا مراد ہے؟ اہل اشراق اس بات پر مصر ہیں کہ اس کے معنی پیشہ ور مغنیہ ہیں۔ اس کے بارے میں اولاً عرض کیا گیا تھا کہ صحیح بخاری اور مسلم میں خود سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے صراحت ہے کہ وہ دونوں مغنیہ نہ تھیں۔ سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی اس وضاحت کے بعد لغوی موشگافیوں کی ضرورت باقی نہیں رہتی لیکن اہل اشراق نے اس کا حل یہ ڈھونڈا کہ [قالت:وليستا بمغنيتين] کی وضاحت کا ہی انکار کر دیا جائے، اس انکار کی پوزیشن کیا ہے؟ قارئین کرام اس کی حقیقت معلوم کر چکے ہیں۔
اسی معنوی حوالے سے متعلق ایک بات یہ عرض کی گئی کہ جاریة کا اطلاق عموماً بچی اور نابالغ لڑکی پر ہوتا ہے۔ شارحینِ حدیث نے بھی یہی سمجھا ہے جیسا کہ علامہ عینی، علامہ نووی، شیخ الاسلام ابن تیمیہ، حافظ ابن جوزی اور حافظ ابن قیم رحمہم اللہ کے حوالوں سےہم نے اس کا ذکر کیا۔ مگر اہلِ اشراق فرماتے ہیں کہ لسانِ العرب وغیرہ میں ہے کہ جاریہ جوان عورت کو کہتے ہیں۔ ہمیں اس سے تو قطعاً انکار نہیں کہ جاریہ کا اطلاق جوان عورت پر بھی ہوتا ہے۔ لیکن جاریہ کے اگر وہی معنی مراد لئے جائیں جو اہلِ اشراق نے لغت کے حوالے سے نقل کیے ہیں تو وہ کیوں نہیں کہہ دیتے کہ جاریہ کا اطلاق جوان عورت پر ہی ہوتا ہے۔ جب وہ اس کے قائل نہیں تو پھر ان حوالوں کا کیا فائدہ؟ کیا وہ اس بات کا انکار کر سکتے ہیں کہ لغت میں نابالغ جاریہ کا اطلاق ہوتا ہے؟ علامہ طاہر پٹنوی نے صاف صاف لکھا ہے کہ [الجارية من النساء من لم تبلغ الحلم] جاریہ اس عورت کو کہتے ہیں جو بلوغت کو نہ پہنچی ہو۔ (مجمع البحار:ص191 ج1)
یہی بات ہم پہلے علامہ عینی کے حوالے سے لکھ چکے ہیں۔ جاریہ سے یہی مراد شارحینِ حدیث نے لی ہے۔ اسی لئے کہا گیا کہ جاریہ کا اطلاق عموماً نابالغ لڑکی پر ہوتا ہے۔ لغت میں جب ایک لفظ کے دو یا اس سے زائد معانی پائے جائیں تو سیاقِ کلام سے معنی متعین کیا جاتا ہے کہ یہاں مراد کیا ہے۔ ہم بحوالہ عرض کر چکے ہیں کہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ، حافظ ابن جوزی، علامہ عینی، حافظ ابن قیم اور علامہ النووی رحمہم اللہ یہاں جاریہ سے صغيرة السن لڑکی ہی مراد لیتے ہیں۔ مگر اہلِ اشراق فرماتے ہیں:
① جاريتان کے لیے تغنیان کا فعل آیا ہے اس کے معنی یہ ہیں: کہ وہ دونوں گا رہی تھیں اور وہ لونڈیاں تھیں۔
② روایت میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے تبصرے مزمار الشيطان عند النبى ﷺ سے یہی تاثر ہوتا ہے کہ گانے والیاں بچیاں نہ تھیں۔
③ ایک روایت میں جاریتان کے بجائے قینتان کا لفظ ہے جس کے معنی مغنیہ یا گانے والی لونڈی کے ہیں۔
④ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے بعض روایتوں کی بنا پر ان لونڈیوں کا تعین بھی کیا ہے۔ ملخصاً (اشراق: ص 32، 34۔ مارچ 2006ء)
ان امور کی وضاحت اسی ترتیب سے حسبِ ذیل ہے۔
① ،،تغنیان،، سے مراد اور عرب کا غنا کیا تھا؟ آئندہ اس پر بحث اپنے محل پر آرہی ہے۔
یہاں غور فرمائیے: کہ کیا غنا اور لونڈی لازم و ملزوم ہے؟ اور کیا بچیوں کا غنا، غنا نہیں؟
② گانے والی بچیاں صرف گانا ہی نہیں گا رہی تھیں ساتھ دف بھی بجا رہی تھیں۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اصل عمل کی بنا پر اسے شیطانی ساز قرار دیا۔ آنحضرت ﷺ نے یہ نہیں فرمایا: کہ ابوبکر! تمہارا اسے شیطانی ساز قرار دینا مناسب نہیں، بلکہ عید کی بنا پر بچیوں کے اس خوشی کے عمل سے صرفِ نظر فرمایا۔ خود آپ ﷺ کی اس میں دلچسپی کس قدر تھی؟ آپ بستر پر لیٹ گئے چہرہ مبارک دوسری جانب کر لیا۔ ایک روایت میں ہے کہ اپنے اوپر چادر لے لی۔ کجا آپ کی یہ بے رغبتی اور کجا اہلِ اشراق کا یہ تاثر کہ آپ گانے بجانے سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ عید کے دن اور بچیوں کے عمل کی بنا پر ہی آپ نے منع نہیں فرمایا، اگر صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کا موقف اختیار کرتے تو عید پر بھی اس قسم کی خوشی کا اظہار مباح قرار نہ پاتا۔
