تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الزلزال (99) — آیت 6

یَوۡمَئِذٍ یَّصۡدُرُ النَّاسُ اَشۡتَاتًا ۬ۙ لِّیُرَوۡا اَعۡمَالَہُمۡ ؕ﴿۶﴾
اس دن لوگ الگ الگ ہو کر واپس لوٹیں گے، تاکہ انھیں ان کے اعمال دکھائے جائیں۔ En
اس دن لوگ گروہ گروہ ہو کر آئیں گے تاکہ ان کو ان کے اعمال دکھا دیئے جائیں
En
اس روز لوگ مختلف جماعتیں ہو کر (واپس) لوٹیں گے تاکہ انہیں ان کے اعمال دکھا دیئے جائیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ یَوْمَىِٕذٍ یَّصْدُرُ النَّاسُ اس دن لوگ آئیں گے۔ یعنی قیامت کے میدان سے جب اللہ تعالیٰ ان کے درمیان فیصلہ کرے گا۔ ﴿ اَشْتَاتًا مختلف گروہوں کی صورت میں ﴿ لِّـیُ٘رَوْا اَعْمَالَهُمْ تاکہ اللہ تعالیٰ ان کو ان کی برائیاں اور نیکیاں دکھائے جو ان سے صادر ہوئی ہیں اور ان کو ان اعمال کی پوری جزا کا مشاہدہ کرائے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{يومئذٍ يَصْدُرُ الناسُ}: من موقف القيامة [حين يقضي اللَّهُ بينهم] {أشتاتاً}؛ أي: فرقاً متفاوتين، {لِيُرَوْا أعمالَهم}؛ أي: ليريهم الله ما عملوا من السيئات والحسنات ، ويريهم جزاءه موفراً.