1 📘 حج کی اہمیت اور تاریخی پس منظر
حج قولی، بدنی، قلبی اور مالی عبادات کا مجموعہ ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی تعظیم اور بندے کی بندگی کا بے پناہ اظہار ہوتا ہے۔
➤ حج کی لغوی تعریف:
حج کے لغوی معنی “ارادہ کرنا” ہیں۔
➤ حج کا شرعی مفہوم:
اسلام کے پانچویں رکن کی ادائیگی کے لیے بیت اللہ کے قصد کرنے کو حج کہتے ہیں۔
📘 حج کا مختصر تاریخی پس منظر
سیدنا ابراہیم اور اسماعیل علیہما السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے جب خانہ کعبہ کی تعمیر فرمائی تو اس موقع پر انہوں نے مختلف دعائیں کیں، جن میں سے ایک یہ تھی:
﴿رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِنَا أُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّكَ وَأَرِنَا مَنَاسِكَنَا وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ﴾
ترجمہ:
اے ہمارے رب! ہمیں اپنا فرمانبردار بنا، اور ہماری اولاد میں بھی فرمانبردار امت پیدا فرما، اور ہمیں ہماری عبادت، یعنی مناسکِ حج کے طریقے سکھلا، اور ہماری توبہ قبول فرما، یقیناً تو بہت زیادہ توبہ قبول کرنے والا، نہایت مہربان ہے۔
📖 سورۃ البقرۃ: 128
🔗 https://tohed.com/tafsir/2/128/
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو یہ حکم دیا:
﴿وَأَذِّن فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ يَأْتُوكَ رِجَالًا وَّعَلَىٰ كُلِّ ضَامِرٍ يَأْتِينَ مِن كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ﴾
ترجمہ:
اور لوگوں میں حج کی منادی کر دے، وہ تیرے پاس آئیں گے، پیدل اور دبلے دبلے اونٹوں پر، جو دور دراز کے راستوں سے چلے آئیں گے۔
📖 سورۃ الحج: 27
🔗 https://tohed.com/tafsir/22/27/
اس حکم کے بعد حج کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل سیدنا ابراہیم، سیدہ ہاجر علیہما السلام اور ان کے فرزندِ ارجمند سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی طرف سے کیے گئے بعض مخلصانہ اعمال کو شرفِ قبولیت سے نوازتے ہوئے قیامت تک کے لیے مناسکِ حج میں شامل فرما دیا۔
➤ صحیح احادیث میں امِ اسماعیل علیہ السلام کا نام ہاجر اور آجر مذکور ہے۔ “ہاجرہ” غلط العام ہے۔
واللہ اعلم
📖 صحیح البخاری، کتاب الہبہ وفضلہا، حدیث: 2635، 3357
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/2635/
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/3357/
اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی شان دیکھیے کہ دنیا کے کونے کونے سے عربی، عجمی، گورے، کالے، امیر، غریب، اعلیٰ، ادنیٰ، آقا اور غلام لاکھوں کی تعداد میں ایک ہی لباس زیب تن کیے، ایک ہی طرح کے شعائر بجا لاتے ہوئے:
لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ
میں حاضر ہوں، اے اللہ! میں بار بار حاضر ہوں۔
کا تلبیہ پکارتے نظر آتے ہیں، اور یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔
ان شاء اللہ
📘 حج، اسلام کا ایک عظیم رکن
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے:
➊ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور محمد ﷺ کی رسالت کی شہادت دینا۔
➋ نماز قائم کرنا۔
➌ زکاۃ ادا کرنا۔
➍ حج کرنا۔
➎ رمضان کے روزے رکھنا۔
📖 صحیح البخاری، کتاب الایمان، حدیث: 8
🔗 https://tohed.com/hadith/bukhari/8/
📘 حج کی فرضیت
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿وَلِلّٰهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا﴾
ترجمہ:
اور لوگوں پر اللہ تعالیٰ کا یہ حق ہے کہ جو اس کعبہ تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو، وہ اس کا حج کرے۔
📖 سورۃ آل عمران: 97
🔗 https://tohed.com/tafsir/3/97/
📘 استطاعت کیا چیز ہے؟
استطاعت سے مراد راستے کا سامان اور سواری کا انتظام ہے۔
📖 المستدرک للحاکم: 442/1
نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
لوگو! تم پر حج فرض کر دیا گیا ہے، لہٰذا حج کرو۔
📖 صحیح مسلم، کتاب الحج، حدیث: 1337
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1337/
📘 حج، زندگی میں صرف ایک مرتبہ فرض ہے
ارکانِ اسلام میں حج ایک ایسا رکن ہے جو زندگی میں صرف ایک بار فرض ہے۔
📖 صحیح مسلم، کتاب الحج، حدیث: 1337
🔗 https://tohed.com/hadith/muslim/1337/
📘 اہم مسئلہ
حج کی ادائیگی ہر صاحبِ استطاعت یعنی مالدار، عاقل، بالغ، مسلمان مرد و عورت پر اسی طرح فرض ہے، جس طرح پانچوں وقت کی نمازیں، رمضان کے روزے اور صاحبِ نصاب شخص پر زکوٰۃ ادا کرنا فرض ہے۔
ان سب کی فرضیت میں کوئی فرق نہیں۔
لہٰذا جو شخص استطاعت کے باوجود حج نہیں کرتا، بلکہ اسے وقت اور پیسے کا نقصان سمجھتا یا اس کا مذاق اڑاتا ہے، جیسا کہ آج کل کے بعض متجددین، منکرینِ حدیث اور مادہ پرستوں کا نقطہ نظر ہے، تو ایسا شخص کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔
اور اگر کوئی شخص استطاعت کے باوجود محض سستی اور کاہلی یا اس قسم کے کسی اور عذرِ لنگ کی وجہ سے حج نہیں کرتا تو ایسا شخص کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج تو نہیں، البتہ فاسق و فاجر اور کبیرہ گناہ کا مرتکب ضرور ہے۔