③ قینۃ کے معنی پر بھی بحث اس کے بعد آرہی ہے خلاصہ یہ ہے کہ روایت میں ،قینہ، جاریہ کے معنی ہی میں آیا ہے پیشہ ور مغنیہ کے معنی میں نہیں۔
④ بلا شبہ حافظ ابن حجر نے بعض روایات کی بنا پر یہاں جاریتان سے لونڈیاں مراد لی ہیں۔ مگر یہ بات محلِ نظر ہے کیوں کہ [ليستا بمغنيتين] کی وضاحت جو خود انھوں نے کی، اس بات کی دلیل ہے کہ اگر وہ لونڈیاں ہی تھیں تو وہ پیشہ ور قطعاً نہ تھیں۔ رہی وہ بعض روایات تو ان کے بارے میں عرض ہے کہ:
اولاً: انھوں نے طبرانی میں حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی روایت سے ذکر کیا کہ وہ حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کی لونڈی تھی۔ یہ روایت طبرانی کبیر (ص 264 ج 23، رقم: 558) میں مذکور ہے۔ مگر اس کا ایک راوی الوازع بن نافع سخت ضعیف ہے۔ علامہ ہیثمی رحمہ اللہ نے یہی روایت مجمع الزوائد (ص 206ج 2) میں ذکر کی ہے اور فرمایا: ہے کہ الوازع متروک حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے خود لسان المیزان (ص 213ج 6) میں اس کا تفصیلی تذکرہ کیا ہے اور کوئی ادنیٰ کلمہٴ توثیق کا نقل نہیں کیا، بلکہ آخر میں یہ بھی نقل کیاہے کہ [قال الحاکم و غیرہ روی أحادیث موضوعة] امام حاکم رحمہ اللہ وغیرہ نے فرمایا ہے کہ وہ موضوع احادیث بیان کرتا ہے۔ اس لئے جب اس کا راوی متروک ہے، تو انصاف سے فیصلہ فرمائیے کہ کیا اس سے استدلال درست ہے؟ اس روایت پر تفصیلی نقد ہم پہلے کر چکے ہیں جس کا کوئی جواب اہل اشراق نے نہیں دیا۔
ثانیاً: حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے الأربعین للسلمي کے حوالہ سے لکھا ہے کہ وہ عبداللہ بن سلام کی لونڈیاں تھیں۔ لیکن اس کی کوئی سند انھوں نے ذکر نہیں کی۔ یہ روایت اس لئے بھی قابلِ التفات نہیں کہ جسے خود حافظ صحیح الاسناد قرار دیتے ہیں یہ روایت اس کے بھی خلاف ہے۔
ثالثاً: حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس سلسلے میں ابن ابی الدنیا کے حوالے سے ذکر کیا ہے کہ ہشام سے فلیح کی روایت میں ہے کہ گانے والی حمامہ اور اس کی ساتھی تھی۔ ایک مقام پر تو حافظ صاحب نے اس کی سند کو صحیح اور دوسری جگہ پر حسن قرار دیا ہے جیسا کہ اشراق میں بھی نقل ہوا ہے۔ مگر غور فرمائیے یہ صراحت فلیح بن سلیمان کرتے ہیں جن کے بارے میں خود حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ وہ صدوق کثیر الخطاء ہے۔ (تقریب: ص 418)
ہم حیران ہیں کہ اربابِ اشراق ہشام سے ابو اسامہ حماد بن اسامہ جیسے ثقہ اور ثبت راوی کا بیان کیا ہوا جملہ لیستا بمغنيتین تسلیم نہیں کرتے مگر ہشام سے فلیح جیسے متکلم فیہ راوی کے بیان پر سر دھنتے ہیں۔ لہذا جب اسنادی اعتبار سے ان روایات کا پایہٴ استناد ہی قابلِ اعتبار نہیں تو ان سے استدلال چہ معنی دارد؟ پھر اگر تسلیم بھی کیا جائے کہ وہ حمامہ یا زینب تھیں تو کیا دلیل ہے کہ ان کا یہ عمل بلوغت کے بعد تھا؟ اور بلوغت سے پہلے وہ لونڈیاں نہ تھیں؟ ویسے بھی نکاح کے موقعے پر گانے والی کو بھیجنے کا معاملہ اس سے مختلف ہے جس سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہی گانے والیاں عید کے روز سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے گھر آئی تھیں۔
ہماری اس وضاحت سے یہ بات نمایاں ہو جاتی ہے کہ جاریتان سے مراد بالغ لونڈیاں لینا اور انھیں پیشہ ور مغنیہ قرار دینا کسی مضبوط دلیل پر مبنی نہیں۔
قینتان کے معنی
حضرت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی اسی روایت میں ایک جگہ [عندھا قینتان تغنیان] کے الفاظ آئے ہیں جس سے اربابِ اشراق فرماتے ہیں: کہ ان سے پیشہ ور مغنیہ مراد ہیں۔ اس ضمن میں عرض کیا گیا تھا کہ قینہ کے معنی پیشہ ور مغنیہ ہی قرار دینا غلط ہے۔ جب یہ بنیاد ہی فاسد ہے تو انہیں پیشہ ور مغنیہ کیوں کر قرار دیا جا سکتا ہے۔ اب جب وہ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ اس اسم کا معنی مجرد طور پر لونڈی بھی ہے۔ (اشراق:ص37)
