تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { وَ كَرِهُوْۤا اَنْ يُّجَاهِدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ …:} کیونکہ اللہ کی خاطر خوشی سے مال و جان کی قربانی ایمان کے بغیر نہیں دی جا سکتی، جس سے یہ محروم ہیں۔ اس میں نکلنے والے مومنوں کی دلی کیفیت اور ان کی تعریف بھی ظاہر ہے کہ وہ کس خوشی سے نکلے۔
➌ {وَ قَالُوْا لَا تَنْفِرُوْا فِي الْحَرِّ …:} یعنی صرف خود ہی نہیں دوسروں کو گرمی کی شدت اور لمبے سفر کی صعوبتوں سے ڈرا کر پیچھے رکھنے کی کوشش کرتے رہے، کیونکہ یہ سفر سخت گرمی کے موسم میں پیش آیا تھا۔ زمخشری رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے ان کی جہالت کا نتیجہ قرار دیا کہ وہ جانتے ہی نہیں کہ آدمی تھوڑی سی تکلیف برداشت کرنے سے اگر ہمیشہ کی ناقابل برداشت تکلیف سے بچ رہا ہو تو کوئی جاہل بلکہ اجہل ہی ہو گا جو وہ تھوڑی سی تکلیف برداشت نہ کرے اور ہمیشہ کی سخت ترین تکلیف برداشت کرنا پسند کرلے۔ اسی طرح انھیں معلوم ہی نہیں کہ اصل گرمی کیا ہوتی ہے، ورنہ اگر وہ جہنم کی گرمی سے آگاہ ہوتے اور ان کا اس پر ایمان ہوتا تو وہ دنیا کی شدید سے شدید گرمی کی بھی پروا نہ کرتے۔ {”لَوْ كَانُوْا يَفْقَهُوْنَ “} کا یہی مطلب ہے، کیونکہ جہنم کا ایک غوطہ دنیا کی تمام لذتیں بھلا دے گا۔ [مسلم: ۲۸۰۷] اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمھاری آگ جہنم کی آگ کے ستر حصوں میں سے ایک حصہ ہے۔“ آپ سے کہا گیا: ”یا رسول اللہ! یقینا وہی کافی تھی۔“ فرمایا: ”وہ ان (آگوں) سے انہتر (۶۹) حصے زیادہ کر دی گئی ہے اور وہ سب اس کی گرمی کی طرح ہیں۔“ [بخاری، بدء الخلق، باب صفۃ النار و أنہا مخلوقۃ: ۳۲۶۵۔ مسلم: ۲۸۴۳]
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
پس اللہ تعالیٰ ان سے فرماتا ہے کہ جہنم کی آگ جس کی طرف تم اپنی اس بد کرداری سے جا رہے ہو وہ اس گرمی سے زیادہ بڑھی ہوئی حرارت اپنے اندر رکھتی ہے یہ آگ تو اس آگ کا سترواں حصہ ہے، جیسے کہ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے ۱؎ [صحیح بخاری:3265]
اور روایت میں ہے کہ تمہاری یہ آگ آتش دوزخ کے ستر اجزاء میں سے ایک جزء ہے پھر بھی یہ سمندر کے پانی میں دو دفعہ بجھائی ہوئی ہے ورنہ تم اس سے کوئی فائدہ حاصل نہ کر سکتے۔ ۱؎ [مسند احمد:244/2:صحیح]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ایک ہزار سال تک آتش دوزخ دھونکی گئی تو سرخ ہو گئی ایک ہزار سال جلائی گئی تو سفید ہو گئی پھر ایک ہزار سال تک دھونکی گئی پس وہ اندھیری رات جیسی سخت سیاہ ہے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2591،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
ایک بار آپ نے آیت «وَّقُوْدُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ» ۱؎ [66-التحريم:6] کی تلاوت کی اور فرمایا: ”ایک ہزار سال تک جلائے جانے سے وہ سفید پڑ گئی پھر ایک ہزار سال تک بھڑکانے سے سرخ ہو گئی پھر ایک ہزار سال تک دھونکے جانے سے سیاہ ہو گئی پس وہ سیاہ رات جیسی ہے اس کے شعلوں میں بھی چمک نہیں۔“ ۱؎ [بیهقی فی شعب الایمان:799:ضعیف]
ایک حدیث میں ہے کہ اگر دوزخ کی آگ کی ایک چنگاری مشرق میں ہو تو اس کی حرارت مغرب تک پہنچ جائے۔ ابو یعلیٰ کی ایک غریب روایت میں ہے کہ اگر اس مسجد میں ایک لاکھ بلکہ اس سے بھی زیادہ آدمی ہوں اور کوئی جہنمی یہاں آ کر سانس لے تو اس کی گرمی سے مسجد اور مسجد والے سب جل جائیں۔ ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:6670:ضعیف]
