تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ القدر (97) — آیت 4

تَنَزَّلُ الۡمَلٰٓئِکَۃُ وَ الرُّوۡحُ فِیۡہَا بِاِذۡنِ رَبِّہِمۡ ۚ مِنۡ کُلِّ اَمۡرٍ ۙ﴿ۛ۴﴾
اس میں فرشتے اور روح اپنے رب کے حکم سے ہر ا مر کے متعلق اترتے ہیں ۔ En
اس میں روح (الامین) اور فرشتے ہر کام کے (انتظام کے) لیے اپنے پروردگار کے حکم سے اترتے ہیں
En
اس (میں ہر کام) کے سر انجام دینے کو اپنے رب کے حکم سے فرشتے اور روح (جبرائیل) اترتے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿تَنَزَّلُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ وَالرُّوْحُ فِیْهَا یعنی فرشتے اور جبریل امین اس رات میں کثرت سے نازل ہوتے ہیں ﴿مِنْ كُ٘لِّ اَمْرٍۙۛ۰۰ ہر کام کے لیے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{تَنَزَّلُ الملائكةُ والرُّوحُ فيها}؛ أي: يكثر نزولهم فيها، {من كلِّ أمرٍ}.