ترجمہ و تفسیر — سورۃ الليل (92) — آیت 11

وَ مَا یُغۡنِیۡ عَنۡہُ مَا لُہٗۤ اِذَا تَرَدّٰی ﴿ؕ۱۱﴾
اور اس کا مال اس کے کسی کام نہ آئے گا جب وہ ( گڑھے میں) گرے گا۔ En
اور جب وہ (دوزخ کے گڑھے میں) گرے گا تو اس کا مال اس کے کچھ کام نہ آئے گا
En
اس کا مال اسے (اوندھا) گرنے کے وقت کچھ کام نہ آئے گا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 11) {وَ مَا يُغْنِيْ عَنْهُ مَالُهٗۤ اِذَا تَرَدّٰى:} جب جہنم میں گرے گا تو وہ مال جو اس نے بخل کرکے جمع کیا تھا اس کے کسی کام نہ آئے گا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

11۔ 1 یعنی جب جہنم میں گرے گا تو یہ مال جسے وہ خرچ نہیں کرتا تھا، کچھ کام نہ آئے گا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

11۔ اور جب وہ (جہنم کے) گڑھے میں گرے گا تو اس [4] کا مال اس کے کسی کام نہ آئے گا
[4] ﴿تردّي ﴿ردي﴾ بمعنی کسی چیز کو بلندی سے زمین پردے مارنا یا زمین سے کسی گڑھے میں پھینک دینا تاکہ وہ ہلاک ہو جائے اور ﴿تردي﴾ کے معنی خود کنوئیں یا گڑھے میں گرنا اور ہلاکت کو پہنچنا ہے اور یہاں گڑھے سے مراد جہنم کا گڑھا ہے۔ یعنی یہ دوسری قسم کا آدمی جہنم کے گڑھے میں گر پڑے گا تو اس وقت اس کا مال جسے وہ اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتا تھا کسی کام نہ آسکے گا کیونکہ وہ مال تو دنیا میں ہی رہ گیا ہو گا۔ وہاں کیسے کام آسکتا ہے؟

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَمَا یُغْنِیْ عَنْهُ مَالُهٗۤ جس مال نے اسے سرکش بنایا تھا جس کی بنا پر وہ (اللہ تعالیٰ سے) بے نیاز بنا رہا اور اس میں بخل کرتا رہا، اس کے کچھ کام نہ آیا، یعنی جب وہ ہلاک ہو گا اور اسے موت آئے گی تو نیک عمل کے سوا کوئی چیز انسان کے ساتھ نہیں جائے گی، رہا اس کا وہ مال جس میں اس نے زکاۃ وغیرہ ادا نہیں کی، تو یہ مال اس کے لیے وبال بن جائے گا کیونکہ اس نے اس مال میں سے اپنی آخرت کے لیے کچھ آگے نہیں بھیجا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وما يُغني عنه مالُه}: الذي أطغاه واستغنى به وبخل به إذا هلك ومات؛ فإنَّه لا يصحب الإنسان إلاَّ عمله الصالح. وأمَّا ماله الذي لم يخرج منه الواجب؛ فإنَّه يكون وبالاً عليه؛ إذ لم يقدِّم منه لآخرته شيئاً.