تو قینتان کے معنی پیشہ ور مغنیہ ہی قرار دینا کیسے درست ہوا؟ بالخصوص جب کہ حدیث میں اس کی صراحت بھی موجود ہے کہ وہ دونوں مغنیہ نہ تھیں۔ ائمہ لغت نے بھی قینہ کے معنی بیان کرتے ہوئے جہاں یہ روایت ذکر کی وہاں ساتھ اس کے اسی معنی کی طرف اشارہ کیا کہ قینہ لونڈی کو کہتے ہیں۔ وہ گانے والی ہو یا گانے والی نہ ہو۔ بلکہ قینہ کا مفہوم [ماشطة، مغنية، جارية] حتیٰ کہ کوئی پیشہ اختیار کرنے والے کو بھی قین کہتے ہیں۔ چنانچہ علامہ الخطابی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[القينة الماشطة والقينة المغنية والقينة الجارية وكل صانع عند العرب قين] (غریب الحدیث: ص775 ج2)
حدیث میں ایک جگہ اگر ،،قینتان،، اور دوسری جگہ ،،جاریتان،، آیا ہے تو دونوں میں کوئی جوہری فرق نہیں۔ یہاں یہ بات دلچسپی سے خالی نہ ہوگی کہ اہل اشراق ایک طرف تو سب سے زیادہ ،،منضبط،، متن ابو الاسود کا قرار دیتے ہیں اور ہشام کی روایت کو غیر متصل اور مرسل قرار دیتے ہیں اور یہ اس لیے کہ [لیستا بمغنیتین] کے جملہ کے انکار کا کوئی بہانہ بنا لیا جائے، مگر وہ دوسرے مرحلے میں بھول جاتے ہیں کہ [قینتان] کا لفظ بھی اسی ہشام کے طریق میں ہے۔ جب اہل اشراق کے ہاں ہشام کی روایت ہی درست نہیں تو قینتان کا لفظ کیوں کر درست ثابت ہوا؟ اور اسی غیر متصل روایت کی بنا پر جاریتان کے معنی پیشہ ور مغنیہ ہی کرنا کیسے صحیح ہوا؟
ہم نے اسی حوالے سے عرض کیا تھا کہ عروہ سے روایت کرنے والے ابو الاسود،ہشام اور ابنِ شہاب الزہری تینوں کی روایت میں جاریتان کا لفظ ہے۔ البتہ ہشام سے شعبہ کی روایت میں قینتان کا لفظ ہے جس کا حوالہ اربابِ اشراق نے صحیح بخاری (رقم: 3716) کا دیا۔ شعبہ کی روایت میں یہ شک بھی بیان ہوا ہے کہ یہ عیدالفطر کا دن تھا یا عیدالاضحیٰ کا۔ جب کہ زہری کی روایت میں یہ شک نہیں ایامِ منیٰ، یعنی عید الاضحیٰ کا ذکر ہے۔ بلکہ مسند احمد (ص 99 ج 6) میں شعبہ کی روایت میں بھی جاریتان کا ہی لفظ ہے۔ اس لیے شعبہ کی روایت میں اگر بعض جگہ قینتان ہے تو اس کے معنی بھی جاریتان ہیں اور اہل عرب کے ہاں معروف ہے کہ قینہ کے معنی جاریہ ہیں۔ اربابِ اشراق کو یہ سیدھی بات بھلا کب گوارا تھی اس کے جواب میں فرماتے ہیں:
سوال: یہ ہے کہ کیا اس شک کے پہلو نے روایت کو کمزور کر دیا یا قینتان کے معنی میں کوئی ابہام پیدا ہوا ہے شک کا یہ پہلو تو مسند احمد کی روایت میں بھی مذکور ہے۔(اشراق: ص38-39۔ مارچ 2006ء)
قارئین کرام! غور فرمائیں کہ جاریتان کے بارے میں فرمایا گیا تھا کہ لازم ہے کہ یہاں لونڈیاں جو ماہر فن مغنیات کی حیثیت سے معروف تھیں، مراد لی جائیں اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ دوسرے طریق میں قینتان کے الفاظ نقل ہوئے ہیں۔ جب جاریتان کے معنی ماہر فن مغنیات کی سب سے بڑی دلیل یہ قینتان کا لفظ ہے تو اسی کے بارے میں عرض کیا گیا تھا کہ یہ شعبہ عن ہشام کی روایت میں ہے۔ اور دن کی تعیین میں تردد بھی اس سند میں ہے۔ جس طرح یہ تردد اور ابہام دوسری روایات سے دور ہوتا ہے اسی طرح ان الفاظ کے بارے میں تردد بھی دوسری روایات سے دور ہو جاتا ہے۔ بالخصوص جب خود شعبہ عن ہشام کے اسی طریق میں جاریتان کا لفظ بھی آیا ہے۔ اور قینہ، جاریہ کو کہتے ہیں جیسا کہ ہم نے علامہ خطابی سے نقل کیا ہے۔ جب یہ سب سے بڑی دلیل ہی کمزور ثابت ہوئی تو جاریہ کے معنی لازم طور پر ماہر فن مغنیہ لینے قرینِ انصاف کیوں کر ہوا؟
بلکہ اب تو اربابِ اشراق ہشام بن عروہ کی روایت کو سرے ہی سے غیر متصل اور مرسل قرار دیتے ہیں اور قینتان کا لفظ بھی ہشام کی روایت میں ہے [لیستا بمغنیتین] کا جملہ اگردرست نہیں غیر متصل ہے تو قینتان کا لفظ درست کیسے ہے؟ ہشام کی روایت میں ایک انکار اور دوسرے پر اصرار [تلک إذاً قسمة ضیزی] کا مصداق نہیں تو اور کیا ہے؟
