واٹساپ دعوتی مواد مسنون حج

مسنون حج

21 پیغامات

1 📘 حج کی اہمیت اور تاریخی پس منظر

حج قولی، بدنی، قلبی اور مالی عبادات کا مجموعہ ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی تعظیم اور بندے کی بندگی کا بے پناہ اظہار ہوتا ہے۔

حج کی لغوی تعریف:
حج کے لغوی معنی “ارادہ کرنا” ہیں۔

حج کا شرعی مفہوم:
اسلام کے پانچویں رکن کی ادائیگی کے لیے بیت اللہ کے قصد کرنے کو حج کہتے ہیں۔

📘 حج کا مختصر تاریخی پس منظر

سیدنا ابراہیم اور اسماعیل علیہما السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے جب خانہ کعبہ کی تعمیر فرمائی تو اس موقع پر انہوں نے مختلف دعائیں کیں، جن میں سے ایک یہ تھی:

﴿رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِنَا أُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّكَ وَأَرِنَا مَنَاسِكَنَا وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ﴾

ترجمہ:
اے ہمارے رب! ہمیں اپنا فرمانبردار بنا، اور ہماری اولاد میں بھی فرمانبردار امت پیدا فرما، اور ہمیں ہماری عبادت، یعنی مناسکِ حج کے طریقے سکھلا، اور ہماری توبہ قبول فرما، یقیناً تو بہت زیادہ توبہ قبول کرنے والا، نہایت مہربان ہے۔

📖 سورۃ البقرۃ: 128
🔗 https://tohed.com/tafsir/2/128/

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو یہ حکم دیا:

﴿وَأَذِّن فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ يَأْتُوكَ رِجَالًا وَّعَلَىٰ كُلِّ ضَامِرٍ يَأْتِينَ مِن كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ﴾

ترجمہ:
اور لوگوں میں حج کی منادی کر دے، وہ تیرے پاس آئیں گے، پیدل اور دبلے دبلے اونٹوں پر، جو دور دراز کے راستوں سے چلے آئیں گے۔

📖 سورۃ الحج: 27
🔗 https://tohed.com/tafsir/22/27/

اس حکم کے بعد حج کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل سیدنا ابراہیم، سیدہ ہاجر علیہما السلام اور ان کے فرزندِ ارجمند سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی طرف سے کیے گئے بعض مخلصانہ اعمال کو شرفِ قبولیت سے نوازتے ہوئے قیامت تک کے لیے مناسکِ حج میں شامل فرما دیا۔

➤ صحیح احادیث میں امِ اسماعیل علیہ السلام کا نام ہاجر اور آجر مذکور ہے۔ “ہاجرہ” غلط العام ہے۔
واللہ اعلم

📖 صحیح البخاری، کتاب الہبہ وفضلہا، حدیث: 2635، 3357
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/2635/
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/3357/

اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی شان دیکھیے کہ دنیا کے کونے کونے سے عربی، عجمی، گورے، کالے، امیر، غریب، اعلیٰ، ادنیٰ، آقا اور غلام لاکھوں کی تعداد میں ایک ہی لباس زیب تن کیے، ایک ہی طرح کے شعائر بجا لاتے ہوئے:

لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ

میں حاضر ہوں، اے اللہ! میں بار بار حاضر ہوں۔

کا تلبیہ پکارتے نظر آتے ہیں، اور یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔
ان شاء اللہ

📘 حج، اسلام کا ایک عظیم رکن

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے:

➊ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور محمد ﷺ کی رسالت کی شہادت دینا۔

➋ نماز قائم کرنا۔

➌ زکاۃ ادا کرنا۔

➍ حج کرنا۔

➎ رمضان کے روزے رکھنا۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الایمان، حدیث: 8
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/8/

📘 حج کی فرضیت

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿وَلِلّٰهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا﴾

ترجمہ:
اور لوگوں پر اللہ تعالیٰ کا یہ حق ہے کہ جو اس کعبہ تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو، وہ اس کا حج کرے۔

📖 سورۃ آل عمران: 97
🔗 https://tohed.com/tafsir/3/97/

📘 استطاعت کیا چیز ہے؟

استطاعت سے مراد راستے کا سامان اور سواری کا انتظام ہے۔

📖 المستدرک للحاکم: 442/1

نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

لوگو! تم پر حج فرض کر دیا گیا ہے، لہٰذا حج کرو۔

📖 صحیح مسلم، کتاب الحج، حدیث: 1337
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1337/

📘 حج، زندگی میں صرف ایک مرتبہ فرض ہے

ارکانِ اسلام میں حج ایک ایسا رکن ہے جو زندگی میں صرف ایک بار فرض ہے۔

📖 صحیح مسلم، کتاب الحج، حدیث: 1337
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1337/

📘 اہم مسئلہ

حج کی ادائیگی ہر صاحبِ استطاعت یعنی مالدار، عاقل، بالغ، مسلمان مرد و عورت پر اسی طرح فرض ہے، جس طرح پانچوں وقت کی نمازیں، رمضان کے روزے اور صاحبِ نصاب شخص پر زکوٰۃ ادا کرنا فرض ہے۔

ان سب کی فرضیت میں کوئی فرق نہیں۔

لہٰذا جو شخص استطاعت کے باوجود حج نہیں کرتا، بلکہ اسے وقت اور پیسے کا نقصان سمجھتا یا اس کا مذاق اڑاتا ہے، جیسا کہ آج کل کے بعض متجددین، منکرینِ حدیث اور مادہ پرستوں کا نقطہ نظر ہے، تو ایسا شخص کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔

اور اگر کوئی شخص استطاعت کے باوجود محض سستی اور کاہلی یا اس قسم کے کسی اور عذرِ لنگ کی وجہ سے حج نہیں کرتا تو ایسا شخص کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج تو نہیں، البتہ فاسق و فاجر اور کبیرہ گناہ کا مرتکب ضرور ہے۔

2 📘 عورت کی استطاعت کا مسئلہ

عام طور پر عورت نان و نفقہ اور دیگر ضروریاتِ زندگی میں خاوند کی محتاج ہوتی ہے۔ ایسی صورت میں ظاہر بات ہے کہ جب تک خاوند عورت کو حج نہیں کرائے گا، عورت حج نہیں کر سکتی۔

لیکن بعض عورتیں صاحبِ حیثیت ہوتی ہیں، حتیٰ کہ اپنے خاوندوں کو بھی ساتھ لے جا سکتی ہیں۔ ایسی صورت میں عورت پر حج فرض ہوتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ خاوند کو یا اپنے جوان بیٹے، بھائی یا والد وغیرہ محرم کو ساتھ لے کر بلا تاخیر حج کرے۔

اگر اسے کوئی محرم میسر نہیں آتا، نہ ہی وہ محرم کا خرچ برداشت کر سکتی ہے، تو جمہور علماء کے نزدیک اس وقت تک اس پر حج فرض نہیں ہوگا، جب تک اس کے لیے محرم کا بھی انتظام نہیں ہو جاتا۔

➤ عورتوں کے صاحبِ استطاعت ہونے کی ایک اور صورت بھی ہوتی ہے، جس پر عام طور پر توجہ نہیں کی جاتی۔ وہ یہ ہے کہ بہت سی عورتوں کے پاس کافی مقدار میں زیورات کی شکل میں سونا ہوتا ہے۔ اگر اسے بیچا جائے تو اتنی رقم حاصل ہو سکتی ہے کہ عورت اپنے محرم سمیت فریضۂ حج ادا کر سکتی ہے۔

لیکن زیور کتنی بھی مقدار میں ہو، اس کو بیچ کر حج کرنے کا تصور ہی ہمارے معاشرے میں نہیں ہے۔ صرف یہی دیکھا جاتا ہے کہ شوہر کی آمدنی اتنی ہی ہے جس سے گھر کے اخراجات ہی پورے ہوتے ہیں۔ چنانچہ ایسے گھروں میں حج کرنے کا خیال ہی پیدا نہیں ہوتا، جبکہ بیوی کے پاس اتنا زیور موجود ہوتا ہے کہ اس سے دو تین افراد بہ آسانی حج کر سکتے ہیں۔

یاد رکھیے! ایسی صورت میں عورت اور اس کے خاوند کا حج نہ کرنا بہت بڑا جرم ہے، جو اس وعید کا مستحق بنا سکتا ہے:

﴿وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنِ الْعَالَمِينَ﴾

ترجمہ:
اور جس نے کفر کیا تو یقیناً اللہ تعالیٰ تمام جہانوں سے بے نیاز ہے۔

📖 سورۃ آل عمران: 97
🔗 https://tohed.com/tafsir/3/97/

بنا بریں معقول مقدار میں زیور رکھنے والی خواتین کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس پہلو کو ضرور سامنے رکھیں، اور محض اس بنیاد پر کہ خاوند صاحبِ استطاعت نہیں ہے، حج کی ادائیگی میں کوتاہی نہ کریں، کیونکہ زیورات کی مالک عورت صاحبِ استطاعت ہے اور حج اس پر فرض ہے۔

📘 خاوند کی اجازت کا مسئلہ

حج کی چار صورتیں ہیں:

➊ فرض حج

➋ نذر کا حج

➌ حج بدل

➍ نفل حج

📘 نفل حج اور حج بدل

حج بدل بھی نفل ہی ہوتا ہے۔

ان دونوں میں عورت کے لیے ضروری ہے کہ وہ خاوند سے اجازت لے۔ اگر وہ اجازت نہیں دیتا، تو اجازت کے بغیر عورت کے لیے جس طرح نفلی روزہ اور اعتکاف وغیرہ ممنوع ہیں، اسی طرح حج بھی ممنوع ہوگا۔

📘 نذر کے حج کا مسئلہ

نذر کے حج میں کچھ تفصیل ہے۔

اگر عورت نے حج کی نذر خاوند کی اجازت سے مانی تھی، یا شادی سے قبل ہی اس نے نذر مان لی تھی اور شادی کے بعد اس نے خاوند کو بتلا دیا تھا، جس پر وہ خاموش رہا یا اس کو برقرار رکھا، ان دونوں صورتوں میں خاوند کو یہ اجازت نہیں ہے کہ وہ عورت کو حج پر جانے سے منع کرے، بشرطیکہ دوسری شرطیں پوری ہوں۔

ہاں! اگر عورت نے خاوند کی اجازت کے بغیر یا اس کی خواہش کو ٹھکراتے ہوئے نذر مانی، یا شادی کے بعد جب اس کے علم میں شادی سے قبل مانی ہوئی نذر آئی تو اس نے اس سے اتفاق نہیں کیا اور اسے برقرار نہیں رکھا، ان دونوں صورتوں میں خاوند عورت کو حج پر جانے سے منع کر سکتا ہے۔

ان صورتوں میں عورت نذر کا کفارہ ادا کر دے۔

📘 فرض حج کی حیثیت

فرض حج کی حیثیت ایسے ہی ہے جیسے نمازِ پنجگانہ، زکوٰۃ اور رمضان المبارک کے روزے ہیں۔

جیسے ان فرائض کی ادائیگی کے لیے خاوند کی اجازت ضروری نہیں ہے، بلکہ اگر وہ روکے گا بھی تو اس کی بات نہیں مانی جائے گی، ایسے ہی فرض حج کا معاملہ ہے۔

اگر عورت صاحبِ استطاعت ہو گئی ہے، اور محرم کا بھی انتظام ہے، تو بغیر کسی عذرِ شرعی کے خاوند اس کو روکنے کا مجاز نہیں ہے۔

اگر وہ روکتا ہے تو عورت کو حق حاصل ہے کہ وہ اس کی اجازت کے بغیر اپنے کسی محرم کے ساتھ حج پر چلی جائے، کیونکہ اللہ کی اطاعت خاوند کی اطاعت پر مقدم ہے۔

لَا طَاعَةَ لِمَخْلُوقٍ فِي مَعْصِيَةِ الْخَالِقِ

ترجمہ:
خالق کی نافرمانی میں مخلوق کی کوئی اطاعت نہیں۔

📖 شرح السنۃ للبغوی، حدیث: 2455
📖 السلسلۃ الصحیحۃ للألبانی، حدیث: 179

📘 حج کی اہمیت

حج کی اہمیت اس بات سے روزِ روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ رب العالمین نے قرآنِ مجید میں اس کی فرضیت کو بیان کیا ہے، اور ایک بڑی سورت کا نام سورۃ الحج رکھا ہے۔

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

میں چاہتا ہوں کہ شہروں میں اپنے عمال بھیجوں، وہ جا کر جائزہ لیں، اور ہر اس شخص پر جو استطاعت کے باوجود حج نہیں کرتا، جزیہ مقرر کر دیں، کیونکہ یہ لوگ مسلمان نہیں ہیں۔

📖 التلخیص الحبیر: 223/2

اسی طرح سنن بیہقی میں ہے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے تین بار فرمایا:

جو شخص وسعت اور پر امن راستے، یعنی استطاعت، کے باوجود حج نہیں کرتا اور مر جاتا ہے تو اس کے لیے برابر ہے، چاہے وہ یہودی ہو کر مرے یا عیسائی ہو کر۔

اور اگر استطاعت کے ہوتے ہوئے میں نے حج نہ کیا ہو تو مجھے حج کرنا، چھ یا سات غزوات میں شرکت کرنے سے زیادہ پسند ہے۔

📖 السنن الکبریٰ للبیہقی: 334/4

چنانچہ قرآنِ کریم کے الفاظ:

﴿وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنِ الْعَالَمِينَ﴾

📖 سورۃ آل عمران: 97
🔗 https://tohed.com/tafsir/3/97/

سے بھی سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے اس اثر کی تائید ہوتی ہے کہ صاحبِ استطاعت شخص کا حج میں تساہل کرنا اس کو کفر تک پہنچا سکتا ہے۔

لہٰذا حج کی فرضیت و اہمیت اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے اس فرمان کی روشنی میں اس بات کا جائزہ لینا چاہیے کہ اکثر وہ مسلمان جو سرمایہ دار، زمیندار اور بینک بیلنس رکھتے ہیں، لیکن اسلام کے اس عظیم رکن کی ادائیگی میں بلا وجہ تاخیر کے مرتکب ہو رہے ہیں، انہیں چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور فوراً توبہ کریں اور پہلی فرصت میں اس فرض کو ادا کریں۔

3 📘 حج کی فضیلت

نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

حجِ مبرور کا بدلہ صرف جنت ہے۔

📖 صحیح البخاری، کتاب العمرۃ، حدیث: 1773
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1773/

📘 حجِ مبرور

حجِ مبرور وہ حج ہے جو مسنون طریقے اور شرعی تقاضوں کے عین مطابق کیا گیا ہو۔ اس میں کوئی شہوانی بات، گالی گلوچ اور لڑائی جھگڑا نہ کیا گیا ہو۔

