تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اور آیت میں ہے تیرے سامنے آ کر وہ دعائیں دیتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے نہیں دیں پھر اپنے جی میں اکڑتے ہیں کہ ہمارے اس قول پر اللہ تعالیٰ ہمیں کوئی سزا کیوں نہیں دیتا؟ ان کے لیے جہنم کی کافی سزا موجود ہے جو بدترین جگہ ہے۔ ۱؎ [58-المجادلة:8]
یہاں فرماتا ہے دینی باتوں، مسلمانوں کی حالتوں پر دل کھول کر مذاق اڑالو، اللہ تعالیٰ بھی وہ کھول دے گا جو تمہارے دلوں میں ہے، یاد رکھو ایک دن رسوا اور فضیحت ہو کر رہو گے۔
چنانچہ فرمان ہے کہ یہ بیمار دل لوگ یہ نہ سمجھیں کہ ان کے دلوں کی بدیاں ظاہر ہی نہ ہوں گی، ہم تو انہیں اس قدر فضیحت کریں گے، اور ایسی نشانیاں تیرے سامنے رکھ دیں گے کہ تو ان کے لب و لہجے سے ہی انہیں پہچان لے۔ ۱؎ [47-محمد:29،30]اس سورت کا نام ہی سورۃ الفاضحہ ہے اس لیے کہ اس نے منافقوں کی قلعی کھول دی۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
كانت هذه السورة الكريمة تسمى الفاضحة؛ لأنها بيَّنت أسرار المنافقين وهتكت أستارهم؛ فما زال الله يقول: ومنهم، ومنهم ... ويذكر أوصافهم؛ إلاَّ أنه لم يعيِّن أشخاصهم لفائدتين:
إحداهما: أن الله سِتِّيرٌ يحبُّ الستر على عباده.
والثانية: أن الذَّمَّ على مَن اتَّصف بذلك الوصف من المنافقين الذين توجَه إليهم الخطاب وغيرهم إلى يوم القيامة، فكان ذكر الوصف أعمَّ وأنسبَ، حتى خافوا غاية الخوف؛ قال الله تعالى: {لئن لم يَنتَهِ المنافقون والذين في قلوبهم مرضٌ والمرجِفونَ في المدينةِ لَنُغْرِيَنَّكَ بهم ثم لا يجاوِرونَكَ فيها إلاَّ قليلاً. ملعونينَ أينما ثُقِفوا أُخِذوا وَقُتِّلوا تَقْتيلاً}.
وقال هنا: {يَحْذَرُ المنافقون أن تنزل عليهم سورةٌ تنبِّئهم بما في قلوبهم}؛ أي: تخبرهم وتفضحهم وتبيِّن أسرارهم، حتى تكون علانيةً لعباده، ويكونوا عبرة للمعتبرين. {قل استهزِئوا}؛ أي: استمرُّوا على ما أنتم عليه من الاستهزاء والسُّخرية. {إنَّ الله مخرجٌ ما تحذرونَ}: وقد وفى تعالى بوعدِهِ، فأنزل هذه السورة التي بيَّنتهم، وفضحتهم، وهتكت أستارهم.