تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ التوبة (9) — آیت 77

فَاَعۡقَبَہُمۡ نِفَاقًا فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ اِلٰی یَوۡمِ یَلۡقَوۡنَہٗ بِمَاۤ اَخۡلَفُوا اللّٰہَ مَا وَعَدُوۡہُ وَ بِمَا کَانُوۡا یَکۡذِبُوۡنَ ﴿۷۷﴾
تو اس کے نتیجے میں اس نے ان کے دلوں میں اس دن تک نفاق رکھ دیا جس میں وہ اس سے ملیں گے۔ اس لیے کہ انھوں نے اللہ سے اس کی خلاف ورزی کی جو اس سے وعدہ کیا تھا اور اس لیے کہ وہ جھوٹ کہتے تھے۔ En
تو خدا نے اس کا انجام یہ کیا کہ اس روز تک کے لیے جس میں وہ خدا کے روبرو حاضر ہوں گے ان کے دلوں میں نفاق ڈال دیا اس لیے کہ انہوں نے خدا سے جو وعدہ کیا تھا اس کے خلاف کیا اور اس لیے کہ وہ جھوٹ بولتے تھے
En
پس اس کی سزا میں اللہ نے ان کے دلوں میں نفاق ڈال دیا اللہ سے ملنے کے دنوں تک، کیونکہ انہوں نے اللہ سے کئے ہوئے وعدے کا خلاف کیا اور کیوں کہ جھوٹ بولتے رہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

جب انھوں نے اس عہد کو پورا نہ کیا جو انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی۔ ﴿ فَاَعْقَبَهُمْ نِفَاقًا فِیْ قُلُوْبِهِمْ پس بطور سزا کر دیا نفاق ان کے دلوں میں یعنی ہمیشہ رہنے والا نفاق۔ ﴿ اِلٰى یَوْمِ یَلْقَوْنَهٗ بِمَاۤ اَخْلَفُوا اللّٰهَ مَا وَعَدُوْهُ وَبِمَا كَانُوْا یَكْذِبُوْنَ جس دن تک کہ وہ اس سے ملیں گے، اس وجہ سے کہ انھوں نے خلاف کیا اللہ سے جو وعدہ اس سے کیا تھا اور اس وجہ سے کہ وہ جھوٹ بولتے تھے پس بندۂ مومن کو اس برے وصف سے بچنا چاہیے کہ اگر اس کو اس کا مقصد حاصل ہوگیا تو وہ فلاں کام کرے گا اس کے بعد وہ اللہ تعالیٰ سے کیے ہوئے عہد کو پورا نہ کرے، اس لیے بسااوقات اللہ تعالیٰ نفاق کے ذریعے سے اس کو سزا دیتا ہے جیسا کہ ان لوگوں کو سزا دی۔ ایک صحیح حدیث میں، جو کہ صحیحین میں ثابت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
منافق کی تین نشانیاں ہیں:جب بات کرے تو جھوٹ بولے جب عہد کرے تو بد عہدی سے کام لے اور وعدہ کرے تو اسے پورا نہ کرے۔ (صحیح بخاری، کتاب الإیمان، باب علامات المنافق، حدیث: 33)
پس یہ منافق جس نے اللہ تعالیٰ سے وعدہ کیا تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنے فضل سے نوازا تو وہ ضرور صدقہ کرے گا اور نیک بن جائے گا۔ پس اس نے اپنی بات میں جھوٹ بولا، عہد کر کے بدعہدی کی اور وعدہ کر کے پورا نہ کیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فلما لم يفوا بما عاهدوا الله عليه؛ عاقبهم و {أعقبهم نفاقاً في قلوبهم}: مستمر {إلى يوم يَلْقَوْنَهُ بما أخلفوا اللهَ ما وعدوه وبما كانوا يكذبون}: فليحذر المؤمنُ من هذا الوصف الشنيع أن يعاهد ربَّه إن حصل مقصودُهُ الفلانيُّ؛ ليفعلنَّ كذا وكذا، ثم لا يفي بذلك؛ فإنَّه ربما عاقبه الله بالنفاق كما عاقب هؤلاء، وقد قال النبيُّ - صلى الله عليه وسلم - في الحديث الثابت في «الصحيحين»: «آية المنافق ثلاثٌ: إذا حدَّثَ كَذَبَ، وإذا عاهد غَدَرَ، وإذا وَعَدَ أَخْلَفَ»؛ فهذا المنافق الذي وعد الله وعاهده لئن أعطاه الله من فضله؛ ليصَّدَّقن وليكوننَّ من الصالحين: حدَّث فكذب، وعاهد [فغدر] ، ووعد فأخلف.