ایک اور حدیث میں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

جس شخص نے اللہ کے لیے حج کیا، اور اس دوران کوئی فحش گوئی کی نہ کوئی برا کام کیا، تو وہ گناہوں سے اس طرح پاک صاف واپس لوٹے گا جس طرح اس کی ماں نے اسے جنم دیا تھا۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الحج، حدیث: 1521
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1521/

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حج کے عظیم اجر و ثواب کا مستحق صرف وہ شخص ہے جس نے دورانِ حج زبان سے کوئی بیہودہ بات نہ کی، اور نہ ہاتھ، پاؤں اور دیگر اعضاء، یعنی آنکھوں، کانوں وغیرہ سے کوئی برا کام کیا۔

📘 بار بار حج و عمرہ کرنے کی فضیلت

نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

حج و عمرہ بار بار کیا کرو، کیونکہ یہ دونوں فقیری اور گناہ کو ایسے ختم کر دیتے ہیں، جیسا کہ بھٹی کی آگ سونے، چاندی اور لوہے کی میل کو نکال پھینکتی ہے۔

اور حجِ مبرور کا صلہ سوائے جنت کے اور کچھ نہیں۔

📖 جامع الترمذی، کتاب الحج، حدیث: 810

📘 عورتوں کے لیے افضل جہاد، حج ہے

ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ ﷺ سے کہا:

نَرَى الْجِهَادَ أَفْضَلَ الْعَمَلِ، أَفَلَا نُجَاهِدُ؟

ترجمہ:
ہم جہاد کو سب سے بہتر عمل سمجھتی ہیں، تو کیا ہم جہاد نہ کریں؟

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

لَا، لَكِنَّ أَفْضَلَ الْجِهَادِ حَجٌّ مَبْرُورٌ

ترجمہ:
نہیں، تمہارے لیے افضل جہاد حجِ مبرور، یعنی سنت کے مطابق حج ہے۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الحج، حدیث: 1520
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1520/

4 📘 سفرِ حج کے آداب

فریضۂ حج کی ادائیگی سے قبل چند باتوں کا اہتمام کرنا بے حد ضروری ہے، کیونکہ ان کی اصلاح کیے بغیر حج کے اجر و ثواب، فضائل و برکات اور فوائد و ثمرات سے کما حقہ مستفید ہونا ممکن نہیں۔

سب سے پہلے آدمی کو اپنا عقیدہ کتاب و سنت کے مطابق درست کرنا لازم ہے۔ یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ انسان خاندان، رسم و رواج اور مسلک کی زنجیروں سے آزاد ہو کر صدقِ دل سے صرف اور صرف کتاب و سنت سے رہنمائی لینے کا پختہ ارادہ کر لے، اور حق واضح ہو جانے کے بعد اسے دل و جان سے قبول کرے، اور کسی بھی مصلحت کا شکار نہ ہو۔

📘 عقیدۂ توحید

اسلام کے جملہ عقائد میں سے توحید و رسالت کے عقائد کو بنیاد اور نقطۂ آغاز کی حیثیت حاصل ہے۔

جس کی وضاحت کچھ یوں ہے:

بعض ایسے نام، کام، صفات اور حقوق و آداب ہیں جو کتاب اللہ اور سنتِ صحیحہ کے مطابق اللہ تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہیں۔ ان میں اللہ تعالیٰ کو وحدہ لا شریک ماننا اور اس کے ساتھ کسی مخلوق کی شرکت کو تسلیم نہ کرنا ہی عقیدۂ توحید ہے۔

اس کی تفصیل حسبِ ذیل ہے:

➊ ناموں میں اللہ اور الرحمن دو ایسے نام ہیں جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہیں، اور کسی مخلوق کے لیے نہیں بولے جا سکتے۔

➋ جہاں تک کاموں کا تعلق ہے تو ان کے لیے ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کے تصرفات اور اختیارات میں صرف اسی چیز کو وسیلہ اور ذریعہ تسلیم کیا جائے، جس کے وسیلہ بننے کے کتاب و سنت سے صحیح اور واضح دلائل موجود ہوں، یا انسانی حس و عقل اس کے وسیلہ ہونے کی گواہی دے۔

مثلاً: والدین اولاد کی پیدائش کا ذریعہ ہیں۔ اصل خالق تو اللہ ہے، مگر والدین کو اولاد کی پیدائش کا ذریعہ ماننا توحید کے منافی نہیں، کیونکہ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کی سچائی کتاب و سنت، عقل اور حس سے ثابت شدہ ہے۔

مگر اولاد کی پیدائش کو کسی بت یا ستارے کا “کرشمہ” سمجھنا، یا مدفون بزرگ کی نگاہِ کرم قرار دینا، سراسر جہالت، وہم اور شرک ہوگا، کیونکہ اس کی کوئی شرعی، حسی اور عقلی دلیل نہیں ہے۔

آپ علم کے بغیر اولاد کی پیدائش میں ان کا حصہ مان رہے ہیں، اور یہی شرک ہے۔

اسی طرح کسی مخلوق کو ظاہری اسباب و وسائل کے بغیر رزق دینے والا، اولاد دینے والا، صحت و تندرستی عطا کرنے والا سمجھنا، یا نفع و نقصان اور موت و حیات کا مالک سمجھنا بھی صریح شرک ہے۔

➌ صفاتِ باری تعالیٰ میں توحید کی ایک مثال یہ ہے کہ ہر مخلوق کی ہر فریاد کو ہر وقت اور ہر جگہ سے سننا اور پورا کرنا صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کا خاصہ ہے۔

اس کام کے لیے اللہ تعالیٰ نے کسی بھی مقبول بندے کو مقرر نہیں فرمایا، لہٰذا کوئی فرشتہ، جن، انسان یا مقدس روح لوگوں کی فریادیں سن کر انہیں پورا کرنے میں اللہ تعالیٰ کی شریک نہیں ہے۔

اسی طرح کتاب و سنت میں اللہ تعالیٰ کی کئی صفات کا ذکر ملتا ہے، مگر ان کی کیفیت نہیں بتائی گئی۔ لہٰذا ان صفات پر پورا پورا ایمان لانا واجب ہے، جبکہ ان کی کیفیت کو بیان کرنا یا اس کی بابت سوال کرنا بدعت ہے۔

مثلاً: قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ کی ایک صفت ید یعنی ہاتھ کا ذکر ہے۔ اس پر کیفیت اور تشبیہ میں پڑے بغیر ایمان لانا عقیدۂ توحید کا تقاضا ہے۔

➍ اسی طرح اللہ تعالیٰ اپنے خاص حقوق و آداب میں بھی وحدہ لا شریک ہے۔

مثلاً: بندوں کی طرف سے دنیاوی عادات و افعال سے ہٹ کر دست بستہ قیام، رکوع، سجدہ، دعا، نذر، نذر و نیاز، قسم، ذبح، قربانی وغیرہ کا اہتمام ہوتا ہے، تو یہ افعالِ تعظیم صرف اور صرف اللہ کا حق ہیں۔

اور یہ بھی صرف اللہ کا حق ہے کہ بندہ اپنی تمام حرکات و سکنات اور معمولاتِ زندگی میں اسی کی رضا چاہے، اسی سے ڈرے، اسی سے امیدیں رکھے، اسی پر بھروسہ کرے، اور اسی کے سامنے اپنے عجز و انکسار کا اظہار کرے۔

📘 خلاصہ

یعنی ہر وہ نام، کام، صفت یا ادب جو اللہ تعالیٰ ہی کے لیے خاص ہے، وہ کسی مخلوق کے لیے سمجھنا شرک ہے۔

اور شرک سے اگر توبہ نہ کی جائے تو یہ ناقابلِ معافی جرم ہے۔ شرکِ اکبر پر مرنے والا ابدی جہنمی ہے، اور اس پر اللہ تعالیٰ نے جنت کو حرام کر دیا ہے۔

📖 سورۃ المائدۃ: 72
🔗 https://tohed.com/tafsir/5/72/

📘 اتباعِ سنت

رسول اللہ ﷺ کو رسول ماننے کا مطلب ہی یہ ہے کہ بندہ دین کے معاملے میں حق واضح ہو جانے کے بعد آپ ﷺ کی غیر مشروط اطاعت کرے، اور اپنے دامن کو بدعت سے آلودہ نہ ہونے دے۔

نیز تمام دنیاوی معاملات میں بھی کتاب و سنت کی مخالفت سے مکمل طور پر پرہیز کرے۔

📘 بدعت

جو بات اصولی طور پر کسی شرعی دلیل سے ثابت نہ ہو، اسے دین بنا لینا بدعت ہے۔ اگرچہ بظاہر وہ کتنی ہی خوشنما کیوں نہ ہو، حقیقت میں وہ سراسر گمراہی ہے۔

لہٰذا ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ حج اور عمرے سمیت اپنی تمام عبادات میں بدعات سے مکمل طور پر پرہیز کرے، کیونکہ ان کی ملاوٹ سے نیکی ضائع ہو جاتی ہے۔

📘 اخلاصِ نیت

نیت کے معنی ارادے کے ہیں، اور ارادہ دل کا فعل ہے۔

دینِ اسلام میں تمام نیک اعمال کے ثواب کا انحصار اخلاصِ نیت پر ہی ہے۔

📖 صحیح البخاری، کتاب بدء الوحی، حدیث: 1
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1/

لہٰذا حج یا عمرہ کرنے والے کو چاہیے کہ وہ اپنے ارادے کو ریا کاری یا نمود و نمائش کی آرزو سے پاک رکھے، اور محض اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے حج اور عمرہ کرے، نیز کسی بھی دنیاوی مفاد کو اس میں مقصودِ اصلی نہ بنائے۔

5 📘 صرف حلال کمائی سے حج کرنا

اسلام میں حرام سے اجتناب پر بہت زور دیا گیا ہے۔ جس آدمی کا لباس، کھانا اور پینا حرام ہو، اس کی دعا قبول نہیں ہوتی۔

لہٰذا ہر مسلمان پر فرض ہے کہ وہ جائز طریقوں سے مال کمائے، اور جائز امور ہی میں اسے خرچ کرے۔

چنانچہ حج اور عمرہ کرنے والے کے لیے ضروری ہے کہ وہ صرف حلال کمائی سے حج اور عمرہ کرے۔

📘 حقوق العباد کی ادائیگی

لوگوں کے حقوق دبا لینا بہت بڑا جرم ہے، اور یوں یہ جرم نیکی کی قبولیت میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔

ایسا شخص جو حقوق العباد لوٹائے یا معاف کرائے بغیر مر گیا تو قیامت کے روز نہ صرف اپنی نیکیوں سے محروم ہوگا، بلکہ نیکیاں ختم ہونے پر حق داروں کے گناہ بھی اپنے سر اٹھائے گا، اور یوں مفلس ہو کر جہنم رسید ہوگا۔

العیاذ باللہ

📖 صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ، حدیث: 2581
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/2581/

📘 مقروض کے حج کا حکم

اگر صاحبِ استطاعت یا مالدار آدمی محض اپنے کاروباری لین دین کی وجہ سے مقروض ہے، اور اس کے پاس اس قرض کو اتارنے کے دیگر ذرائع موجود ہیں، مثلاً: ورثہ، ملکیتی زمین یا کاروباری سامان اتنا ہے جس سے اس کا قرض اتارا جا سکتا ہے، تو اس پر حج کے لیے ضروری مال مہیا ہونے کی صورت میں حج کرنا فرض ہے۔

اور اگر اس کے پاس بظاہر قرض اتارنے کا کوئی دوسرا ذریعہ موجود نہیں ہے، جس سے اس کا قرض ادا ہو سکے، لیکن حج کی استطاعت موجود ہے، تو پہلے قرض اتارے، پھر دوبارہ مال جمع ہونے پر حج کرے۔

البتہ اگر کوئی دوسرا شخص اسے اپنی طرف سے حج پر بھیجنا چاہے تو اس کے لیے حج کرنا درست ہوگا۔

واللہ اعلم

📘 رسم و رواج سے اجتناب

نیک کاموں میں رسم و رواج کی مداخلت پسندیدہ بات نہیں ہے۔

اور اگر کسی رسم میں نمود و نمائش یا گناہ کا پہلو بھی موجود ہو تو اسی تناسب سے حج یا عمرے کے ثواب میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔

مثلاً: حج کرنے والے کو الوداع کرتے وقت یا واپسی پر استقبال کے موقع پر جو ہار وغیرہ پہنائے جاتے ہیں، یا اسے “حاجی صاحب” کے لقب سے پکارا جاتا ہے، تو اس سے خود پسندی اور ریا کاری کا دروازہ کھلتا ہے، جس کی اسے حوصلہ شکنی کرنی چاہیے۔

اور شکر اور فکر کی راہ اپنانی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے جو حج کی سعادت نصیب فرمائی ہے، اب میری زندگی میں انقلاب آنا چاہیے۔

ایسا نہ ہو کہ میرے کسی گناہ کی وجہ سے حج کا اجر و ثواب کم یا ختم ہو جائے۔

📘 آغازِ سفر

گھر سے نکلتے وقت یہ دعا پڑھیں:

بِسْمِ اللَّهِ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ

ترجمہ:
اللہ تعالیٰ کے نام سے گھر سے نکلتا ہوں، اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتا ہوں۔ نیکی کرنے کی قوت اور برائی سے بچنے کی ہمت اللہ کی توفیق کے سوا ممکن نہیں ہے۔

📖 جامع الترمذی، کتاب الدعوات، حدیث: 3426

📘 حاجی یا کسی بھی مسافر کو الوداع کہنے کی دعا

أَسْتَوْدِعُ اللَّهَ دِينَكَ، وَأَمَانَتَكَ، وَخَوَاتِيمَ عَمَلِكَ

ترجمہ:
میں آپ کا دین، امانت اور آپ کے اعمال کا انجام اللہ تعالیٰ کے سپرد کرتا ہوں۔

📖 مسند احمد: 7/2
📖 سنن ابی داود، کتاب الجہاد، حدیث: 2600
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/2600/

📘 حاجی یا مسافر الوداع کہنے والوں کو کیا کہے؟

أَسْتَوْدِعُكَ اللَّهَ الَّذِي لَا تَضِيعُ وَدَائِعُهُ

ترجمہ:
میں تمہیں اللہ کی حفاظت میں دیتا ہوں، جس کے سپرد کی ہوئی چیزیں ضائع نہیں ہوتیں۔

📖 سنن ابن ماجہ، کتاب الجہاد، حدیث: 2825
🔗 https://tohed.com/hadith/ibn-majah/2825/

📘 سواری پر سوار ہونے کے بعد کی دعا

اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ

سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا، وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ، وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ

اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ فِي سَفَرِنَا هَذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوَى، وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضَى

اللَّهُمَّ هَوِّنْ عَلَيْنَا سَفَرَنَا هَذَا، وَاطْوِ عَنَّا بُعْدَهُ

اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ، وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ

اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ، وَكَآبَةِ الْمَنْظَرِ، وَسُوءِ الْمُنْقَلَبِ فِي الْمَالِ وَالْأَهْلِ