اسی طرح اربابِ اشراق کا یہ فرمانا کہ قینہ کے معنی لونڈی کرنا اور جاریہ کا معنی بھی مغنیہ نہیں بلکہ لونڈی کرنا، اس کے بعد اس پر زورِ استدلال کی حیثیت کیا ہے جو جاریتان کا معنی چھوٹی بچیاں قرار دینے کے لیے کیا گیا تھا؛ (اشراق: 35) مگر اربابِ اشراق نے غور نہیں فرمایا کہ جب انہوں نے یہ فرمایا: کہ قینہ کے معروف و معلوم معنی ہی پیشہ ور مغنیہ ہیں تو اس کی وضاحت کے طور پر عرض کیا گیا کہ اصل میں قینہ کے معنی لونڈی ہے وہ گانا گائے یا نہ گائے۔ اس سے مراد پیشہ ور مغنیہ ہی لینا درست نہیں، بالخصوص کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے خود وضاحت فرمائی ہے کہ وہ گانے والیاں نہ تھیں۔ اس کے بعد اس سے مراد پیشہ ور مغنیہ ہی قرار دینا قرینِ انصاف نہیں۔ لہٰذا جب جاریہ کو پیشہ ور مغنیہ کے معنی میں لینے کی یہ بنیاد (قینہ کا لفظ) ہی کمزور ٹھہری تو جاریہ کے معنی چھوٹی بچیاں کرنے میں کوئی اشکال نہیں۔
جناب غامدی صاحب اور ان کے حلقہ نشینوں نے قینہ کے معنی بیان کرتے ہوئے لکھا تھا کہ اس کا معلوم و معروف معنی پیشہ ور مغنیہ ہے. (اشراق: ص27۔ مارچ2004ء) اس کے متعلق عرض کیا گیا تھا کہ امام لیث نے تو فرمایا ہے کہ عوام الناس کہتے ہیں کہ القینة کے معنی مغنیہ ہیں۔ یہ اہل عرب کا قول نہیں۔ اہل اشراق کو ہماری یہ بات بڑی ناگوار گزری تو اپنی علمی برتری کے زعم میں فرما دیا کہ یہ پڑھ کر یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ اسے ان کی علمیت کا کمال سمجھا جائے یا دیانت کا۔ اہل الاعتصام غالباً بھول گئے ہیں کہ جس لغت کے حوالے سے انھوں نے یہ قول نقل کیا ہے وہ لغت کسی عجمی زبان کی نہیں بلکہ عربی زبان کی ہے۔ عوام الناس یہاں اردو کا نہیں عربی کا ہے اور اس کا مصداق بھی عرب کے عام لوگ ہیں۔ ملخصا (اشراق: ص37۔ جون2006ء)
اس ناکارہ کے دل و دماغ میں بحمدللہ علمی کمال کا کوئی تصور نہیں، اپنی تمام تر کمزوریوں کے باوجود دفاعِ حدیث کی یہ خدمت محض اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی توفیق کا نتیجہ ہے۔ ورنہ اپنا حال تو یہ ہے کہ یہ تو قسمت میں کہاں کہ کروں کسبِ کمال بے کمالی میں بھی افسوس میں کامل نہ ہوا امام لیث نے اگر عوام الناس سے یہ نقل کیا ہے: [القينة المغنية] تو یہی قول ابو عمرو نے بعض الناس سے نقل کیا ہے ان کے الفاظ ہیں: [وبعض الناس يظن القينة المغنية الخاصة ] (لسان العرب:ص232 ج17)
کہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ قینہ خاص طور پر مغنیہ کو کہتے ہیں اور یہی خیال خیر سے اربابِ اشراق کا ہے۔ تبھی تو فرماتے ہیں کہ قینہ کا معلوم و معروف معنی پیشہ ور مغنیہ کا ہے۔ غور طلب مسئلہ یہ ہے کہ بقولِ امام لیث رحمہ اللہ یہ عوام الناس کا قول اور بقولِ امام ابو عمرو یہ بعض الناس کا قول ہے۔ اسی قول کے بارے میں خود ان کی رائے کیا ہے۔ امام ابو عمرو نے تو اس کے متصل بعد صراحت فرما دی [قال وليس كذلك] ابو عمرو نے فرمایا یہ اسی طرح نہیں۔ یہ عوام ہوں یا بعض بقولِ اہل اشراق یہ سب عرب ہی ہیں تو جب ان کی تردید کر دی گئی تو ان کا یہ قول مقبول کیوں کر ہوا؟ اہل اشراق غور فرماتے تو اتنی طول بیانی کی ضرورت نہ تھی۔ عوام الناس بھی عرب کے عوام الناس ہیں۔ لغت کے ائمہ مراد نہیں اور ہر زبان میں بات عوام کی نہیں اس زبان کے ماہرین اور ائمہ کی تسلیم کی جاتی ہے۔
سخن شناس نئی دلبرا خطا ایں جا است
امام ابو عبید رحمہ اللہ نے تو ایک مستقل کتاب لکھ دی جس میں عوام الناس لغتِ عرب کی مخالفت کرتے ہیں۔ جس کا نام ہے [ما خالفت فيه العامة لغة العرب] اسی طرح ابو الجراح نے بھی اسی عنوان پر ایک مستقل باب لکھا [باب ما خالفت العامة فيه لغة العرب]۔ اس کے بعد ہم ضرورت محسوس نہیں کرتے کہ عوام الناس کی ایسی غلطیوں کی نشان دہی کریں۔ عوام بہر حال عوام ہیں ائمہ نہیں۔ لہٰذا ہم نے عرض کیا تھا کہ عوام الناس قول سے ہمارے متجددین نے استدلال کر کے عوام الناس کو دھوکا دیا ہے تو یہ عین حقیقت ہے۔ اور اس پر جزبز ہونا کوئی عقل مندی نہیں۔
قینہ کے مفہوم کے بارے میں اہل اشراق کے ترکش کا ایک تیر یہ بھی ہے کہ خود الاعتصام میں حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کے بارے میں لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: [لا تبيعوا القينات ولا تشتروهن ولا تعلموهن] مغنیات کی خرید و فروخت نہ کرو اور نہ انہیں موسیقی کی تربیت دو۔ (اشراق: ص37-38)
