تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الليل (92) — آیت 14

فَاَنۡذَرۡتُکُمۡ نَارًا تَلَظّٰی ﴿ۚ۱۴﴾
پس میں نے تمھیں ایک ایسی آگ سے ڈرا دیا ہے جو شعلے مارتی ہے۔ En
سو میں نے تم کو بھڑکتی آگ سے متنبہ کر دیا
En
میں نے تو تمہیں شعلے مارتی ہوئی آگ سے ڈرا دیا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ فَاَنْؔذَرْتُكُمْ۠ نَارًا تَ٘لَ٘ظّٰى میں نے تمھیں بھڑکتی ہوئی اور جلتی ہوئی آگ سے ڈرایا ہے ﴿لَا یَصْلٰىهَاۤ اِلَّا الْاَشْ٘قَىۙ۰۰الَّذِیْ كَذَّبَ اس میں وہی داخل ہوگا جو بڑا بدبخت ہے اور جس نے رسول کی خبر کو جھٹلایا ﴿ وَتَوَلّٰى اور حکم سے منہ موڑا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فأنذرتُكم ناراً تلظَّى}؛ أي: تستعر وتتوقَّد، {لا يصْلاها إلاَّ الأشقى. الذي كذَّب}: بالخبر، {وتولَّى}: عن الأمر.