ترجمہ:
اللہ سب سے بڑا ہے۔ اللہ سب سے بڑا ہے۔ اللہ سب سے بڑا ہے۔

پاک اور مقدس ہے وہ ذات جس نے ہماری سواری کے لیے اپنی اس مخلوق کو ہمارے لیے مسخر کر دیا ہے اور ہمارے قابو میں کر دیا، اور خود ہم میں اس کی طاقت نہ تھی کہ ہم اپنی ذاتی تدبیر و طاقت سے اس طرح قابو یافتہ ہو جاتے۔ اس نے اپنے فضل و کرم سے ایسا کر دیا۔

اور ہم بالآخر اپنے اس مالک کے پاس لوٹ کر جانے والے ہیں۔

اے اللہ! ہم تجھ سے اپنے اس سفر میں نیکوکاری اور پرہیزگاری کی درخواست کرتے ہیں، اور ان اعمال کی جو تیری رضا کا باعث ہوں۔

اے اللہ! ہمارے اس سفر کو ہمارے لیے آسان کر دے، اور اس کی طوالت کو اپنی قدرت و رحمت سے مختصر کر دے، یعنی لپیٹ دے۔

اے اللہ! تو ہی ہمارا سفر میں رفیق اور ساتھی ہے، اور گھر والوں میں نگران اور دیکھ بھال کرنے والا ہے۔

اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں سفر کی مشقت اور زحمت سے، اور اس بات سے کہ میں کوئی رنج دہ بات دیکھوں، اور سفر سے واپسی پر اہل و عیال یا مال و جائیداد میں کوئی بری بات پاؤں۔

📖 صحیح مسلم، کتاب الحج، حدیث: 1342
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1342/

📘 مسنون دعاؤں اور اذکار کا اہتمام

حاجی کو چاہیے کہ وہ سفر کے دوران نیکی، تقویٰ، ذکرِ الٰہی اور دعاؤں کا جہاں تک ممکن ہو اہتمام کرے، تاکہ نفس کی شرارتوں اور شیطان کے وسوسوں اور حملوں سے اپنا دامن بچا سکے۔

6 📘 مکہ مکرمہ اور بیت اللہ کا تعارف

مکہ مکرمہ ایک قدیم، تاریخی اور بڑا بابرکت شہر ہے۔ اس سے محبت رکھنا اور اس کا احترام کرنا ہر مسلمان کا دینی فریضہ ہے۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اسے حرم، یعنی محترم، قرار دیا۔

📘 مکہ مکرمہ کی فضیلت

مکہ مکرمہ کو کئی لحاظ سے فضیلت حاصل ہے:

➊ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ کو امن والا شہر قرار دیا ہے۔

📖 سورۃ التین: 3

➋ نبی اکرم ﷺ کو مکہ مکرمہ بہت زیادہ محبوب تھا۔

📖 جامع الترمذی، کتاب المناقب، حدیث: 3925

🔗 https://tohed.com/hadith/tirmidhi/3925/

➌ دجال مکہ اور مدینہ میں داخل نہیں ہو سکے گا۔

📖 صحیح مسلم، کتاب الفتن، حدیث: 2943
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/2943/

📘 حرمِ مکہ کی حدود

➊ شمال میں مقامِ تنعیم، یعنی مسجد عائشہ رضی اللہ عنہا، تک حرم ہے۔

➋ مشرق میں جعرانہ کے قریب تک حرمِ مکی ہے۔

➌ شمال مشرق میں وادی نخلہ تک ہے۔

➍ مغرب میں حدیبیہ، یعنی شمسی، تک ہے۔

اب سعودی حکومت نے حدودِ حرم کی ابتدا اور انتہا پر ستون بنا دیے ہیں، جن پر بدایة الحرم اور نہایة الحرم لکھا ہوا ہے۔

📘 مسئلہ

حرم کی حدود میں کسی قسم کا شکار کرنا، شکار کو ڈرانا، اور اذخر گھاس کے سوا خود رو گھاس، درختوں، کانٹوں اور پتوں کو کاٹنا یا توڑنا منع ہے۔

📖 صحیح البخاری، کتاب جزاء الصید، حدیث: 1833، 1834

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1833/
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1834/

📘 یاد رکھیے!

حرمِ مکہ میں جس طرح کسی نیک کام کا اجر و ثواب کئی گنا زیادہ ہے، اسی طرح اس میں کسی برے کام کا گناہ بھی کئی گنا زیادہ ہے۔

بلکہ اس میں گناہ کے ارادے پر بھی عذاب کی وعید ہے:

﴿وَمَن يُرِدْ فِيهِ بِإِلْحَادٍۭ بِظُلْمٍ نُّذِقْهُ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ﴾

ترجمہ:
اور جو بھی ظلم کے ساتھ وہاں الحاد کا ارادہ کرے، ہم اسے دردناک عذاب چکھائیں گے۔

📖 سورۃ الحج: 25
🔗 https://tohed.com/tafsir/22/25/

جبکہ صرف ارادے پر یہ وعید دوسری جگہوں میں نہیں ہے۔

لہٰذا حجاجِ کرام، عمرہ کرنے والوں اور مکہ کے رہائش پذیر لوگوں کو چاہیے کہ اس بابرکت شہر میں نیکی کے کاموں کی طرف رغبت کریں، اور ہر قسم کے برے کاموں سے بچیں۔

اس شہر اور اس مقام کو عام شہروں اور مقامات کی طرح نہ سمجھیں۔

📘 بیت اللہ کا مختصر تعارف

ہر دور کے انسان کا طریقہ رہا ہے کہ وہ روحانی تسکین حاصل کرنے کے لیے کسی جگہ اور مقام کو مقدس سمجھ کر وہاں محض برکت، زیارت اور ثواب کی نیت سے جاتا ہے۔

اس مقصد کے پیش نظر اسلام نے مسلمانوں کے روحانی سکون اور حصولِ ثواب کے لیے صرف تین مقدس مقامات کی طرف سفرِ زیارت کی اجازت دی ہے:

➊ مسجد حرام

➋ مسجد نبوی

➌ مسجد اقصیٰ

📖 صحیح البخاری، کتاب فضل الصلاۃ فی مسجد مکۃ والمدینۃ، حدیث: 1189
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1189/

📘 مسجد حرام

بیت اللہ شریف اور اس کے چاروں اطراف میں پھیلی ہوئی عمارت مسجد حرام کہلاتی ہے۔

اس میں ادا کی گئی ایک نماز کا ثواب ایک لاکھ نماز سے افضل ہے۔

📖 مسند احمد: 397/3

📘 مسجد نبوی

اسلام میں مسجد قبا کے بعد یہ دوسری مسجد ہے، جسے ہجرت کے بعد نبی اکرم ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے مدینہ منورہ میں اپنے مبارک ہاتھوں سے تعمیر فرمایا۔

📖 صحیح البخاری، کتاب مناقب الانصار، حدیث: 3932
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/3932/

اس مسجد میں ادا کی گئی ایک نماز کا ثواب ایک ہزار نماز سے افضل ہے۔

📖 صحیح البخاری، کتاب فضل الصلاۃ فی مسجد مکۃ والمدینۃ، حدیث: 1190
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1190/

📘 مسجد اقصیٰ

یہ مسلمانوں کا قبلۂ اوّل ہے، اور فلسطین کے شہر بیت المقدس میں واقع ہے۔

نبی اکرم ﷺ سفرِ معراج کے لیے یہیں سے روانہ ہوئے، اور یہیں جملہ انبیاء و رسل علیہم السلام کی امامت فرمائی۔

اس مسجد میں ادا کی گئی ایک نماز کا ثواب 250 نمازوں کے برابر ہے۔

📖 المستدرک للحاکم: 509/4

اسے خانہ کعبہ کی تعمیرِ ابراہیمی کے 40 سال بعد تعمیر کیا گیا۔

📖 صحیح البخاری مع فتح الباری، احادیث الانبیاء: 495/6، حدیث: 3366
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/3366/

7 📘 بیت اللہ

اس کی تاریخ اور فضیلت کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہی کافی ہے:

﴿إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا وَّهُدًى لِّلْعَالَمِينَ﴾

ترجمہ:
بے شک اولیں گھر جو لوگوں کے لیے بنایا گیا، وہ ہے جو مکہ میں ہے، بابرکت اور جہان والوں کے لیے باعثِ ہدایت ہے۔

📖 سورۃ آل عمران: 96
🔗 https://tohed.com/tafsir/3/96/

اللہ کا سب سے پہلا گھر، مسلمانوں کا قبلہ و کعبہ، فیوض و برکات اور روحانی تجلیات کا ایسا مرکز ہے جو پوری زمین کے عین وسط میں واقع ہے۔

اسے سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کے حکم سے فرشتوں نے تعمیر کیا۔ یہ طوفانِ نوح سے مٹ گیا تھا۔ پھر سیدنا ابراہیم اور اسماعیل علیہما السلام نے اپنے ہاتھوں سے دوبارہ تعمیر فرمایا۔

📘 حطیم

اسلام سے پہلے زمانۂ جاہلیت میں بیت اللہ ایک دفعہ سیلاب سے متاثر ہوا، تو کفارِ مکہ نے صرف حلال کمائی سے سابقہ بنیادوں پر اس کی از سرِ نو تعمیر شروع کر دی۔

مگر تکمیل سے پہلے ہی یہ رقم ختم ہونے کی وجہ سے اس کا کچھ حصہ نامکمل چھوڑ دیا گیا۔ وہ موجودہ عمارت کے ایک طرف نیم دائرے کی شکل میں اب بھی موجود ہے، اسے حطیم یا حجر کہتے ہیں۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الحج، حدیث: 1583، 1584
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1583/
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1584/

📖 صحیح البخاری، کتاب مناقب الانصار، حدیث: 3887
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/3887/

اس حصے میں نماز ادا کرنے کا وہی حکم ہے جو بیت اللہ کے اندر نماز ادا کرنے کا حکم ہے۔

📖 سنن ابی داود، کتاب المناسک، حدیث: 2028
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/2028/

📘 بیت المعمور

اس موقع پر یہ بتانا بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا کہ بیت اللہ کے عین اوپر ساتویں آسمان پر بیت المعمور ہے، جو فرشتوں کی عبادت گاہ ہے۔

وہاں ہر روز ستر ہزار فرشتے طواف کرتے ہیں۔ جس فرشتے نے ایک دفعہ اس کا طواف کر لیا، قیامت تک اس کی دوبارہ باری نہیں آئے گی۔

📖 صحیح البخاری، کتاب بدء الخلق، حدیث: 3207
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/3207/

📖 تفسیر ابن کثیر: 305، 306/4
📖 تفسیر الطبری: 27/22

📘 ملتزم

بیت اللہ کے دروازے اور حجرِ اسود کے درمیان والے حصے کو ملتزم کہتے ہیں۔

اس پر اپنا چہرہ رکھنا، سینے کو ساتھ ملانا، اور نہایت عجز و انکسار کے ساتھ دعا کرنا مشروع اور مسنون عمل ہے۔

یہ عمل بعض صحابہ کرام مثلاً: عبداللہ بن عباس، عبداللہ بن عمر، عبداللہ بن عمرو اور زبیر بن عوام رضی اللہ عنہم سے بھی ثابت ہے۔

📖 السلسلۃ الصحیحۃ للألبانی، حدیث: 2138

📘 مقامِ ابراہیم

یہ ایک پتھر ہے جس پر کھڑے ہو کر سیدنا ابراہیم علیہ السلام بیت اللہ کی دیواریں اٹھاتے رہے۔

معجزانہ طور پر آج تک اس پتھر پر سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے پاؤں کے نشانات موجود ہیں۔ یہ پتھر بیت اللہ کے دروازے کی جانب قریب ہی ایک گنبد نما مقام کے اندر شیشے میں محفوظ ہے۔

اس کے متعلق اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿وَاتَّخِذُوا مِن مَّقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى﴾

ترجمہ:
اور مقامِ ابراہیم کو جائے نماز بناؤ۔

📖 سورۃ البقرۃ: 125
🔗 https://tohed.com/tafsir/2/125/

📘 یاد رکھیے!

اس پتھر کے باہر لگے خول یا جالی کو برکت کی نیت سے بوسہ دینا یا اسے چھونا ثابت نہیں ہے۔

📘 مطاف

بیت اللہ کے ارد گرد طواف کرنے کی جگہ مطاف کہلاتی ہے۔

📘 بئر زمزم

یہ بابرکت کنواں ہے جسے اللہ رب العالمین نے سیدہ ہاجر اور سیدنا اسماعیل علیہما السلام کے لیے جاری فرمایا تھا۔

ہزاروں برس گزر گئے، اس کا بابرکت پانی ابھی تک جاری ہے۔ اب یہ کنواں مطاف کے نیچے تہ خانے میں ہے۔

📘 صفا و مروہ

یہ بیت اللہ کے قریب واقع دو پہاڑیوں کے نام ہیں، جنہیں قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ کی تعظیم کا نشان قرار دیا گیا ہے۔

جب اللہ تعالیٰ کے حکم سے سیدنا ابراہیم، سیدہ ہاجر اور شیر خوار اسماعیل علیہم السلام کو اس ویران پہاڑی علاقے میں چھوڑ کر واپس شام چلے گئے، تو جلد ہی ان کے پاس کھانے پینے کا سامان ختم ہو گیا۔

تب پانی کی تلاش میں سیدہ ہاجر علیہا السلام نے ان پہاڑیوں کے درمیان بھاگ دوڑ کی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرتِ کاملہ سے زمزم کا چشمہ جاری فرما دیا۔

سیدہ ہاجر علیہا السلام کے اس عمل کو اللہ تعالیٰ نے حج و عمرے کا حصہ بنا دیا۔

حجاجِ کرام اسی سنت کو اپناتے ہوئے حج و عمرے کے دوران صفا و مروہ کے درمیان سات چکر لگاتے ہیں، جسے اصطلاحاً سعی کہتے ہیں۔

آج کل اس کی توسیع کر کے ایک تو اس کی چوڑائی کو دگنا کر دیا گیا ہے، اور مزید دو منزلوں کا اضافہ کر دیا گیا ہے: ایک تہہ خانہ، یعنی بیسمنٹ، اور تیسری بالائی منزل۔

یوں اب یہ چار منزلہ عمارت بن گئی ہے، اور مسجد حرام سے ملحق ہونے کی وجہ سے عملی طور پر مسجد حرام کا حصہ بن گئی ہے۔

8 📘 حج و عمرہ کے اہم امور

📘 حج کے مہینے

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿اَلْحَجُّ أَشْهُرٌ مَّعْلُومَاتٌ﴾

ترجمہ:
حج کے مہینے مقرر ہیں۔

📖 سورۃ البقرۃ: 197
🔗 https://tohed.com/tafsir/2/197/

حج کے مہینے یہ ہیں:

