ترجمہ و تفسیر — سورۃ القدر (97) — آیت 5

سَلٰمٌ ۟ۛ ہِیَ حَتّٰی مَطۡلَعِ الۡفَجۡرِ ٪﴿۵﴾
وہ را ت فجر طلوع ہونے تک سراسر سلامتی ہے۔ En
یہ (رات) طلوع صبح تک (امان اور) سلامتی ہے
En
یہ رات سراسر سلامتی کی ہوتی ہے اور فجر کے طلوع ہونے تک (رہتی ہے) En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 5) ➊ {سَلٰمٌ هِيَ حَتّٰى مَطْلَعِ الْفَجْرِ: سَلٰمٌ } خبر مقدم اور { هِيَ } مبتدا مؤخر ہے، یعنی وہ رات طلوع فجر تک سراسر سلامتی ہے۔ مغرب سے فجر تک رات بھر اس میں اہلِ ایمان شیطان کے شر اور ہر قسم کے فتنے سے سلامت رہتے ہیں اور اپنے دلوں میں عجیب اطمینان و سکون اور سلامتی محسوس کرتے ہیں۔
➋ لیلۃ القدر، اس کی تلاش اور اعتکاف کے مسائل و فضائل کے لیے کتب احادیث کا مطالعہ فرمائیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

5۔ 1 یعنی اس میں شر نہیں۔ یا اس معنی میں سلامتی والی ہے کہ مومن اس رات کو شیطان کے شر سے محفوظ رہتے ہیں یا فرشتے اہل ایمان کو سلام عرض کرتے ہیں، یا فرشتے ہی آپس میں ایک دوسرے کو سلام کرتے ہیں۔ شب قدر کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بطور خاص یہ دعا بتلائی ہے، اللّٰھُمَّ اِنَّکَ عَفُو تُحِبُّ العَفْوَ فَاعْفُ۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

5۔ (وہ رات) سراسر سلامتی [4] ہے طلوع فجر تک۔
[4] اس آیت کے بھی دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ جو فرشتے نازل ہوتے ہیں وہ ساری رات اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں کے لیے امن و سلامتی کی دعائیں کرتے رہتے ہیں۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اس میں جتنے بھی فیصلے کیے جاتے ہیں وہ سب خیر و سلامتی پر ہی مبنی ہوتے ہیں۔ حتیٰ کہ اگر کسی فرد کی ہلاکت یا کسی قوم کی تباہی کے متعلق فیصلہ کیا جائے تو وہ بھی اہل زمین کی خیر و سلامتی پر مبنی ہو گا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿سَلٰ٘مٌ هِىَیہ (رات) سلامتی ہے۔ یعنی شب قدر ہر آفت اور ہر شر سے سلامت ہے اور اس کا سبب اس کی بھلائی کی کثرت ہے۔ ﴿حَتّٰى مَطْلَ٘عِ الْفَجْرِ صبح کے طلوع ہونے تک۔ یعنی اس رات کی ابتدا غروب آفتاب اور اس کی انتہا طلوع فجر ہے۔
اس کی فضیلت میں تواتر سے احادیث وارد ہوئی ہیں، نیز یہ کہ شب قدر رمضان کے آخری عشرے میں خاص طور پر طاق راتوں میں واقع ہوتی ہے اور یہ رات ہر سال آتی ہے اور قیامت تک باقی رہے گی۔ اسی لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان المبارک کے آخری عشرے میں اعتکاف بیٹھتے تھے اور کثرت سے عبادت کرتے تھے، اس امید میں کہ شاید شب قدر مل جائے۔ وَاللہُ أَعْلَمُ۔
سورۂ قدر کی تفسیر مکمل ہوئی۔ بِعَوْنِ اللہِ۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{سلامٌ هي}؛ أي: سالمةٌ من كل آفةٍ وشرٍّ، وذلك لكثرة خيرها، {حتَّى مطلعِ الفجرِ}؛ أي: مبتداها من غروب الشمس ومنتهاها طلوع الفجر. وقد تواترت الأحاديث في فضلها ، وأنَّها في رمضان، وفي العشر الأواخر منه، خصوصاً في أوتاره، وهي باقيةٌ في كلِّ سنةٍ إلى قيام الساعة، ولهذا كان النبيُّ - صلى الله عليه وسلم - يعتكف ويكثرُ من التعبُّد في العشر الأواخر من رمضان رجاء ليلة القدر. والله أعلم.