تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ التوبة (9) — آیت 82

فَلۡیَضۡحَکُوۡا قَلِیۡلًا وَّ لۡیَبۡکُوۡا کَثِیۡرًا ۚ جَزَآءًۢ بِمَا کَانُوۡا یَکۡسِبُوۡنَ ﴿۸۲﴾
پس وہ بہت کم ہنسیں اور بہت زیادہ روئیں، اس کے بدلے جو وہ کمائی کرتے رہے ہیں۔ En
یہ (دنیا میں) تھوڑا سا ہنس لیں اور (آخرت میں) ان کو ان اعمال کے بدلے جو کرتے رہے ہیں بہت سا رونا ہوگا
En
پس انہیں چاہئے کہ بہت کم ہنسیں اور بہت زیاده روئیں بدلے میں اس کے جو یہ کرتے تھے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

کیونکہ انھوں نے فانی چیز کو ہمیشہ باقی رہنے والی چیز پر ترجیح دی اور انھوں نے نہایت ہی خفیف اور ختم ہو جانے والی مشقت سے فرار ہو کر دائمی مشقت کو اختیار کر لیا۔ ﴿ فَلْیَضْحَكُوْا قَلِیْلًا وَّلْیَبْكُوْا كَثِیْرًا پس ہنسیں وہ تھوڑا اور روئیں زیادہ یعنی اس ختم ہو جانے والی دنیا سے خوب فائدہ اٹھائیں۔ اس کی لذات سے فرحت حاصل کریں اور اس کے کھیل کود میں مگن ہو کر غافل ہو جائیں وہ عنقریب دردناک عذاب میں خوب روئیں گے ﴿ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ بدلہ اس کا جو کماتے تھے انھوں نے کفر، نفاق اور اپنے رب کے احکام کی عدم اطاعت پر مبنی افعال سرانجام دیے تھے، یہ ان کی جزا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

لَمَّا آثروا ما يفنى على ما يبقى، ولَمَّا فرُّوا من المشقَّة الخفيفة المنقضية إلى المشقَّة الشديدة الدائمة؛ قال تعالى: {فَلْيَضْحكوا قليلاً ولْيَبْكوا كثيراً}؛ أي: فليتمتَّعوا في هذه الدار المنقضية، ويفرحوا بلذَّاتها، ويَلْهوا بلعبها، فسيبكون كثيراً في عذاب أليم. {جزاءً بما كانوا يكسِبونَ}: من الكفر والنفاق وعدم الانقياد لأوامر ربِّهم.