➊ شوال

➋ ذو القعدہ

➌ ذوالحجہ کا پہلا عشرہ

حج کے لیے احرام صرف انہی مہینوں میں باندھا جا سکتا ہے، جبکہ عمرے کے لیے احرام سال بھر میں کسی بھی وقت باندھا جا سکتا ہے۔

📘 مسئلہ

بعض نے یومِ عرفہ، دس ذوالحجہ کے دن اور ایامِ تشریق، یعنی 11، 12، 13 ذوالحجہ، میں عمرہ کرنے کو مکروہ جانا ہے۔

یہ بات بلا دلیل ہے۔ ان ایام میں عمرے کی ممانعت پر کوئی بھی دلیل موجود نہیں ہے۔

📘 شرائطِ حج

➊ مسلمان ہونا

➋ عاقل و بالغ ہونا

➌ تندرست و صحت مند ہونا

➍ صاحبِ استطاعت ہونا

➎ راستے کا پر امن ہونا، یعنی کسی قسم کی رکاوٹ کا نہ ہونا

عورتوں کے لیے ان شرائط کے علاوہ دو شرطیں اور بھی ہیں:

➊ خاوند یا محرم کا ساتھ ہونا

📖 صحیح البخاری، کتاب جزاء الصید، حدیث: 1862
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1862/

📘 محرم کون کون ہیں؟

عورت، شوہر کے علاوہ جن کے ساتھ سفر کر سکتی ہے، اور جن کو محرم کہا جاتا ہے، وہ کون کون ہیں؟

نسب کے اعتبار سے محرم حسبِ ذیل ہیں:

➊ باپ

➋ دادا

➌ بیٹا

➍ پوتا

➎ بھائی

➏ بھتیجا

➐ بھانجا

➑ ماموں

➒ چچا

➓ تایا

➤ رضاعت کے اعتبار سے، یعنی عورت نے جس عورت کا دودھ پیا ہے، اس کی وجہ سے بھی مذکورہ رشتے اس کے لیے حرام ہو جائیں گے، یعنی وہ بھی اس کے محرم ہوں گے۔

جیسے: رضاعی ماں کا خاوند، دودھ پینے والی عورت کا باپ تصور ہوگا۔ اسی طرح اس کے بیٹے اس کے بھائی، اس کے بھائی کے بیٹے بھتیجے، اس کی ہمشیرہ کے بیٹے بھانجے شمار ہوں گے، اور اس کے محرم ہوں گے۔

علاوہ ازیں رضاعی ماں کے بھائی ماموں، اس کے خاوند کے بھائی چچا ہوں گے، اور محرم ہوں گے۔

➤ سسرالی رشتوں میں سسر، یعنی شوہر کا باپ، شوہر کا پہلی بیوی سے بیٹا، اور عورت کا داماد محرم ہیں۔

محرم کی اصولی تعریف اس طرح کی جاتی ہے کہ جس کے ساتھ عورت کا کبھی نکاح نہ ہو سکے، وہ اس کا محرم ہے۔

جیسے: باپ، بیٹا، سسر، داماد وغیرہ رشتے ایسے ہیں کہ جن سے کبھی بھی نکاح نہیں ہو سکتا۔

اسی لیے بہنوئی محرم نہیں ہے، کیونکہ بہنوئی سے عورت کا رشتہ اس وقت ہو سکتا ہے جب اس کی بیوی، جو کہ عورت کی ہمشیرہ ہے، فوت ہو جائے، یا طلاق و خلع وغیرہ کے ذریعے ان کے درمیان علیحدگی ہو جائے۔

اسی طرح جیٹھ اور دیور بھی محرم نہیں، اس لیے کہ ان سے بھی اس وقت عورت کا نکاح ہو سکتا ہے، جب اس کا خاوند فوت ہو جائے، یا طلاق و خلع وغیرہ کے ذریعے ان میں جدائی ہو جائے۔

عورت کو محرم سے پردے کا حکم نہیں، اسی لیے بہنوئی، دیور اور جیٹھ سے پردہ کرنے کا حکم ہے، کیونکہ وہ محرم نہیں ہیں۔

📘 عورت کے حج کے لیے دوسری شرط

➋ حالتِ عدت میں نہ ہونا

عدت کی تفصیل حسبِ ذیل ہے:

➊ خاوند کی وفات پر بیوہ کی عدت قمری حساب سے چار ماہ دس دن ہے۔

➋ حمل کی صورت میں طلاق کی عدت وضعِ حمل ہے۔

➌ ماہواری آنے کی صورت میں طلاق کی عدت تین حیض ہے۔

➍ کسی وجہ سے ماہواری نہ آنے کی صورت میں طلاق کی عدت تین قمری مہینے ہے۔

9 📘 ارکانِ حج

حج کے بنیادی ارکان 4 ہیں:

➊ حج کی نیت کرنا

➋ وقوفِ عرفہ

➌ طوافِ زیارت

➍ صفا و مروہ کی سعی

ان چار ارکان میں سے اگر ایک رکن بھی رہ گیا تو حج نہیں ہوگا۔

📘 فرائضِ حج

➊ میقات سے احرام باندھنا، یعنی احرام کی نیت کر کے احرام والا لباس پہننا۔

➋ 9 اور 10 ذوالحجہ کی درمیانی شب مزدلفہ میں گزارنا۔

➌ سر کے بال منڈوانا یا کتروانا۔

➍ ایامِ تشریق، یعنی 11، 12 اور 13 ذوالحجہ میں سے کم از کم ابتدائی دو راتیں منیٰ میں گزارنا۔

➎ تینوں جمرات پر کنکریاں مارنا۔

➏ طوافِ وداع کرنا۔

البتہ حیض و نفاس والی عورتیں طوافِ وداع سے مستثنیٰ ہیں۔ ان کے لیے اجازت ہے کہ وہ طوافِ وداع کیے بغیر اپنے ملک کو روانہ ہو سکتی ہیں، بشرطیکہ انہوں نے 10 ذوالحجہ کو طوافِ زیارت کر لیا ہو۔

📘 وضاحت

اگر کوئی محرم حجِ قران یا حجِ تمتع کر رہا ہو تو اس پر قربانی بھی فرض ہے۔

📘 مانعِ حیض گولیوں کا استعمال

آج کل حیض کی عارضی بندش کے لیے گولیاں مل جاتی ہیں۔ ڈاکٹر کے مشورے سے ان کے استعمال کو علماء نے جائز قرار دیا ہے۔

اس لیے اگر ان کے استعمال سے حیض کے آنے کا خطرہ نہ رہے، اور پورے سفرِ حج میں وہ مشکلات پیدا نہ ہوں جو حیض کی وجہ سے طوافِ قدوم اور طوافِ زیارت کے موقع پر پیش آتی ہیں، تو ان گولیوں کا استعمال جائز ہے، بشرطیکہ صحت کے لیے مضر نہ ہوں۔

بنا بریں ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کر لیا جائے۔

مذکورہ امور کے سوا بقیہ تمام مناسکِ حج سنت ہیں۔

📘 تنبیہات

➊ جو حاجی حج کا کوئی رکن ادا نہ کر سکے، اس کا حج نہیں ہے، اسے دوبارہ حج کرنا ہوگا۔

➋ جو حاجی حج کے فرائض و واجبات میں سے کوئی فرض یا واجب چھوڑ دے گا، تو راجح قول کے مطابق وہ توبہ و استغفار کرے، اس پر کوئی دم نہیں ہے۔

📖 الموسوعۃ الفقہیۃ المیسرۃ: 295/4

➌ جو شخص قربانی نہ کر سکتا ہو، وہ 3 روزے حج کے دنوں میں اور 7 روزے واپس گھر پہنچ کر رکھے گا۔

➍ جو شخص کسی وجہ سے حج کی کوئی سنت ادا نہ کر سکے تو اس پر کوئی فدیہ نہیں ہوگا۔

📘 اقسامِ حج

حج کی تین قسمیں ہیں:

➊ قران

➋ تمتع

➌ افراد

📘 حجِ قران

لغوی اعتبار سے قران کے معنی “ملانا” ہیں۔

حجِ قران کرنے والا احرام باندھتے وقت حج اور عمرہ دونوں کی نیت کرتا ہے، اور دونوں کو ایک ہی احرام، یعنی نیت، میں ادا کرتا ہے۔ یعنی دونوں کے درمیان حلال نہیں ہوتا، اس لیے اسے قران کہتے ہیں۔

اس میں قربانی کرنا ضروری ہے۔

📘 مسئلہ

نبی اکرم ﷺ نے زندگی میں ایک حج کیا، اور وہ قران تھا۔

📘 حجِ تمتع

لغت میں تمتع کے معنی “فائدہ اٹھانا” ہیں۔

حجِ تمتع کرنے والا میقات سے عمرے کا احرام، یعنی نیت، باندھتا ہے، اور ادائیگیِ عمرہ کے بعد احرام کھول کر حلت کا فائدہ اٹھاتا ہے، یعنی حلال ہو جاتا ہے۔

اور 8 ذوالحجہ کو مکہ ہی سے دوبارہ حج کا احرام باندھتا ہے، اس لیے اسے حجِ تمتع کہتے ہیں۔

اس میں قربانی کرنا ضروری ہے۔

📘 حجِ افراد

افراد کے معنی کسی چیز کو “اکیلا” کرنا ہیں۔

حجِ افراد کرنے والا میقات سے صرف حج کا احرام اور حج کی نیت کرتا ہے، اس لیے اسے حجِ افراد کہتے ہیں۔

اس میں قربانی کرنا ضروری نہیں ہے۔

10 📘 حج کی اقسام میں سے کون سا حج افضل ہے؟

ویسے تو اسلام میں یہ تینوں اقسام کے حج جائز اور درست ہیں۔ ان میں سے کوئی سا بھی حج کر لیا جائے تو مسلمان اسلامی فریضے سے سبکدوش ہو جاتا ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے بذاتِ خود حجِ قران کیا تھا، لیکن بعد میں آپ ﷺ نے حجِ تمتع کرنے کے شوق کا اظہار فرمایا۔

ساتھ ہی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بھی حکم دیا کہ وہ اپنی نیتوں کو حجِ تمتع میں بدل لیں۔

جن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ ﷺ کے حکم کے بعد بھی نیتیں نہیں بدلی تھیں، آپ ﷺ نے ان پر غصے کا اظہار بھی فرمایا تھا۔

📖 صحیح مسلم، کتاب الحج، حدیث: 1211
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1211/

آپ ﷺ کے ساتھ چونکہ قربانی تھی، اس لیے آپ ﷺ اپنی نیت نہ بدل سکے۔

لہٰذا ان تینوں اقسام میں سے حجِ تمتع کرنا سب سے افضل ہے۔

📘 حجِ بدل

یعنی دوسرے کی طرف سے حج کرنا، اور یہ جائز ہے، بشرطیکہ حجِ بدل کرنے والا پہلے خود اپنا حج کر چکا ہو۔

اور جس کی طرف سے حج ہو رہا ہے، وہ فوت شدہ ہو یا انتہائی مریض ہو، جو کسی صورت سفر کے قابل نہ ہو۔

📖 سنن ابی داود، کتاب المناسک، حدیث: 1811
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/1811/

حجِ بدل کرنے والا احرام سے قبل نیت کرتے ہوئے اس شخص کا نام لے، جس کی طرف سے وہ حج کر رہا ہے۔

یعنی احرام باندھنے کے الفاظ دہراتے وقت آخر میں عَنْ کہے، پھر اس آدمی کا نام لے۔

مثلاً:

اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ حَجًّا عَنْ ……

📘 مسئلہ

اگر بالفرض وہ اس کا نام لینا بھول گیا، یا نام ہی بھول گیا، تو نیت ہی کافی ہے۔

اسی طرح حج کے طریقے میں بھی کوئی فرق نہیں ہے۔

📘 مسئلہ

حجِ بدل کی طرح عمرہ بھی دوسرے کی طرف سے کیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ اس شخص نے پہلے اپنا عمرہ ادا کیا ہو۔

نیز عمرے کے طریقے میں کوئی فرق نہیں ہے۔

📖 سنن ابی داود، کتاب المناسک، حدیث: 1810
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/1810/

📘 بچوں کا حج

نابالغ بچے بھی حج کر سکتے ہیں۔ ان کے حج کا اجر و ثواب والدین کو ملے گا۔

📖 صحیح مسلم، کتاب الحج، حدیث: 1336
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1336/

📘 بچوں کی کسی غلطی پر کوئی دم یا فدیہ نہیں

نبی ﷺ نے فرمایا:

تین آدمیوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے:

➊ سویا ہوا، حتیٰ کہ بیدار ہو جائے۔

➋ بچہ، حتیٰ کہ بالغ ہو جائے۔

➌ پاگل، حتیٰ کہ اس کا پاگل پن ختم ہو جائے۔

📖 سنن ابی داود، کتاب الحدود، حدیث: 4403
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/4403/

📘 کم سنی میں حج کرنے سے فرضیت ساقط نہیں ہوتی

اگر کسی بچے نے بلوغت سے قبل حج کیا تو اس سے فرضیت ساقط نہیں ہوگی۔

بلوغت اور استطاعت کی صورت میں اسے دوبارہ حج کرنا ہوگا۔

📖 المعجم الاوسط للطبرانی: 353/3، حدیث: 2752

11 📘 احرام سے متعلق احکام و مسائل صحیح احادیث کی روشنی میں

جس طرح نمازی تکبیرِ تحریمہ سے نماز میں داخل ہوتا ہے، اور تکبیرِ تحریمہ کے بعد اس پر کچھ پابندیاں عائد ہو جاتی ہیں، اسی طرح حج یا عمرہ کرنے والا احرام کے بعد حج اور عمرے میں داخل ہو جاتا ہے، اور اس پر بھی کچھ پابندیاں عائد ہو جاتی ہیں۔

📘 احرام سے قبل غسل کرنا

حج یا عمرے کا احرام باندھنے والے کے لیے مستحب، یعنی پسندیدہ، ہے کہ وہ پہلے غسل کرے، کیونکہ نبی ﷺ سے ایسے ہی ثابت ہے۔

📖 جامع الترمذی، کتاب الحج، حدیث: 830

🔗https://tohed.com/hadith/tirmidhi/830/

لیکن واضح رہے کہ سر تا پا صفائی، یعنی زیرِ ناف بالوں اور بغلوں کی صفائی، کو اس وقت تک مؤخر کرنا اور اس تاخیر کو مسنون سمجھنا درست نہیں۔

📘 مسئلہ

اگر حاجی یا معتمر مرض یا کسی اور وجہ سے غسل نہیں کر پایا، یا نہیں کر سکتا، تو وہ غسل کے بغیر بھی احرام باندھ سکتا ہے۔ اس کے حج یا عمرے میں کسی بھی قسم کا خلل واقع نہیں ہوگا۔

احرام سے قبل بدن پر خوشبو لگائے۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الحج، حدیث: 1539
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1539/