خامہ انگشت بدنداں ہے اسے کیا لکھیے
گویا وہ کہنا چاہتے ہیں کہ قینہ کے معنی یہاں خود الاعتصام میں مغنیہ کیے ہیں۔
اولاً: گزارش ہے کہ کیا اس روایت سے اہل الاعتصام نے استدلال کیا؟ قطعاً نہیں، الاعتصام ہی میں صراحت موجود ہے کہ یہ روایت ضعیف ہے کیوں کہ عبید اللہ بن زحر، اس کا استاد علی بن زید، پھر اس کا استاد قاسم بن عبد الرحمن تینوں مسلسل ضعیف ہیں، اگر ہم اس سے استدلال کرتے تو بات قدرے معقول تھی۔ وإلا فلا
ثانیاً: ہم نے قینہ کے معروف معلوم معنی مغنیہ کرنے کی تردید کی ہے اور عرض کیا ہے کہ اس کا اصل اطلاق جاریہ کے لیے ہے وہ مغنیہ ہو یا غیر مغنیہ، لہٰذا سیاقِ کلام اور شارحین کے قول کی اتباع میں یہاں ہم نے معنی مغنیہ کیے ہیں تو اس پر کوئی اعتراض محض زیبِ داستاں کے لیے ہے۔ شارحِ ترمذی لکھتے ہیں:
[القينات بفتح القاف وسكون التحتية في الصحاح القين الأمة مغنية كانت أو غيرها قال التوربشتي وفي الحديث يراد بها المغنية لأنها إذا لم تكن مغنية فلا وجه للنهي عن بيعها وشراءها]
القینات، میں ‘ق’ پر فتح اور ‘ی’ ساکن ہے الصحاح للجوہری میں ہے قین لونڈی کو کہتے ہیں وہ مغنیہ ہو یا نہ ہو، علامہ التوربشتی نے کہا ہے یہاں حدیث میں مغنیہ مراد ہے کیوں کہ جب وہ مغنیہ نہیں تو اس کی خرید و فروخت کی ممانعت کا کوئی سبب نہیں۔ (تحفۃ الاحوذی: ص259 ج2)
اس لیے القینات کے یہاں معنی مغنیات اسی سبب اور علتِ غنا کی بنا پر ہے لیکن جاریتان کو قینات سمجھنا اور پھر قینہ کے معروف و معلوم معنی پیشہ ور مغنیہ ہی قرار دینا درست نہیں جیسا کہ ہم اس کی وضاحت کر چکے ہیں۔ والحمدللہ علی ذلک
غنا اور اہل عرب
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی اسی حدیث میں تغنیان کا لفظ استعمال ہوا، جس کے معنی جناب غامدی صاحب اور اہل اشراق نے یہ کیے کہ دو مغنیہ (لونڈیاں) جنگِ بعاث کے گیت گا رہی تھیں، ہم نے عرض کیا کہ یہاں مراد جنگِ بعاث سے متعلقہ اشعار پڑھنا ہے۔ غنا جس کے معنی گانا، گیت اور لے سے گیت گانا ہیں وہ مراد نہیں۔ اس لیے کہ اولاً اہل عرب بلند آواز اور خوب صورت آواز سے اشعار پڑھنے کو غنا کہتے ہیں اور باحوالہ عرض کیا کہ یہی معنی اہل لغت اور شارحینِ حدیث نے اس حدیث کے سمجھے ہیں، مگر اہل اشراق تو مستشرقین کے نقشِ قدم پر ایک نیا اسلام متعارف کرانے کے درپے ہیں۔ اس لیے انھیں یہ بات کب گوارا تھی۔ اس لیے وہ غنا کے معنی بہرنوع موسیقی اور سماع کے کرنے میں مجبور ہیں۔ چنانچہ لکھتے ہیں:
پہلا اشکال اور اس کا جواب:
پہلا سوال یہ ہے: کہ تغنیان کے یہ معنی کرنا کہ وہ سادہ آواز سے اشعار پڑھ رہی تھیں کس بنا پر ہے۔ کسی رائج کے مفہوم، اطلاق اور مصداق میں تصرف اور اسے نئے معنی پہنانے کا اختیار ہمیں یا آپ کو کس نے دیا ہے؟ اسلامی ادب میں اس کی نادر مثال پرویز صاحب اور ان کے پیش رو ضرور ہیں جنھوں نے عربی الفاظ و اسالیب کے ایسے معنی دریافت کیے جنھیں نہ صرف عربی زبان، بلکہ کوئی اور زبان بھی قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہو سکی۔ غور فرمائیے! غنا کے معنی کی تعیین میں آپ کی کاوش کہیں اسی نوعیت کی تو نہیں۔ اس کے بعد انھوں نے لسان العرب، الصحاح، المعجم الوسیط وغیرہ سے، غنا کے معنی موسیقی اور گانا گانے کے نقل کیے ہیں۔ (اشراق:ص39-40۔ مارچ 2006ء)
قارئین کرام! بلاشبہ کسی لفظ کے معنی کی تعیین میں کسی کو کوئی حق نہیں، بحمدللہ یہ جسارت اس ناکارہ نے نہیں کی، غور فرمائیے کہ لسان العرب وغیرہ کتب سے جو کچھ نقل کیا اور شارحینِ حدیث نے جو توضیح فرمائی کیا اہل اشراق اس حوالے سے کوئی بات کہہ سکے؟ جس لسان العرب کے حوالے سے فرمایا گیا کہ الغناء کے معنی سماع (موسیقی) ہیں۔ کیا اسی کتاب میں ایک سطر پہلے یہ لکھا ہوا کہیں ان کی نظرِ عمیق کی نذر تو نہیں ہو گیا کہ [كلما من رفع صوته ووالاه فصوته عند العرب غناء]
کہ جو بلند آواز کرے اور اسے خوب صورت و مشتاق بنائے اہل عرب کے نزدیک اس کی آواز غنا ہے۔
