منافق ڈرتے ہیں کہ ان پر کوئی ایسی سورت اتاری جائے جو انھیں وہ باتیں بتا دے جو ان کے دلوں میں ہیں۔ کہہ دے تم مذاق اڑائو، بے شک اللہ ان باتوں کو نکال ظاہر کرنے والا ہے جن سے تم ڈرتے ہو۔
En
منافق ڈرتے رہتے ہیں کہ ان (کے پیغمبر) پر کہیں کوئی ایسی سورت (نہ) اُتر آئے کہ ان کے دل کی باتوں کو ان (مسلمانوں) پر ظاہر کر دے۔ کہہ دو کہ ہنسی کئے جاؤ۔ جس بات سے تم ڈرتے ہو خدا اس کو ضرور ظاہر کردے گا
منافقوں کو ہر وقت اس بات کا کھٹکا لگارہتا ہے کہ کہیں مسلمانوں پر کوئی سورت نہ اترے جو ان کے دلوں کی باتیں انہیں بتلا دے۔ کہہ دیجئے کہ تم مذاق اڑاتے رہو۔ یقیناً اللہ تعالیٰ اسے ﻇاہر کرنے واﻻ ہے جس سے تم ڈر دبک رہے ہو
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اس سورۂ کریمہ کو (اَلْفَاضِحَۃ) ”رسوا کرنے والی سورت“ کے نام سے بھی موسوم کیا گیا ہے کیونکہ اس نے منافقین کے بھید کھولے ہیں اور ان کے رازوں پر سے پردہ اٹھایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ”ان میں سے بعض “۔”ان میں سے بعض“ کہہ کر ان کے اوصاف بیان کیے ہیں۔ لیکن متعین طور پر اشخاص کے نام نہیں لیے، اس کے دو فائدے ہیں۔
(۱) اللہ تعالیٰسِتِّیر ہے وہ اپنے بندوں کے گناہوں کی پردہ پوشی کو پسند کرتا ہے۔
(۲) مذمت کا رخ ان تمام منافقین کی طرف ہے جو ان صفات سے متصف ہیں جس میں وہ بھی آگئے جو (بلاواسطہ) مخاطب تھے اور ان کے علاوہ قیامت تک آنے والے منافقین بھی اس میں شامل ہیں۔
اس اعتبار سے اوصاف کا تذکرہ زیادہ عمومیت کا حامل اور زیادہ مناسب ہے تاکہ لوگ خوب خائف رہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿لَىِٕنْلَّمْیَنْتَهِالْ٘مُنٰفِقُوْنَوَالَّذِیْنَفِیْقُ٘لُوْبِهِمْمَّرَضٌوَّالْ٘مُرْجِفُوْنَفِیالْمَدِیْنَةِلَنُغْرِیَنَّكَبِهِمْثُمَّلَایُجَاوِرُوْنَكَفِیْهَاۤاِلَّاقَلِیْلًامَّلْعُوْنِیْنَ١ۛۚاَیْنَمَاثُقِفُوْۤااُخِذُوْاوَقُتِّلُوْاتَقْتِیْلًا ﴾ (الاحزاب: 33؍60۔61) ”اگر منافقین اور وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے اور جو مدینہ میں بری بری افواہیں پھیلاتے ہیں، اپنے کرتوتوں سے باز نہ آئے تو ہم آپ کو ان کے پیچھے لگا دیں گے پھر وہ بہت تھوڑے دن ہی آپ کے پڑوس میں رہ سکیں گے۔ وہ دھتکارے ہوئے جہاں بھی پائے جائیں، پکڑے جائیں اور قتل کر دیے جائیں۔“ اور یہاں اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ یَحْذَرُالْ٘مُنٰفِقُوْنَاَنْتُنَزَّلَعَلَیْهِمْسُوْرَةٌتُنَبِّئُهُمْبِمَافِیْقُلُوْبِهِمْ﴾”منافقین اس بات سے ڈرتے ہیں کہ ان پر کوئی سورت نازل ہو جو ان کو جتا دے جو ان کے دلوں میں ہے“ یعنی وہ سورت ان کو ان کے کرتوتوں کے بارے میں آگاہ کر کے ان کی فضیحت کا سامان کرتی ہے اور ان کا بھید کھولتی ہے یہاں تک کہ ان کی کارستانیاں لوگوں کے سامنے عیاں ہو جاتی ہیں اور وہ دوسروں کے لیے سامان عبرت بن جاتے ہیں۔
﴿ قُ٘لِاسْتَهْزِءُوْا﴾”کہہ دو کہ ہنسی مذاق کیے جاؤ۔“ یعنی استہزاء اور تمسخر کا تمھارا جو رویہ ہے اس پر قائم رہو ﴿ اِنَّاللّٰهَمُخْرِجٌمَّاتَحْذَرُوْنَ ﴾”اللہ کھول کر رہے گا اس چیز کو جس سے تم ڈرتے ہو“ اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا کر دیا اور یہ سورۃ نازل فرمائی جو ان کے کرتوت بیان کر کے ان کو رسوا کرتی ہے اور ان کے رازوں پر سے پردہ اٹھاتی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
كانت هذه السورة الكريمة تسمى الفاضحة؛ لأنها بيَّنت أسرار المنافقين وهتكت أستارهم؛ فما زال الله يقول: ومنهم، ومنهم ... ويذكر أوصافهم؛ إلاَّ أنه لم يعيِّن أشخاصهم لفائدتين:
إحداهما: أن الله سِتِّيرٌ يحبُّ الستر على عباده.
والثانية: أن الذَّمَّ على مَن اتَّصف بذلك الوصف من المنافقين الذين توجَه إليهم الخطاب وغيرهم إلى يوم القيامة، فكان ذكر الوصف أعمَّ وأنسبَ، حتى خافوا غاية الخوف؛ قال الله تعالى: {لئن لم يَنتَهِ المنافقون والذين في قلوبهم مرضٌ والمرجِفونَ في المدينةِ لَنُغْرِيَنَّكَ بهم ثم لا يجاوِرونَكَ فيها إلاَّ قليلاً. ملعونينَ أينما ثُقِفوا أُخِذوا وَقُتِّلوا تَقْتيلاً}.
وقال هنا: {يَحْذَرُ المنافقون أن تنزل عليهم سورةٌ تنبِّئهم بما في قلوبهم}؛ أي: تخبرهم وتفضحهم وتبيِّن أسرارهم، حتى تكون علانيةً لعباده، ويكونوا عبرة للمعتبرين. {قل استهزِئوا}؛ أي: استمرُّوا على ما أنتم عليه من الاستهزاء والسُّخرية. {إنَّ الله مخرجٌ ما تحذرونَ}: وقد وفى تعالى بوعدِهِ، فأنزل هذه السورة التي بيَّنتهم، وفضحتهم، وهتكت أستارهم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