📘 مسئلہ

احرام باندھتے ہوئے کپڑوں پر خوشبو کا استعمال قطعاً ممنوع ہے۔

عورتوں کو چاہیے کہ وہ بھی احرام سے قبل غسل کریں۔ نیز وہ عورتیں جو حالتِ حیض یا نفاس میں ہوں، وہ بھی غسل کر کے احرام باندھیں۔

📖 صحیح مسلم، کتاب الحج، حدیث: 1209
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1209/

📘 احرام باندھتے وقت دو قسم کی عورتوں کے لیے غسل ضروری ہے

احرام باندھتے وقت غسل کرنا مرد کے لیے ضروری ہے نہ عورت کے لیے، البتہ یہ مستحب، یعنی بہتر، عمل ہے۔

تاہم عورت کے لیے دو حالتوں میں غسل ضروری ہے:

➊ حج یا عمرے کے لیے جاتے ہوئے راستے میں اگر عورت کو زچگی، یعنی ولادت، ہو جائے، تو اس کے لیے غسل ضروری ہے۔

نبی ﷺ کے سفرِ حج میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی اہلیہ محترمہ سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کے ہاں محمد بن ابی بکر کی ولادت ہوئی، تو نبی ﷺ نے انہیں غسل کر کے احرام باندھنے کا حکم دیا۔

یہ واقعہ مدینے سے نکلنے کے بعد شجرہ، یعنی ذو الحلیفہ، کے مقام پر پیش آیا۔

📖 صحیح مسلم، کتاب الحج، حدیث: 1209، 1210
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1209/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1210/

➋ یا عورت حائضہ ہو جائے تو اس کے لیے بھی یہی حکم ہے کہ وہ غسل کر لے، اور بیت اللہ کے طواف کے علاوہ حج کے سارے مناسک ادا کر لے، پاک ہونے کے بعد طواف بھی کر لے۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ سفرِ حج میں یہی معاملہ پیش آیا، تو نبی ﷺ نے انہیں غسل کر کے سوائے طواف کے سارے مناسکِ حج ادا کرنے کی ہدایت فرمائی۔

📘 مردوں کا احرام

مردوں کے لیے دو صاف ستھری چادریں، اگر سفید ہوں تو بہتر ہے، احرام کا لباس ہیں۔

➊ ایک بطورِ تہبند باندھنے کے لیے

➋ دوسری اوپر اوڑھنے کے لیے

لیکن سر اور چہرہ ننگا رہے۔ جوتا کوئی سا بھی پہنا جا سکتا ہے، البتہ ٹخنے ننگے ہوں۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الحج، حدیث: 1542، 1545
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1542/
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1545/

📘 عورتوں کا احرام

عورتوں کے لیے کوئی مخصوص احرام نہیں۔ وہ جو بھی کپڑے پہنے ہوئے ہوں انھی کو بطور احرام اختیار کر سکتی ہیں، البتہ نہ دستانے پہنیں اور نہ نقاب پہنیں۔ [سنن أبي داود، المناسك، حديث:1825]

📘 مسئلہ

احرام کا لباس نیا اور غیر استعمال شدہ ہونا ضروری نہیں۔ بلکہ پرانا اور استعمال شدہ بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

وہ ایک لباس ہی ہے، اسے جتنی بار چاہیں استعمال کریں۔

📘 مسئلہ

گھڑی، انگوٹھی، عینک اور پرس والا بیلٹ وغیرہ پہننے میں کسی قسم کا کوئی حرج نہیں ہے۔

📘 احرام کے بعد غیر مسنون اعمال سے اجتناب

بعض لوگ احرام کے آغاز ہی سے اضطباع، یعنی دایاں کندھا ننگا، کر لیتے ہیں، اور اسی حالت میں نمازیں ادا کرتے رہتے ہیں۔ یہ بالکل غلط ہے، کیونکہ نماز کی حالت میں کندھے کھلے رکھنے سے منع کیا گیا ہے۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الصلاۃ، حدیث: 359
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/359/

نیز نبی ﷺ سے اضطباع صرف طوافِ قدوم میں ثابت ہے۔

📖 جامع الترمذی، کتاب الحج، حدیث: 859

🔗 https://tohed.com/hadith/tirmidhi/859/

📌 نوٹ:
دورانِ نماز اضطباع، یعنی دایاں کندھا ننگا رکھنا، ممنوع ہے۔ نماز کی حالت میں دونوں کندھے ڈھانپ کر رکھیں۔

➤ احرام باندھنے کے بعد دو رکعت نفل نبی ﷺ سے ثابت نہیں۔

➤ بعض عورتیں سر کی دونوں جانب پنکھا نما کوئی چیز باندھتی ہیں، یا دھوپ سے بچاؤ والا ہیٹ پہن کر اس کے اوپر نقاب ڈالتی ہیں، تاکہ نقاب کا کپڑا چہرے کو نہ لگے۔ یہ محض تکلف ہے۔

➤ بعض لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ احرام کے بعد مووی بنواتے اور تصویریں کھنچواتے ہیں۔ یہ بالکل ناجائز، حرام اور آدابِ حج کے منافی ہے۔

اور خطرہ ہے کہ کہیں ریا کاری کی وجہ سے حج کے ثواب ہی سے محروم نہ رہ جائیں۔

12 📘 احرام میں جوتے کا مسئلہ

احرام کی حالت میں صرف ٹخنہ ننگا ہونا چاہیے، نہ کہ پاؤں کے اوپر والی ابھری ہوئی ہڈی، یعنی پشتِ قدم کا ابھرا ہوا حصہ۔

نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

لَا يَلْبَسُ المُحْرِمُ… وَلَا الخِفَافَ، إِلَّا أَحَدٌ لَا يَجِدُ نَعْلَيْنِ، فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْنِ، ثُمَّ لْيَقْطَعْهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الكَعْبَيْنِ

ترجمہ:
محرم موزے نہ پہنے، ہاں جسے نعلین نہ ملیں وہ موزے پہن لے، پھر انہیں دو ٹخنوں سے نیچے کاٹ دے۔

📖 صحیح البخاری: 134
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/134/

📖 صحیح مسلم: 1177
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1177/

📘 لغوی تحقیق

📌 تعریفِ کعب

ٱلْكَعبانِ العِظْمانِ النَّاتِئانِ عِندَ مَفْصِلِ السّاقِ وَالْقَدَمِ

ترجمہ:
کعب وہ دو اُبھری ہڈیاں ہیں جو ساق اور قدم کے جوڑ پر ہیں۔

📖 لسان العرب، مادہ: کعب

📌 اصمعی کا ردّ

وَأَنْكَرَ الأَصمعيُّ قَوْلَ النَّاسِ: إِنَّهُ فِي ظَهْرِ القَدَمِ

ترجمہ:
اصمعی نے اس قول کو ردّ کیا کہ کعب پاؤں کی پشت میں ہے۔

📖 لسان العرب، مادہ: کعب

📘 نتیجہ

لغوی طور پر کعب صرف ٹخنے کی اُبھری ہڈی ہے، پشتِ قدم نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے صرف کعبین، یعنی دونوں ٹخنوں، کو ظاہر کرنے کا حکم دیا۔

اگر مشطِ قدم، یعنی پاؤں کے اوپر والے حصے، کا بھی کھلا رہنا لازم ہوتا تو اسی مقام پر واضح فرما دیتے۔

📘 اقوالِ متقدمین

📌 ابو عبید قاسم بن سلام رحمہ اللہ، م 224ھ

ٱلكعبُ الَّذِي فِي أَصْلِ القَدَمِ مُنْتَهَى السّاقِ إِلَيْهِ

ترجمہ:
کعب وہ جگہ ہے جو قدم کی جڑ پر واقع ہے، جہاں ساق آ کر ختم ہوتی ہے۔

📖 غریب الحدیث: 185/3

📌 ابن عبد البر رحمہ اللہ، م 463ھ

ٱلكعبانِ العِظْمانِ النَّاتِئانِ عَنِ الجَنْبَيْنِ

ترجمہ:
کعب وہ دو ابھری ہوئی ہڈیاں ہیں جو پاؤں کے پہلوؤں پر نمایاں ہوتی ہیں۔

📖 التمہید: 65/13

📌 امام نووی رحمہ اللہ، م 676ھ

اتَّفَقَ العُلَمَاءُ عَلَى أَنَّ المُرَادَ بِالكَعْبَيْنِ العِظْمَانِ النَّاتِئَانِ بَيْنَ السَّاقِ وَالقَدَمِ

ترجمہ:
علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ کعبین سے مراد وہ دو اُبھری ہڈیاں ہیں جو ساق اور قدم کے بیچ میں ہیں۔

📖 شرح صحیح مسلم: 196/8

📌 ابن قدامہ رحمہ اللہ، م 620ھ

وَالكِعَابُ المَشْهُورَةُ هِيَ الَّتِي ذَكَرْنَاهَا

ترجمہ:
مشہور و معروف کعبین وہی ہیں جن کا ہم نے ذکر کیا ہے، یعنی ٹخنے کی اُبھری ہڈیاں۔

📖 المغنی: 208/3

📘 اقوالِ متأخرین

📌 حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ، م 852ھ

هَذَا ضَعِيفٌ، لَا يُعْرَفُ عِنْدَ أَهْلِ اللُّغَةِ أَنَّ الكَعْبَ هُوَ ظَهْرُ القَدَمِ

ترجمہ:
یہ قول ضعیف ہے؛ لغت کے ماہرین کے نزدیک کعب کو پاؤں کی پشت کہنا نامعلوم ہے۔

📖 فتح الباری: 307/3

📌 اللجنۃ الدائمۃ للبحوث والإفتاء، سعودیہ

لَا يَلْزَمُ أَنْ يَكُونَ ظَهْرُ القَدَمِ مَكْشُوفًا؛ إِنَّمَا الوَاجِبُ كَشْفُ الكَعْبَيْنِ فِي النَّعْلَيْنِ

ترجمہ:
احرام کے جوتے میں پاؤں کی پشت کا کھلا ہونا ضروری نہیں؛ لازم صرف یہ ہے کہ کعبین کھلے ہوں۔

📖 فتاویٰ اللجنۃ الدائمۃ: 183/11

📌 شیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ، م 1421ھ

المَقْصُودُ أَنْ تَكُونَ النَّعْلَانِ تَحْتَ الكَعْبَيْنِ، وَأَمَّا ظَهْرُ القَدَمِ فَلَيْسَ بِشَرْطٍ فِي الإِحْرَامِ

ترجمہ:
مقصود یہ ہے کہ نعلین کعبین سے نیچے ہوں، رہا پاؤں کا اوپری حصہ تو احرام میں اس کا کھلا ہونا شرط نہیں۔

📖 الشرح الممتع: 161/7

📘 خلاصہ

احرام میں جوتا ایسا ہو جس میں ٹخنوں کی اُبھری ہوئی ہڈیاں کھلی رہیں۔ پاؤں کی پشت یا اوپر والا حصہ کھلا ہونا شرط نہیں۔

لہٰذا احرام کے جوتے کے بارے میں اصل معیار یہ ہے کہ وہ کعبین، یعنی دونوں ٹخنوں، سے نیچے ہو۔

📌 مزید تفصیل کے لیے ویڈیوز:

🔗 https://www.youtube.com/watch?v=PB49ebinq2Y

🔗 https://www.youtube.com/shorts/6KfDy6LlooE

13 📘 احرام کا تلبیہ

عمرہ اور حجِ تمتع کرنے والا میقات سے روانہ ہوتے وقت یہ الفاظ کہے:

اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ عُمْرَةً

ترجمہ:
یا اللہ! میں تیری بارگاہ میں عمرے کے لیے حاضر ہوں۔

📘 حجِ قران کرنے والا یہ الفاظ کہے:

اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ حَجًّا وَعُمْرَةً

ترجمہ:
یا اللہ! میں تیری بارگاہ میں حج اور عمرے کے لیے حاضر ہوں۔

📘 حجِ افراد کرنے والا یہ الفاظ کہے:

اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ حَجًّا

ترجمہ:
یا اللہ! میں تیری بارگاہ میں حج کے لیے حاضر ہوں۔

اسی طرح حجِ تمتع کرنے والا 8 ذوالحجہ کو جب حج کے لیے احرام باندھے گا تو وہ بھی حجِ افراد والے الفاظ کہے گا۔

📘 مسئلہ

اگر کسی شخص نے میقات سے حجِ افراد یا حجِ قران کا احرام باندھا ہے، لیکن مکہ پہنچنے کے بعد اس کا ارادہ بدل جاتا ہے، اور وہ افراد یا قران کو تمتع میں تبدیل کر لیتا ہے تو کوئی حرج نہیں، اور نہ اس پر کوئی دم یا فدیہ ہے۔

البتہ حجِ قران کرنے والا اگر اپنے ساتھ قربانی کا جانور لایا ہو تو وہ اسے حجِ تمتع میں تبدیل نہیں کر سکتا۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الحج، حدیث: 1638
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1638/

📖 صحیح مسلم، کتاب الحج، حدیث: 1211
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1211/

📘 مشروط احرام باندھنا

ایک بیمار شخص میقات پر احرام باندھتے وقت قدرے صحت مند ہے، مگر اسے یہ خدشہ ہے کہ اس کی تکلیف بڑھ سکتی ہے، یا دوبارہ شروع ہو سکتی ہے، یا کوئی اور ایسا عذر پیش آ سکتا ہے جو حرم تک پہنچنے سے رکاوٹ کا باعث ہوگا، تو اسے چاہیے کہ پہلے ذکر شدہ الفاظ کے بعد یہ الفاظ بھی کہے:

اللَّهُمَّ مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي

ترجمہ:
اے اللہ! میرے حلال ہونے کی جگہ وہی ہے جہاں تو مجھے روک دے گا۔

📖 صحیح البخاری، کتاب النکاح، حدیث: 5089
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/5089/

📘 مسئلہ

اس شرط کا فائدہ یہ ہے کہ اگر رکاوٹ پیش آنے کی صورت میں احرام کھولنا پڑ گیا تو اسے فدیہ نہیں دینا پڑے گا۔

اور اگر اس کا حج نفلی ہے تو قضا بھی نہیں دینی پڑے گی۔

📖 مناسک الحج والعمرۃ للإمام الألبانی، ص: 15

لیکن اگر اس نے مشروط احرام نہیں باندھا تھا، اور رکاوٹ کی صورت میں قربانی کرنا اس کی استطاعت میں ہے، تو اپنی قربانی کسی کے ساتھ حرم بھیج دے تاکہ وہاں ذبح ہو جائے، پھر اندازاً اس کے ذبح ہونے پر احرام کھول دے۔

اور اگر وہ قربانی نہیں بھیج سکتا تو رکاوٹ کے مقام ہی پر قربانی ذبح کر دے، اور حجامت کے بعد احرام کھول دے۔

اور اگر قربانی کی استطاعت نہیں رکھتا تو حجِ تمتع کی طرح دس روزے رکھے۔

📖 صحیح البخاری، کتاب المحصر، حدیث: 1807، 1810
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1807/
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1810/