[وفي حديث عائشة رضي الله عنها وعندي جاريتان تغنيان بغناء بعاث أي تنشدان الأشعار التي قيلت يوم بعاث وهو حرب كانت بين الأنصار ولم ترد الغناء المعروف بين أهل اللهو واللعب]
اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں ہے کہ میرے پاس دو جاریہ بعاث کے اشعار گاتی تھیں یعنی تغنیان کے معنی ہیں کہ وہ شعر سناتی تھیں جو جنگِ بعاث کے دن کہے گئے تھے اور جنگِ بعاث انصار (اوس اور خزرج) کے مابین ہوئی تھی، اس سے وہ غنا مراد نہیں جو اہل لہو و لعب کے نزدیک معروف ہے۔ (لسان العرب:ص 374 ج19)
بلکہ ہم عرض کر چکے کہ یہی بات ان سے پہلے علامہ ابن اثیر رحمہ اللہ نے النہایہ (ص 392 ج 3) میں فرمائی ہے۔ اور یہی کچھ علامہ ابن رجب رحمہ اللہ، علامہ عینی رحمہ اللہ اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فرمایا ہے۔ بلکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی وضاحت کہ [لیستا بمغنیتین] وہ دونوں مغنیہ نہ تھیں، بھی اسی کی مؤید ہے کہ وہ عرب کے سادہ طریقہ پر اشعار پڑھتی تھیں، گانے والوں کے اسلوب پر نہیں۔ مزید عرض ہے کہ علامہ الکرمانی رحمہ اللہ رقم طراز ہیں:
[أي ليس الغناء عادة لهما ولا هما معروفتان به، قال القاضي عياض أي ليستا ممن تغنى بعادة المغنيات من التشويق والهوى ولا ممن اتخذه صنعة وكسبا]
کہ [لیستا بمغنیتین] سے مراد یہ ہے کہ غنا ان کی عادت نہ تھی اور نہ ہی وہ اس نسبت سے معروف تھیں، قاضی عیاض نے کہا ہے کہ وہ دونوں مغنیات کے طریقہ پر نہیں گاتی تھیں۔ (شرح الکرمانی: ص62 ج6)
اس لیے تغنیان کے معنی اگر اس ناکارہ نے سادہ طریقہ پر اشعار پڑھنے کے کیے ہیں، تو بحمدللہ یہی معنی اس حدیث کے ائمہ لغت اور شارحینِ حدیث نے کیے ہیں۔ اہل اشراق چوں کہ جناب پرویز کی طرح سلفِ امت سے ہٹ کر ایک نئی بساط بچھانے کی فکر میں ہیں اور انہی کی ،،سنت،، کے مطابق بس لغت کا سہارا لیتے ہیں، یہ نہیں دیکھتے کہ لغت کی مختلف تعبیرات میں سلف نے کیا موقف اختیار کیا ہے۔ اسی پرویزی فکر کی آبیاری اہل اشراق کر رہے ہیں۔ ہمارے الفاظ کہ وہ سادہ آواز سے اشعار پڑھ رہی تھیں سے اربابِ اشراق کو غلط فہمی ہوئی۔ غنا اور اہل عرب کے عنوان کے تحت جو کچھ ہم نے لکھا اسے ملحوظ رکھتے تو یقیناً گرم گفتاری سے اجتناب کرتے سادہ آواز سے مراد گانے والوں کے اسلوب سے ہٹ کر اچھی آواز سے شعر پڑھنا ہے۔ جیسا کہ علامہ ابن اثیر، علامہ ابن منظور، حافظ ابن حجر، علامہ عینی رحمہ اللہ وغیرہ سے اچھی آواز سے پڑھنا ہم نے نقل کیا ہے۔ اس سے بے نیاز ہو کر سادہ آواز کے الفاظ سے جو غلط فہمی انھیں ہوئی یہ بالکل اسی طرح جس طرح لغت کی کتابوں میں غنا کی تعبیر ،،سماع،، سے ہوئی ہے۔
سلفِ امت نے اس حدیث کے مختلف الفاظ کی روشنی میں ایک معنی متعین کیے، مگر اہل اشراق اپنی فکری کجی میں قينة کے لفظ سے پیشہ ور مغنیہ مراد لیتے ہیں۔ جب عرض کیا کہ صحیح بخاری اور مسلم ہی میں وضاحت موجود ہے کہ وہ مغنیہ نہ تھی تب اہل اشراق کو ہوش آیا تو مخلصی یہ نکالی کہ اس کی صحت کا ہی انکار کر دیا جائے تاکہ گانے والوں کی ،،بانسری،، بجتی رہے۔ جب وہ بینڈ باجوں اور آلاتِ ملاهی کے ساتھ ساتھ پیشہ ور مغنی اور مغنیات کی حوصلہ افزائی کے لیے میدان میں اترے ہیں تو انھیں سادہ آواز کا مفہوم کیوں کر سمجھ آ سکتا ہے۔
دوسرا اشکال اور اس کا جواب:
اہل اشراق فرماتے ہیں:
دوسرا سوال یہ ہے: کہ یہاں فعلِ غنا کا مفہوم آپ سادہ آواز میں شعر پڑھنا قرار دیتے ہیں مگر کیا وجہ ہے کہ آگے قرآن کے مباحث میں آپ نے لهو الحديث اور سمد کے الفاظ کا مصداق اسی فعلِ غنا کو قرار دے کر اور موسیقی اور گانے بجانے کو اس کے ہم معنی استعمال کر کے اسے باطل اور ممنوع قرار دیا ہے۔ (اشراق:ص40)
تغنیان کو ہم یہاں مغنیہ بلکہ پیشہ ور مغنیہ کے معنی میں کیوں نہیں لیتے اس کی وجہ قارئین کرام معلوم کر چکے، رہی لہو الحدیث اور سمد کے الفاظ کو غنا کے معنی میں لینا تو
اولاً: یہ معنی ہم نے ہی مراد نہیں لیے۔
