تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ فَ٘مَنْیَّعْمَلْمِثْقَالَذَرَّةٍخَیْرًایَّرَهٗؕ۰۰وَمَنْیَّعْمَلْمِثْقَالَذَرَّةٍشَرًّایَّرَهٗ﴾”پس جس نے ذرہ بھر نیکی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ بھر برائی کی ہوگی، وہ اسے دیکھ لے گا۔“ یہ خیر و شر کے تمام اعمال کو شامل ہے، کیونکہ جب وہ ذرہ برابر وزن کو دیکھ سکے گا جو حقیر ترین چیز ہے، اسے اس کی جزا بھی دی جائے گی، تب وہ اعمال جو وزن میں اس سے زیادہ ہوں گے ان کا دکھا دینا تو زیادہ اولیٰ ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ یَوْمَتَجِدُكُ٘لُّ٘نَ٘فْ٘سٍمَّاعَمِلَتْمِنْخَیْرٍمُّحْضَرًا١ۛ ۖ ۚ و َّمَاعَمِلَتْمِنْسُوْٓءٍ١ۛۚتَوَدُّلَوْاَنَّبَیْنَهَاوَبَیْنَهٗۤاَمَدًۢابَعِیْدًا ﴾ (آل عمران:3؍30) ”جس دن ہر شخص اپنے بھلائی کے عمل اور برائی کے عمل کو موجود پائے گا، اور تمنا کرے گا کہ کاش! برائیوں اور اس کے درمیان بہت دوری ہوتی۔“﴿وَوَجَدُوْامَاعَمِلُوْاحَاضِرًا ﴾ (الکہف:18؍49) ”اور انھوں نے جو عمل کیے تھے ان کو موجود پائیں گے۔“
ان آیات میں بھلائی کے فعل کی ترغیب ہے، خواہ وہ بہت ہی تھوڑا ہو اور برائی کے فعل پر ترہیب ہے، خواہ وہ بہت معمولی ہی ہو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{فمَن يعملْ مثقال ذرَّةٍ خيراً يَرَهُ. ومَن يعملْ مثقال ذرَّةٍ شرًّا يَرَهُ}: وهذا شامل عامٌّ للخير والشرِّ كلِّه؛ لأنَّه إذا رأى مثقال الذَّرَّة التي هي أحقر الأشياء، وجوزي عليها؛ فما فوق ذلك من باب أولى وأحرى؛ كما قال تعالى: {يومَ تجدُ كلُّ نفسٍ ما عملتْ من خيرٍ محضَراً وما عملتْ من سوءٍ تودُّ لو أنَّ بينها وبينه أمداً بعيداً}، {ووجدوا ما عملوا حاضراً}، وهذا فيه الترغيب في فعل الخير، ولو قليلاً، والترهيب من فعل الشر، ولو حقيراً.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