تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿سَلٰ٘مٌهِىَ﴾”یہ (رات) سلامتی ہے۔“ یعنی شب قدر ہر آفت اور ہر شر سے سلامت ہے اور اس کا سبب اس کی بھلائی کی کثرت ہے۔ ﴿حَتّٰىمَطْلَ٘عِالْفَجْرِ﴾”صبح کے طلوع ہونے تک۔“ یعنی اس رات کی ابتدا غروب آفتاب اور اس کی انتہا طلوع فجر ہے۔
اس کی فضیلت میں تواتر سے احادیث وارد ہوئی ہیں، نیز یہ کہ شب قدر رمضان کے آخری عشرے میں خاص طور پر طاق راتوں میں واقع ہوتی ہے اور یہ رات ہر سال آتی ہے اور قیامت تک باقی رہے گی۔ اسی لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان المبارک کے آخری عشرے میں اعتکاف بیٹھتے تھے اور کثرت سے عبادت کرتے تھے، اس امید میں کہ شاید شب قدر مل جائے۔ وَاللہُأَعْلَمُ۔
سورۂ قدر کی تفسیر مکمل ہوئی۔ بِعَوْنِاللہِ۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{سلامٌ هي}؛ أي: سالمةٌ من كل آفةٍ وشرٍّ، وذلك لكثرة خيرها، {حتَّى مطلعِ الفجرِ}؛ أي: مبتداها من غروب الشمس ومنتهاها طلوع الفجر. وقد تواترت الأحاديث في فضلها ، وأنَّها في رمضان، وفي العشر الأواخر منه، خصوصاً في أوتاره، وهي باقيةٌ في كلِّ سنةٍ إلى قيام الساعة، ولهذا كان النبيُّ - صلى الله عليه وسلم - يعتكف ويكثرُ من التعبُّد في العشر الأواخر من رمضان رجاء ليلة القدر. والله أعلم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