تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ التوبة (9) — آیت 75

وَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ عٰہَدَ اللّٰہَ لَئِنۡ اٰتٰىنَا مِنۡ فَضۡلِہٖ لَنَصَّدَّقَنَّ وَ لَنَکُوۡنَنَّ مِنَ الصّٰلِحِیۡنَ ﴿۷۵﴾
اور ان میں سے بعض وہ ہیں جنھوں نے اللہ سے عہد کیا کہ یقینا اگر اس نے ہمیں اپنے فضل سے کچھ عطا فرمایا تو ہم ضرور ہی صدقہ کریں گے اور ضرور ہی نیک لوگوں سے ہو جائیں گے۔ En
اور ان میں سے بعض ایسے ہیں جنہوں نے خدا سے عہد کیا تھا کہ اگر وہ ہم کو اپنی مہربانی سے (مال) عطا فرمائے گا تو ہم ضرور خیرات کیا کریں گے اور نیک کاروں میں ہو جائیں گے
En
ان میں وه بھی ہیں جنہوں نے اللہ سے عہد کیا تھا کہ اگر وه ہمیں اپنے فضل سے مال دے گا تو ہم ضرور صدقہ وخیرات کریں گے اور پکی طرح نیکو کاروں میں ہو جائیں گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

ان منافقین میں سے کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جنھوں نے اللہ تعالیٰ سے عہد کیا تھا ﴿ لَىِٕنْ اٰتٰىنَا مِنْ فَضْلِهٖ٘ اگر وہ اپنے فضل سے ہمیں عطا کرے گا۔ یعنی اگر اللہ تعالیٰ ہمیں دنیا عطا کر کے اس میں کشادگی پیدا کرے ﴿ لَنَصَّدَّقَ٘نَّ وَلَنَكُوْنَنَّ مِنَ الصّٰؔلِحِیْنَ تو ہم ضرور صدقہ کریں گے اور ہم نیکوکاروں میں سے ہو جائیں گے پس ہم صلہ رحمی کریں گے، مہمان کی مہمان نوازی کریں گے، راہ حق میں لوگوں کی مدد کریں گے اور اچھے اور نیک عمل کریں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: ومن هؤلاء المنافقين من أعطى الله عهدَهُ وميثاقَهُ، {لئن آتانا من فضلِهِ}: من الدنيا فبسطها لنا ووسَّعها، {لَنَصَّدَّقَنَّ ولَنكونَنَّ من الصالحين}: فنصل الرحم ونُقري الضيف، ونعينُ على نوائب الحقِّ، ونفعل الأفعال الحسنة الصالحة.