وہ اللہ کی قسم کھاتے ہیں کہ انھوں نے بات نہیں کہی، حالانکہ بلاشبہ یقینا انھوں نے کفر کی بات کہی اور اپنے اسلام کے بعد کفر کیا اور اس چیز کا ارادہ کیا جو انھوں نے نہیں پائی اور انھوں نے انتقام نہیں لیا مگر اس کا کہ اللہ اور اس کے رسول نے انھیں اپنے فضل سے غنی کر دیا۔ پس اگر وہ توبہ کر لیں تو ان کے لیے بہتر ہوگا اور اگر منہ پھیر لیں تو اللہ انھیں دنیا اور آخرت میں درد ناک عذاب دے گا اور ان کے لیے زمین میں نہ کوئی دوست ہوگا اور نہ کوئی مدد گار۔
En
یہ خدا کی قسمیں کھاتے ہیں کہ انہوں نے (تو کچھ) نہیں کہا حالانکہ انہوں نے کفر کا کلمہ کہا ہے اور یہ اسلام لانے کے بعد کافر ہوگئے ہیں اور ایسی بات کا قصد کرچکے ہیں جس پر قدرت نہیں پاسکے۔ اور انہوں نے (مسلمانوں میں) عیب ہی کون سا دیکھا ہے سوا اس کے کہ خدا نے اپنے فضل سے اور اس کے پیغمبر نے (اپنی مہربانی سے) ان کو دولت مند کر دیا ہے۔ تو اگر یہ لوگ توبہ کرلیں تو ان کے حق میں بہتر ہوگا۔ اور اگر منہ پھیر لیں تو ان کو دنیا اور آخرت میں دکھ دینے والا عذاب دے گا اور زمین میں ان کا کوئی دوست اور مددگار نہ ہوگا
یہ اللہ کی قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ انہوں نے نہیں کہا، حاﻻنکہ یقیناً کفر کا کلمہ ان کی زبان سے نکل چکا ہے اور یہ اپنے اسلام کے بعد کافر ہوگئے ہیں اور انہوں نے اس کام کا قصد بھی کیا جو پورا نہ کر سکے۔ یہ صرف اسی بات کا انتقام لے رہے ہیں کہ انہیں اللہ نے اپنے فضل سے اور اس کے رسول ﴿صلی اللہ علیہ وسلم﴾ نے دولت مند کردیا، اگر یہ اب بھی توبہ کر لیں تو یہ ان کے حق میں بہتر ہے، اور اگر منھ موڑے رہیں تو اللہ تعالیٰ انہیں دنیا وآخرت میں دردناک عذاب دے گا اور زمین بھر میں ان کا کوئی حمایتی اور مددگار نہ کھڑا ہوگا
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ یَحْلِفُوْنَبِاللّٰهِمَاقَالُوْا١ؕوَلَقَدْقَالُوْاكَلِمَةَالْ٘كُفْرِ ﴾”قسمیں کھاتے ہیں اللہ کی کہ انھوں نے نہیں کہا اور بے شک کہا ہے انھوں نے لفظ کفر کا“ یعنی جب انھوں نے اس شخص کی مانند بات کہی تھی جس نے یہ کہا تھا ﴿لَیُخْرِجَنَّالْاَعَزُّمِنْهَاالْاَذَلَّ﴾ (المنافقون: 63؍8) ”عزت دار، ذلیل لوگوں کو مدینہ سے باہر نکال دیں گے۔“اور وہ باتیں جو دین اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ استہزاء کرتے ہوئے ایک کے بعد دوسرا کرتا تھا۔ جب ان کو یہ بات پہنچی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی باتیں معلوم ہوگئی ہیں تو وہ قسمیں اٹھاتے ہوئے آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگے کہ انھوں نے یہ بات ہرگز نہیں کہی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ان کی تکذیب کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ وَلَقَدْقَالُوْاكَلِمَةَالْ٘كُفْرِوَكَفَرُوْابَعْدَاِسْلَامِهِمْ ﴾”بے شک کہا ہے انھوں نے لفظ کفر کا اور منکر ہو گئے وہ اسلام لانے کے بعد“ گزشتہ وقت میں ان کے اسلام قبول کرنے نے اگرچہ ان کو ظاہری طور پر دائرہ کفر سے نکال دیا تھا مگر ان کا یہ آخری کلام اسلام کے متناقض ہے جو انھیں کفر میں داخل کر دیتا ہے۔
﴿ وَهَمُّوْابِمَالَمْیَنَالُوْا ﴾”اور انھوں نے ایسی چیز کا ارادہ کیا جو انھیں نہیں ملی“ یہ اس واقعہ کی طرف اشارہ ہے جب انھوں نے غزوۂ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دھوکے کے ساتھ قتل کرنے کا ارادہ کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے منصوبے کے بارے میں آگاہ فرما دیا، چنانچہ آپ نے کسی کو حکم دیا اور اس نے ان کو اپنے منصوبے پر عمل کرنے سے روک دیا۔ ﴿ وَ ﴾ ان کا حال یہ ہے ﴿ مَانَقَمُوْۤا ﴾ یعنی ”وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر صرف اس وجہ سے ناراض ہیں “ اور آپ کی عیب جوئی کرتے ہیں ﴿ اِلَّاۤاَنْاَغْ٘نٰىهُمُاللّٰهُوَرَسُوْلُهٗمِنْفَضْلِهٖ٘﴾ کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے فضل سے ان کی محتاجی کے بعد ان کو غنی کر دیا۔ یہ نہایت ہی عجیب بات ہے کہ وہ اس ہستی کی اہانت کریں جو ان کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لانے اور محتاجی کے بعد غنا کا سبب بنی۔ کیا ان پر اس ہستی کا حق نہیں کہ وہ اس کی تعظیم اور توقیر کریں اور اس پر ایمان لائیں؟ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے توبہ پیش کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَاِنْیَّتُوْبُوْایَكُخَیْرًالَّهُمْ﴾”پس اگر وہ توبہ کر لیں تو ان کے لیے بہتر ہے“ کیونکہ توبہ دنیا و آخرت کی سعادت کی اساس ہے۔ ﴿ وَاِنْیَّتَوَلَّوْا ﴾”اور اگر وہ منہ پھیر لیں۔“ یعنی اگر وہ توبہ اور انابت سے منہ موڑ لیں۔ ﴿ یُعَذِّبْهُمُاللّٰهُعَذَابً٘ااَلِیْمًا١ۙفِیالدُّنْیَاوَالْاٰخِرَةِ﴾”تو عذاب دے گا اللہ ان کو دردناک عذاب دنیا اور آخرت میں “ دنیا میں ان کے لیے عذاب یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اپنے دین کو فتح و نصرت سے نوازتا ہے اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو عزت عطا کرتا ہے اور یہ لوگ اپنا مقصد حاصل نہیں کر پاتے تو حزن و غم کا شکار ہو جاتے ہیں اور آخرت میں ان کو جہنم کا عذاب ملے گا۔ ﴿ وَمَالَهُمْفِیالْاَرْضِمِنْوَّلِیٍّ ﴾”اور زمین میں ان کا کوئی دوست نہیں “ جو ان کے معاملات کی سرپرستی کرے اور ان کو ان کے مقصد تک پہنچائے ﴿ وَّلَانَصِیْرٍ ﴾”اور نہ کوئی مددگار“ جو تکلیف دہ امور کو ان سے دور کرے۔ جب وہ اللہ تعالیٰ کی سرپرستی سے محروم ہوگئے تو پھر شر، خسران، بدبختی اور حرمان نصیبی ہی ان کا نصیب بن جاتی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{يحلفونَ بالله ما قالوا ولقد قالوا كلمةَ الكفرِ}؛ أي: إذا قالوا قولاً كقول من قال منهم: {لَيُخْرِجَنَّ الأعزُّ منها الأذلَّ}، والكلام الذي يتكلَّم به الواحد بعد الواحد في الاستهزاء بالدين وبالرسول؛ فإذا بلغهم أن النبيَّ - صلى الله عليه وسلم - قد بلغه شيء من ذلك؛ جاؤوا إليه يحلفون بالله ما قالوا، قال تعالى مكذِّباً لهم: {ولقد قالوا كلمةَ الكفر وكفروا بعد إسلامهم}: فإسلامهم السابق، وإن كان ظاهره أنه أخرجهم من دائرة الكفر؛ فكلامُهم الأخير ينقُضُ إسلامهم ويدخِلُهم بالكفر. {وهمُّوا بما لم ينالوا}: وذلك حين همُّوا بالفتك برسول الله - صلى الله عليه وسلم - في غزوة تبوك، فقصَّ الله عليه نبأهم، فأمر من يصدُّهم عن قصدهم. {و} الحال أنهم {ما نقموا} وعابوا من رسول الله - صلى الله عليه وسلم - {إلَّا أنْ أغناهم اللهُ ورسولُه من فضله}: بعد أن كانوا فقراء معوزين، وهذا من أعجب الأشياء: أن يستهينوا بمن كان سبباً لإخراجهم من الظلمات إلى النور، ومغنياً لهم بعد الفقر! وهل حقُّه عليهم إلا أن يعظِّموه ويؤمنوا به ويُجِلُّوه؟! [فاجتمع الدَّاعي الديني وداعي المروءة الإنسانية]. ثم عرض عليهم التوبة، فقال: {فإن يتوبوا يكُ خيراً لهم}؛ لأن التوبة أصلٌ لسعادة الدُّنيا والآخرة، {وإن يَتَوَلَّوا}: عن التوبة والإنابة {يعذِّبْهم الله عذاباً أليماً في الدُّنيا والآخرة}: في الدنيا بما ينالهم من الهم والغم والحزن على نصرة الله لدينه وإعزاز نبيِّه وعدم حصولهم على مطلوبهم، وفي الآخرة في عذاب السعير. {وما لهم في الأرض من وليٍّ}: يتولَّى أمورهم ويُحَصِّلُ لهم المطلوب، {ولا نصيرٍ}: يدفع عنهم المكروه، وإذا انقطعوا من ولاية الله تعالى؛ فثمَّ أصناف الشرِّ والخسران والشقاء والحرمان.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