تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ التوبة (9) — آیت 76

فَلَمَّاۤ اٰتٰہُمۡ مِّنۡ فَضۡلِہٖ بَخِلُوۡا بِہٖ وَ تَوَلَّوۡا وَّ ہُمۡ مُّعۡرِضُوۡنَ ﴿۷۶﴾
پھر جب اس نے انھیں اپنے فضل میں سے کچھ عطا فرمایا تو انھوں نے اس میں بخل کیا اور منہ موڑ گئے، اس حال میں کہ وہ بے رخی کرنے والے تھے۔ En
لیکن جب خدا نے ان کو اپنے فضل سے (مال) دیا تو اس میں بخل کرنے لگے اور (اپنے عہد سے) روگردانی کرکے پھر بیٹھے
En
لیکن جب اللہ نے اپنے فضل سے انہیں دیا تو یہ اس میں بخیلی کرنے لگے اور ٹال مٹول کرکے منھ موڑ لیا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿فَلَمَّاۤ اٰتٰىهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ٘ پس جب دیا ان کو اپنے فضل سے تو انھوں نے اس وعدے کو پورا نہ کیا جو انھوں نے اللہ تعالیٰ سے کیا تھا بلکہ ﴿ بَخِلُوْا بِهٖ بخل کیا ساتھ اس کے ﴿ وَتَوَلَّوْا اور اطاعت سے منہ موڑ گئے ﴿ وَّهُمْ مُّعْرِضُوْنَ اور وہ روگردانی کرنے والے تھے یعنی بھلائی کی طرف التفات نہ کرنے والے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فلما آتاهُم من فضلِهِ}: لم يفوا بما قالوا، بل {بَخِلوا} و {وتولَّوْا}: عن الطاعة والانقياد، {وهم معرضون}؛ أي: غير ملتفتين إلى الخير.