ثانياً: سیاقِ کلام بالخصوص [يشتری لهو الحديث] کا پس منظر بول بول کر کہہ رہا ہے کہ یہاں غنا اول وہلہ میں شامل ہے اور غنا سے پیشہ ور مغنیہ اس کا اصل مصداق ہے۔ مگر اہل اشراق اس مقام پر بھی ائمہ سلف سے ہٹ کر فرماتے ہیں کہ یہاں غنا کی تخصیص نہیں، اس کی مزید بحث آئندہ ان شاءاللہ اپنے محل پر آئے گی۔
تیسرا اشکال اور اس کا جواب:
اہل اشراق نے مزید لکھا ہے کہ اگر جاریتان سادہ الفاظ سے اشعار ہی پڑھ رہی تھیں اور اس میں ترنم یا غنا کی نوعیت کی کوئی چیز نہیں تھی تو کیا وجہ ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اسے مزمار الشیطان سے تعبیر کیا؟ (اشراق:ص41)
ہم پہلے بھی اس بارے میں عرض کر چکے، سادہ الفاظ سے اشعار پڑھنےکے حوالے سے بھی انھیں جو غلط فہمی ہوئی اس کی طرف بھی ابھی ابھی اشارہ کر آئے ہیں، کہ نبی ﷺ کے گھر میں دف کے ساتھ اشعار خوانی کی بنا پر حضرت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اسے مزمار الشیطان فرمایا، اور اس حقیقت سے کون انکاری ہے کہ بعض اشیاء کی شناعت موقع ومحل کی بنا پر بڑھ جاتی ہے۔ نبی کریم ﷺ کا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پر انکار نہ فرمانا آخر کس بات کا مؤید ہے؟ ترنم جو عرب میں حدی یا نصب کی شکل میں تھا اسے غنائے معروف کہنا بجائے خود غلط ہے۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے صراحت کی ہے کہ غنا کا اطلاق بلند آواز پر ہوتا ہے جس میں ترنم پایا جائے، جسے عرب حدی کے مشابہ سمجھتے ہیں اور اسے وہ (مغنی) گویا نہیں سمجھتے (فتح الباری: ص 442 ج 2) بالکل اسی طرح جیسے ترنم سے حمد و نعت پڑھنے والوں کو پیشہ ور مغنی نہیں کہا جاتا۔
چوتھا اشکال اور اس کا جواب:
اربابِ اشراق کا ایک استفسار یہ بھی ہے کہ ابنِ شہاب زہری کی روایت میں ہے کہ وہ دونوں دف بجا رہی تھیں۔ سوال یہ ہے کہ سادہ آواز سے شعر پڑھنے کے لیے ایسے آلۂ موسیقی کی کیا ضرورت تھی جو غنا کے اہم رکن تال کو پیدا کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
جواباً: عرض ہے کہ جب وہ جاریتان لیستا بمغنیتین پیشہ ور مغنیہ ہی نہیں تھیں تو ان کا دف کو ،،تال،، کے ساتھ بجانے کا تصور ہی بنائے فاسد علی الفاسد ہے۔ یہ بات اہل اشراق پہلے لکھ چکے ہیں کہ اناڑی کا بے تال انداز سے طبلے کو بجانا موسیقی نہیں ہے، اور ماہر فن کا تال کے ساتھ تختے کو بجانا بھی موسیقی ہے۔ (اشراق:ص80۔ مارچ 2004ء)
جب یہ حقیقت ہے تو ان غیر مغنیہ کا دف بجانا موسیقی کیوں کر قرار پایا؟ یہ سوال بھی نہایت سطحی ہے کہ سادہ آواز سے شعر پڑھنے کے لیے آلۂ موسیقی کی کیا ضرورت تھی؟ کیا آج بھی بیاہ شادی پر جو بچیاں سادہ آواز میں گاتی ہیں اور ساتھ دف یا کوئی اور برتن پر ہاتھ مارتی ہیں انہیں پیشہ ور مغنیہ کہا جا سکتا ہے؟ وہ گانے کے ساتھ یہ آلۂ موسیقی کیوں اختیار کرتی ہے؟ آپ ہی لکھ آئے ہیں کہ اصل آلاتِ موسیقی بھی اسی صورت میں مؤثر ہوتے ہیں جب انہیں خاص ترتیب سے بجایا جائے۔ (اشراق ایضاً:ص80)
جب وہ تھیں ہی غیر مغنیہ، انہوں نے دف بجائی تو وہ کسی خاص ترتیب سے کیسے بن گئی؟ اور ،،تال،، کی کیفیت کیوں کر پیدا ہوئی۔
ایک اور سوال (حُدی اور غنا)
اہل اشراق نے مزید فرمایا کہ صحرائی سفروں میں حدی خوانی، لمبی تان سے ،،نصب،، پڑھنا عربوں کے غنا ہی کی مختلف اصناف ہیں، اسی طرح جیسے کلاسیکی، موسیقی، خیال، ٹھمری، غزل، گیت، ماہیا، ٹپا، قوالی وغیرہ برصغیر کے غنا کی اصناف ہیں۔ گانے کی ان اصناف کو استعمال کر کے گائی جانے والی چیز اسی صورت میں لغو یا ناجائز ہوگی جب وہ کسی غیر دینی یا غیر اخلاقی داعیے کو پروان چڑھانے والی ہوگی۔ حدی محض اس لیے جائز نہیں ہوگی کہ اس نے غنا کی ایسی صنف کا انتخاب کیا ہے جس کے بارے میں نبی ﷺ نے پسندیدگی کا اظہار فرمایا تھا۔ یا دف کے ساتھ گایا گیا کوئی فحش نغمہ فقط اس بنا پر قابلِ قبول نہیں ہوگا کہ اسے ایک ایسے آلۂ موسیقی کے ساتھ گایا گیا ہے جس کی اباحت احادیث میں مذکور ہے۔ الخ (اشراق: ص 42، 43)