📖 اضواء البیان، ص: 83، 85

📘 تلبیہ کے الفاظ

حج یا عمرہ کرنے والا احرام باندھنے کے بعد میقات سے تلبیہ شروع کر دے۔

تلبیہ کے الفاظ یہ ہیں:

لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ

ترجمہ:
حاضر ہوں، یا اللہ! میں حاضر ہوں۔ بار بار حاضر ہوں۔ تیرا کوئی شریک نہیں۔ میں پھر حاضر ہوں۔ یقیناً سب تعریفیں اور نعمتیں تیرے ہی لیے ہیں، اور ساری بادشاہت بھی تیری ہے۔ تیرا کوئی شریک نہیں۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الحج، حدیث: 1549
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1549/

نبی ﷺ سے تلبیہ کے یہ الفاظ بھی ثابت ہیں:

لَبَّيْكَ إِلَهَ الْحَقِّ

ترجمہ:
اے معبودِ برحق! میں حاضر ہوں۔

📖 سنن النسائی، کتاب مناسک الحج، حدیث: 2753
🔗 https://tohed.com/hadith/nasai/2753/

📘 تلبیہ کب ختم کیا جائے؟

عمرہ کرنے والا مسجدِ حرام میں داخل ہونے کے بعد جب طواف شروع کرنے لگے تو تلبیہ بند کر دے۔

📖 جامع الترمذی، کتاب الحج، حدیث: 919

جبکہ حج کرنے والا 10 ذوالحجہ کے دن بڑے جمرے کو کنکریاں مارنے سے پہلے تلبیہ ختم کرے گا۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الحج، حدیث: 1685
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1685/

📘 احرام کی پابندیاں

احرام باندھنے کے بعد حج یا عمرہ کرنے والے پر کچھ پابندیاں عائد ہو جاتی ہیں:

📘 مردوں کے لیے

➊ سلا ہوا کپڑا پہننا

➋ پگڑی، ٹوپی یا رومال وغیرہ اوڑھنا

➌ موزے یا جرابیں پہننا

➍ خوشبو لگانا

➎ سر کے بال کٹوانا

➏ جمہور علماء نے اسی پر قیاس کرتے ہوئے جسم کے دوسرے حصوں کے بالوں کی صفائی کو بھی ممنوع قرار دیا ہے

➐ اسی طرح ناخن کاٹنے کو بھی ممنوع قرار دیا ہے
شیخ عثیمین رحمہ اللہ

➑ بیوی سے استمتاع

➒ نکاح کرنا

➓ نکاح کرانا یا اس کا پیغام بھیجنا

⓫ خشکی کا شکار کرنا یا شکار میں مدد دینا

📘 عورتوں کے لیے

➊ خوشبو لگانا

➋ بال اور ناخن کاٹنا

➌ دستانے پہننا

➍ نقاب، یعنی چہرے کے مطابق سلا ہوا کپڑا، پہننا

➎ شکار کرنا یا شکار میں مدد دینا

➏ خاوند سے ملاپ

➐ نکاح کرنا، کرانا یا اس کا پیغام بھیجنا

📘 اگر کوئی شخص حالتِ احرام میں فوت ہو جائے؟

اگر کوئی شخص حالتِ احرام میں فوت ہو جائے تو اسے خوشبو نہ لگائی جائے، نہ اس کا سر ڈھانپا جائے، اور اسے احرام ہی کی چادروں میں کفن دیا جائے۔

📖 سنن النسائی، کتاب مناسک الحج، حدیث: 2856
🔗 https://tohed.com/hadith/nasai/2856/

📘 احرام میں جائز امور

➊ حج یا عمرہ کرنے والا حالتِ احرام میں بغیر خوشبو والے صابن اور شیمپو سے غسل کر سکتا ہے۔

➋ آنکھوں کے علاج کے لیے سرمہ یا دوائی ڈال سکتا ہے۔

➌ جسم کے کسی حصے سے علاج کے لیے خون نکلوا سکتا ہے۔

➍ ایسا تیل لگا سکتا ہے جس میں خوشبو نہ ہو۔

➎ کسی قسم کی بیماری کا علاج کرا سکتا ہے۔

➏ جسم پر خارش کر سکتا ہے۔

➐ چھتری استعمال کر سکتا ہے۔

➑ سر پر وزن اٹھا سکتا ہے۔

➒ احرام کی چادریں دھو یا بدل سکتا ہے۔

➓ سمندری شکار کر سکتا ہے۔

⓫ سانپ، بچھو، کوا، چیل اور کاٹنے والے کتے کو مار سکتا ہے۔

14 📘 حجِ تمتع کا مسنون طریقہ صحیح احادیث کی روشنی میں

حجِ تمتع کرنے والا مکہ پہنچ کر سب سے پہلے عمرہ کرے گا جس کا تفصیلی طریقہ صحیح احادیث کی روشنی میں یہاں موجود ہے:

🔗https://tohed.com/93190d

اس کے بعد 8 ذوالحجہ کو فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد اپنی رہائش گاہ سے حج کی نیت کرتے ہوئے احرام باندھیں اور منیٰ کی طرف جاتے ہوئے تلبیہ شروع کر دیں۔

جبکہ حجِ قِران یا حجِ اِفراد کرنے والے میقات سے باندھے ہوئے احرام میں 8 ذوالحجہ کو منیٰ کی طرف روانہ ہوتے وقت تلبیہ پکاریں۔

━━━━━━━━━━━━━━

🕋 منیٰ روانگی کا وقت

منیٰ جانے کے لیے کسی خاص وقت کا تعین نہیں ہے، البتہ ظہر کی نماز سے پہلے پہلے منیٰ پہنچ جانا چاہیے۔

📖 صحیح مسلم، کتاب الحج، حدیث: 1218
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1218/

━━━━━━━━━━━━━━

🕌 منیٰ میں قیام اور نمازوں کی ادائیگی

ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور فجر کی نمازیں منیٰ میں اپنے اپنے وقت پر ادا کریں۔

نیز ظہر، عصر اور عشاء قصر ادا کریں، نبی کریم ﷺ کی سنتِ مبارکہ یہی ہے۔

لیکن یہاں مزدلفہ اور عرفات کی طرح نمازیں جمع نہیں ہوں گی، بلکہ ہر نماز اپنے وقت پر پڑھی جائے گی۔

📖 صحیح مسلم، کتاب الحج، حدیث: 1218
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1218/

━━━━━━━━━━━━━━

⚠️ یاد رکھیے!

ظہر، عصر اور عشاء کو قصر کر کے پڑھنا تمام حاجیوں کے لیے ضروری ہے، خواہ مکہ کے مقیم ہوں یا باہر کے رہنے والے ہوں۔

حجۃ الوداع کے موقع پر نبی ﷺ نے بلا استثنا تمام حجاج کو نماز قصر پڑھائی اور اہلِ مکہ کو اپنی نماز پوری کرنے کا حکم نہیں دیا۔

📖 صحیح مسلم، کتاب الصلاة، حدیث: 696
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/696/

اس کے برعکس فتحِ مکہ کے موقع پر آپ ﷺ نے خود تو نماز قصر پڑھی اور اہلِ مکہ سے فرمایا کہ تم نماز پوری کر لو، اس لیے کہ ہم تو مسافر ہیں۔

📖 سنن أبي داود، صلاة السفر، حدیث: 1229
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/1229/

━━━━━━━━━━━━━━

🕋 عرفات روانگی کا وقت

9 ذوالحجہ کو سورج طلوع ہونے کے بعد میدانِ عرفات کی طرف روانہ ہونا چاہیے۔

📖 صحیح مسلم، کتاب الحج، حدیث: 1218
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1218/

📝 نوٹ:

مکہ سے منیٰ اور منیٰ سے عرفات جانے والوں کے لیے پیدل چلنے کا الگ راستہ بنایا گیا ہے، جسے طَرِيقُ الْمُشَاةِ کہا جاتا ہے۔

اس راستے میں حکومتِ سعودیہ کی طرف سے جگہ جگہ ٹھنڈے پانی کا انتظام کیا گیا ہے۔

━━━━━━━━━━━━━━

❓ مسئلہ: منیٰ سے عرفات جانا سواری پر افضل ہے یا پیدل؟

بعض لوگ سواری کی سہولت ہونے کے باوجود پیدل چلنے کی مشقت کو ثواب جان کر پیدل چلتے ہیں۔

یاد رکھیں کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ سفر سواری پر طے فرمایا تھا، کیونکہ یہ کافی لمبا سفر ہے، اور وہاں جا کر عبادت اور ذکر و اذکار کرنے ہوتے ہیں۔

تو جو شخص پیدل جائے گا وہ کبھی اس قابل نہیں رہ سکتا کہ مکمل چستی اور دل جمعی سے اذکار کر سکے۔

لہٰذا ہر دو لحاظ سے سواری ہی افضل اور مستحب ہے۔ جمہور علماء بھی اسی کے قائل ہیں۔

📖 الضعيفة للألباني، حدیث: 495

━━━━━━━━━━━━━━

📿 راستے کا عمل

منیٰ سے عرفات جاتے ہوئے:

➊ تکبیر:
اللّٰهُ أَكْبَر

➋ تہلیل:
لَا إِلٰهَ إِلَّا الله

➌ تلبیہ:
لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ

پکارنا مسنون ہے۔

9 ذوالحجہ کے بعد وقتاً فوقتاً تکبیراتِ عید بھی پڑھی جا سکتی ہیں۔

📖 صحیح مسلم، کتاب الحج، حدیث: 1285، 1284
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1285/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1284/

━━━━━━━━━━━━━━

🌿 مسنون عمل

نبی ﷺ نے میدانِ عرفات میں داخل ہونے سے قبل وادیٔ نمرہ میں آرام فرمایا۔ اب اسی نام سے یہاں مسجد ہے۔

سورج ڈھلنے کے بعد آپ ﷺ نے یہاں خطبہ ارشاد فرمایا، پھر ظہر کے وقت ظہر اور عصر جمع اور قصر کر کے ادا فرمائیں۔

ان کے درمیان کوئی نفلی نماز نہیں پڑھی۔

اس کے بعد آپ ﷺ میدانِ عرفات میں داخل ہوئے۔

📖 صحیح مسلم، کتاب الحج، حدیث: 1218
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1218/

━━━━━━━━━━━━━━

➤ اس حدیث کی روشنی میں حجاجِ کرام کو چاہیے کہ وہ میدانِ عرفات میں خیمہ زن ہونے کی بجائے مسجدِ نمرہ میں ٹھہریں۔

اگر مسجد میں جگہ نہ مل سکے تو اس کے قریب کسی جگہ پر ٹھہریں۔

یہاں حج کا خطبہ سنیں اور ظہر و عصر کی نمازیں جمع تقدیم کی صورت میں باجماعت ادا کریں۔

بعد ازاں میدانِ عرفات میں وقوف کریں۔

15 📘 وقوفِ عرفات کے اہم مسائل

➊ میدانِ عرفات میں ظہر اور عصر کی نمازیں جمع تقدیم اور قصر کر کے ادا کرنا سنت ہے، اور پوری نمازیں پڑھنا خلافِ سنت ہے۔

➋ میدانِ عرفات میں وقوف حج کا بنیادی رکن ہے۔ اگر کسی شخص نے حج کے تمام مناسک ادا کر لیے، لیکن میدانِ عرفات میں وقوف نہیں کیا تو اس کا حج نہیں ہوگا۔

➌ اگر کوئی شخص عرفات میں دیر سے پہنچا اور اس نے 9 اور 10 ذوالحجہ کی درمیانی رات کو فجر سے پہلے پہلے کسی وقت میدانِ عرفات میں تھوڑی دیر کے لیے بھی وقوف کر لیا تو اس کا حج ہو جائے گا۔

📖 سنن النسائي، مناسك الحج، حدیث: 3019
🔗 https://tohed.com/hadith/nasai/3019/

➍ میدانِ عرفات میں وقوف کرنے کے لیے کوئی خاص جگہ متعین نہیں ہے۔

نبی کریم ﷺ نے جبلِ رحمت کے قریب وقوف کیا اور فرمایا:

میں نے یہاں وقوف کیا ہے، جب کہ سارا عرفات جائے وقوف یعنی ٹھہرنے کی جگہ ہے۔

📖 صحیح مسلم، کتاب الحج، حدیث: 1219
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1219/

لہٰذا جبلِ رحمت پر چڑھنا اور اس پر مانگی گئی دعا کو زیادہ اہم سمجھنا، یہ سب من گھڑت باتیں ہیں۔

➎ مسجدِ نمرہ کا کچھ حصہ میدانِ عرفات میں اور زیادہ تر اس کی حدود سے باہر ہے، جیسا کہ دونوں جانب لگے ہوئے بورڈوں سے نشاندہی کی گئی ہے۔

لہٰذا حجاجِ کرام کو چاہیے کہ وہ خطبۂ حج اور نمازوں کے فوراً بعد مسجدِ نمرہ سے آگے چل کر میدانِ عرفات میں وقوف کریں۔

ورنہ حدودِ عرفات سے باہر وقوف سے حج باطل اور ضائع ہو جائے گا۔

➏ بعض لوگ لفظِ وقوف سے صرف کھڑا رہنا ہی مسنون سمجھتے ہیں، یہ بات بلا دلیل ہے، اور اپنے آپ کو مشقت میں ڈالنے کے سوا کچھ نہیں۔

➐ میدانِ عرفات کے چاروں طرف پیلے رنگ کے بڑے بڑے بورڈ لگے ہوئے ہیں، جو اس کی حد بندی کی نشاندہی کرتے ہیں۔

━━━━━━━━━━━━━━

🤲 میدانِ عرفات میں کثرت سے دعائیں کرنا

یومِ عرفہ، یعنی 9 ذوالحجہ، اور میدانِ عرفات قبولیتِ دعا کا بہترین دن اور بہترین جگہ ہے۔

اس دن کی بہترین دعا، جو نبی ﷺ کے علاوہ تمام انبیاء کرام علیہم السلام نے بھی مانگی، یہ ہے:

لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ

ترجمہ:

اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں ہے۔ وہ اکیلا ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ اسی کے لیے بادشاہی ہے اور اسی کے لیے سب تعریف ہے، اور وہ ہر شے پر خوب قدرت رکھنے والا ہے۔

📖 جامع الترمذي، الدعوات، حدیث: 3585

━━━━━━━━━━━━━━

🔥 یومِ عرفہ، جہنم کی آگ سے براءت کا دن

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:

عرفہ کے سوا کوئی اور دن ایسا نہیں ہے کہ جس میں اللہ تعالیٰ اس کثرت سے بندوں کو جہنم کی آگ سے آزاد کرتا ہو۔

اس روز اللہ اپنے بندوں کے بہت قریب ہوتا ہے، اور فرشتوں کے سامنے ان حاجیوں کی وجہ سے فخر کرتا ہے، اور فرشتوں سے پوچھتا ہے کہ یہ لوگ کیا چاہتے ہیں؟

یعنی اپنی دنیاوی ضرورتوں کے باوجود مجھ سے صرف میری مغفرت اور رضا مندی کے طلبگار ہیں۔

📖 صحیح مسلم، کتاب الحج، حدیث: 1348
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1348/

━━━━━━━━━━━━━━

❓ مسئلہ

میدانِ عرفات میں قبلہ رخ ہو کر ہاتھ اٹھا کر دعائیں کرنی چاہئیں۔

📖 سنن النسائي، الحج، حدیث: 3014
🔗 https://tohed.com/hadith/nasai/3014/

━━━━━━━━━━━━━━

⚠️ یاد رکھیے!

