تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حج کا احرام حج کے مہینوں کے سوا دوسرے مہینوں میں نہ باندھا جائے۔ ابن عباس رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں: ”سنت یہ ہے کہ حج کا احرام حج کے مہینوں ہی میں باندھا جائے۔“ [ابن خزیمۃ، باب النہی عن الإحرام …: 162/4، ح: ۲۵۹۶] ابن کثیر نے اسے صحیح کہا ہے اور یہ مرفوع کے حکم میں ہے۔
➋ { فَمَنْ فَرَضَ فِيْهِنَّ الْحَجَّ:} حج کو اپنے آپ پر فرض کرنا یہ ہے کہ حج کی نیت کے ساتھ احرام باندھ لے اور زبان سے [لَبَّیْکَ بِالْحَجِّ] اور [لَبَّیْکَ اَللّٰہُمَّ لَبَّیْکَ …] مکمل تلبیہ کہے۔ (ابن کثیر)
➌ {فَلَا رَفَثَ وَ لَا فُسُوْقَ وَ لَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ:} یعنی حج میں یہ سب باتیں حرام ہیں۔ {”رَفَث“} (شہوانی فعل) سے جماع اور تمام وہ چیزیں مراد ہیں جو جماع کی طرف مائل کرنے والی ہوں۔ {”فُسُوْق“} (نافرمانی) کا لفظ ہر گناہ کو شامل ہے اور {” جِدَال“} سے لڑائی جھگڑا مراد ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ”جس نے اس گھر کا حج کیا اور(دوران حج میں) رفث و فسوق نہیں کیا وہ اس دن کی طرح (گناہوں سے پاک) لوٹے گا جس دن اس کی ماں نے اسے جنا تھا۔“ [بخاری، المحصر و جزاء الصید، باب قول اللہ عزوجل: «فلا رفث» : ۱۸۱۹]
➍ {وَ تَزَوَّدُوْا فَاِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوٰى:} تقویٰ کا لغوی معنی بچنا ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا: ”اہل یمن حج کرتے تو زاد راہ نہیں لاتے تھے اور کہتے تھے، ہم توکل والے ہیں، پھر جب مکہ میں آتے تو لوگوں سے مانگتے، تو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔“ [بخاری، الحج، باب قول اللہ تعالٰی: «و تزودوا فإن …:» ۱۵۲۳] ایسا توکل اللہ پر نہیں بلکہ درحقیقت لوگوں کی جیبوں پر ہے۔ (تلبیس ابلیس) فرمایا زاد راہ لو، اس کا فائدہ یہ ہے کہ سوال سے بچ جاؤ گے۔ ظاہری زاد کے ساتھ دلی زاد بھی ضروری ہے، جس کی بہترین صورت تقویٰ یعنی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچنا ہے، آیت سے دونوں معنی لیے جا سکتے ہیں اور دونوں مراد ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[264] یعنی یکم شوال سے دس ذی الحجہ تک کی مدت کا نام اشہر حج ہے۔ حج کا احرام اسی مدت کے اندر اندر باندھا جا سکتا ہے۔ اگر کوئی اس سے پہلے باندھے تو وہ نا جائز یا مکروہ ہو گا البتہ عمرہ کا احرام باندھا جا سکتا ہے۔ احرام باندھنے کے متعلق درج ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے۔
1۔
2۔ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: ”محرم کیا پہنے؟ فرمایا: وہ نہ قمیض پہنے نہ عمامہ، نہ ٹوپی اور نہ وہ کپڑا جس میں ورس یا زعفران لگا ہو اور اگر چپل نہ ملے تو موزے ٹخنوں سے نیچے تک کاٹ کر پہن لے۔ [بخاري۔ كتاب العلم۔ من اجاب السائل باكثر مما سأله]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اشہر معلومات سے مراد سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں شوال ذوالقعدہ اور دس دن ذوالحجہ کے ہیں [بخاری:کتاب الحج،تعلیقًا قبل الحدیث،1560] یہ روایت ابن جریر میں بھی ہے، مستدرک حکم میں بھی ہے اور امام حاکم اسے صحیح بتلاتے ہیں۔