تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ القدر (97) — آیت 3

لَیۡلَۃُ الۡقَدۡرِ ۬ۙ خَیۡرٌ مِّنۡ اَلۡفِ شَہۡرٍ ؕ﴿ؔ۳﴾
قدر کی رات ہزار مہینے سے بہتر ہے۔ En
شب قدر ہزار مہینے سے بہتر ہے
En
شب قدر ایک ہزار مہینوں سے بہتر ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿لَیْلَةُ الْقَدْرِ١ۙ۬ خَیْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَ٘هْرٍ یعنی قدر کی رات فضیلت میں ایک ہزار مہینے کے برابر ہے۔ وہ عمل جو شب قدر میں واقع ہوتا ہے، ایک ہزار مہینے میں جو شب قدر سے خالی ہوں، واقع ہونے والے عمل سے بہتر ہے۔یہ ان امور میں سے ہے جن پر خرد حیران اور عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس ضعیف القویٰ امت کو ایسی رات سے نوازا جس کے اندر عمل ایک ہزار مہینوں کے عمل سے بڑھ کر ہے، یہ ایک ایسے معمر شخص کی عمر کے برابر ہے جسے اسّی سال سے زیادہ طویل عمر دی گئی ہو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ليلةُ القدرِ خيرٌ من ألفِ شهرٍ}؛ أي: تعادل من فضلها ألف شهرٍ، فالعمل الذي يقع فيها خيرٌ من العمل في ألف شهرٍ خاليةٍ منها، وهذا مما تتحيَّر فيه الألباب، وتندهش له العقول؛ حيث منَّ [تبارك و] تعالى على هذه الأمَّة الضعيفة، القوَّة والقوى بليلةٍ يكون العمل فيها يقابل ويزيد على ألف شهر، عمر رجل معمَّرٍ عمراً طويلاً نيفاً وثمانين سنةً.