قرآن فرماتا ہے کہ وہ آگ ایسی شعلہ زن ہے جو کھال اتار دیتی ہے۔ اور آیتوں میں ہے کہ ان کے سروں پر کھولتا ہوا گرم پانی بہایا جائے گا جس سے ان کے پیٹ کی تمام چیزیں اور ان کے کھالیں جھلس جائیں گی پھر لوہے کے ہتھوڑوں سے ان کے سر کچلے جائیں گے وہ جب وہاں سے نکلنا چاہیں گے اسی میں لوٹا دیئے جائیں گے اور کہا جائے گا کہ جلنے کا عذاب چکھو۔
ایک اور آیت میں ہے کہ جن لوگوں نے ہماری آیتوں سے انکار کیا انہیں ہم بھڑکتی ہوئی آگ میں ڈال دیں گے، ان کی کھالیں جھلستی جائیں گی اور ہم اور اور بدلتے جائیں گے کہ وہ خوب عذاب چکھیں۔ ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:4134:ضعیف]
اس آیت میں بھی فرمایا ہے کہ اگر انہیں سمجھ ہوتی تو وہ جان لیتے کہ جہنم کی آگ کی گرمی اور تیزی بہت زیادہ ہے تو یقیناً یہ باوجود موسم گرمی کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد میں خوشی خوشی نکلتے اور اپنے جان و مال کو اللہ کی راہ میں فدا کرنے پر تل جاتے۔
عرب کا شاعر کہتا ہے کہ تو نے اپنی عمر سردی گرمی سے بچنے کی کوشش میں گذار دی حالانکہ تجھے لائق تھا کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں سے بچتا کہ جہنم کی آگ سے بچ جائے۔ اب اللہ تعالیٰ ان بدباطن منافقوں کو ڈرا رہا ہے کہ تھوڑی سی زندگی میں یہاں تو جتنا چاہیں ہنس لیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ لوگو روؤ اور رونا نہ آئے تو زبردستی روؤ جہنمی روئیں گے یہاں تک کہ ان کے رخساروں پر نہر جیسے گڑھے پڑ جائیں گے آخر آنسو ختم ہو جائیں گے اب آنکھیں خون برسانے لگیں گی ان کی آنکھوں سے اس قدر آنسو اور خون بہا ہو گا کہ اگر کوئی اس میں کشتی چلانی چاہے تو چلا سکتا ہے۔ ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:4134:ضعیف]
اور حدیث میں ہے کہ جہنمی جہنم میں روئیں گے اور خوب روتے رہیں گے، آنسو ختم ہونے کے بعد پیپ نکلنا شروع ہو گا۔ اس وقت دوزخ کے داروغے ان سے کہیں گے اے بدبخت! رحم کی جگہ تو تم کبھی ہو نہ روئے اب یہاں کا رونا دھونا لاحاصل ہے، اب یہ اونچی آوازوں سے چلا چلا کر جنتیوں سے فریاد کریں گے کہ تم لوگ ہمارے رشتے کنبے کے ہو سنو! ہم قبروں سے پیاسے اٹھے تھے پھر میدان محشر میں بھی پیاسے ہی رہے اور آج تک یہاں بھی پیاسے ہی ہیں ہم پر رحم کرو کچھ پانی ہمارے حلق میں چھو دو یا جو روزی اللہ تعالیٰ نے تمہیں دی ہے اس میں سے ہی تھوڑا بہت ہمیں دے دو۔
چالیس سال تک کتوں کی طرح چیختے رہیں گے چالیس سال کے بعد انہیں جواب ملے گا کہ تم یونہی دھتکارے ہوئے بھوکے پیاسے ہی ان سڑیل اور اٹل سخت عذابوں میں پڑے رہو۔ اب یہ تمام بھلائیوں سے مایوس ہو جائیں گے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى مبيناً تبجُّح المنافقين بتخلُّفهم وعدم مبالاتهم بذلك الدالِّ على عدم الإيمان واختيار الكفر على الإيمان: {فرِحَ المخلَّفون بمَقْعَدِهم خلافَ رسول الله}: وهذا قدر زائد على مجرَّد التخلُّف؛ فإنَّ هذا تخلُّفٌ محرَّمٌ، وزيادةُ رضا بفعل المعصية وتبجحٍ به. {وكرهوا أن يجاهدوا بأموالهم وأنفسهم في سبيل الله}: وهذا بخلاف المؤمنين، الذين إذا تخلَّفوا ولو لعذرٍ؛ حزنوا على تخلُّفهم، وتأسَّفوا غاية الأسف، ويحبُّون أن يجاهدوا بأموالهم وأنفسهم في سبيل الله؛ لما في قلوبهم من الإيمان، ويرجون من فضل الله وإحسانه وبره وامتنانه. {وقالوا}؛ أي: المنافقون: {لا تنفِروا في الحرِّ}؛ أي: قالوا: إنَّ النفير مشقَّةٌ علينا بسبب الحرِّ فقدموا راحة قصيرة منقضية على الراحة الأبدية التامة، وحذروا من الحرِّ الذي يقي منه الظلال ويُذْهِبُه البكر والآصال على الحرِّ الشديد الذي لا يُقادَرُ قدره، وهو النار الحامية، ولهذا قال: {قل نارُ جهنَّم أشدُّ حرًّا لو كانوا يفقهون}.