[حاکم:276/2:صحیح] عمر، عطا، مجاہد، ابراہیم نخعی، شعبی، حسن، ابن سیرین، مکحول، قتادہ، ضحاک بن مزاحم، ربیع بن انس، مقاتل بن حیان رحمہم اللہ بھی یہی کہتے ہیں،[تفسیر ابن ابی حاتم:486/2] امام شافعی، امام ابوحنیفہ، امام احمد بن حنبل، ابو یوسف اور ابوثور رحمۃ اللہ علیہم کا بھی یہی مذہب ہے، امام ابن جریر بھی اسی قول کو پسند فرماتے ہیں اشہر کا لفظ جمع ہے تو اس کا اطلاق دو پورے مہینوں اور تیسرے کے بعض حصے پر بھی ہوسکتا ہے، جیسے عربی میں کہا جاتا ہے کہ میں نے اس سال یا آج کے دن اسے دیکھا ہے پس حقیقت میں سارا سال اور پورا دن تو دیکھتا نہیں رہتا بلکہ دیکھنے کا وقت تھوڑا ہی ہوتا ہے مگر اغلباً [تقریباً] ایسا بول دیا کرتے ہیں اسی طرح یہاں بھی اغلباً[تقریباً] تیسرے مہینہ کا ذکر ہے قرآن میں بھی ہے «فَمَنْ تَعَـجَّلَ فِيْ يَوْمَيْنِ فَلَآ اِثْمَ عَلَيْهِ» [2۔ البقرہ: 203] حالانکہ وہ جلدی ڈیڑھ دن کی ہوتی ہے مگر گنتی میں دو دن کہے گئے، امام مالک، امام شافعی رحمہ اللہ علیہما کا ایک پہلا قول یہ بھی ہے کہ شوال ذوالقعدہ اور ذوالحجہ کا پورا مہینہ ہے،
سیدنا ابن عمر سے بھی یہی مروی ہے، ابن شہاب، عطاء رحمہ اللہ علیہما، سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے بھی یہی مروی ہے طاؤس، مجاہد، عروہ ربیع اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم سے بھی یہی مروی ہے ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ آیا ہے لیکن وہ موضوع ہے، کیونکہ اس کا راوی حسین بن مخارق ہے جس پر احادیث کو وضع کرنے کی تہمت ہے، بلکہ اس کا مرفوع ہونا ثابت نہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
[اس سے اگلی آیت کی تفسیر میں گزر چکا ہے] کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالقعدہ میں چار عمرے ادا فرمائے ہیں اور ذوالقعدہ بھی حج کا مہینہ ہے پس حج کے مہینوں میں عمرہ ادا فرماتے ہیں اور ذوالقعدہ بھی حج کا مہینہ ہے پس حج کے مہینوں میں عمرہ کرنا جائز ٹھہرا «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ جو شخص ان مہینوں میں حج مقرر کرے یعنی حج کا احرام باندھ لے اس سے ثابت ہوا کہ حج کا احرام باندھنا اور اسے پورا کرنا لازم ہے، فرض سے مراد یہاں واجب و لازم کر لینا ہے، [تفسیر ابن جریر الطبری:121/4]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں حج اور عمرے کا احرام باندھنے والے سے مراد ہے۔ عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں فرض سے مراد احرام ہے، ابراہیم اور ضحاک رحمہ اللہ علیہما کا بھی یہی قول ہے، [تفسیر ابن جریر الطبری:123/4] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں احرام باندھ لینے اور لبیک پکار لینے کے بعد کہیں ٹھہرا رہنا ٹھیک نہیں اور بزرگوں کا بھی یہی قول ہے، بعض بزرگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ فرض سے مراد لبیک پکارنا ہے۔ [رفث] سے مراد جماع ہے جیسے اور جگہ قرآن میں ہے آیت «اُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ اِلٰى نِسَاىِٕكُمْ» [2۔ البقرہ: 187] یعنی روزے کی راتوں میں اپنی بیویوں سے جماع کرنا تمہارے لیے حلال کیا گیا ہے، احرام کی حالت میں جماع اور اس کے تمام مقدمات بھی حرام ہیں جیسے مباشرت کرنا، بوسہ لینا، ان باتوں کا عورتوں کی موجودگی میں ذکر کرنا۔ گویا بعض نے مردوں کی محفلوں میں بھی ایسی باتیں کرنے کو دریافت کرنے پر فرمایا کہ عورتوں کے سامنے اس قسم کی باتیں کرنا رفث ہے۔ رفث کا ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ جماع وغیرہ کا ذکر کیا جائے، فحش باتیں کرنا، دبی زبان سے ایسے ذکر کرنا، اشاروں کنایوں میں جماع کا ذکر، اپنی بیوی سے کہنا کہ احرام کھل جائے تو جماع کریں گے، چھیڑ چھاڑ کرنا، مساس کرنا وغیرہ یہ سب رفث میں داخل ہے اور احرام کی حالت میں یہ سب باتیں حرام ہیں مختلف مفسروں کے مختلف اقوال کا مجموعہ یہ ہے۔
