تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ التوبة (9) — آیت 73

یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ جَاہِدِ الۡکُفَّارَ وَ الۡمُنٰفِقِیۡنَ وَ اغۡلُظۡ عَلَیۡہِمۡ ؕ وَ مَاۡوٰىہُمۡ جَہَنَّمُ ؕ وَ بِئۡسَ الۡمَصِیۡرُ ﴿۷۳﴾
اے نبی! کافروں اور منافقوں سے جہاد کر اور ان پر سختی کر اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ لوٹ کر جانے کی بری جگہ ہے۔ En
اے پیغمبر! کافروں اور منافقوں سے لڑو۔ اور ان پر سختی کرو۔ اور ان کا ٹھکانہ دورخ ہے اور وہ بری جگہ ہے
En
اے نبی! کافروں اور منافقوں سے جہاد جاری رکھو، اور ان پر سخت ہو جاؤ ان کی اصلی جگہ دوزخ ہے، جو نہایت بدترین جگہ ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے ﴿ یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَالْ٘مُنٰفِقِیْنَ اے پیغمبر! کافروں اور منافقوں سے جہاد کریں بھرپور جہاد۔ ﴿ وَاغْلُظْ عَلَیْهِمْ اور ان پر سختی کریں۔ جہاں حالات سختی کا تقاضا کریں وہاں سختی کیجیے۔ اس جہاد میں تلوار کا جہاد اور حجت و دلیل کا جہاد سب شامل ہیں۔ پس جو جنگ کرتا ہے اس کے خلاف ہاتھ، زبان اور شمشیر و سناں کے ذریعے سے جہاد کیا جائے۔ اور جو کوئی ذمی بن کر یا معاہدہ کے ذریعے سے اسلام کی بالادستی قبول کرتا ہے تو اس کے خلاف دلیل و برہان کے ذریعے سے جہاد کیا جائے۔ اس کے سامنے اسلام کے محاسن اور کفر و شرک کی برائیاں واضح کی جائیں۔ پس یہ تو وہ رویہ ہے جو دنیا میں ان کے ساتھ ہونا چاہیے۔ ﴿ وَ اور آخرت میں تو ﴿ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ ان کا ٹھکانا جہنم ہے یعنی ان کی جائے قرار جہاں سے وہ کبھی نہیں نکلیں گے۔ ﴿ وَبِئْسَ الْمَصِیْرُ اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يقول تعالى لنبيِّه - صلى الله عليه وسلم -: {يا أيُّها النبيُّ جاهد الكفار والمنافقين}؛ أي: بالغ في جهادهم، والغلظة عليهم حيث اقتضت الحال الغِلْظة عليهم، وهذا الجهاد يدخل فيه الجهاد باليد والجهاد بالحجة واللسان؛ فمن بارز منهم بالمحاربة؛ فيجاهَد باليد واللسان والسيف والسنان ، ومن كان مذعناً للإسلام بذمَّة أو عهدٍ؛ فإنه يجاهَدُ بالحجة والبرهان، ويبيَّن له محاسن الإسلام ومساوئ الشرك والكفران ؛ فهذا ما لهم في الدنيا، {و} أما في الآخرة؛ فَمَأواهم {جهنم}؛ أي: مقرُّهم الذي لا يخرجون منها، {وبئس المصير}.