کیا انھوں نے نہیں جانا کہ حقیقت یہ ہے کہ جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کا مقابلہ کرے تو اس کے لیے جہنم کی آگ ہے، اس میں ہمیشہ رہنے والا ہے، یہی بہت بڑی رسوائی ہے۔
En
کیا ان لوگوں کو معلوم نہیں کہ جو شخص خدا اور اس کے رسول سے مقابلہ کرتا ہے تو اس کے لیے جہنم کی آگ (تیار) ہے جس میں وہ ہمیشہ (جلتا) رہے گا۔ یہ بڑی رسوائی ہے
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اور یہ اللہ تعالیٰ کی مخالفت اور کھلی دشمنی ہے اور جو کوئی اللہ تعالیٰ سے دشمنی رکھتا ہے اس کے لیے سخت وعید ہے، چنانچہ فرمایا: ﴿ اَلَمْیَعْلَمُوْۤااَنَّهٗمَنْیُّحَادِدِاللّٰهَوَرَسُوْلَهٗ ﴾”کیا انھوں نے نہیں جانا کہ جو کوئی مقابلہ کرے اللہ سے اور اس کے رسول سے“ یعنی اللہ تعالیٰ کے اوامر کی اہانت و تحقیر اور اس کے محارم کے ارتکاب کی جسارت کر کے وہ اللہ اور اس کے رسول سے بہت دور اور ان کے مخالف ہو جائے ﴿ فَاَنَّلَهٗنَارَجَهَنَّمَخَالِدًافِیْهَا١ؕذٰلِكَالْخِزْیُالْعَظِیْمُ ﴾”تو اس کے لیے جہنم کی آگ ہے اور اس میں وہ ہمیشہ رہے گا، یہ بڑی رسوائی کی بات ہے۔“جس سے بڑھ کر کوئی رسوائی نہیں کیونکہ وہ دائمی نعمتوں سے محروم ہوگئے اور بھڑکتی ہوئی آگ کا عذاب حاصل کر لیا۔ ان کے حال سے اللہ کی پناہ!
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وهذا محادَّة لله ومشاقَّة له، وقد توعَّد من حادَّه بقوله: {ألم يعلَموا أنَّه مَن يحاددِ اللهَ ورسولَه}: بأن يكون في حدٍّ وشِقٍّ مبعدٍ عن الله ورسوله؛ بأن تهاون بأوامر الله وتجرَّأ على محارمه، {فأنَّ له نارَ جهنَّم خالداً فيها} و {ذلك الخزيُ العظيم}: الذي لا خزيَ أشنعُ ولا أفظعُ منه، حيث فاتهم النعيم المقيم، وحصلوا على عذاب الجحيم؛ عياذاً بالله من حالهم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