فسوق کے معنی عصیان ونافرمانی شکار گالی گلوچ وغیرہ بد زبانی ہے جیسے حدیث میں ہے مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اسے قتل کرنا کفر ہے، [صحیح بخاری:48] اللہ کے سوا دوسرے کے تقرب کے لیے جانوروں کو ذبح کرنا بھی فسق ہے جیسے قرآن کریم میں ہے آیت «اَوْ فِسْقًا اُهِلَّ لِغَيْرِ اللّٰهِ بِهٖ» [6۔ الانعام: 145] بد القاب سے یاد کرنا بھی فسق ہے قرآن فرماتا ہے آیت «وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ» [49-الحجرات: 11] مختصر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ہرنافرمانی فسق میں داخل ہے گو یہ فسق ہر وقت حرام ہے لیکن حرمت والے مہینوں میں اس کی حرمت اور بڑھ جاتی ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے آیت «فَلَا تَظْلِمُوْا فِيْهِنَّ اَنْفُسَكُمْ وَقَاتِلُوا الْمُشْرِكِيْنَ كَافَّةً كَمَا يُقَاتِلُوْنَكُمْ كَافَّةً» [9۔ التوبہ: 136] ان حرمت والے مہینوں میں اپنی جان پر ظلم نہ کرو اس طرح حرم میں بھی یہ حرمت بڑھ جاتی ہے ارشاد ہے آیت «وَمَنْ يُّرِدْ فِيْهِ بِاِلْحَادٍ بِظُلْمٍ نُّذِقْهُ مِنْ عَذَابٍ اَلِيْمٍ» [22۔ الحج: 25] یعنی حرم میں جو الحاد اور بے دینی کا ارادہ کرے اور اسے ہم المناک عذاب دیں گے،
امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہاں مراد فسق سے وہ کام ہیں جو احرام کی حالت میں منع ہیں جیسے شکار کھیلنا بال منڈوانا یا کتروانا یا ناخن لینا وغیرہ، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے بھی یہی مروی ہے لیکن بہترین تفسیر وہی ہے جو ہم نے بیان کی یعنی ہر گناہ سے روکا گیا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:126/4] «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ حج کے سفر میں آپس میں نہ جھگڑو نہ ایک دوسرے کو غصہ دلاؤ نہ کسی کو گالیاں دو، بہت سے مفسرین کا یہ قول بھی ہے اور بہت سے مفسرین کا پہلا قول بھی ہے، عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کسی کا اپنے غلام کو ڈانٹ ڈپٹ کرنا یہ اس میں داخل نہیں ہاں مارے نہیں، لیکن میں کہتا ہوں کہ غلام کو اگر مار بھی لے تو کوئی ڈر خوف نہیں۔
بعض سلف سے یہ بھی مروی ہے کہ حج کے تمام ہونے میں یہ بھی ہے لیکن یہ خیال رہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے اس کام پر یہ فرمانا اس میں نہایت لطافت کے ساتھ ایک قسم کا انکار ہے پس مسئلہ یہ ہوا کہ اسے چھوڑ دینا ہی اولیٰ ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى أن {الحج} واقع في {أشهر معلومات}؛ عند المخاطبين مشهورات بحيث لا تحتاج إلى تخصيص، كما احتاج الصيام إلى تعيين شهره، وكما بين تعالى أوقات الصلوات الخمس، وأما الحج فقد كان من ملة إبراهيم التي لم تزل مستمرة في ذريته معروفة بينهم. والمراد بالأشهر المعلومات عند الجمهور: شوال وذو القعدة وعشر من ذي الحجة، فهي التي يقع فيها الإحرام بالحج غالباً {فمن فرض فيهن الحج}؛ أي: أحرم به، لأن الشروع فيه يصيره فرضاً، ولو كان نفلاً.