نمازوں سے فراغت کے بعد سورج غروب ہونے تک ادھر اُدھر گھومنے پھرنے، سونے یا فضول گفتگو کرنے کے بجائے اس وقت کو اذکار اور دعاؤں میں صرف کرنا چاہیے۔

یہ مقام اور یہ مواقع بار بار میسر نہیں آتے، لہٰذا ان سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی کوشش کرنی چاہیے۔

━━━━━━━━━━━━━━

🕋 حجِ اکبر کی اصطلاح

اکثر لوگوں میں یہ مشہور ہے کہ اگر جمعہ کے دن حج، یعنی یومِ عرفہ ہو تو یہ حج حجِ اکبر ہے، اور اس کا اجر و ثواب زیادہ ہے۔

یہ بات بلا دلیل ہے۔

قرآنِ مجید میں یَوْمُ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ کہا گیا ہے:

📖 سورۃ التوبہ: 3

اس سے مراد 9 ذوالحجہ، یعنی یومِ عرفہ ہے، خواہ وہ کسی بھی دن آئے۔

16 📘 عرفات سے مزدلفہ روانگی

◈ سورج غروب ہونے کے بعد نمازِ مغرب ادا کیے بغیر عرفات سے مزدلفہ روانہ ہونا چاہیے۔ یہی مسنون عمل ہے۔

📖 صحیح مسلم، کتاب الحج، حدیث: 1218
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1218/

◈ راستے میں اطمینان، سنجیدگی اور وقار کو ملحوظ رکھا جائے۔

📖 صحیح مسلم، کتاب الحج، حدیث: 1218
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1218/

◈ ساتھ ساتھ تلبیہ بھی پڑھتے رہنا چاہیے، کیونکہ نبی ﷺ دس ذوالحجہ کے دن جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارنے تک تلبیہ پکارتے رہے۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الحج، حدیث: 1544، 1543
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1544/
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1543/

━━━━━━━━━━━━━━

🕌 مزدلفہ میں جمع بین الصلاتین

مزدلفہ پہنچ کر جہاں بھی جگہ ملے ٹھہر جائیں۔

سب سے پہلے اذان اور اقامت کہہ کر مغرب کی نماز ادا کی جائے۔

بعد ازاں دوسری اقامت سے عشاء کی نماز قصر، یعنی دو رکعت، ادا کی جائے۔

اس موقع پر نبی ﷺ نے سنتیں، نوافل یا وتر ادا نہیں فرمائے، بلکہ آپ ﷺ عشاء کی نماز پڑھ کر سو گئے، اور رات کو تہجد بھی ادا نہیں فرمائی، کیونکہ آپ ﷺ فجر طلوع ہونے تک سوئے رہے۔

📖 صحیح مسلم، کتاب الحج، حدیث: 1218
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1218/

━━━━━━━━━━━━━━

⚠️ تنبیہ

بعض لوگوں کو خیمے ایک ہی جگہ الاٹ کیے جاتے ہیں، وہ منیٰ میں دے دیے جائیں یا مزدلفہ میں۔

جب منیٰ کی راتیں آئیں گی تو سعودی علماء کمیٹی کا فتویٰ ہے کہ مزدلفہ کے خیمے منیٰ کے حکم میں ہوں گے، یعنی مزدلفہ والے لوگ اپنے خیموں میں رہیں گے، انہیں منیٰ نہیں جانا، کیونکہ اب سب خیمے ایک دوسرے سے ملے ہوئے اور متصل ہیں۔

لہٰذا سب ایک ہی کے حکم میں ہیں، اور جب مزدلفہ کی رات آئے گی تو وہ خیمے حقیقی مزدلفہ ہی میں ہیں۔

بالکل علیٰ ہذا القیاس یہی مسئلہ منیٰ کی راتوں میں بھی ہے۔

📖 فتاوى لجنة الدائمة، فتوى نمبر: 10884

━━━━━━━━━━━━━━

🌅 نمازِ فجر اور اس کے بعد دعا

مزدلفہ میں نبی ﷺ نے فجر کی نماز صبح صادق کے بعد، مگر عام دنوں کی نسبت قدرے جلدی پڑھی۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الحج، حدیث: 1682
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1682/

نمازِ فجر کے بعد مشعر الحرام، یعنی مزدلفہ میں ایک پہاڑی، کے قریب قبلہ رخ کھڑے ہو کر خوب دعائیں مانگی جائیں۔

📖 صحیح مسلم، کتاب الحج، حدیث: 1218
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1218/

━━━━━━━━━━━━━━

📝 وضاحت

عرفات اور منیٰ کی طرح مزدلفہ میں بھی چاروں طرف نشانات لگے ہوئے ہیں، جو اس کے آغاز اور اختتامِ حدود کی نشاندہی کرتے ہیں۔

اس کے اندر کسی بھی جگہ شب بسری اور فجر کی نماز کے بعد دعائیں مانگی جا سکتی ہیں۔

━━━━━━━━━━━━━━

❓ مسئلہ

جس شخص نے نمازِ فجر مزدلفہ میں پا لی، اس کا وقوفِ مزدلفہ درست ہے۔

📖 جامع الترمذي، الحج، حدیث: 889

━━━━━━━━━━━━━━

🧓 کمزور اور بیمار لوگوں کا مزدلفہ کی رات ہی منیٰ چلے جانا

کمزور، بیمار، بچے اور بھاری جسامت والے لوگ چاند کے غروب ہونے تک مزدلفہ میں قیام کر کے رات کے پچھلے حصے میں منیٰ چلے جائیں تو ان کے لیے اجازت ہے۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الحج، حدیث: 1679
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1679/

📖 صحیح مسلم، کتاب الحج، حدیث: 1290
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1290/

━━━━━━━━━━━━━━

⚠️ تنبیہات

➊ جمرات کو مارنے کے لیے کنکریاں منیٰ سے لینا مسنون ہے۔

📖 سنن النسائي، مناسك الحج، حدیث: 3060
🔗 https://tohed.com/hadith/nasai/3060/

اگر کوئی شخص مزدلفہ سے کنکریاں لے لیتا ہے تو بھی کوئی حرج نہیں، البتہ جمرات کو ماری ہوئی کنکریاں نہیں لینی چاہئیں۔

➋ بعض لوگ مزدلفہ سے کنکریاں جمع کرنے کے بعد انہیں پانی سے دھوتے ہیں، یہ من گھڑت فعل ہے۔

➌ کنکریاں چنے کے دانے کے برابر یا اس سے کچھ بڑی ہونی چاہئیں۔

📖 صحیح مسلم، کتاب الحج، حدیث: 1299
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1299/

━━━━━━━━━━━━━━

🕋 مزدلفہ سے منیٰ روانگی

مزدلفہ میں نمازِ فجر ادا کر کے، مشعر الحرام پر دعا مانگنے اور خوب روشنی ہو جانے کے بعد، سورج طلوع ہونے سے پہلے منیٰ کی طرف روانہ ہونا چاہیے۔ یہی مسنون ہے۔

📖 صحیح مسلم، کتاب الحج، حدیث: 1218
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1218/

━━━━━━━━━━━━━━

📿 راستے میں تلبیہ

منیٰ کی طرف آتے ہوئے راستے میں تلبیہ پکارتے رہیں۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الحج، حدیث: 1685
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1685/

━━━━━━━━━━━━━━

🏞️ وادیٔ محسر کے آداب

مزدلفہ اور منیٰ کے درمیان وادیٔ محسر ہے، جہاں ابرہہ اور اس کا لشکر ہاتھیوں سمیت چھوٹے چھوٹے پرندوں کی سنگ باری سے ہلاک ہوا تھا۔

اس وادی سے تیزی سے گزریں۔

📖 صحیح مسلم، کتاب الحج، حدیث: 1218
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1218/

17 📘 دس ذوالحجہ کے اہم اعمال

دس ذوالحجہ، یعنی یوم النحر کو بالترتیب چار اہم کام سر انجام دیے جاتے ہیں:

➊ جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارنا
➋ قربانی کرنا
➌ حلق یا قصر کروانا
➍ طوافِ افاضہ کرنا

━━━━━━━━━━━━━━

🪨 ➊ جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارنا

سورج طلوع ہونے کے بعد سے زوال تک جمرہ عقبہ، جسے جمرہ کبریٰ بھی کہتے ہیں، کو سات کنکریاں ماری جائیں۔

یہ واجب ہیں، کیونکہ نبی ﷺ نے کنکریاں مارتے ہوئے فرمایا:

مجھ سے حج کے احکام سیکھ لو۔

📖 صحیح مسلم، کتاب الحج، حدیث: 1297
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1297/

━━━━━━━━━━━━━━

❓ مسئلہ

کنکریاں مارنے سے قبل تلبیہ بند کر دیں، کیونکہ نبی ﷺ نے اسی طرح کیا تھا۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الحج، حدیث: 1687، 1686
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1687/
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1686/

━━━━━━━━━━━━━━

🪨 کنکریاں مارنے کا طریقہ

◈ کنکریاں مارنے والا ایسی جگہ کھڑا ہو جہاں مکہ مکرمہ اس کے بائیں اور منیٰ دائیں جانب ہو، یعنی جمرہ کے جنوب کی طرف کھڑا ہو۔

لیکن اگر یہ ناممکن ہو تو کسی طرف سے بھی کنکریاں ماری جا سکتی ہیں۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الحج، حدیث: 1748
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1748/

◈ ہر کنکری اللّٰهُ أَكْبَر کہتے ہوئے ماری جائے۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الحج، حدیث: 1750
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1750/

◈ ساتوں کنکریاں ایک ایک کر کے ماری جائیں۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الحج، حدیث: 1750
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1750/

◈ اگر کوئی شخص ایک ہی بار ساتوں کنکریاں مار دیتا ہے تو یہ ایک شمار ہو گی۔ اسے ایک ایک کر کے مزید چھ کنکریاں مارنا ہوں گی۔

◈ کنکریاں مارنے کے بعد یہاں دعا کے لیے نہ رکیں، کیونکہ نبی ﷺ نے جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارنے کے بعد دعا نہیں کی۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الحج، حدیث: 1751
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1751/

18 📘 طوافِ افاضہ اور حائضہ خاتون

❓ عورت 10 ذوالحجہ تک پاک نہ ہو تو وہ کیا کرے؟

جب سفرِ حجاز کے لیے آنے جانے کی وہ پابندیاں نہیں تھیں جو اب ہیں، یعنی واپسی کی تاریخیں بھی مقرر ہوتی ہیں اور تنہا عورت اپنے قافلے اور گروپ سے علیحدہ بھی نہیں ہو سکتی، تو اہلِ قافلہ رک جایا کرتے تھے۔

جب عورت پاک ہو جاتی تو وہ طوافِ افاضہ کر لیتی تھی، اور پھر قافلہ واپسی کے لیے روانہ ہو جاتا۔

اب صورتِ حال یکسر بدل گئی ہے۔ اب واپسی میں کسی کا اختیار نہیں ہے، اور ایک دن کی تاخیر بھی بالعموم ممکن نہیں۔

اب عورت کیا کرے؟

━━━━━━━━━━━━━━

📌 فقہائے کرام کی آراء

فقہائے کرام نے اس کے مختلف حل تجویز کیے ہیں، لیکن سب میں مشکلات ہیں۔

جبکہ عورت کا یہ عذر ایسا ہے جو اس کے اختیار میں نہیں ہے، اور شریعت نے غیر اختیاری عذر میں سہولتیں دی ہیں۔

صاحبِ عذر کو مشکل میں نہیں ڈالا، جیسے مریض کو اس کی بیماری کی نوعیت کے اعتبار سے سہولتیں دی ہیں۔

حتیٰ کہ مضطر اور لاچار کو جان بچانے کے لیے مردار تک کھانے کی اجازت دی گئی ہے۔

اور اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں اعلان بھی فرمایا ہے:

﴿وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ﴾

ترجمہ:

اور اللہ نے تم پر دین میں کوئی تنگی نہیں رکھی۔

📖 سورۃ الحج: 78

﴿لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا﴾

ترجمہ:

اللہ تعالیٰ کسی جان کو اس کی طاقت سے زیادہ مکلف یعنی ذمے دار نہیں بناتا۔

📖 سورۃ البقرۃ: 286

﴿يُرِيدُ اللهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ﴾

ترجمہ:

اللہ تعالیٰ تمھارے ساتھ آسانی چاہتا ہے اور تمھارے ساتھ تنگی نہیں چاہتا۔

📖 سورۃ البقرۃ: 185

━━━━━━━━━━━━━━

🌿 شریعت کا مزاج اور صاحبِ عذر کے لیے آسانی

اس طرح کے اور بھی بے شمار دلائل ہیں۔

جب اللہ تعالیٰ صاحبِ عذر کو اختیاری آسانی مہیا فرماتا ہے، تو حائضہ عورت کو، جس کا عذر بھی طبعی اور غیر اختیاری ہے، کس طرح مشکل میں ڈالنا جائز ہوگا!

