تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے ﴿ یٰۤاَیُّهَاالنَّبِیُّجَاهِدِالْكُفَّارَوَالْ٘مُنٰفِقِیْنَ ﴾”اے پیغمبر! کافروں اور منافقوں سے جہاد کریں “ بھرپور جہاد۔ ﴿ وَاغْلُظْعَلَیْهِمْ ﴾”اور ان پر سختی کریں۔“ جہاں حالات سختی کا تقاضا کریں وہاں سختی کیجیے۔ اس جہاد میں تلوار کا جہاد اور حجت و دلیل کا جہاد سب شامل ہیں۔ پس جو جنگ کرتا ہے اس کے خلاف ہاتھ، زبان اور شمشیر و سناں کے ذریعے سے جہاد کیا جائے۔ اور جو کوئی ذمی بن کر یا معاہدہ کے ذریعے سے اسلام کی بالادستی قبول کرتا ہے تو اس کے خلاف دلیل و برہان کے ذریعے سے جہاد کیا جائے۔ اس کے سامنے اسلام کے محاسن اور کفر و شرک کی برائیاں واضح کی جائیں۔ پس یہ تو وہ رویہ ہے جو دنیا میں ان کے ساتھ ہونا چاہیے۔ ﴿ وَ ﴾ اور آخرت میں تو ﴿ مَاْوٰىهُمْجَهَنَّمُ﴾”ان کا ٹھکانا جہنم ہے“ یعنی ان کی جائے قرار جہاں سے وہ کبھی نہیں نکلیں گے۔ ﴿ وَبِئْسَالْمَصِیْرُ ﴾”اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى لنبيِّه - صلى الله عليه وسلم -: {يا أيُّها النبيُّ جاهد الكفار والمنافقين}؛ أي: بالغ في جهادهم، والغلظة عليهم حيث اقتضت الحال الغِلْظة عليهم، وهذا الجهاد يدخل فيه الجهاد باليد والجهاد بالحجة واللسان؛ فمن بارز منهم بالمحاربة؛ فيجاهَد باليد واللسان والسيف والسنان ، ومن كان مذعناً للإسلام بذمَّة أو عهدٍ؛ فإنه يجاهَدُ بالحجة والبرهان، ويبيَّن له محاسن الإسلام ومساوئ الشرك والكفران ؛ فهذا ما لهم في الدنيا، {و} أما في الآخرة؛ فَمَأواهم {جهنم}؛ أي: مقرُّهم الذي لا يخرجون منها، {وبئس المصير}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