وہ لوگ جو پیچھے چھوڑ دیے گئے وہ اللہ کے رسول کے پیچھے اپنے بیٹھ رہنے پر خوش ہوئے اور انھوں نے ناپسند کیا کہ اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ اللہ کے راستے میں جہاد کریں اور انھوں نے کہا اس گرمی میں مت نکلو۔ کہہ دے جہنم کی آگ کہیں زیادہ گرم ہے۔ کاش! وہ سمجھتے ہوتے۔
En
جو لوگ (غزوہٴ تبوک میں) پیچھے رہ گئے وہ پیغمبر خدا (کی مرضی) کے خلاف بیٹھے رہنے سے خوش ہوئے اور اس بات کو ناپسند کیا کہ خدا کی راہ میں اپنے مال اور جان سے جہاد کریں۔ اور (اوروں سے بھی) کہنے لگے کہ گرمی میں مت نکلنا۔ (ان سے) کہہ دو کہ دوزخ کی آگ اس سے کہیں زیادہ گرم ہے۔ کاش یہ (اس بات) کو سمجھتے
پیچھے ره جانے والے لوگ رسول اللہ ﴿صلی اللہ علیہ وسلم﴾ کے جانے کے بعد اپنے بیٹھے رہنے پر خوش ہیں انہوں نے اللہ کی راه میں اپنے مال اور اپنی جانوں سے جہاد کرنا ناپسند رکھا اور انہوں نے کہہ دیا کہ اس گرمی میں مت نکلو۔ کہہ دیجئے کہ دوزخ کی آگ بہت ہی سخت گرم ہے، کاش کہ وه سمجھتے ہوتے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ منافقین کا ان کے پیچھے رہ جانے پر تکبر اور فرحت کا اظہار کرنے اور اس پر ان کی لاپروائی کو بیان کرتا ہے، جو ان کے عدم ایمان اور اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ وہ ایمان پر کفر کو ترجیح دیتے ہیں، چنانچہ فرمایا: ﴿ فَرِحَالْمُخَلَّفُوْنَ۠بِمَقْعَدِهِمْخِلٰفَرَسُوْلِاللّٰهِ ﴾”خوش ہو گئے پیچھے رہنے والے اپنے بیٹھ رہنے سے، رسول اللہ سے جدا ہو کر“ یہ خوش ہونا، پیچھے رہ جانے پر ایک قدر زائد ہے کیونکہ جہاد سے جی چرا کر پیچھے بیٹھ رہنا حرام ہے اور اس پر مستزاد یہ ہے کہ وہ معصیت کے اس فعل پر خوشی اور فخر محسوس کرتے ہیں۔ ﴿ وَكَرِهُوْۤااَنْیُّجَاهِدُوْابِاَمْوَالِهِمْوَاَنْفُسِهِمْفِیْسَبِیْلِاللّٰهِ ﴾”اور وہ گھبرائے اس بات سے کہ لڑیں اپنے مالوں اور جانوں سے، اللہ کی راہ میں “ اور اہل ایمان کا معاملہ اس کے برعکس ہے، وہ اگر پیچھے رہ جائیں .... خواہ اس کا سبب کوئی عذر ہی کیوں نہ ہو.... تو اپنے پیچھے رہ جانے پر سخت غمگین ہوتے ہیں، وہ اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ وہ اپنی جان اور مال کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کریں۔ کیونکہ ان کے دلوں میں ایمان موجزن ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کے احسان کی امید رکھتے ہیں۔
﴿ وَقَالُوْا ﴾ یعنی منافقین کہتے ہیں ﴿ لَاتَنْفِرُوْافِیالْحَرِّ﴾”نہ کوچ کرو گرمی میں “ یعنی وہ کہتے ہیں گرمی کے موسم میں جہاد کے لیے باہر نکلنا ہمارے لیے مشقت کا باعث ہے۔ پس انھوں نے مختصر سی عارضی راحت کو ہمیشہ رہنے والی کامل راحت پر ترجیح دی۔ وہ اس گرمی سے گھبرا گئے جس سے سایہ میں بیٹھ کر بچا جا سکتا ہے جس کی شدت صبح و شام کے اوقات میں کم ہو جاتی ہے اور اس شدید ترین گرمی کو اختیار کر لیا جس کی شدت کو کوئی شخص برداشت کرنے کی قدرت نہیں رکھتا اور وہ ہے جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قُ٘لْنَارُجَهَنَّمَاَشَدُّحَرًّا١ؕلَوْكَانُوْایَفْقَهُوْنَ ﴾”کہہ دیجیے! جہنم کی آگ، کہیں زیادہ سخت گرم ہے، اگر وہ سمجھتے“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى مبيناً تبجُّح المنافقين بتخلُّفهم وعدم مبالاتهم بذلك الدالِّ على عدم الإيمان واختيار الكفر على الإيمان: {فرِحَ المخلَّفون بمَقْعَدِهم خلافَ رسول الله}: وهذا قدر زائد على مجرَّد التخلُّف؛ فإنَّ هذا تخلُّفٌ محرَّمٌ، وزيادةُ رضا بفعل المعصية وتبجحٍ به. {وكرهوا أن يجاهدوا بأموالهم وأنفسهم في سبيل الله}: وهذا بخلاف المؤمنين، الذين إذا تخلَّفوا ولو لعذرٍ؛ حزنوا على تخلُّفهم، وتأسَّفوا غاية الأسف، ويحبُّون أن يجاهدوا بأموالهم وأنفسهم في سبيل الله؛ لما في قلوبهم من الإيمان، ويرجون من فضل الله وإحسانه وبره وامتنانه. {وقالوا}؛ أي: المنافقون: {لا تنفِروا في الحرِّ}؛ أي: قالوا: إنَّ النفير مشقَّةٌ علينا بسبب الحرِّ فقدموا راحة قصيرة منقضية على الراحة الأبدية التامة، وحذروا من الحرِّ الذي يقي منه الظلال ويُذْهِبُه البكر والآصال على الحرِّ الشديد الذي لا يُقادَرُ قدره، وهو النار الحامية، ولهذا قال: {قل نارُ جهنَّم أشدُّ حرًّا لو كانوا يفقهون}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