اسی لیے شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اور ان کے تلمیذِ رشید حافظ ابن القیم رحمہ اللہ، دونوں نے اس مسئلے پر بڑی تفصیل سے بحثیں کی ہیں۔

انہوں نے فقہاء کے تجویز کردہ تمام حلوں کو مزاجِ شریعت کے خلاف قرار دیا ہے، اور خود اس کا یہ حل تجویز کیا ہے کہ حائضہ عورت، مستحاضہ عورت کی طرح، اچھی طرح لنگوٹ وغیرہ کس لے اور اسی حالت میں طوافِ افاضہ کر لے۔

اس پر کوئی دم وغیرہ بھی نہیں ہے۔

📖 مجموع الفتاوى: 26/241، 176
📖 إعلام الموقعين لابن القيم

━━━━━━━━━━━━━━

🇸🇦 سعودی علماء کا فتویٰ

عصرِ حاضر کے سعودی علماء نے بھی امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی رائے سے اتفاق کرتے ہوئے یہی فتویٰ دیا ہے کہ حائضہ عورت، سفر کی موجودہ مشکلات کی وجہ سے، لنگوٹ باندھ کر طوافِ افاضہ کر لے۔

کیونکہ اس کے لیے قافلے سے الگ ہو کر پاک ہونے تک مکہ مکرمہ میں ٹھہرنا بھی ناممکن ہے۔

اور اپنے ملک واپس جا کر آئندہ سال دوبارہ حج کے لیے آنا بھی، یا اپنے ملک میں جا کر طوافِ افاضہ کے انتظار تک حالتِ احرام میں رہنا بھی نہایت مشکل ہے۔

📖 فتاوى أركان الإسلام للشيخ ابن عثيمين: 1/429، 428
📖 فتاوى إسلامية، مجموعة فتاوى علمائے سعودی عرب: 2/318، 317
مطبوعہ دارالسلام

━━━━━━━━━━━━━━

⚠️ تنبیہ

اگر کوئی کسی وجہ سے طوافِ زیارت نہیں کر سکا، حتیٰ کہ حج کا آخری دن آگیا، تو اسے یہ رخصت حاصل ہے کہ وہ طوافِ وداع اور طوافِ زیارت کی نیت سے ایک ہی طواف کر لے۔

اس طرح ایک طواف دونوں کو کفایت کر جائے گا۔

اگر اس نے ابھی تک حج کی سعی نہیں کی تو وہ ساتھ حج کی سعی بھی کر لے۔

📖 مناسك الحج والعمرة، ص: 36، 32

━━━━━━━━━━━━━━

🕋 تحللِ اکبر

طوافِ زیارت کے بعد احرام کی تمام پابندیاں ختم ہو جاتی ہیں، حتیٰ کہ بیوی سے تعلق کی پابندی بھی ختم ہو جاتی ہے۔

اسے تحللِ اکبر بھی کہتے ہیں۔

📖 سنن أبي داود، کتاب المناسك، حدیث: 1999
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/1999/

━━━━━━━━━━━━━━

◈ اگر بھیڑ کی وجہ سے نیچے مطاف میں طواف کرنا مشکل ہو تو دوسری منزل یا چھت پر بھی طواف کر سکتے ہیں۔

19 📘 حج کی سعی

طوافِ زیارت کے بعد حجِ تمتع کرنے والے کے لیے حج کی سعی بھی ضروری ہے۔

حجِ قران اور حجِ اِفراد کرنے والوں نے اگر قبل ازیں طوافِ قدوم کے وقت سعی نہیں کی تو وہ بھی ضرور کریں، ورنہ ان کے لیے ضروری نہیں۔

اس سعی کے وہی احکام و مسائل ہیں جو پہلے بیان ہو چکے ہیں، البتہ اس کے بعد حجامت کی ضرورت نہیں ہے۔

━━━━━━━━━━━━━━

⚠️ تنبیہات

➊ رسول اللہ ﷺ نے دس تاریخ کو مذکورہ کام اسی ترتیب سے انجام دیے۔

اگر یہ ترتیب قائم رہ سکے تو بہتر ہے، اور اگر ان میں تقدیم و تاخیر ہو جائے تو کوئی دم یا فدیہ نہیں ہے۔

مثلاً:

◈ اگر کسی نے جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارنے سے قبل قربانی کر لی،

◈ یا قربانی سے پہلے حجامت بنوا لی،

◈ یا حجامت سے پہلے طوافِ افاضہ، یعنی طوافِ زیارت، اور سعی کر لی،

تو کوئی حرج نہیں ہے۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الحج، حدیث: 1722
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1722/

➋ بعض لوگ ان امور میں تقدیم و تاخیر پر دم ضروری قرار دیتے ہیں، یہ غلو ہے۔

کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے ان امور میں تقدیم و تاخیر کرنے والوں سے فرمایا تھا:

کوئی حرج نہیں، کوئی حرج نہیں۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الحج، حدیث: 1722
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1722/

━━━━━━━━━━━━━━

🕋 مکہ سے منیٰ واپسی

طوافِ زیارت اور سعی کرنے کے بعد حجاجِ کرام کو چاہیے کہ وہ واپس منیٰ آجائیں اور رات منیٰ میں گزاریں۔

━━━━━━━━━━━━━━

📅 ایامِ تشریق

11، 12، 13 ذوالحجہ کو ایامِ تشریق کہتے ہیں۔

ان تین دنوں کی راتیں منیٰ میں گزارنا واجب ہے۔

صرف ضروری خدمت انجام دینے والوں کو منیٰ کی راتیں مکہ یا اس کے گردونواح میں گزارنے کی اجازت دی گئی ہے، اور دی جا سکتی ہے، جس کا فیصلہ کسی ثقہ عالمِ دین سے کروایا جا سکتا ہے۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الحج، حدیث: 1745
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1745/

━━━━━━━━━━━━━━

🕌 نمازوں کی ادائیگی

جو حجاجِ کرام منیٰ کی مسجدِ خیف کے قریب ہوں، یا ان کے لیے مسجدِ خیف تک رسائی ممکن ہو، تو انہیں چاہیے کہ وہ مسجدِ خیف میں نمازیں باجماعت قصر ادا کریں۔

اور جن کے لیے مسجد تک رسائی مشکل ہو، وہ اپنے خیموں میں نماز باجماعت قصر کا اہتمام کریں۔

━━━━━━━━━━━━━━

🪨 رمی جمرات

ان تین ایام میں روزانہ تینوں جمرات:

➊ جمرہ اولیٰ
➋ جمرہ وسطیٰ
➌ جمرہ عقبہ

کو سورج ڈھلنے کے بعد کنکریاں ماری جائیں۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الحج، حدیث: 1746
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1746/

📖 سنن أبي داود، کتاب المناسك، حدیث: 1973
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/1973/

━━━━━━━━━━━━━━

🪨 ایامِ تشریق میں رمی کا طریقہ

جمرہ اولیٰ، جو منیٰ کی جانب سے پہلا جمرہ ہے، اسے پہلے رمی کی جائے۔

اسے جمرہ دنیا اور جمرۂ صغریٰ بھی کہا جاتا ہے۔

پھر درمیانے جمرے کو، اور سب سے آخر میں جمرہ عقبہ کو رمی کی جائے۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الحج، حدیث: 1751
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1751/

پہلے دونوں جمروں کو سات سات کنکریاں ماری جائیں، اور ہر کنکری مارتے ہوئے اللّٰهُ أَكْبَر کہا جائے۔

پھر ذرا ہٹ کر دعا کی جائے۔

لیکن تیسرے جمرے کو رمی کرنے کے بعد وہاں نہ رکیں اور نہ دعا کریں۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الحج، حدیث: 1753
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1753/

تینوں جمروں کو اس طرح رمی کی جائے کہ مکہ بائیں اور منیٰ دائیں جانب ہو۔

اگر یہ مشکل ہو تو پھر کسی بھی طرف سے رمی کی جا سکتی ہے۔

20 📘 ایامِ منیٰ میں اللہ کا ذکر

ان ایام میں بکثرت اللہ تعالیٰ کا ذکر کریں۔

نبی ﷺ نے فرمایا:

ایامِ تشریق کھانے، پینے اور بکثرت اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے کے دن ہیں۔

📖 صحیح مسلم، کتاب الحج، حدیث: 1141
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1141/

━━━━━━━━━━━━━━

🕋 ایامِ تشریق میں بیت اللہ کا طواف کرنا

ان ایام میں مکہ جا کر بیت اللہ کا نفلی طواف کرنا بھی ثابت ہے۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الحج، قبل الحدیث: 1732
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1732/

📖 السنن الكبرى للبيهقي: 5/146

━━━━━━━━━━━━━━

📅 12 ذوالحجہ کو واپسی کی اجازت

ایامِ تشریق کے تینوں دن منیٰ میں گزارنا مسنون ہے، نبی ﷺ نے ایسا ہی کیا تھا۔

📖 سنن أبي داود، کتاب المناسك، حدیث: 1973
🔗 https://tohed.com/hadith/abu-dawud/1973/

اگر کوئی شخص 12 ذوالحجہ کو واپس جانا چاہے تو شرعاً اس کی اجازت ہے۔

قرآنِ مجید میں ہے:

﴿فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ وَمَنْ تَأَخَّرَ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ لِمَنِ اتَّقَى﴾

ترجمہ:

جو شخص دو دنوں میں منیٰ چھوڑنے کی جلدی کرتا ہے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے، اور جو تاخیر کرتا ہے اس پر بھی کوئی گناہ نہیں، بشرطیکہ اللہ سے ڈرنے والا ہو۔

📖 سورۃ البقرۃ: 203

یہ اجازت حدیث سے بھی ثابت ہے۔

📖 السنن الكبرى للبيهقي: 5/152

تاہم 12 ذوالحجہ کے دن واپس آنے والے کو چاہیے کہ وہ صرف اسی دن کی رمی کرے اور سورج ڈوبنے سے پہلے منیٰ کی حدود سے نکل جائے۔

اگر منیٰ کی حدود چھوڑنے سے قبل سورج غروب ہو گیا تو پھر 13 کی رات منیٰ میں گزارنا اور دن کو رمی کرنا ضروری ہوگا۔

📖 السنن الكبرى للبيهقي: 5/152
📖 موطأ إمام مالك، کتاب الحج، عن ابن عمر موقوفاً

اگر ٹریفک کے ہجوم کی وجہ سے وہ منیٰ سے نہیں نکل سکا، حتیٰ کہ سورج غروب ہو گیا، تو کوئی حرج نہیں۔

اس کے لیے منیٰ میں رات گزارنا ضروری نہیں۔

━━━━━━━━━━━━━━

🕋 طوافِ وداع

حج مکمل کرنے کے بعد مکہ معظمہ سے رخصت ہونے سے قبل الوداعی طواف کرنا واجب ہے۔

📖 صحیح مسلم، کتاب الحج، حدیث: 1327
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1327/

━━━━━━━━━━━━━━

🌸 حائضہ کے لیے رعایت

حاجی کے لیے مکہ مکرمہ سے روانہ ہوتے وقت سب سے آخری کام طوافِ وداع کرنا ہے۔

البتہ وہ عورت جو حیض سے ہو، اس کے لیے طوافِ وداع ضروری نہیں ہے، بشرطیکہ وہ طوافِ زیارت کر چکی ہو۔

📖 صحیح البخاری، کتاب الحج، حدیث: 1757، 1755
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1757/
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1755/

━━━━━━━━━━━━━━

⚠️ تنبیہ

بعض لوگ مسجدِ حرام سے نکلتے وقت الٹے پاؤں واپس ہوتے ہیں۔

ایسا کرنا نبی ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے قطعاً ثابت نہیں ہے۔

◈ مسجدِ حرام سے باہر نکلتے وقت بایاں پاؤں پہلے نکالیں اور یہ دعا پڑھیں:

اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ

ترجمہ:

اے اللہ! بے شک میں تجھ سے تیرا فضل مانگتا ہوں۔

📖 صحیح مسلم، صلاة المسافرين، حدیث: 713
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/713/

21 📘 تین مساجد کے علاوہ سفرِ زیارت کا حکم صحیح احادیث کی روشنی میں

مسجد نبوی، مسجد الحرام اور مسجد اقصیٰ، یہ تین مساجد ایسی ہیں جن کی زیارت کے لیے خاص طور پر نیت کر کے سفر کرنا مسنون ہے۔ ان کے علاوہ کسی بھی مسجد کی زیارت کے لیے سفر کرنا ممنوع ہے۔

صحیحین میں مروی حدیث میں فرمانِ نبوی ﷺ ہے:

﴿لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ: الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، وَمَسْجِدِي هَذَا، وَالْمَسْجِدِ الْأَقْصَى﴾

ترجمہ: ”تین مساجد کے علاوہ کسی مسجد کی زیارت کے لیے رختِ سفر نہ باندھا جائے، یعنی مسجد الحرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ۔“

📖 صحیح بخاری، کتاب فضل الصلاة في مسجد مكة والمدينة، باب فضل الصلاة في مسجد مكة والمدينة، حدیث: 1189
📖 صحیح مسلم، کتاب الحج، باب فضل المساجد الثلاثة، حدیث: 1397

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1189/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1397/

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ طورِ سینا پر تشریف لے گئے، جہاں سیدنا موسیٰ بن عمران علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ ہم کلام ہوئے تھے۔

واپسی پر بصرہ بن ابو بصرہ الغفاری رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی تو آپ نے کہا:

”اگر مجھے پہلے علم ہو جاتا تو آپ وہاں ہرگز نہ جا سکتے، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ:

﴿لَا تُعْمَلُ الْمَطِيُّ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ: الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، وَمَسْجِدِي هَذَا، وَمَسْجِدِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ﴾

ترجمہ: ”تین مساجد کے علاوہ کسی مسجد کے لیے سواری کو نہ چلایا جائے، یعنی:
➊ مسجد الحرام
➋ میری یہ مسجد، یعنی مسجد نبوی
➌ مسجد بیت المقدس“

📖 سنن نسائی، کتاب الجمعة، باب ذكر الساعة التي يستجاب فيها الدعاء يوم الجمعة، حدیث: 1431

🔗 https://tohed.com/hadith/nasai/1431/

اگر کسی نے ان تین مساجد کے علاوہ کسی اور مسجد کی طرف سفر کرنے کی نذر مانی، یا محض رسول اللہ ﷺ کی قبرِ مکرمہ، یا کسی اور نبی، ولی یا صالح انسان کی قبر کی زیارت کی نذر مانی، تو باتفاقِ ائمہ اس نذر کا پورا کرنا لازم نہیں، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے اس قسم کے سفر کا حکم نہیں دیا، بلکہ فرمایا:

﴿لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ: الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، وَمَسْجِدِي هَذَا، وَالْمَسْجِدِ الْأَقْصَى﴾

ترجمہ: ”تین مساجد کے علاوہ کسی مسجد کی طرف رختِ سفر نہ باندھا جائے، یعنی مسجد الحرام، میری یہ مسجد اور مسجد اقصیٰ۔“

📖 صحیح بخاری، کتاب فضل الصلاة في مسجد مكة والمدينة، باب فضل الصلاة في مسجد مكة والمدينة، حدیث: 1189
📖 صحیح مسلم، کتاب الحج، باب فضل المساجد الثلاثة، حدیث: 1397

🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/1189/
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1397/

شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

سیدنا ابوبکر صدیق، سیدنا عمر فاروق اور سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہم کے دورِ خلافت اور اس کے کافی عرصہ بعد بھی کسی صحابی سے ثابت نہیں کہ انہوں نے کسی نبی یا کسی صالح انسان کی قبر کی طرف رختِ سفر باندھا ہو۔

شام میں ابراہیم علیہ السلام کی قبر معروف تھی، لیکن کسی صحابی نے قبرِ خلیل کی زیارت کے لیے سفر نہیں کیا۔

صحابہ کرام بیت المقدس تشریف لے جاتے، وہاں نماز پڑھتے، لیکن قبرِ خلیل کے نزدیک نہ جاتے۔

📖 الجواب الباہر فی زوار المقابر

🔗 https://tohed.com/b99f3f