واستدل بهذه الآية الشافعي ومن تابعه على أنه لا يجوز الإحرام بالحج قبل أشهره، قلت: لو قيل [أنّ] فيها دلالة لقول الجمهور بصحة الإحرام بالحج قبل أشهره لكان قريباً، فإن قوله: {فمن فرض فيهن الحج}؛ دليل على أن الفرض قد يقع في الأشهر المذكورة، وقد لا يقع فيها وإلا لم يقيده، وقوله: {فلا رفث ولا فسوق ولا جدال في الحج}؛ أي: يجب أن تعظموا الإحرام بالحج وخصوصاً الواقع في أشهره، وتصونوه عن كل ما يفسده أو ينقصه من الرفث وهو الجماع، ومقدماته الفعلية والقولية، خصوصاً عند النساء بحضرتهن، والفسوق وهو جميع المعاصي، ومنها محظورات الإحرام، والجدال وهو المماراة والمنازعة والمخاصمة، لكونها تثير الشر وتوقع العداوة، والمقصود من الحج الذل والانكسار لله والتقرب إليه بما أمكن من القربات والتنزه عن مقارفة السيئات، فإنه بذلك يكون مبروراً، والمبرور ليس له جزاء إلا الجنة ، وهذه الأشياء وإن كانت ممنوعة في كل مكان وزمان، فإنه يتغلظ المنع عنها في الحج.
واعلم أنه لا يتم التقرب إلى الله بترك المعاصي حتى يفعل الأوامر، ولهذا قال تعالى: {وما تفعلوا من خير يعلمه الله}؛ أتى بمن لتنصيص العموم فكل خير وقربة وعبادة داخل في ذلك، أي: فإن الله به عليم، وهذا يتضمن غاية الحث على أفعال الخير خصوصاً في تلك البقاع الشريفة والحرمات المنيفة، فإنه ينبغي تدارك ما أمكن تداركه فيها من صلاة وصيام وصدقة وطواف وإحسان قولي وفعلي، ثم أمر تعالى بالتزود لهذا السفر المبارك؛ فإن التزود فيه الاستغناء عن المخلوقين، والكف عن أموالهم سؤالاً واستشرافاً، وفي الإكثار منه نفع، وإعانة للمسافرين، وزيادة قربة لرب العالمين، وهذا الزاد الذي المراد منه إقامة البِنْية بُلْغَةٌ ومتاع، وأما الزاد الحقيقي المستمر نفعه لصاحبه في دنياه وأخراه فهو زاد التقوى؛ الذي هو زاد إلى دار القرار، وهو الموصل لأكمل لذة وأجل نعيم دائماً أبداً، ومن ترك هذا الزاد فهو المنقطع به، الذي هو عرضة لكل شر وممنوع من الوصول إلى دار المتقين، فهذا مدح للتقوى، ثم أمر بها أولي الألباب فقال: {واتقوني يا أولي الألباب}؛ أي: يا أهل العقول الرزينة، اتقوا ربكم، الذي تقواه أعظم ما تأمر به العقولُ، وتركها دليل على الجهل وفساد الرأي.