تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ یَوْمَىِٕذٍیَّصْدُرُالنَّاسُ ﴾”اس دن لوگ آئیں گے۔“ یعنی قیامت کے میدان سے جب اللہ تعالیٰ ان کے درمیان فیصلہ کرے گا۔ ﴿ اَشْتَاتًا ﴾ مختلف گروہوں کی صورت میں ﴿ لِّـیُ٘رَوْااَعْمَالَهُمْ﴾ تاکہ اللہ تعالیٰ ان کو ان کی برائیاں اور نیکیاں دکھائے جو ان سے صادر ہوئی ہیں اور ان کو ان اعمال کی پوری جزا کا مشاہدہ کرائے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{يومئذٍ يَصْدُرُ الناسُ}: من موقف القيامة [حين يقضي اللَّهُ بينهم] {أشتاتاً}؛ أي: فرقاً متفاوتين، {لِيُرَوْا أعمالَهم}؛ أي: ليريهم الله ما عملوا من السيئات والحسنات ، ويريهم جزاءه موفراً.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