اہل اشراق اپنی تمام تر ذہانت و فطانت کے باوجود یہاں خلطِ مبحث کا شکار ہو گئے ہیں یا انھوں نے قارئین کو الجھانے کی کوشش کی ہے۔ بلاشبہ حدی خوانی اور لمبی تان سے شعر پڑھنا عربوں کے غنا میں شمار ہوتا ہے۔ لیکن کیا یوں شعر پڑھنے والوں کو عرب نے مُغَنّی اور گویا بھی قرار دیا ہے؟ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے بالصراحت فرمایا ہے:
[إن الغناء يطلق على رفع الصوت وعلى الترنم الذي تسميه العرب نصب ولا يسمى فاعله مغنيا] غنا کا اطلاق بلند آواز سے ترنم کے ساتھ شعر پڑھنے پر ہوتا ہے، اسے عرب نصب کہتے ہیں مگر وہ ایسا کرنے والے کو ‘مُغَنّی’ گانے والا، نہیں کہتے تھے۔ (فتح الباری:ص442 ج2)
تقریباً یہی بات دوسرے حضرات نے بھی کہی جیسا کہ پہلے ہم غنا اور اہل عرب اور سفر میں موسیقی کے عنوان کے تحت باحوالہ ذکر کر چکے ہیں، اسکول میں طالب علم حمد، نعت، ترانہ، دعائیہ کلمات، اشعار میں پڑھتے ہیں، آپ ان کے پڑھنے کو موسیقی کے کسی راگ سے منسلک کردیجئے، مگر کیا وہ مغنی، موسیقار، گویے شمار ہوتے ہیں اور اسکول میں اس حوالے سے کوئی ان کا تعارف ہوتا ہے، وہ نعت خواں تو ہیں مغنی اور موسیقار قطعاً نہیں، افسوس کہ اہل اشراق نے اس بنیادی فرق کو ملحوظ نہیں رکھا۔ اس لئے وہ ایسی بھول بھلیوں میں الجھ رہے ہیں۔
فحش نغمہ یا فحش شعر بذاتِ خود معیوب ہے اسے دف پر گانے سے جواز نہیں مل سکتا۔ آلاتِ موسیقی فی ذاتہ ناجائز ہیں ان پر کوئی اچھا کلام آلاتِ موسیقی کی حلت کی دلیل نہیں ہو سکتا، اور دف بھی وہ آلۂ موسیقی ہے جس کے ساتھ گھنگرو بندھے ہوئے ہوں، جیسا کہ قبل ازیں ہم حافظ ابن حجر رحمہ اللہ سے نقل کر آئے ہیں، اس لئے ان کی یہ طول بیانی بھی بس فریبِ داستان کے لئے ہے جس میں حقیقتاً کوئی وزن نہیں۔
اہل اشراق نے بڑی چابک دستی سے السنن الکبریٰ للنسائی کی حدیث اور صحیح بخاری کی ایک حدیث کا ذکر کیا جس میں ،،قینہ،، کے گانے کا ذکر ہے۔ اور پھر اسی بنیاد پر یہ سوال کیا ہے کہ وہ کون سی چیز ہے جس نے ایک ہی فعل کو ایک مقام پر جائز بنا دیا اور دوسرے پر ناجائز؟ السنن الکبریٰ کی روایت پر بحث آئندہ ان شاءاللہ آئے گی اس میں بالآخر قینہ کے فعل کی مذمت ہے، رہی صحیح بخاری میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی روایت جس میں شراب نوشی کی مجلس میں حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی قینہ نے گانا گایا اور حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نے اونٹنیوں کے کوہان کاٹ دیے اور پیٹ پھاڑ دیے۔ یہ واقعہ شراب حرام ہونے سے پہلے کا ہے، اہل اشراق کا کہنا کہ شراب نوشی اور اس کے نتائج کے الحاق نے غنا کو جواز کے دائرے سے نکال کر عدمِ جواز کے دائرے میں داخل کر دیا۔ (اشراق:ص42)
سوال یہ ہے: کہ اس موقع پر غنا کے عدمِ جواز کا حکم رسول اللہ ﷺ نے صادر فرمایا تھا؟ جب یہ بات ثابت ہی نہیں تو محض اپنے وہم و گمان کے نتیجہ میں شراب نوشی اصل علت قرار دینے میں کون سی معقولیت ہے؟ بالخصوص جب کہ ابھی شراب حرام نہیں ہوئی تھی، اہل اشراق، اہل اعتزال کی طرح بس اپنے عقلی گھوڑے دوڑاتے ہیں جب کہ اسی واقعے کے نتیجہ میں شارحِ بخاری حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ اس حدیث سے جن باتوں کے جواز کا ثبوت ملتا ہے ان میں [وجواز الغناء بالمباح من القول وإنشاد الشعر والاستماع من الأمة] غنا کا جواز جو مباح قول پر مبنی ہو اور لونڈی کا شعر پڑھنا اور اس سے شعر سننا۔ (فتح الباری:ص201 ج6)
اس لئے اس واقعے سے جو بات اہل اشراق نے کشید کی وہ بھی قطعاً درست نہیں۔
اعترافِ حقیقت
عید پر موسیقی کے جواز کی یہ روایت جو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے اہل اشراق نے پیش کی، اس سے استدلال کی کمزوری بلکہ کجی قارئین کرام کے سامنے ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث کے علاوہ اس سلسلے میں انھوں نے المعجم الکبیر سے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی حدیث سے بھی استدلال کیا تھا جس کی کمزوری ہم پہلے بیان کر چکے ہیں۔ اہل اشراق کی اس کے دفاع میں خاموشی اس بات کی دلیل ہے کہ انھوں نے ہمارے اعتراض کی حقیقت کو تسلیم کیا ہے۔